توبہ ہے______________شاذیہ ستار نایاب

                           توبہ ہے  موسم کی پہلی بارش ویسے ہی بہت اچھی لگتی ہے…..اس وقت ٹپ ٹپ گرتی بوندیں دنیا کی کسی بھی موسیقی سے  زیادہ بھلی لگ رہی تھیں اور ہمیں یہ موسم اس لیے بھی زیادہ اچھا لگ رہا تھا کہ آج ہمیں پکوڑے نہیں بنانا پڑے تھے بلکہ آج یہ کام پھوپھو سر انجام دے رہی تھیں۔   گرما گرم پکوڑے اور گلگلوں کے بعد ہم چائے بنا کر لے آئے پھپھو  نے  ایک گھونٹ  بهرا اور بولیں “یہ کیسی چائے پکائی ہے؟” “پکائی  نہیں ہے نا چائے میں نے…… بنائی ہے اس لیے آپ کو عجیب لگ رہی ہے”” میرا یہی مطلب تھا “۔ پھوپھو  جهلائیں” یعنی سلپ آف ٹنگ ……لیکن یہ تو حکومتی عہدیداروں کا مسئلہ ہے”۔ ہم نے سوچا اور خاموشی سے چائے پینے لگے اپوزیشن آخر کر بھی کیا سکتی تھی زبانی کلامی نکتہ چینی کے سوا۔چائے کے بعد  ہم تو پھیلا وہ سمیٹنے  میں لگ گئے برآمدے میں رکھا چولہا  اٹھا کر واپس رکھا اور کچن صاف کرنے لگے…….. اور پھوپھو  پی ٹی وی لگا کر بیٹھ گئں الف نون ری ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا….. الف نون کے بعد سونا چاندی لگ گیا سب پرانے ڈراموں سے محظوظ ہو رہے تھے۔آٹھ بجے تو ار طغرل  لگ گیا پھر  پرائیویٹ چینلز کا ڈرامہ ریپیٹ ہونے لگا…..” یہ کیا بات ہوئی…..   بجلی کے بل میں ٹی وی فیس ادا کر رہے ہیں تو پھر پی ٹی وی اپنے ڈرامے کیوں نہیں بنا رہا……”۔پھوپھو  کو شدید غصہ آ رہا تها۔” پرائیویٹ چینلز کے ریپیٹ ڈرامے سستے پڑتے ہوں گے نا…….. پھوپھو اب پی ٹی وی  ڈرامہ کی شان نہیں رہا”۔”یہی تو کہہ رہی ہوں  کہ ادارے کیوں تباہ کر رہے ہیں۔” “ہم کیا کر سکتے ہیں” ہم نے بیچارگی سے کہا اور چینل تبدیل کر دیا رات کو پهپهو  سے کھانے کا پوچھا تو بولیں اتنے پکوڑے اور گلگلے کھا  لیے ……اب بھوک نہیں ہے …… بہت ہی مزے کے بنا ئے تھے میں نے “۔ پھپھو اپنے بنائے پکوڑوں اور گلگلوں کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئیں ۔ہمنے بھی تائید کی۔ اور شب بخیر  کہہ کر آگئےآج صبح چهٹی تهی ۔چیف آئینی صدر اور عوام سب لمبی تان کے سو رہے تھے پہلے تو ہم نے سو چا کہ ہم بهی سو جائیں لیکن راجدھانی کی بھاری ذمہ داریاں ہماری نیند اڑا ئے دے رہی تھیں ۔رات کی موسلا دهار بارش کے اثرات  پورے گھر میں نظر آ رہے تھے اور آپریشن کلین اپ کے متقاضی تھے سو نندیارانی کو الوداع کہا اور کام شروع کیا باہر لان میں آئے تو سہانے موسم نے استقبال کیا ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی آفتاب نے سرمئی بادلوں کی چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔            میرے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے بےاختیار گنگناتے ہوئے نظر لان کے کونے پر پڑی دو گملے اوندھے  پڑے تھے اور  بیل گرگئ تھی۔ آگے بڑھ کر گملے سیدھے کیے…. بیل کو دوبارہ دیوار پر چڑھانے  کی کوشش کی مگر احساس ہوا کہ یہ ہمارے بس کا روگ نہیں ہیں اس کے لئے چیف کو آواز دینی ہوگی۔  