شناسی کا سفر،
آساں نہیں ہوتا…
یہ خود سے ہو
خدا سے ہو،
فنا سے ہو،
بقا سے ہو..
مگر یہ
جان کر رکھو…
کہ یہ رستہ
کبھی دشت بیاباں
بھی نہیں ہوتا…
تمہیں اس راستے
میں بستیء دل،
ہستیء دل،
درد کی منزل..
یہ سب کچھ
دیکھنا ہوگا..
مگر رکنا نہیں ہوگا..
کہ رکنا تو سفر کے
واسطے..
سامان وحشت ہے،
کہ رکنا ایک دہشت ہے..
تمہیں پانا ہے
گر خود کو،
خدا کو تو،
بھلے کوئ
حریمِ جاں کو
چکنا چور ہی کر دے..
تمہیں رنجور ہی کردے
تمہارے دل کے گوشوں کو
شبِ دیجور ہی کردے..
تمہیں چلتے ہی جانا ہے..
سفر کرتے ہی جانا ہے..
سفر کرنا ضروری ہے!!

عمارہ احمد (حجاب)

____________

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف