کبیرے ! ارے او کبیرے ۔۔۔
مٹی لا ، اسے گوندھ اور مورتی بنا ،
کبیرا سوچ میں گم ۔۔۔
“مورتی سے ہم کو پیار ہے یا مورتی روزگار ہے؟”
“ابے او کبیرے ۔۔۔
سوچتا کاہے کو ہے مورکھ؟ مورتی بنا مورتی ۔
تیرے افکار کا ستیاناس ۔ “
کبیرا چاروناچار اٹھا چکنی مٹی میں پانی ڈال کر گوندھنا شروع کیا ۔
کبیرے نے چکنی مٹی میں ہاتھ ڈالے تو اس کے ہاتھ اُسی مٹی میں مٹی جیسے ہو گئے ۔ وہ مٹی گوندھنے لگا ۔ یہ کام کبھی وہ چارو ناچار کیا کرتا تھا مگر آج اسے مٹی گوندھنے میں لطف آنے لگا ۔ وہ ایک ادا سے مٹھیاں بھینچتا اور مٹی کو اس مٹھیوں سے نکلتے دیکھ کر مسکرانے لگتا ۔ اسے لگتا جیسے وہ مٹی کی اکلوتی اولاد ہے ۔ مٹی میں ممتا تھی ۔ جو باہیں پھیلائے کبیرے کے ہاتھوں کو تھام لیتی ۔ اس کی نرماہٹ میں کبیرے کو بے پناہ اپنائیت محسوس ہوئی ۔
کبیرےنے مٹی کو پیار سے بھینچا ۔ پھر مٹھی میں بھرا اور ہاتھ کو اوپر اٹھا کر ہاتھ سے گرتی مٹی کو مٹی میں ملتے دیکھ کر ہنسنے لگا ۔
استاد نے کوٹھڑی کی ادھ کُھلی چھوٹی سی چوبی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا ، اور ایک بار پھر وہیں سے چلایا !
“تو کھیل رہا ہے کمبخت ؟”
کبیرا بولا : “میں نہیں کھیل رہا استاد ، “وہ “کھیل رہا ہے ۔ “
اور آنکھیں موندے مٹی گوندھتے ،بڑبڑایا ۔
“میں تو مٹی میں جذب ہو رہا ہوں ، کھیل کہاں رہا ہوں استاد ؟
جذب ہو رہا ہوں ں ں ں ں “۔
کبیرا مٹی کی مورتیاں بناتا اور استاد انھیں بیچتا تھا ۔ برسوں سے ان کا یہی روزگار تھا ۔ کہتے ہیں قدرت چاہے تو مٹی بھی سونا بن جاتی ہے ۔ سچ کہتے ہیں ۔ مٹی مٹی کا نصیب ہوتا ہے ۔ کب ، کہاں، کس جگہ کی مٹی معتبر بن جائے کون جانتا ہے ۔ پر کیا یہ سچ نہیں مٹی کو سونا بنانے والی سوچ ہی دراصل طلائی ہوتی ہے ؟ ۔
کبیرا جب استاد کی شاگردی میں آیا تب اسے مٹی پسند نہیں تھی ۔ وہ مٹی کو اپنے لباس سے جھاڑتا اور اپنے نصیب کو کوستا تھا ۔ لیکن پچھلے کئی ہفتوں سے کبیرے کے مزاج میں عجیب سا بدلاؤ آیا ۔ کبیرا گم سم رہنے لگا ۔ وہ طرح طرح کے سوال کرتا ۔ اکثر بیٹھے بیٹھے غائب ہو جاتا اور گھنٹوں بعد ہونقوں کی طرح سر جھکائے آ جاتا ۔ عجیب پراسرار ہنسی ہنستا ۔ ہونٹوں میں دبی بیڑی انگلیوں سے تھامے کچھ سوچنے لگتا ۔ استاد کو تشویش ہونے لگی ۔ کوئی چکر تو ہے ۔
کیا عشق کر بیٹھا ہے ؟
نہ نہ بھلا یہ کمی کمین کیا عشق کرے گا ؟
عشق کرنے کے لیے ذات چاہیے ہوتی ہے ۔پھر اسے لاذات کرنا عشق کا کام ہے ۔ یہ تو پہلے سے ہی کم ذات ہے ۔ یہ عشق نہیں کر سکتا۔
استاد کوٹھری میں مورتی کو سجا رہا تھا مگر دھیان اس کا کبیرے کی طرف تھا ۔
استاد کبیرے کا سوچ کر تلملایا ، سوچا باہر جا کر ایک نظر دوبارہ دیکھ تو لوں اب کیا گل کھلا رہا ہے ۔ وہ کوٹھری سے باہر نکلا تو دیکھا :
کبیرا مٹی میں لت پت مجسمہ بنا اکڑوں بیٹھا مسکرا رہا ہے ۔
استاد ٹھٹھک گیا ، غصے سے بولا ،
تیرا ستیاناس ، ناس پیٹے ساری مٹی برباد کر دی ۔ یہ کر کیا رہا ہے کبیرے؟
کبیرا چونکا اور کھڑا ہو گیا ۔
ارے بد ذات ، ایسے منہ بنا رہا ہے جیسے میں نے تیرا سارا مزہ کرکرا کر دیا ہو ۔
کبیرے نے سر ہلایا اور دل میں کہا :
“مزہ تو کرکرا کر دیا استاد “
کبیرے کو سزا کے طور پہ دوبارہ مٹی گوندھنی پڑی ۔ بڑی جانفشانی سے اس نے ایک مورتی بنائی ۔ بیشمار بازوؤں والی ۔ جب سوکھ گئی تو مورتی کو اٹھا کر پیڑ کے نیچے رکھ دیا ۔ عقیدت مندوں کی جھولیوں کو مٹی کی مورت نے یقین ، تسلی اور بھروسے سے بھر دیا ۔ قطار در قطار لوگ تھے اور وہ مورتی ،جو اب زندہ ہو چکی تھی ۔ مورتی نے نواز نا شروع کیا ۔ کبیرے کو دلی تسکین ہوئی ۔ اگلے دن جب گاہک آیا ۔ کبیرا مورتی لینے پیڑ کے پاس گیا تو واپس نہ آیا ۔ استاد نے جا کر دیکھا تو مورتی غائب تھی ۔ اس کی جگہ چند بجھے دئے اور گیندے کے ہار پڑے تھے ۔
استاد سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔
کبیرا منہ بسورے کوٹھڑی میں چلا گیا ۔
رات بھر استاد کو وہ کبیرے کا اداس چہرہ ملول کرتا رہا ۔ کبیرا نازک مزاج اور حساس لڑکا تھا ۔ اللہ لوک قسم کا ۔ اس کا اس دھرتی پہ استاد کے علاوہ کوئی تھا بھی تو نہیں ۔ استاد افسردہ ہوا ۔
اگلی صبح استاد نے دیکھا کبیرا دیوار پہ ہاتھ دھرے دوسرا ہاتھ ماتھے پہ رکھ کر ،زار زار رو رہا ہے ۔
استاد کا دل پگھلا اور کبیرے کو کھینچ کر گلے لگا لیا۔
کبیرا حیران ۔۔۔
ایک دم انجان سا استاد کو تکنے لگا ۔
اس کے چہرے پہ ایسی خفگی تھی جیسے کسی نے زبردستی اسے مراقبہ سے نکال لیا ہو ۔ یا کسی مقدس حصار کے باہر لا کھڑا کیا ہو ۔
وہ آنسو کبیرے کے گناہ بخشوا رہے تھے ۔
اور استاد ۔۔۔۔
پہلی بار کبیرے کو حیرت ہوئی آخر سب اسے استاد کیوں کہتے ہیں ۔ یہ تو جانتا ہی نہیں فطرت کو ۔ کیا اس نے کبھی نہیں سنا کہ : “جو پرندے ایک ساتھ اُڑتے ہیں ان کے پر ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ “
وہ استاد کا ہاتھ چھڑا کر دوبارہ دیوار پہ سر ٹکائے رونے لگا ۔ دیوار میں ایسے کشش تھی جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔ ہر ایک آنسو دل پہ جیسے بھاری پتھر تھا گرتے ہی کبیرا ہلکا ہوتا گیا ۔ کچھ دیر بعد کبیرے کو لگا وہ ہواؤں میں اڑ رہا ہے ۔ مقدس میناروں کے پار ایک دشت میں ۔ جہاں مٹی کے سات رنگ تھے ۔
اس بار کبیرے نے مورتی بنائی ایک ایسی پاکیزہ دوشیزہ کی جس کی پیشانی سے نور جھلک رہا تھا ۔ محبت سے اس کی آنکھیں مخمور تھیں ۔ اس کا نازک بدن اور لمبی پتلی مخروطی انگلیاں دیکھ کر خود ہی مہبوت رہ گیا ۔ سیاہ اوڑھنی سے سر تا پا ڈھکی ہوئی مقدس مورت ، جیسے اس کے آنسو ابھی دو سیاہ اداس آنکھوں سے چھلک پڑیں گے ۔
کبیرے نے مورتی کو عقیدت سے سلام کیا ۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے مقدس مورت کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا ۔ مورتی کا نور اسے چہرے سے چھلک کر کبیرے کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا دل تک منتقل ہونے لگا ۔ کبیرا الوہی فرشتے کی طرح سیماب صورت دمک رہا تھا ۔ نور کا ایک ہالہ اس کے گرد لپٹا اور کبیرے نے آنکھیں موند لیں ۔
استاد جان چکا تھا کہ کبیرا ایک بےچین روح ہے ۔ سکون کی خاطر یہ بھٹکنے لگتا ہے ۔ اور اسی بہکاوے کو یہ راحت سمجھ کر ہر بار ایک نئے جال میں پھنس جاتا ہے ۔
نور کا ہالہ سمٹ کر کبیرے کے سر پہ دائرہ بنا چکا تھا ۔ اب وہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں جسم پہ نارنجی چادر لپیٹے آلتی پالتی مارے سکون سے بیٹھا تھا ۔ ایسی راحت کہ جیسے ماں کی گود میں خوابیدہ بچے کو ہوتی ہے ۔ دور سے جرس کی صدا لوری کی طرح سنائی دیتی ۔ کبیرے کی یہی آخری منزل تھی شاید مگر نہیں ۔۔۔۔
کچھ دن بعد استاد نے دیکھا وہ مٹی کی چکور ٹکیہ کو چوم کر آنکھوں سے لگا رہا ہے ۔
استاد نے حیرت سے پوچھا ؟
“یہ مٹی کا دھیلا کہاں سے آیا ؟ “
کبیرا جذباتی ہو کر رونے لگا ۔
“نہیں نہیں ۔۔۔
مٹی کا دھیلا مت کہو ۔”
دیکھتے ہی دیکھتے وہ دھیلا چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ۔
کبیرا اس مٹی کی عقیدت کے آگے بے بس تھا ۔
“مٹی کا دھیلا نہ کہو استاد یہ معصوموں کی نشانی ہے ۔ عقیدت ہے ۔ محبت ہے قربانی ہے ۔ شفا ہے ۔
مٹی کا دھیلا مت کہو ! توہین ہوتی ہے محبت کی ۔”
مٹی کی چھوٹی سی ٹکیہ نے کبیرے کے دل پہ جمی ساری کالک دھو ڈالی ۔ اسے لگا یہی وہ مٹی تھی جسکی اُسے برسوں سے تلاش تھی ۔ اس نے مٹی کو آنکھوں سے چوم کر جیب میں رکھ دیا ۔ مٹی جیسے اس کے اندر کی بےحسی اور شر کو کھانے لگی ۔ کبیرے نے جب اس پہ ماتھا ٹیکا تو اس کا دل گداز ہو گیا ۔ اس نے آداب حرمت سیکھے ۔
اگلے دن کبیرا سنگ سیاہ کو چمکا رہا تھا ۔
استاد نے پوچھا یہ کیا ہے اب ؟
یہ آسمانی پتھر ہے ۔ ۔۔۔
استاد نے رکھ سنبھال کے کان کے نیچے تھپڑ مارا ۔
شاں شاں شاں کی آواز کبیرے کے کان میں گونجنے لگی اور اس کا سر گھومنے لگا۔
استاد چلایا :
“آسمانی پتھر ۔۔۔۔۔”
ہاں استاد یہ آسمانی پتھر ہے چوم چوم کر لوگوں نے اسے کالا کر دیا ۔ میں پھر سے سفید کرنا چاہتا ہوں تاکہ جھوٹی ملمع کاری اتار کر اسے دوبارہ بےداغ کر سکوں ۔
استاد پریشانی سے بولا !