سو بیل کو چهوڑ کر کرسیاں میز صاف کر کے لان میں رکھے ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی  کہ نجمہ پھوپهو ہاتھ میں ماسک اور دستانے لئے چلی آئیں” آؤ چلو باہر واک کرنے چلتے ہیں “پھپھو نے  دستانے اور ماسک ہمیں تهماتے ہوئے کہا ” باہر کیوں ۔۔۔۔۔۔باہر تو کرونا ہے۔”” اس لئے تو ماسک اور دستانے لے کر آئی ہوں جلدی کرو “” اچھا جوتا تو بدلنے دیں “”اوہو ….. سچ مچ کی واک تھوڑی کرنی ہے  باہر ….. فضیلہ اور رمشا  باہر  واک کر رہی ہیں ان سے ملنا ہے۔”فضیلہ آنٹی  نجمہ پھوپھو دونوں  پرانی سہیلیاں ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئیںتب پتہ چلا کہ نجمہ پھوپو  اور فضیلہ آنٹی بھی  ہماری طرح کوئین میرین ہیں اور ہم سب کالج فیلوز ہیں……..عجب سر خوشی کا عالم  ہوا ہم سب ایک ہی مادر علمی سے فیضیاب ہوئے تهے  چند ہی لمحوں بعد چاروں  یادوں کے سفر پر نکل پڑے ۔لال اینٹوں سے بنی  شاندار عمارت سفید  یونیفارم پہنے گلابی دوپٹے اوڑھے ہم کبھی کوئین میری کے کوریڈورز میں گھومے تو  کبھی گراؤنڈ میں چہلیں کرتے ایک دوسرے  کو اپنی یادوں میں شریک کرنے لگے ایک کے بعد ایک قصہ  ذہن کے ایوانوں پہ دستک دینے لگا……محترم  اساتذہ  کرام کی صورتیں نگاہوں میں گھومنے لگیں۔۔۔۔۔۔ساتھی طالبات یاد آنے لگیں۔ہم ایک دوسرے کو کبھی ایک واقعہ سناتے اور کبھی دوسرا……کبھی تعلیمی سرگرمیاں زیر بحث آتیں تو کبھی ہم نصابی سرگرمیوں کو یاد کرتے …..ہم گئے وقتوں کی یادوں میں کھوئے ہی رہتے  لیکن پهو پهو کی آواز  ہمیں حال میں لے آئی “آج کی نسل کو کیا پتا لاہور کیسا تھا …….  تب لاہور بے ہنگم بے ربط ترقی کے نام پر تباہ نہیں ہوا  تھا لاہور کی فضا اتنی گدلی  نہیں تھی…… باغوں کے شہر میں کوئل کوکتی تهی گهروں میں پهلدار درخت تهے لاہور کی ٹھنڈی سڑک `شملہ پہاڑی` نیلا گنبد` انارکلی فیروز سنز کی شان نرالی تهی۔ “پھوپھو  کافی دیر ہوگئی۔” ہم نے موبائل  پر نظر  ڈالتے ہوئے کہا  “یہ بھی خوب رہی خود سب کچھ کہہ دیا ہماری باری آئی تو اذن رخصت دے دیا”۔”آپ آنٹی  سے باتیں کریں….. میں چلتی ہوں ….. “۔” یہی تو……. یہی تو کہہ رہی ہوں کہ جب ہم نے بولنا شروع کیا تو تم چلدیں تاکہ اگر ہم کوئی تمہاری بات کریں تو وہ غیبت کے زمرے میں آئے اور ہم گناہ گار ٹهہریں ……. بہو بہت تیز ہو تم لیکن ہم بے وقوف نہیں جو کہنا ہے تمہارے منہ پر کہیں گے “۔ پھوپھو چڑ کر بولیں” پھپھو ناشتہ بنانا ہے نا “۔ ہم نے جواب دیا “ہونہہ ناشتہ…….. باتیں بنانے کے سوا تمہیں کچھ آتا  ہے۔” پھوپھو  بڑبڑائیں ہم نے سنی ان سنی کی  اور گھر آ گئے ۔ماسک اور دستانے اتارے ۔کپڑے تبدیل کئے کچن میں آکر چنے پکنے کے لئے رکھے پوریوں کا آٹا گوندھا۔ میز پر برتن رکهے  ۔پھر جا کر صاحب (چیف )کو جگایا کہ کچھ داخلی امور ان کی توجہ کی متقاضی ہیں  پهر بچوں (عوام )کوجگانے کا مشکل مرحلہ سر کیا ۔آخر میں  عوام سے کہا کہ (آئینی صدر )دادا ابو کو بھی جگا دیںجتنی دیر میں صاحب نے  بیل کو دوبارہ دیوار پر چڑهایا ہم نے جلدیوں پھرتیوں کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے  افسانوں  کی سگهڑ ہیروئن کی طرح جلدی جلدی سارے کام کیے بچوں کے  لیے آملیٹ بریڈ اور ملک شیک بنایا …..لسی بنائی کڑاہی میں تیل ڈال کر گرم ہونے کے لئے رکها اور حلوہ بنانا شروع کیا اتنے میں پھپھو  بھی  آگئیں ” آئیں پھوپھو  آئیں ….. آج آپ کو لاہوری ناشتہ کرواتی ہوں”۔ فخریہ لہجے میں کہا           اب یہ نہ کہیں گی پهوپهو نجمہ             ہم باتیں ہی بنایا کرتے ہیں پھوپھو نے لمبی ہو ں کی ۔اور کچن میں ہی سٹول  پر بیٹھ گئیں۔ اب تو پھوپھو چپ کی چپ رہ جائیں گی  ۔ہم نے سو چا لیکن یہ صرف ہمارا خیال تھا کیوں کہ اچانک ہماری نظر  ڈسپنسر پر لگی بوتل پر پڑی وہ خالی ہو گئی تھی ہم نے بوتل لگانے کے لیے صاحب کو آواز دی  “سنیں  ذرا”” اے بہو کیوں آواز دے رہی ہو اسے “” ڈسپنسر پہ بوتل لگانی ہے”۔ “تو لگا لو نا “” میں نہیں اٹھا سکتی.”” بہو میں تمہاری عمر کی تھی نا تو من آٹے کی بوری اٹھا لیتی تھی اور تم سے کچھ اٹھایا ہی نہیں جاتا۔” ” کیوں نہیں اٹھایا جاتا ….  ابھی جب واپس آئی تهی تو پورا گھر گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا سب کو میں نے آ کر اٹھایا ہے”۔ شرارتی لہجے میں کہا ” خود ہی لگا لو ……اس نے نہیں سنا “۔پھوپھو نے  کہا “ایسا نہیں ہو سکتا ابھی شادی کو اتنا عرصہ نہیں ہوا کہ” سنئے ذرا سے بہر ے ہو کیا” کہنے کی نوبت آئے ……وہ آتے ہی ہونگے “اسی وقت صاحب آئے اور ڈسپنسر پر بوتل لگا دی  پھوپھو  خشمگیں نگاہوں سے دیکھتی ہوئی چلی گئیں۔ہم نے حلوہ پوری کا ناشتہ رمشا اور فضیلہ آنٹی کے لئے بھی بھجوایا ناشتے میں پھپھو پوریاں کھاتی رہیں اور اپنے بنائے پکوڑوں اور گلگلوں کی تعریفیں کرتی رہیں ……. توبہ ہے پکوڑے گلگلے نہ ہوگئے ورلڈ کپ ہو گیا  ۔ناشتہ کرکے پهو پهو تیار ہوئیں ماسک اور دستانے لئے اورکہنے لگیں  “میں ذرا فضیلہ کے پاس جا رہی ہوں اتنے عرصے بعد ملی ہو ں کچھ دیر اس کے ساتھ رہوں گی ۔” ڈیڑھ دو گھنٹے بعد پھوپھو  واپس آئیں تو کچھ افسردہ تھیں” کیا ہوا پھوپھو؟ ”  ہم نے پوچھا “فضیلہ بتا رہی تھی کہ حکومت کا ارادہ ہے  کہ ایک آرڈیننس  کے ذریعے راوی فرنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور یہ اتهارٹی ایک لاکھ ایکڑ پر شہر کے شمال میں لاہور کو توسیع دے گی ۔”” ایسا ہی ہے پهو پهو …..ان کی دلیل ہے کہ اگر  آبادی بہت بڑھ جائے  تو شہروں کو پھیلا دینا چاہیے”۔ترقی کی آڑ میں لاہور کابنیادی ڈھانچہ اس کا تاریخی ورثہ اور تعمیراتی ساخت کو تو مسخ نہیں ہونا چاہیئے نا…….. دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے شہروں میں ان کے تاریخی ورثے کو کتنی احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے  اور ہمارے لاہور کے ساتھ اتنی زیادتی ” ۔پھوپھو  کے لہجے میں دکھ بھی تھا اور احتجاج بهی۔ ہم بھی افسردہ ہو گئے”کیا  ایسا نہیں ہو سکتا کہ لاہور کو لاہور ہی رہنے دیا جائے  سنوارنے کا نام لے کر مزید نہ بگاڑا جائے …….کاش کوئی ایسا ہو جو لاہور کو پھر سے لاہور بنا دے- ” پھوپھو کے لہجے میں حسرت تھی”کاش اے کاش……”                    ( تحریر۔  شازیہ ستار نایاب )

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.