بندوق موجد کی کہانی_____ محمدجمیل اختر


یہ اُس شخص کی کہانی ہے جس نے بندوق دوسری دفعہ ایجاد کی تھی۔۔۔یہاں لفظ”دوسری دفعہ“ وضاحت طلب ہے دراصل جب سینکڑوں برس پہلے بارود ایجاد ہوا تو کچھ عرصہ بعد بندوق بھی ایجاد ہوگئی لیکن جس شخص کی کہانی یہاں بیان کی جارہی ہے وہ ایک ایسے دور دراز علاقے کا مکین تھا جہاں بندوق کے بارے صرف یہ اطلاع پہنچی تھی کہ اب کوئی ایسی شے ایجاد ہوگئی ہے جس سے انسان بہت دور کھڑا ہوکر بھی اپنے مخالف پر حملہ کرسکتا ہے۔اُس علاقے کے لوگ اِس بارے سوچتے کہ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے، وہ قہوہ خانوں میں گھنٹوں اِس پر بحث کرتے لیکن اُنہیں اِس بارے کچھ سمجھ نہ آتی۔بندوق کے متعلق ساری باتیں اُن سوداگروں نے پہنچائی تھیں جو قریہ قریہ سامان بیچنے جاتے تو شہرشہرکی خبریں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے جاتے اُنہی کے ذریعے بندوق کے بار ے بھی ایسی ٹوٹی پھوٹی باتیں اِس علاقے تک پہنچ گئیں تھیں جہاں وہ شخص رہتا تھا جس نے بندوق دوسری دفعہ ایجاد کی۔ وہ شخص جو کسان تھااوراُس کا ایک پاؤں پیدائیشی ٹیڑھااورقد چھوٹا تھا، ایک شام قہوہ خانے میں بیٹھا تھا کہ وہاں اُس کی اُس کے پڑوسی سے لڑائی ہوجاتی ہے،اُس کا پڑوسی اُس سے زیادہ طاقتور اورجوشیلا تھا،اُٹھا اوراُس کے بازوؤں کو اُس کی پیٹھ پر باندھ کر اُسے قہوہ خانے کے فرش پر پٹخ دیا۔اُس نے اُٹھنا چاہالیکن پاؤں ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے پھر پھسل گیا اور فرش پر دھڑام سے گراتواُس کے پڑوسی نے اُس کے منہ پر تھوک دیا۔وہاں موجود سب لوگ اُس کی حالتِ زار پر ہنسنے لگے۔اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ایک بوناہے یا شاید اُس سے بھی کہیں چھوٹااوراِن سب لوگوں کو زمین کی پرتوں سے دیکھ رہا ہے۔زمین بوس بونا۔اُس نے سوچا کہ کاش اُس کے بازوؤں میں یکدم ایسی طاقت بھر جائے کہ وہ اپنے پڑوسی کو اُٹھا کرقہوہ خانے سے باہر پھینک دے لیکن اُسے اپنے کمزور جسم کے بارے خوب معلوم تھاوہ آہستگی سے پنجوں کے بَل اُٹھا اور اپنے پڑوسی کو گھورتے ہوئے بغیر کچھ کہے قہوہ خانے سے باہر چلاگیا۔اُس کی بیوی جواُس سے بے حدمحبت کرتی تھی، اُس کے رات جلد گھرآجانے کی وجہ سے کچھ حیران ہوئی تھی کیوں کہ کافی عرصہ ہوا وہ آدھی رات سے پہلے گھر نہ لوٹتا تھا۔”سب خیریت تو ہے؟“اُس کی بیوی نے پوچھااُس نے کوئی جواب نہ دیااورسیدھا چارپائی پر لیٹ کر آسمان کو گھورنے لگا۔پھر اُس سے اگلے کئی روز تک وہ گھر سے نہ نکلا اور نہ بیوی سے کوئی بات کی بس جب بھوک لگتی تو کھانا کھا لیتااور پھر سیدھا لیٹ کر آسمان کی جانب دیکھنے لگ جاتا۔دوسری دفعہ بندوق کا موجد اُن دنوں سوچتا تھا کہ کیسے وہ اپنے پڑوسی سے بدلہ لے سکتا ہے جب کہ اُس کا جسم کمزور ہے، کئی بار اُسے خیال آیا
 کہ وہ اُسے دور کھڑا ہوکر پتھر دے مارے اور وہاں سے بھاگ جائے لیکن وہ ٹیڑھے پاؤں کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتا تھا، تلوار سے حملہ کرنے کی اُس میں قابلیت نہیں تھی لیکن وہ چاہتا تھا کہ بدلہ لے۔آخر ایک روز یونہی سوچتے ہوئے اُس کے ذہن میں سوداگر کی سُنائی بات آئی کہ دنیا کے کسی کونے میں ایک ایسا ہتھیار ایجاد ہوگیا ہے جس سے آدمی بہت فاصلے سے اپنے مخالف پر حملہ کرسکتا ہے۔یہ خیال آتے ہی اُس کے دل ودماغ سے بھاری بوجھ کم ہوگیا اُس نے سوچا یہی وہ شے ہے جس کی اُسے تلاش ہے جس سے وہ اپنی بے عزتی کا بدلہ چُکاسکتا ہے۔لیکن اُسے سمجھ نہ آتی کہ آخروہ ہتھیارہوتا کیساہے اور اُس سے کیسے اورکیوں کر مخالف پر دور ہی سے حملہ کیا جاسکتا ہے۔وہ دن رات یہی سوچتا رہتاپھر ایک دن اُسے پتا چلا کہ کسی دور دراز علاقے سے ایک سوداگر اُس کے شہر میں آیا ہے،وہ فوراًاُس کے پاس پہنچااور کہا”جناب! آپ دنیا کے کس کس شہر میں اب تک گھوم چُکے ہیں؟“”میں تقریباً ساری دنیا دیکھ چکا ہوں، اِس سفر میں میں نے ایسے علاقے بھی دیکھے ہیں جن میں چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات رہتی تھی۔ دنیامیں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں ہر روز برف گرتی ہے اور کچھ ایسے صحرا ہیں جو اِس قدر گرم ہیں کہ ننگے پاؤں چلنے والوں کے پیرکباب ہوجاتے ہیں“”مجھے اُن علاقوں کے بارے کچھ مذید جاننا ہے“اُس نے سوداگرسے کہا”ہاں ہاں ضرورپوچھو کیا پوچھنا ہے؟“”دراصل میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں لڑائی کے کون کون سے طریقے رائج ہیں،کیا وہ تلواروں سے لڑتے ہیں یا کوئی اور چیز بھی ایجاد ہوچکی ہے۔کچھ عرصہ پہلے ہمارے علاقے میں ایک سوداگر آیا تھا جس نے ہمیں بتایا کہ دنیا میں ایک ایساہتھیار ایجاد ہوچکا ہے جس سے دور کھڑے ہوکر بھی مخالف پر حملہ کیا جاسکتا ہے، کیا یہ سچ ہے؟“”ہاں،ہاں بالکل ایسا ہے، تم بندوق کی بات کررہے ہو،جو ایساہتھیار ہے جس سے آپ اپنے مخالف پر بہت دور سے حملہ کرسکتے ہو لیکن اُس کے چلنے کا شور اِس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ آدمی کے کان بندہوجاتے ہیں، میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ بندوقوں سے کس قدر شور نکلتا ہے اور وہ کتنی خطرناک ہیں کہ اِدھر گولی چلی اور اِدھر دشمن ختم۔۔۔“فاصلے سے حملہ کرنے والی بات اُس کے ذہن میں اٹک گئی۔”اوہ اچھا!۔۔۔۔کیا آپ مجھے یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ بندوق ہوتی کیسی ہے یعنی اُس کی شکل کیسی ہوتی ہے؟“”بالکل سیدھی ایسے“ سوداگر نے ہاتھ اور بازو سے اشارہ کیا”اگرآ پ زمین پر بندوق کی شکل بنا کردِکھا دیں تو بڑی مہربانی ہوگی“اُس نے سوداگرکی منت کی”ہاں ہاں کیوں نہیں“ یہ کہہ کر سوداگر نے پاس پڑالکڑی کا ایک ٹکڑااُٹھایا اور زمین پر چند لائینیں کھینچ کرایک شکل بنائی۔
”یہ دیکھ لو ایسی ہوتی ہے بندوق، یہ لمبی لائن اُس کی نالی ہوتی ہے جس سے گولی باہر نکلتی ہے اور یہ جو بٹن ہے جیسے ہی دباتے ہیں گولی سیدھی اِسی لمبی لکیر سے باہر نکل کرمخالف کو جالگتی ہے۔۔۔اور یہ جو چھوٹی چھوٹی چیزیں تمہیں نظر آرہی ہیں یہ ہیں وہ گولیاں جو اِس بندوق میں ڈالی جاتی ہیں“دوسری دفعہ بندوق کا موجدآنکھیں پھاڑے اُس تصویر کو غورسے دیکھ کر یاد کرنے لگا۔۔۔وہ کافی دیر وہیں زمین پربیٹھا رہا حتٰی کہ سوداگر وہاں سے اُٹھ کرچلاگیا لیکن وہ بیٹھا رہایہاں تک کہ وہ تصویر اُس کے ذہن میں نقش ہوگئی۔اِس کے بعد کی کہانی کچھ عجیب سی ہے وہ آدمی گھر آکر خود کو ایک کمرے میں بندکرلیتا ہے۔ اُس کی بیوی اُس سے بات کرنے کوترستی رہتی لیکن وہ کوئی جواب نہ دیتا اورکمرے میں بندرہتا۔ کبھی بھی اپنے کھیتوں کی جانب رُخ نہ کرتا،گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تو اُس کی بیوی نے علاقے میں بھیک مانگنی شروع کردی، وہ گھر گھر جاکر روٹی اکھٹی کرتی، خود بھی کھاتی اوراُس شخص کو بھی کھلاتی کہ جس سے وہ بے حد محبت کرتی تھی اوریہ محبت ہی تھی جس کی وجہ سے وہ اب تک اُس کے ساتھ رہتی آئی تھی حالانکہ اُس کے شوہر نے اُس سے بولنا کئی مہینوں سے ترک کررکھا تھابلکہ وہ تواب دنیا میں کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرتا تھاحتٰی کہ علاقے کے لوگوں کی یادداشت سے وہ آہستہ آہستہ اپنے ٹیڑھے پاؤں سمیت غائب ہونے لگ گیا۔اُس کمرے میں اُس کے پاس چند اوزار،پتھر، لوہے اور لکڑی کے ٹکڑے تھے اور وہ دن رات اُن کی مدد سے بندوق بنانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔جب اُسے کسی چیز کی ضرورت محسو س ہوتی تو وہ گھر سے باہر مذید ایسی چیزیں ڈھونڈنے نکلتا تھاجن سے بندوق بنائی جاسکتی تھی لیکن تب بھی وہ کسی سے کچھ گفتگو نہ کرتا۔۔۔اُس کے سراور داڑھی کے بال بڑھ گئے تھے۔بہت سال جب وہ اپنے تاریک کمرے میں تجربے کرتا رہا تو ایک روز وہ ایک ایسی بندوق بنانے میں کامیاب ہوگیا جس سے ایک پتھر کو کئی فٹ دور پھینکا جاسکتا تھا کہ اُس کے پاس بارود کے بارے کوئی معلومات نہیں تھی۔جب اُس نے بندوق دوسری دفعہ ایجاد کرلی تو بہت خوش ہوالیکن معذرت کے ساتھ میں آپ کو یہاں بتاتا چلوں کہ وہ بھول گیا تھا کہ وہ کون ہے اور اِس بندوق کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟؟؟؟

____________


                                                                                  تحریر:محمد جاوید اختر

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.