“بات یہ ہے کہ جوانی میں آنکھوں میں اتنے خواب،اور نگاہ میں اتنی منزلیں ہوتی ہیں کہ انساں رنگ و بو کے پیچھے لپک جاتا ہے اصل کو چھوڑ کر۔انسان سچ کی آہٹ پہچان نہیں پاتا۔یہ تو دن ڈھلنے پر پتا چلتا ہے کہ کتنے ستارے روشن تھے اور کونسے بیکار رستوں کی خاطر کیسی کیسی عظیم منازل وہ چھوڑ بیٹھا تھا”

میں پیلے رنگ کے کئی شیڈز کے پتے اٹھائے، ہتھیلی پر سجاتا اور گراتا تھا ۔میری آنکھوں کی تہہ میں نمی انگڑائی لینے لگی تھی۔ہاتھ اور نظر زرا بچا کر مجھے انگلی سے کسی بھی طرح اس بہتے قطرے کو پونجھنا تھا جو کسی بھی لمحے لڑھک جانے کو بے چین تھا۔مگر وہ عجیب لڑکی تھی تھوڑا اور میری طرف جھک آئی تھی

“اور اگر واقعی ایسا ہو جائے تو؟پھر؟ پھر کیا ہو گا؟”اس کی آنکھوں میں شوخی تھی۔

“پھر؟ __________پھر یہ ہو گا کہ کہ جہاں زرا ذندگی میں سپنوں اور منزلوں کا شور تھمے گا تو جسم و جاں کا اصل ساتھی دور کسی اور منزل پر کھڑا ملے گا________تمھاری منزل اور تمھارے اختیار سے پرے!”

زلیخا ہنسی تھی ایسے جیسے وادی میں جھرنا جھوم کر گرا۔

سرمئی خوبصورت سڑک کے ساتھ ساتھ بہتی جھیل میں دور تک پھیلے جنگل کی ہریالی نے سبزا گھول رکھا تھا۔وادی میں ہر طرف قطار در قطار،لمبے لمبے، سر اٹھائے مغرور چیڑکےدرخت چلتی بس کی کھڑکی سے تیز رفتاری سے پیچھے کی سمت بھاگتے نظر آتے تھے۔ سڑک کے سامنے نظر آتے پہاڑ کی چوٹیوں پر دن ابھی باقی تھا اور پہاڑ کے اونچے کناروں پر دھوپ ابھی تک چمکتی تھی جس میں سبزہ اور کہیں پہاڑ کی رنگت زردی مائل نظر آتا تھادور کہیں پچھلی بلند چوٹیوں پر سفید برف ابھی بھی چمکتی تھی جب میں لوکل بس کی سیٹ پر سر ٹکائے اس کی حدوں سے دور جا رہا تھا تو اس کی باتیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

“آفاق صاحب!دنیا میں بہت سے لوگ چھن جاتے ہیں اگر ایک وہ بھی چھن جائے تو کیا؟ہر کھوئی منزل کے بعد ایک نئی منزل بھی ملتی ہے ناں!”وہ جوان تھی،خزاں رتوں سے واقف نہ تھی،ذندگی کی چمکتے رنگوں کی طرف متوجہ ہونے کی عادی تھی اور یہی وہ فرق تھا جو وہ سمجھ نہ پاتی تھی۔

“مگر انسان کبھی نہ جڑنے کے لئے ٹوٹ جاتا ہے۔آپکے جسم و جاں کا ساتھ جب آپ کے ساتھ نہ ہو تو سفر ایک نا ممکن منزل بن کر رہ جاتا ہے۔کوئی دور کی ہوائیں ہر وقت آپکے وجود سے لپٹتی رہتی ہیں اپنے ساتھ اڑائے لیجانے کے لئے ۔ وجود ان ہواؤں کے سنگ لپک جانا چاہتا ہے مگر فاصلے اور مجبوریاں بیڑیاں ہو کر پاؤں کو روکے کھڑی رہتی ہیں۔”

میں دور کسی پہاڑ کی چوٹی کی سمت دیکھتا تھا اور اس کے گہرے سینے میں دبے ایک بے کراں درد کی آہٹ اس چلتی بس میں بھی سن سکتا تھا ۔

” مجھے تو لگتا ہے انساں خود کو ہر حال میں ڈھال لینے کی طاقت رکھتا ہے اور اسے ڈھال بھی لینا چاہیے”.اسکی آنکھوں میں عزم اور ستارے جگمگاتے تھے۔وہ ناواقف تھی انہیں آسمانوں پر بلیک ہول بھی ہوتے ہیں جہاں جا کر ستارے اور عزم۔۔۔سب فنا ہو جاتے ہیں.

وہ میری نہ تھی مگر وہ میرے تعاقب میں چل رہی تھی۔میں اسے سمجھانا چاہتا اور وہ سمجھ نہ پاتی تھی۔رحیم کے ساتھ اسکا بچپن کا ساتھ تھا رشتہ داری کے بل پر بچپن کی دوستی تھی ۔گلیوں میں ایک ساتھ کھیلتے بڑے ہوئے ھے۔ہر مسلئے ہر مشکل کا اس کے پاس ایک ہی حل تھا “رحیم”.اس کی باتیں شروع اسی کے نام سے ہوتیں اور ختم اسی کے زکر پر ہوتیں۔پھر جانے کیسے مجھ سے پڑھتے پڑھتے وہ خوابوں کے دیوتا پر میری تصویر جوڑنے لگی تھی۔مجھ میں شاید اسے وہ سہانے خواب دیکھائی دیتے تھے جو رحیم کے حال میں اسے ادھورے لگنے لگے تھے۔ مجھے روح کا ساتھ سمجھ کر وہ اصل ساتھی سے منہ موڑے کھڑی تھی۔میں جانتا تھا وہ بہک رہی ہے مگر تماتر کوشش کے سامنے اسکے جوان رنگوں بھرے خواب تن کر کھڑے ہو جاتے۔وہ سمجھ نہ پائے گی میں جانتا تھا پھر بھی سمجھائے جاتا تھا۔میں اپنی روح سے بچھڑ چکا تھا اب اسے اس دکھ سے بچانا چاہتا تھا۔اور وہ سارےجوان دلوں کی طرح میری توجہ کو محبت سمجھے میری طرف لپکے آتی تھی یہ جانے بغیر کہ اصل محبت اس کے پیروں تلے کچلے جا رہی ہے۔

پھر آج کی شام میں نے اپنے تنہا کمرے اور پیلے پتوں سے بھرے آنگن کو تالا لگا دیا،استعفی اپنے اس چھوٹے سے برفیلے علاقے کے سرکاری کالج کی بوسیدہ لکڑی کی میز پر رکھا اور ان پرانی گلیوں کو چھوڑ کرچپکے سے نئی راہوں پر نکل آیا۔پردیس سے میرے لئے ایک چھوٹی سی نوکری کا سندیس آیا تھا اور میں تہیہ کر چکا تھا مجھے ہر حال میں ان دو دلوں کو اجڑنے سے بچانا اور چھوڑ کر جانا تھا۔

____________۔

______________

ٹھنڈے یخ پانی سے برستی بارش میں بیٹھی ذلیخا برتن دھوتی رہتی اور کبھی کبھی برتن دھوتے پانی میں ہاتھ ڈالے ڈالے برتن دھونا بھول جاتی۔ننگے پاؤں وادیوں میں ہر سو بکھری برف پر چلتی رہتی اور کبھی چلتے چلتے منزل کا نشاں ہی بھول بیٹھتی۔رحیم کی آغوش میں اس کی روح کون کون سے بیابانوں کی خاک چھانتی پھرتی اور پھرتے پھرتے تھک جاتی تو اس قبر پر جا بیٹھتی جو اس کے گھر کی دیوار سے جڑے احاطے میں تھی اور بڑی دور سے واپس آنے والے مسافر کی تھی۔جس پر چنار کے پتے گرما میں سایہ کئے رکھتے اور سردیوں میں اپنے پیلے رنگ سے لادے رکھتے۔ذلیخا کے پاس کرنے کے لئے کوئی ذکر نہ تھا۔بات شروع کرنے کی کوئی وجہ تھی نہ ختم کرنے کا کوئی موضوع۔بس پھولوں پتوں بھری قبر کو خموشی سے دیکھتے رہنے اور چپکے چپکے آنکھوں کے گیلے سرے صاف کرتے رہنے میں ہی سارا کلام تھا۔۔آفاق کی قبر پر اس نے تازہ پھولوں کی بیلیں چڑھا رکھی تھیں اگرچہ خود اس کی جھولی میں سوکھے بے دم ،خزاں رسیدہ موسموں کے سوا اب کچھ نہ تھا۔

جوانی میں جانے کیوں لوگ بات سمجھا نہیں پاتے۔بتانے والے نقارے بجاتے ہیں مگر دوسروں کے کانوں تک کوئی صدا پہنچ نہیں پاتی۔۔وہ کہتا رہا بات مان جاؤ ورنہ سوائے پچھتاؤں کے کچھ نہ رہے گا،اور پچھتاؤ ں کے سوا کچھ بھی اب نہیں رہا تھا۔آفاق کے جانے نے اس کی زندگی کو ایسا ویراں کیا کہ پھر اسمیں بہار کا کوئی پھول کھل نہ سکا۔رحیم کی بیوی بن کر وہ بھٹکی روح بن گئی تھی۔

پھولوں بھری قبر پر بیٹھے برف کی نرم نرم بوندیں الجھے بالوں اور اجڑے لباس میں پناہ گزیں ہوتی تھیں۔ ۔ذلیخا کو بلانے صدائیں کسی دوسرے آسماں سے آتی تھیں اور وہ تماتر کوشش ،تماتر چاہنے کے باوجود اس صدا تک جا نہ پاتی تھی۔ کسی کے کہے لفظوں کی گونج اس کی سماعتوں میں اترتی تھی تو پورے جسم کو برف سا ٹھنڈا کر دیتی تھی۔وہ ہر پل اسے سمجھانے والا خود سچ کی صدا سننے سے قاصر رہا تھا۔

__________________

تحریر و

/فوٹوگرافی/ کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف