ضبط کے بندھن باندھے لڑکی

کب سے ہنسے ہی جا رہی ہے

صبر کا دامن  ہاتھ میں پکڑے

 گھومتی ناچتی جاتی ہے

سب کو ہنستی ہنساتی لڑکی

سچ مچ رونا بھول گٸ ہے

اک کٹ پتلی میرے سامنے

ہر وقت ہنستی رہتی ہے

اندھی بہری گونگی بن کے

سب کچھ سہتی رہتی ہے

دن بھر بیٹھ کے وہ دیوانی

رات کی راہیں تکتی ہے

پھر رات کے تنہا گوشے میں

سیاہ آسمان کی چھاٶں تلے

چہرہ چپھاۓ ہاتھوں میں

 تنہا چھپ چھپ روتی ہے

کچھ آنسو موتی بنتے ہیں

جگ جب سارا سو جاۓ۔

۔تب اک مجسمہ پتھر کا۔۔

مٹی مٹی ہوتا ہے!

صبح کی کرنوں سے پہلے۔۔۔

پھر مٹی مٹی ذرہ ذرہ ۔۔۔

پتھر کا مجسمہ بنتا ہے۔۔۔

پھر پتھر آتے رہتے ہیں۔۔۔

پھر سانسیں چلنے لگتی ہے۔۔

 پھراک کٹ پتلی میرے سامنے۔

۔چلنے پھرنے لگتی ہے!!

_________

کلام:الف ز

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی