قدرتی اللہ شہاب کی شہاب نامہ میں ایک خوبصورت کردار ہے” نائیٹی”_____جس نے پڑھا پاگل ہو گیا۔ایک ایسا کردار جو قدرت اللہ شہاب کے ساری مشکلات میں اس کی مدد کو اتر آتا ہے،اسے اندھیری تاریک سرنگوں سے نکالتا ہے،اس کے من مندر میں اجالا کرتا ہے اور دل دماغ،بصارت اور بصیرت کی نوک پلک سنوارتے ہے،بندھی گرہیں کھولتا ہے،الٹ پلٹ چیزوں کو اس کی ہستی میں سیدھا کر کے ان کے ٹھکانے میں رکھتا ہے۔(عورتیں بھی ہمارے گھروں میں نائنٹیز ہیں کیا؟)

ایسا ہی ایک کردار تاریخ میں خضر علیہ السلام کا ہے جو بھٹکے ہوئے لوگوں کا ہاتھ تھامنے کسی تنہا راہگزر پر کسی حلیے کسی بھی کردار میں اتر آتے ہیں اور ان کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتے ہیں۔کیا آپ کبھی خضر علیہ اسلام یا نائنٹی سے ملے ہیں؟

مجھے لگتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی تعلق،کوئی رشتہ اور کوئی دوست ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتا۔لیکن ہر مشکل گھڑی میں آپ کا ہاتھ تھامنے کو کندھا تھپتپانے کو کوئی نہ کوئی چہرہ موجود ہوتا ہے۔کبھی کوئی ایسا مشکل گھڑی میں کام آ جاتا ہے جس سے ذندگی بھر کوئی تعلق نہ رہا ہو جبکہ ذندگی بھر کے تعلق والے اکثر ایسے اوقات میں کہانی کے جن بھوت کرداروں کی طرح سے اچانک اڑن چھو ہو جاتے ہیں۔یہ چہرہ کبھی بھی ایک نہیں ہوتا،یہ شخص،یہ رشتہ یا دوست ہمیشہ ایک فرد یا نام نہیں ہوتا۔ذندگی کے مختلف ادوار میں رنگ برنگے لوگ ہمیں چلتے پھرتے لمحہ بھر میں کبھی چپکے سے ایک تھپکی دے جاتے ہیں،گرتے ہوؤں کو ایک دم کسی سمت سے آ کر تھام کر کھڑا کر دیتے ہیں،بہتی آنکھوں کی نمی پونچھتے ہیں،جھکے ہوئے کندھوں کو سر اٹھانے کا حوصلہ دیتے ہیں۔یہ ایک شخصیت اور ایک انساں کبھی نہیں ہوتا،مگر یہ محض ایک ہی کردار ہوتا ہے۔ہمارا خضر یا ہمارا نائنٹی۔

شاید اس لئے ہمیں لوگوں کو ان کے چہروں اور ناموں سے یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کے کردار اور اعمال سے پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہےناموں اور صورتوں اور رشتوں سے وابستگی ہمیں بے بس اور مجبور کر دیتی ہے،ہمیں طفیلیے بنا دیتی ہیں،ہماری جان ان ناموں رشتوں اور صورتوں کے طوطوں میں قید ہو جاتی ہے اور ہم سانس کی خاطر،مسکرانے کے لئے ان کی منظوری پر مجبور ہو جاتے ہیں۔شاید تبھی مٹی کے انساں سے دل لگانے کی کوئی بھی مذہب ترغیب نہیں دیتا۔

ہر پیغمبر اور ولی ،ہر مذہب کا ہر خدا روح پر،کردار پر اصرار کرتا ہے۔مٹی مٹی سے لپٹ کر تصدیق چاہتی ہے اور دونوں مٹیاں بلآخر مٹی میں گھل مل جاتی ہیں،مگر روح دوسری روح کو اوپر کھینچتی ہے،اٹھاتی ہے اور آسمانوں کے سفر پر لیجاتی ہے۔

تو شاید ہمیں بھی لوگوں کی صورت اور نام پر دھیان دینے کی بجائے ان کی روح اور کردار سے تعلق رکھنا چاہیے۔تو کوئی مسیحا،کوئی رہبر،خضر یا نائینٹی ہو کر ہمیشہ ہر غلام گردش میں آپ کے ساتھ ہو گا۔

کیا کبھی ہم نے ان نائنٹیز کو یاد کیا ہے؟ ہم ہمیشہ چہرے طلب کرتے ہیں،چہروں کو صدا دیتے ہیں ،رشتے طلب کرتے ہیں،رشتے چاہتے ہیں۔شاید یہاں بھی مادہ گھیر لینا چاہتا ہےمادہ جو جگہ بھرتا ہے،جسے مادہ ہونے کے لئے مادے کی ضرورت پڑتی ہے،مادہ سے مادہ کو نکال لو تو خالی روح رہ جائے!کیسی بدقسمتی ہے ہم ساری عمر مادے کے گھیرے میں پھنسے رہ جاتے ہیں،روح کی سنتے بھی نہیں،روح کی دیکھتے بھی نہیں۔،نفس قبضہ کرنا چاہتا ہے،مٹی ہڑپ لینے کو تڑپتی ہے،ہم انسان ساری عمر اسی مادے کو کوزہ بنانے میں گزار دیتے ہیں۔کیا ہم میں صورتوں سے آگے , روشنی کے رنگوں تک دیکھنے کی جرات ہے؟ کیا ہم میں نور سے نظر ملانے کی ہمت ہے؟

ہم انساں انہیں کمزوریوں کی وجہ سے کچلے جاتے ہیں کیونکہ ہم ہاتھ تھامنا،ساتھ چلنا،گھر بنانے،نام،چیز اور جگہوں سے وابستہ ہونے میں سرگرم عمل رہتے ہیں،ہم میں نگر نگر ہوا کے ساتھ اڑنے کی طاقت نہیں ہوتی،ہمیں دل پر اتری وحی کو طوفان بنانا ہے،راستہ نہیں،ہمیں نور سے آگ چاہیے،حرارت نہیں۔اس ذندگی کو سمجھنا کسقدر مشکل کام ہے!!!!

اس ہنر کو سیکھنے میں عمر بیت جاتی ہے کہ انسانوں کی روح سے کلام کیا جائے،مادے کا تعلق چھوڑ دیا جائے! بعض اوقات تو ساری عمر گزار کر بھی انسان یہ ہنر سیکھ ہی نہیں پاتا کہ انسانوں کو ان کے ناموں اور حوالوں سے بڑھ کر دیکھے،لوگوں کی دی محبت کو یاد رکھے مگر ان سے ذندگی کو بھر لینے کی خواہش نہ کرے۔پھولوں کی خوشبو سونگھنے مگر ان کو چھونے کی طلب میں پھولوں کی جان مت چھینے! زمینوں پر قابض نہ ہو بلکہ ان کو کچھ دینے کی خواہش کرے!

ہمارا ری ذندگیوں میں آئے خوبصورت لوگ شاید اسی لئے بدصورت ہو جاتے ہیں کہ ہم ان سے ڈو مور کی فرمائش کرنے لگتے ہیں۔کوئی ایک بار ہاتھ تھام لے تو چاہتے ہیں کہ اب یہ ہمیشہ کے لئے ساتھ چل دے۔انسان اس قدر کمزور مخلوق ہے کہ ساتھ چلنے کو سہارے ڈھونڈتا ہے مگر اکڑ کر ایسے چلتا ہے جیسے ساری زمینوں کا خدا محض وہی تو ہو۔

کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ لوگوں کو ان کی صفات سے یاد رکھا جائے،نہ صورتوں سے نہ حوالوں سے! لوگوں کی تاثیر سے تعلق بنایا جائے،پھر اسی تاثیر کو اپنایا جائے اور کسی دوسرے تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔کامیابی ملے کہ نہیں یہ ہم انسانوں کے ہاتھ میں ہے ہی کہاں۔ہمارے اختیار میں کوشش ہے جو ہمیں کرتے رہنا ہے!

________________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف