بکروں کی عید__________شاذیہ ستار نایاب

                                           

برسات کے موسم میں ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ”کاش کبھی ایسا ہو آسمان پر کالی گھٹا ہو اور زمین پر برقی قمقمے چمکیں باہر چهاجوں چھاج مینہ بر سے اندر پنکھے چلتے رہیں”۔  لیکن اس خواہش کو کبھی اذن کاملیت نہ ملا۔۔۔۔۔۔ ذرا سی ہوا چلی نہیں دو بوند  بارش کی برسی نہیں کہ بجلی نے الوداع کہہ دیا…… بجلی نہ ہوئی اپوزیشن  ہو گئی ذرا کوئی بات خلاف  مزاج ہوئی اور واک آؤٹ کر دیا ۔ رات کو بھی یہی صورتحال تھی  اب بندہ بارش سے لطف اٹھائے یا یو پی ایس کی چارجنگ کی فکر کرے              بادل گرجے جل برسے             تو ہو گی یہ پریشانی                گھر میں بجلی نہ ہی پانی               پھر بهی دل ہے پاکستانی۔سونے پر سہاگہ لاہوری بهی سو زندہ دلی ہماری فطرت ہے ……حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ ……سو رات کی نیند کی کمی اور تهکاوٹ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہنستے  مسکراتے امور راجدھانی  کی طرف متوجہ ہوئے  اورکام کرتے ہوئے  گنگنا نے لگے کہ     

     ہم تم ہوں گے بادل ہوگا           رقص میں سارا جنگل ہو گا 

 اچانک پھوپھو آگئیں اور چنگھاڑ کر بولیں ” بہو اب ہم تم ہوں گے د نگل ہو گا””

خیر ہے پھوپھو……. آپ کے خاندان میں تو دور دور تک کوئی پہلوان نہیں گزرا گوجرانوالہ سے آپ کا تعلق نہیں پھر دنگل کیوں کروا رہی ہیں”۔

” اے  بہو غضب خدا کا  عید سر پر ہے  اور بکرے ابھی تک نہیں آئے قربانی نہیں کرنی ہے کیا۔”

 “کریں گے انشاءاللہ کریں گے”۔ 

“توآخر بکرے کب آئیں گے ؟”

“عید سے ایک دن پہلے “۔کیوں بھئی ….. کم از کم ہفتہ پہلے تو لے کر آؤ۔ بچے ان کے ساتھ کھیلیں گے ۔

 “پهوپهو یہاں انہیں کون سنبھالے گا؟” “ہم سب سنبھا لیں گے…… مہندی لگائیں گے ان کی خدمت کریں گے……  “۔” نہیں پھوپھو …… برسات کے دن ہیں بہت گند ہو جائے گا۔”

 “اور بہو تم ٹھہری سدا کی کام چور  …..ہمارے  بچپن میں تو کئی کئی دن پہلے ہی بکرے آ جاتے تھے……. ” پھپھو کو بہت غصہ آرہا تھا۔ اصل میں نجمہ پھوپهو  کئی سالوں  بعد پاکستان میں عید کر رہی تھیں۔اس لئے بہت  پر جوش تهیں لیکن کرونا نے ان کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔ عیدالفطر پر ایسا خوف و ہراس پھیلایا کہ وہ گهر تک ہی محدود رہیں   بقول ان کے نہ مہندی نہ چوڑی نہ کپڑے……بھلا ایسی بھی چهوٹی عید ہوتی ہے  اور اب پھر لاک ڈاؤن….. “عید پہ بھی بندہ شاپنگ نہ کرے  تو کیا مزا عید کا…….. آخر یہ کرونا کب جان چھوڑے گا۔”” کچھ پتا نہیں پھوپھو “۔ ” اس نے تو سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا خواہ کوئی غریب ملک  ہو یا امیر ……بلکہ امریکہ جیسے امیر ملک کو تو خوب دیکھا؟” “پھوپھو  کرونا وائرس ہے تیسری دنیا کا وزیراعظم  نہیں کہ ذرا امریکہ کو آنکھ دکھائی نہیں اور چھٹی ہوئی ۔”

“لیکن اب تو بہت کم ہوگیا ہے پھر لاک ڈاؤن کی ضرورت۔”

” پھوپھو چند دنوں کی احتیاط  بہت ضروری ہے “.” ٹھیک کہہ رہی  ہو……. لیکن بکرے تو آ ہی سکتے ہیں نا”۔ پھپھو کی سوئی بکروں پر اڑی تھی۔انہوں  نے بچوں(عوام) کو بھی ساتھ ملا لیا  اور نہ جانے کون کون سے خوش نما خواب دکھائےکہ وہ بھی شروع ہو گئے” مما بکرا تو لے آئیں”۔بھولی عوام کو کیا پتا  کہ اپوزیشن  کو خواب دکھانے کے سوا آتا کیا ہے ……کر تو وہ کچھ سکتی نہیں

” کدھر ہے تمہارا میاں ؟”

” چھٹی ہے سو رہے ہیں “۔ 

“اسے کہو  جاگ جائے  سونا بہت مہنگا ہوگیا ہے۔” پھپھو چڑ کر بولیں۔ہم نے جاکر صاحب کو جگایا۔ صاحب نخرے لگاتے  آرام سے اٹھ کر آئےانہیں دیکھتے ہی پھوپھو برس پڑیں “اے  میاں  آخر بکرے کب لے کر آؤ گے ……اتنے دن ہو گئے ہیں میں نے اپنے بکروں کے بھی تمہیں پیسے دیے اور تم ہو کہ  اطمینان سے بیٹھے ہو “۔” پھوپھو بکرے لے لیے ہیں ایک دوست کے فارم ہاؤس پر رکھوائے ہیں  عید کی رات لے آؤں گا”۔

” عید کی رات کیوں ؟…….ہفتہ پہلے  بکرے نہ آئے تو عید کا کیا مزہ”۔

” پھوپھو انہیں کون سنبھالے گا بہت گند پڑتا ہے ……” 

“او ہو تو بہو بیگم  پڑھا سکھلا کرلے آئی ہیں.”

” پڑھانا سکھلانا کیا یہ تو سامنے کی بات ہے کہ انہیں  کون سنبھالے گا اتنا کام یہ تو نہیں کرسکتی نا۔”

فوج اور حکومت کو  ایک ہی پیج پر دیکھ کر پھپھو  غصے میں چلی گئیں۔ہم نے شکرگزار نظروں سے چیف کو دیکھا اور گنگنانے لگے                      اپوزیشن سے کہو جو کرنا ہے کر لے              اب چیف میرے ساتھ علی الاعلان رہے گاچیف کو ہنسی آگئی اور بولے ” پھوپھو ابو کے پاس گئی ہیں  اب خود ہی سوچو کیا کرنا ہے ۔”

اوہ گویا اپوزیشن صدر صاحب سے صدارتی آرڈیننس جاری کروانے گئی ہے”۔تھوڑی ہی دیر بعد صدر صاحب نے مذاکرات کے لیے بلوا لیا ہم چیف کی معیت میں حاضر ہوئے “” ایک  بات  کرنا ہے ابو۔۔۔۔۔۔۔ اعظم انکل (پھوپھو  کے جیٹھ )  کا فون آیا تھا وہ پھوپھو  سے ملنے کے لئے آنا چاہ رہے تھے ۔” چیف نےاپوزیشن کو نئے مسئلے میں الجھانا چاہا”کیوں آنا چاہتے ہیں وہ”

پھوپھو نے غصے سے کہا ” وہ کہہ رہے تھے کہ آپ بلاوجہ ناراض ہوگئی ہیں آپ کو منانا چاہتے ہیں “.

“بلاوجہ کیوں …….. میری بات نہیں رکھی انہوں نے”۔پھوپھو  تنک کربولیں” پھوپھو  اگر ان کو اپنے بیٹے کے لئے آپ کی پسند کی ہوئی لڑکی پسند نہیں آئی تو اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے۔” صاحب   نے کہا 

“ناراض ہونے کی بات اس لئے ہے  کہ پہلے وہ مان گئے اور پھر  انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ استخارہ صحیح نہیں آیا ۔”

”  یہ کوئی ایسی ناراض ہونے والی بات نہیں ہے ۔ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں …… تم غصہ تھوک  دو اور اپنے تعلقات بہتر بنا لو قطع رحمی کرنا اچھی بات نہیں ہے اور مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہنا بھی غلط ہے….. اب وہ منانے آرہے ہیں توتم بھی ضد نہ کرو اور مان جاؤ۔” صدر صاحب نے صلح کا جهنڈا لہرایا”ٹھیک ہے بھائی جان جیسا آپ کہیں ….. لیکن  وہ بکرے کب آئیں گے “۔ پھپھو کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔

“بیٹا تمہاری پھوپھی بکرے عید سے چند دن پہلے لانا چاہ رہی  ہے  تم دونوں کو کیا اعتراض ہے”

۔” ابو انھیں سنبھالیں گے کیسے “۔

” سنبھال لیں گے…….. یاد نہیں بھائی جان بچپن میں کتنے دن پہلے ہمارے گھر بکرے آ جاتے تھے ۔”

“اب بچپن اور پچپن کی عید میں فرق تو ہوتا ہے”۔ ہم زچ ہو گئے “بے شک بیٹا ہوتا ہے لیکن اب اس کی خواہش ہے تو اسے پورا کرنے کا کچھ انتظام کرو…… اس نے ایک عمر پردیس کاٹا ہے …… بہت مشکل ہوتا ہے….. اب اپنے وطن میں آ کر اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پورا کرنا چاہتی ہےتو ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہیے……. لیکن بکرے ہفتہ پہلے نہیں بس عید سے دو دن پہلے آئیں گے۔”  صدر صاحب نے چیف اور وزیراعظم کا موڈ دیکھتے  ہوئے درمیانی راہ نکالی۔”

” ٹھیک ہے ابو ۔”چیف مودب ہوئے” ننهی اب خوش ہونا۔”

” میں  انہیں خود سنبھال لوں گی آپ فکر نہ کریں ۔”وہ خوش ہوئیں

 “ہونہہ …….. بچپن کی ننهی  ابھی تک بڑی ہی نہیں ہوئی۔” ہم نے سوچا اور  وہاں سے آگئے۔

” مما مما یہاں آئیں …… اتنے پیارے بکرے ہیں آپ دیکھیں تو سہی “۔ بچے بکروں کو دیکھ کر پھوپھو سے زیادہ خوش ہوئے  ہم گئے تو پھوپھو مہندی گھولے بکروں کو لگانے کی تیاری کر رہی تھیں بچے انہیں چارہ کھلا رہے تھے ۔ “ننھی” نے میرے بچوں کو روایتی عید سے روشناس کرادیا تها بکروں پر مہندی سے لکھا تھا عید مبارک۔گھر میں …..میں کی آوازوں سے گونج  رہا تھا ۔ پھوپھو اور بچوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے……. پھوپھو نے واقعی خود ہی بکروں کو سنبھال لیاہمیں بے اختیار “ننھی” پر پیار آیا  پھر ہم نے جانا  کہ اپوزیشن وزیراعظم کو  کتنا ہی ٹف ٹائم کیوں نہ دے ۔۔۔۔۔ہوتی تو اسی دھرتی کی ہے نا…..،گھر تو سانجھا ہوتا ہے۔        آپ سب کو صدر چیف وزیر اعظم اور اپوزیشن کی طرف سے دلی عید مبارک ۔             

_________

    (  تحریر ۔شازیہ ستار نایاب )

1 Comment

  1. Pingback: Manikhan.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.