او مورکھ کسی نے سن لیا تو تجھے زندہ دفن کر دیں گے ،”
کبیرا بولا :”میں مجبور ہوں ۔ تمھیں پتہ ہے مجبوری خدا سے بھی بڑی ہوتی ہے ۔ یہ انسان سے وہ کرواتی ہے جو وہ عام حالات میں انسان کرنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ۔
استاد نے کہا :
“یاد رکھنا مجبوری جرم تو کروا سکتی ہے لیکن سزا سے نہیں بچا سکتی “
کبیرا استاد کی باتوں سے بے پروا اپنے ہی ہاتھوں کو رگڑے جا رہا تھا ۔ جبکہ اس کے ہاتھ میں کوئی پتھر نہیں تھا ۔
کبیرے کو اکیلا چھوڑ کر استاد کوٹھری میں جا کر سوچنے لگا ۔ اب کبیرے کو نکال دیتا ہوں ۔ یہ فساد کی جڑ بن گیا ہے ۔ یہ بلوے کروائے گا ۔ مگر یہ یتیم مسکین جائے گا کہاں ؟
یہی سوچ کر ایک بار پھر کبیرے کو بنا مانگے معافی مل گئی ۔
اُس رات کبیرے نے خواب میں دیکھا کہ سفید دیو ہیکل پر مٹی کے پُتلے کے سامنے پڑے ہیں اور وہ ان پروں سے بے خبر اپنی دنیا میں ہے ۔ قدرتی وصف اپنے اندر دیکھ کر کبیرے کے ہاتھ چمکنے لگے ۔ وہ چمکتے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوا تو جیسے ہزاروں سال بیت چکے تھے ۔ وقت ٹھہر چکا تھا ۔ قدرت کے شوق کی انتہا تھی ۔ کہکشاؤں سے کہیں آگے مٹی کا پُتلا محو سفر تھا ۔
قدرت کا عشق وہ بھی مٹی سے ؟
کبیرا خوف سے کانپنے لگا ۔
اسی اثنا گاہک کی صدا سے کبیرے کا الوہی خواب ٹوٹ گیا ۔۔۔
کبیرے ! او کبیرے ۔۔۔۔
ایک قد آدم پتلا بنا دے ،
کبیرا آنکھیں ملتا اٹھ بیٹھا ۔
قد آدم پتلا ،
منہ مانگے دام دوں گا ، چوک میں سجانا ہے ۔
“مورتی روزگار ہوتی ہے ، من کا قرار ہوتی ہے “
بھوکے پیٹ میں چوہے دوڑے ۔
کبیرے نے سلیپر پہنے اور آنکھیں ملتا غسل خانے میں دو چار چھینٹے مار کر واپس آیا تو گاہک زمین پہ تصویر پھیلا کر بیٹھا تھا۔
ایک خود پسند نیتا کا فوٹو تھا ۔
کبیرے نے کچھ دیر سوچا ! پھر حامی بھر لی ۔
مجسمہ بن کر چوک پہ نصب ہوا ۔ اس کے قدموں میں پہلا گلاب کبیرے نے رکھا ۔
اور کہا “ میں اندھیرے کو شکست دینے والے کا بندہ ہوں “
کبیرے کے اندر سے کئی آوازیں گونجیں ۔۔
“ میں اندھیرے کو شکست دینے والے کا غلام ہوں “
“ میں اندھیرے کو شکست دینے والے کیا غلام ہوں ں ں ں ں “
پر میں مٹی کا مادھو نا چاہتے ہوئے بھی مٹی کی جانب ہی کھینچا چلا جاتا ہوں ۔
مٹی میں دفن ہے مٹی کا راز
کبوتر با کبوتر باز با باز ۔۔
کبیرے نے باہیں پھیلاتے ہوئے سورج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا گواہ رہنا اے درخشاں ستارے !
کبیرا جب تک زندہ ہے وہ کردار بدلتا رہے گا مگر مٹی سے محبت ہی ہر کردار کی مرکزی کہانی ہوگی ۔

_________________

تحریر: ثروت نجیب

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف