پنڈ میں ٹاہلی کے پیڑ تلے لگنے والی پنچایت میں سب کی اپنی اپنی بولی تھی دونوں فریقین کے بڑے ، بچے، بوڑھے ، جوان سب اپنی کہہ رہے تھے جبکہ پنچوں نے چپ سادھ رکھی تھی کہ زمینوں کے پانی کے پچھے ہونے والی یہ لڑائیاں عام اور معمولی تھیں بالکل ایسے ہی جیسے پنڈ میں عورت کا بچہ جنناہ اور بیٹی جننے پر مرد کا اسے قتل کر دینا ایک عام سی بات تھی۔۔۔ پانچوں پنچوں میں کشمیری ڈونگے جیسی پگڑی پہننے والے مالک صاحب کے انداز میں عجب مغروریت اور سفاکیت تھی اور ٹاہلی کے پیڑ کے عقب میں مالک صاحب کی حویلی کی لال اینٹوں کی دیواروں سے بھی سفاکی کی ایسی ہی مہک اٹھتی تھی ____حویلی کی اونچی شان ۔۔ اور حویلی کے دروبام میں ناچتی قابلِ اعزاز غیرت جو ڈس گئی حویلی کی عورتوں کو بچھو کی مانند حویلی کے بے حد کھلے صحن میں لگا تنہا نیم کا پیڑ جس کی مٹی میں پانی سے زیادہ خون شامل تھا ۔۔۔ غیرت کے نام پر بہنے والا خون اور حویلی کی چھتوں سے ٹکراتا مالک صاحب کا اونچا شملہ جن کو تین بیٹوں کا باپ ہونے کا اعزاز حاصل تھا نیم کے پیڑ کو ساتھی مان کر رات کے اندھیرے میں بے آواز آنسوں بہانے والی ملکانی جس کا جرم تین بیٹوں کے بعد تین بیٹیاں پیدا کرکے مالک صاحب کو پنڈ والوں کے سامنے شرمندہ کرنا تھا ۔۔ بیٹیاں ۔۔ جو غیرت مند مردوں کو کھٹکتی ہیں جیسے مالک صاحب کو کھٹکتی تھیں عروج، نور اور زینب ۔۔عروج جس کی بلندی کو تیرہ سال کی عمر میں زوال آیا تھا جب وہ بیاہ کر اٹھائی گیر ، بدمعاش ، کوٹھا نشین لنگڑے پینسٹھ سالہ شکورے کی حویلی میں گئی تھی ۔۔ شکورہ جو ساتھ والے پنڈ کا چودھری تھا جو مالک صاحب کے لیے شریف الشریف تھا جس کی بڑی جاگیری اور زمینداری اور اونچے شملے نے مالک صاحب کو بڑا متاثر کیا تھا جس کی آمد پر مالک صاحب خود قالین بن کر بچھ بچھ جاتے۔ بیٹی کچھ حسین تھی کچھ اس کے تیرہ سال کی عمر میں حسن کے چرچے عام تھے۔ مالک صاحب نے بڑی بے وقوفی جانا کہ دوسرے درجے کے ہی سہی ، چودھری کو ہاتھ سے جانے دیں ۔۔ ویسے بھی انسان بڑی جاگیری اور زمینداری والا ہو تو ہر ڈھونگ رچا سکتا ہے اور ملکانی کو آج بھی وہ دن یاد تھا جس روز عروج شادی کے بعد پہلی بار حویلی آئی تھی تو رات بھر کیسے بلک بلک کر روئی تھی کیسے ہاتھ جوڑ جوڑ کر واپس نہ جانے کی بھیک مانگتی تھی اور ملکانی اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر چومتی جاتی اور بیٹی کے جسم پر پڑے نشانوں پر لب رکھ کر خوب روتی ۔۔۔ اور وہ دن بھی ملکانی پر کیسا قیامت جیسا گزرا تھا جس روز شکورے کی حویلی سے عروج کی میت آئی تھی ملکانی حویلی کے کونوں کھدروں میں منہ چھپا کر روتی تو نور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ماں کے آنسوں پونچھتی۔۔نور جس کی پتلی چوٹی پکڑ کر ویر نے کہا تھا کہ بتا کس یار کو ملنے گئی تھی حویلی کے پچھلے باغیچے میں ۔۔ بتا بےغیرت۔۔ اور نور اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو بڑا کر کے لفظ ” یار ” کو سنتی نور جس نے دس سال کی عمر میں غیرت مند بھائیوں کی بہن اور غیرت مند باپ کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تھا اور اپنے معصوم سوالوں کو ضبط کر کے دو گز زمین کے آغوش میں پناہ لی تھی۔ جس کا ناقابلِ معافی جرم حویلی کے پچھلے باغیچے میں جانا تھا جہاں حویلی کی عورتوں کو جانے کی اجازت نا تھی۔اور ملکانی زینب کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر نور کی میت دیکھنے سے روکتی ۔۔۔۔۔زینب جس نے اٹھارویں سال میں قدم رکھا تو ملکانی کو اپنا وجود سوا نیزے سورج تلے تپتا محسوس ہوا وہ گوٹا کناری لگا ریشم کا لال دوپٹہ اوڑھتی تو ملکانی سہم جاتی اور آگے بڑھ کر اسے سینے میں بینچ لیتی “دنیا آنکھیں اور چہرہ پڑھتی ہے ۔۔ ماں چال اور لہجہ پڑھتی ہے” اور جس روز ملکانی نے زینب کی چال پڑھی تھی اس روز پورے وجود سے کانپ اٹھی تھی ۔ ملکانی گھسیٹ کر اسے بڑے کمرے کی کوٹھری میں لے گئی تھی “زینی نی کھ جوگیے تجھے اس دن کے واسطے تیرے ابے اور تیرے ویروں سے چھپا چھپا کر رکھا تھا میں نے ، کیا تو اپنے ابے کو نہیں جانتی زندہ دفنا ڈالے گا وہ تجھے اور تیرے ویر تیرے ٹوٹے ٹوٹے کر دیں گے پر تیرا ویا اس مزارے کے پتر کے ساتھ نہیں ہونے دیں گے “۔۔ ملکانی زینب کو پیٹتی کم اور روتی زیادہ تھی ” اماں مجھ پر رحم کھا مجھے اسلم سے عشق ہو گیا ہے ” زینی ہاتھ جوڑ کر ایسے سستے عشق کے لیے رحم مانگتی جو مالک صاحب کے نزدیک بیچ چوک میں الٹا لٹکا کر ذلیل کرنے لائق تھا مالک صاحب کے مطابق بھلا مزارے کے پتر کے ساتھ بھی عشق ہوتا ہے؟ ۔۔ کمی کمین …جن پر تھوکا جاتا ہے اور وہ تھوکے کو چاٹنے لائق ہوتے ہیں”بس زینی خبردار جو اب تو اس لفظ کو اپنی زبان پر لائی نی جھلی ایسے شبد یوں منہ پھاڑ کر نہیں کہتے پہلے وقتوں میں دیواروں کے صرف کان ہوتے تھے سننے کو پر اب دیواروں کی زبانیں بھی ہیں اگلنے کو اگر تیرا یہ راز کسی وفادار دیوار نے تیرے ابے کے سامنے اگل دیا نا تو وہ تجھے زندہ دفن کر دے گا”۔۔ دیواروں کی زبان ہو نا ہو اگلنے کو پر اللّٰہ رکھی کی زبان سب اگل گئ جو اس روز دروازے پر کھڑی سب سن گئ اور بس پھر پورے پینڈ میں چہمگوئیاں ہونے لگیں اور بات مالک صاحب تک اور ان کے پتروں تک پہنچ گئی اس روز حویلی میں کیا طوفان آیا تھا مالک صاحب نے پہلے ملکانی کی چوٹی پکڑی تھی “نامراد جاہل عورت یہ سب تیری تربیت کا قصور ہے “ہمارے معاشرے کا بھی عجیب المیہ ہے اولاد قابل ہو تو اولاد کے نام کے آگے لگنے والا باپ کا نام قابلِ اعزاز ہوتا ہے اور باپ کے شملے کو اونچا کرتا ہے اور اگر اولاد غلطیوں کا پٹارہ ہو تو کوکھ سے جنم دینے والی ماں قصوروار ٹھہرائی جاتی ہے “اس روز ملکانی کو پڑی مار پر حویلی کی دیواریں بھی روئیں تھیں اور مزارنیں بھی اور ملکانی زینب کو آغوش میں بھر کر اس کی مار بھی خود کھاتی پر مالک صاحب کے پتر خاموش بیٹھنے والے نا تھے اور پھر انہوں نے وہی کیا جو نام نہاد غیرت کے جوش مارنے پر کیا جاتا ہے مالک صاحب کے بڑے پتر نے رات کے اندھیرے میں زینب کو کلہاڑی سے کاٹ ڈالا بیٹی کے جسم کو دو حصوں میں دیکھ کر ملکانی کی تو چیخیں بھی ساتھ چھوڑ گئیں اور سسکیاں بھی ۔۔۔ بس آنسوں تھے جو بے آواز بہتے تھے ۔۔۔اگلی صبح پورے پنڈ میں پنچایت بیٹھائی گئی کہ دیکھو مالک ولی محمد دین کے بیٹے کتنے غیرت والے نکلے اس روز تمام باپ بھائیوں نے اپنے گھر کی عورتوں کو زینب کی میت دیکھنے بھیجا تھا تاکہ ان کے گھر کی عورتیں ایسا نا کریں اور زینب سے عبرت پکڑ لیں۔ میت کو دیکھنے والی ہر عورت اور لڑکی زینب کے دو ٹکڑے دیکھ کر آنکھیں مند کر منہ موڑ لیا کرتی تھی پر چیختی نا تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے مردوں کو اپنی عورتوں کی آوازیں نہیں پسند اور ملکانی زینب کے جسم کے دونوں ٹکڑوں کو گود میں چھپانے کی کوشش میں ہلکان ۔۔۔۔پورا فرش خون و خون ۔۔۔۔”ملکانی جی روٹی کھا لیں آپ نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا ” فریداں روٹی کے نوالے توڑ کر پتھر بنی ملکانی کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتی ” فریداں میرے سے یہ غم سہا نہیں جاتا مجھ سے زینی کی موت ہضم نہیں ہوتی ” کسی کے نہ ہونے پر ملکانی فریداں سے دکھ کہ لیتی اور فریداں اس لٹی ہوئی ماں کی اجڑی ہوئی گود کو دیکھ کر اپنی اوڑھنی بھیگوتیاس روز کے بعد ملکانی نے ہونٹوں پر مہر لگا لی وہ صبح سے شام تک حویلی کی مالکن ہونے کے فرائض سر انجام دیتی اور رات کو نیم کی پیڑ کے نیچے بیٹھ کر اپنے رب سے شکوے کرتی اللہ رکھی نے ایک بار پھر حویلی کا راز باہر اگلہ تھا مالک صاحب کے منجھلے پتر کا حجن چچا کی بیٹی سے یکطرفہ معشوقے کا راز پینڈ میں ایک بار پھر سے چہمگوئیاں ہونے لگیں اور پھر ایک دن مالک صاحب کا پتر حجن چچا کی بیٹی کو ہاتھ سے پکڑ کر حویلی لے آیا۔۔ بھگا کر نہیں ۔۔۔ بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر ڈرا کر “اماں رقیہ کو سجا سنوار دے قاضی صاحب آتے ہوں گے میں ابھی اور اسی وقت رقیہ سے نکاح کروں گا” ملک صاحب کے پتر نے رقیہ کو ملکانی کی جانب دھکیلا اور اس روز ملکانی نے زینب کی موت والا کلہاڑا پکڑ کر اپنے پتر کا بازو کاٹ ڈالا ____حویلی میں موجود تمام مزارنیں حیران۔۔۔۔ مالک صاحب اپنے دوسرے دونوں پتروں کے ساتھ فوری پہنچے اپنے ہاتھ کٹے پتر کی سسکیاں سن کر تڑپ اٹھے “گنوار عورت یہ تونے کیا کیا ملک صاحب نے ملکانی کی چوٹی پکڑ کر فرش پر پٹخا “اور پھر فرش سے اٹھنے والی عورت ملکانی تو نہ تھی “میں نے عورت کی غیرت کو پورا کردیا میری زینب مرد کی غیرت کی بلی چڑھی تھی آج میرا ہی پتر عورت کی غیرت کی بلی چڑھ گیا میں نے ثریا بنت جمیل زوجہ ولی محمد دین نے عورت کی غیرت پوری کر ڈالی” ۔۔۔۔۔حویلی کے درودیوار سہم گئی اور سارے مرد حیرانی سے پتھر کے ہوگئےولی محمد دین “۔۔۔معاشرہ دو ٹانگوں پر چلتا ہے معاشرے کی ایک ٹانگ مرد اور دوسری ٹانگ عورت ہے تو اور پورا پنڈ جس معاشرے میں رہ رہے تھے وہ لنگڑا معاشرہ تھا جہاں صرف مرد کی عزت و غیرت کی خاطر عورت بلی چڑھ جائے وہ معاشرہ لنگڑا ہوتا ہے اور ایک روز لڑکھڑا کر گر جاتا ہے تبھی تو میرے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مرد عورت کے کو برابری دی تھی اور آج میں نے ثریا بنت جمیل زوجہ ولی محمد دین نے مرد عورت کی غیرت کو برابر کر دیا میں نے تیرے لنگڑے معاشرے کو لڑکھڑا کر گرنے سے بچا لیا۔۔۔”ملکانی نے اپنے نارنجی ڈوپٹے کو ماتھے سے نکلتے خون پر رکھا اور حویلی سے نکل گئی ۔۔۔۔مردوں کو حیران چھوڑ کر۔۔۔حویلی کے مرد کونوں کھدروں میں منہ چھپائے پھرتے ایک عورت کے ہاتھوں بے عزتی پر اور اس کسک میں کہ اس روز زینب کے ساتھ ملکانی کو بھی کیوں نا مار ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔”کچھ جگہیں فقط کوڑے کے لئے ہوتی ہیں اگر انہیں صاف کرکے ان پر اونچی عمارت بھی بنا دی جائے تو بھی ان کی زمین سے آتی باسے کوڑے کی بدبو وہاں کسی کو بسنے نہیں دیتی۔۔۔ ٹھیک ایسے ہی حویلی کے مردوں کے دماغ اور دل تھے جن پر اللہ نے مہر لگا دی تھی کہ اللہ نافرمانوں کی رسی دراز کر دیتا ہے اب روز قیامت سے پہلے ان کو اپنی غلطی کا احساس ہونا غیر ممکن تھا”۔۔۔۔۔
***

تحریر:مائرہ انوار راجپوت

کور ڈیزائن و فوٹو گرافی: صوفیہ کاشف