عشق محشر سی ادا رکھتا ہے ________حمیرا فضا

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

بارہویں قسط

______

سر پر لٹک رہی ہے نفرت کی ایک تلوار

دائیں طرف رسوائی کا بازار سجا ہے

بائیں جانب سزاؤں کے مرحلے در مرحلے ہیں

جو پیچھے مڑو ں تو کوئی راستہ بھی نہیں

میں نے چاروں طرف اپنے

عذاب  دیکھا ہے

جانے زندگی اب کس کروٹ بیٹھے گی؟

اب وہ مکمل طور پر جاگ چکی تھی۔دو دن سے چاچی شگو نے اُس کے کمرے کا رخ نہیں کیا تھا۔پہلے نیند نے اُس کا امتحاں لیا تھا تو اب رتجگوں نے۔تکلیف اور بے چینی کا ایک ایک پل وہ جاگتی آنکھوں سے کاٹ رہی تھی۔جو زہر اُس کی نس نس میں اُتارا گیا تھا اب وہی زہر جسم مانگ رہا تھا۔وہ بھوک کی شدت سے نڈھال ہو چکی تھی۔اُس نے کئی بار شدت سے بند دروازہ پیٹا مگر باہر سے لگی کنڈی کی چیخ و پکار سننے کے لیے کوئی تیار ہی نہ تھا۔وہ کبھی بیڈ پر ڈھے جاتی تو کبھی قالین پر گر پڑتی اور کبھی صوفے پر بیٹھ کر کھڑکی سے دن کے مختلف اوقات بدلنے کا منظر دیکھتی۔

رات کے دس بج رہے تھے جب وہ بھوک سے تڑپ تڑپ کر صوفے پر ہی سوگئی۔اچانک دروازہ کھولنے کی آواز آئی تو اُس کی کچّی نیند بھی ٹوٹ گئی۔وہ کچھ خوفزدہ سی ہوکر خود میں سمٹنے لگی تھی۔

’’وہ یقیناً مجھے کوئی نئی سزا دینے آرہا ہے ۔۔۔

آخر اِس بار وہ مجھے کونسی سزا دے گا؟

ایسا کیا کرے گا کہ میں پہلے سے زیادہ تڑپوں گی ؟

کیا کوئی تکلیف دینے کے لیے انسان؟

یا کوئی خونخوار یا زہریلا جانور؟‘‘

وہ سوچتے سوچتے اُس حد تک جا پہنچی کہ اپنے دل کے اندازوں سے خود ہی کانپ اُٹھی۔ اِس سے پہلے کہ وہ مزید اندازے لگاتی دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا ۔ایک اجنبی شخص ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لیے اُسے دیکھے بنا شیشے کی میز کی طرف بڑھ گیا تھا۔وہ انتہائی سانولا اور چھوٹے قد کا شخص تھا۔ لمبے لمبے بال اور بڑھی ہوئی شیو، وہ کچھ کچھ پراسرار سا دیکھائی دیا۔سیاہ کھڈوں میں کھبی اُس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں اپنے اندر عجیب وحشت رکھتی تھیں۔زخموں سے بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر صاحبہ نے ایک جھرجھری سی لی تھی۔

’’کون ہے یہ ؟کیا یہ میرا ایک اور پہرے دار ہے؟یہ کیسی سزا تجویز کی ہے تم نے خان؟تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ صاحبہ نے بدصورتی سے نفرت کرنا ترک کردیا ہے۔‘‘وہ اُسے دیکھنے کے بعد سوچنے میں گم ہوچکی تھی کہ دروازہ دوبارہ بند کرنے کی آواز سے چونکی۔

وہ جس خاموشی سے اندر آیا تھا اُتنی ہی خاموشی سے جا چکا تھا۔صاحبہ پھرتی سے اُٹھی اور کھانے پر جھپٹ پڑی ۔آنے والے نے یہ عجیب منظر دروازے کے اُس سوراخ سے دیکھا جو شاید کبھی اُس پر نظر رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔کوئی اور شخص ہوتا تو اُس لڑکی پر ہنس پڑتا ،مگر اُس شخص کو تو ہنسی بھی نہیں آتی تھی۔

’’کون ہے یہ شخص؟

کیا مقصد ہے اِس کے یہاں آنے کا؟

میری سزا کا اِس شخص سے کیا تعلق؟

اب کی بار وہ کونسی چال چل رہا ہے؟

چاچی شگو کہاں چلی گئی ہیں؟

اور خود جازم خان کہاں؟‘‘

کھانا کھانے کے بعد اُس کی حالت کچھ سنبھلی تو وہ باقی کے معاملات پر غور وفکر کر نے لگی۔کئی دن سے سویا سویا دماغ بہت کچھ سوچنے کے قابل ہو چکا تھا۔اِتنا تو اُسے یاد تھا کہ اُسے کوئی سزا دینے کی بات کی گئی تھی ،مگر وہ سزا کیا تھی؟ یہ سوال ابھی باقی تھا۔ذہن میں ہلچل مچاتی کشمکش نے بے چین کردیا تو وہ پورے کمرے میں گھومنے لگی۔ہر الجھن کا اک جواب تھا ،ہر عمل کا کوئی مقصد تھا،مگر وہ بے خبر تھی ۔بہت سی چیزیں مبہم تھیں،جنھیں واضح اب صرف وہ اجنبی ہی کرسکتا تھا۔چلتے چلتے تھکن کا احساس بڑھنے لگا تو وہی قالین پر ہی لیٹ گئی۔دوسری طرف سیف نے بھی اطمینان کا سانس لیا ۔اب وہ بھی کچھ پل اپنی یادوں کے ساتھ گزار سکتا تھا۔

صبح اُس کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلا خیال اُس اجنبی کی طرف ہی گیا ۔وہ پھرتی سے اُٹھی اور دروازے کے چھوٹے سوراخ سے باہر دیکھنے لگی۔وہ اپنی جگہ پر آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔اُس کے لب آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ جاگ رہا ہے اور دل ہی دل میں کوئی ورد کر رہا ہے۔یکدم اُس نے آنکھیں کھولی تو اُن لال ڈوروں کی تاب نہ لاتے ہوئے صاحبہ پیچھے ہٹ گئی ۔وہ پورا دن وقفے وقفے سے اُسے دیکھتی رہی تھی ،کبھی وہ کچھ پڑھ رہا ہوتا،کبھی گم صم بیٹھا نظر آتا تو کبھی دعائیں مانگتا۔اِتنا تو وہ بھی جان گئی تھی کہ باہر بیٹھا شخص ایک بے ضرر انسان ہے ،جو اُس کی طرح ہی کسی صدمے سے دوچار تھا۔

’’صبح سے اتنی بار دروازہ بجا چکی ہوں۔۔۔مگر مجال ہے کہ کسی نے سنا ہو۔۔۔کیا تم نے سنا؟‘‘ شام کو دروازہ کھلا تو وہ بے دھڑک بولی۔اُس کے الفاظ کو وہ ان سنا کرتا ہوا ربوٹ کی طرح اندر داخل ہوا۔

’’لگتا ہے کسی بہرے شخص کو یہ نوکری سونپی گئی ہے،جو نہ میری سن سکے،نہ مان سکے۔‘‘صاحبہ نے اکسانے کے لیے مزید طنز کیا تب بھی دوسری طرف سرد مہری ہنوز برقرار رہی۔

’’ویسے ایک نارمل انسان کو تین وقت بھوک لگتی ہے اور اگر دو وقت کھانا نہ ملے تو تیسرے پہر زیادہ کھانا چاہیے ہوتا ہے۔‘‘صاحبہ نے صوفے سے اُٹھتے ہوئے بے چارگی سے کہا ،مگر میز پر کھانا رکھتے سیف کے انداز میں ابھی بھی نظر اندازی تھی۔

’’میں جانتی ہوں تم بھی حکم کے غلام ہو۔وہ پاگل شخص مجھے بھوکا رکھ کر خوش ہوتا ہے،وہ نہیں جانتا کہ میں صرف ایک ہی چیز کی بھوکی ہوں اور وہ ہے آزادی۔‘‘وہ اُس کے سامنے آکر مستحکم لہجے میں بولی ،لیکن اُس کی بے باکی اور دھونس بھی دوسری طرف کی چپ نہ توڑ سکی۔

جانے سے پہلے وہ کھڑی کی طرف گیا اور جھومتے پردوں کو باندھ کر آہستہ سے کھڑکی بند کردی۔

’’یہ کیا کر رہے ہو تم؟کیا اب میں اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتی؟کیا تمھیں محسوس نہیں ہوتا کہ اِس کمرے میں کس قدر گرمی ہے،کس قدر گھٹن ہے؟‘‘وہ اُس کے پیچھے آتے ہوئے غصّے سے غرّائی ،مگر وہ اپنا کام کرکے واپس پلٹ چکا تھا۔

’’گونگے ہو کیا؟میں اِتنا بول رہی ہوں اور تم جواب ہی نہیں دے رہے۔‘‘اِس سے پہلے کے وہ اور برہمی کا اظہار کرتی سیف چپ چاپ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔

*****

’’میں اُس کے اِرد گرد کوئی بھی خوبصورت انسان یا خوشنما چیز نہیں دیکھنا چاہتا۔اُس کی مستقل سزا کا بندوبست میں واپس آکر کرونگا ،ابھی اُسے زندگی سے بیزار رکھنے کے لیے اِتنا ہی کافی ہے کہ تمھاری یہ ہیبت ناک شکل اُسے نظر آتی رہے۔‘‘جازم خان کی آواز آس پاس گونجی تو وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔کچھ وقت کی نیند نے اُس کی تھکاوٹ کافی کم کردی تھی۔

’’وہ دوبار بھاگ چکی ہے اور اب کی بار بھاگی تو تم تو جان سے جاؤ گے ہی، وہ بھی اذیت ناک موت مرے گی۔‘‘سیف نے دوبارہ سے آنکھیں ملیں اور ساتھ رکھی بندوق کو کندھے پر لٹکا لیا۔اُس شخص کی آواز بار بار اُسے اپنے اندر سے آرہی تھی ۔وہ چاہ کر بھی مزید نہیں سو سکتا تھا۔

چھپ چھپ کر جھانکتی بڑی بڑی آنکھیں کب سے اُس کی حرکات کا جائزہ لے رہی تھیں۔اُس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی ،مگر دروازہ باہر سے بند تھا۔اُس نے آہستہ سے کھٹکھٹایا تو کوئی توجہ نہ دی گئی،لیکن دوسری بار کی زور دار دستک نے سیف کو اُٹھنے پر مجبور کردیا تھا۔

ؔ’’کچھ چاہیے آپ کو؟‘‘سیف نے نظر اُٹھائے بغیر پہلی بار اُسے مخاطب کیا۔

’’کون ہو تم؟‘‘ وہ تڑخ کر بولی ،مگر وہ خاموش رہا۔

’’کیوں آئے ہو یہاں۔‘‘اُس کا لہجہ مزید ترش ہوا ،پر جواب اب بھی ندارد تھا۔

’’میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔بولو ورنہ میں زور زور سے چلاؤنگی؟‘‘وہ غصے سے تنتناتی ہوئی تھوڑا آگے بڑھی تو وہ پیچھے ہوگیا ۔

’’مجھے یہاں آپ کی حفاظت اور پہرہ داری کے لیے رکھا گیا ہے۔‘‘دھمکی کام کر گئی تھی ۔سیف کو ناچار جواب دینا پڑا۔وہ جان گیا تھا کہ وہ آسانی سے ٹلنے والی نہیں۔

’’تو کیا اُس جابر شخص کی ساری طاقتیں کم پڑ گئی ہیں جو اُس نے تمھیں یہاں بھیج دیا۔‘‘وہ تمسخرانہ لہجے میں بولی تو سیف نے بے اختیار نظر اُٹھائی ۔سفید لباس میں ملبوس بال بکھرائے ہوئے وہ کچھ عجیب سی لگ رہی تھی۔کاسنی آنکھوں کی جھیل کے گرد اعتماد سے اُٹھی گھنیری پلکیں خوف سے عاری تھیں۔اُس کے چہرے پر ڈر اور دہشت کا کوئی نشان نہ تھا۔وہ ایک پل میں ہی پہچان گیا تھا کہ وہ کوئی معمولی لڑکی نہیں جس نے جازم خان کو ٹکر دی تھی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟غصہ آرہا ہے تمھیں؟کتنے افسوس کی بات ہے ویسے ،اگر انسان کو ایسی نوکری کرنی پڑے جس میں اُس کا کام بس ایک لڑکی کو خوفزدہ رکھنا ہو۔‘‘سیف کو اپنی طرف گھورتے دیکھ کر وہ مزید تپانے والے انداز میں بولی۔اِس وقت اُس کا مقصد اُس اجنبی کی توہین کرنا نہیں،بلکہ اُسے بولنے پر اکسانا تھا۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ جازم خان کی اگلی چال کیا ہے۔

’’آپ جو چاہیں سمجھ سکتی ہیں۔‘‘سیف نے اپنا انداز سپاٹ رکھا۔

’’ہاں میں سمجھتی ہوں ! تم بھی دوسرے نوکروں کی طرح ایک تماش بین ہو جو میری سزا سے مزے لینے آئے ہو۔‘‘چاچی شگو کا خیال ذہن سے گزرا تو وہ مزید تلخ ہوئی۔

’’تماشا بنانے والے زور آور ہوں تو تماش بین بھی بے بس ہوتے ہیں۔‘‘سیف کی آواز میں بھی کڑواہٹ گُھلی۔

’’پیسے تو بہت ملے ہونگے تمھیں ،آخر کو جو کام تم کر رہے ہو ،وہ کام اِتنا آسان بھی نہیں۔‘‘وہ اُسے کریدتی ہوئی جاسوس نظروں سے دیکھنے لگی۔

’’چلی جائیے اندر ۔‘‘یکلخت وہ غصے سے پھنکارا ۔

’’نہیں جاؤنگی۔۔۔تم مجھے مجبور نہیں کرسکتے۔‘‘وہ بھی اُسی کے انداز میں آمنے سامنے ہوئی۔

’’یہاں آنا میری مجبوری ہے ۔میں تب تک یہاں ہوں جب تک وہ واپس نہیں آجاتے۔‘‘سیف نے لفظ لفظ چپا کر کہا ،وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ باتیں گھما پھرا کر جازم کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔

’’کیا ؟ وہ حویلی میں نہیں ہے؟‘‘ صاحبہ تقریباً حیرانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے اُچھل پڑی تھی ۔

’’کچھ وقت کے لیے۔‘‘سیف نے محتاط لہجے میں جیسے اُسے باور کرایا۔

’’یہ تو بہت ہی اچھی خبر ہے۔‘‘ وہ متبسم انداز میں بولی ۔ اُس کا موڈ مزید خوشگوار ہوگیا تھا۔

’’اب آپ اپنے کمرے میں چلی جایئے ۔‘‘اُسے من ہی من مسکراتا دیکھ کر سیف کو اُلجھن سی ہوئی ۔

’’لیکن ابھی میرے سوال پورے نہیں ہوئے ۔مجھے جاننا ہے کہ تم کون ہو؟اُس کے رشتے دار یا کوئی غلام؟‘‘ وہ ڈھٹائی سے کہتی ہوئی اُس کی کرسی پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔

’’میں ہر بات کا جواب دینے کا پابند نہیں۔‘‘سیف کو اُس کی یہ حرکت انتہائی بری لگی۔

’’تو تمھیں اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تمھیں ایک لڑکی کو ڈرانے کے لیے رکھا گیا ہے۔‘‘وہ ایک بار پھر اُس کی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ رہی تھی ۔

’’ڈرانے کے لیے؟‘‘سیف اچھنبے سے اُسے دیکھنے لگا۔

’’ہاں ڈرانے کے لیے ،اور بھی وجوہات ہیں کئی۔‘‘صاحبہ نے آنکھیں گھما کر تجسس پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

’’کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ؟کونسی وجوہات؟سیف نے سخت لہجہ اختیار کیا۔

’’تمھارے مالک نے تین وجہ سے ہی تو تمھیں یہ ذمہ داری سونپی ہے ۔ایک یہ کہ میں تمھیں دیکھ دیکھ کر سوچو یہ دنیا کتنی محدود اور بدصورت ہے ۔۔۔دوسرا اُس کا تم پر اعتبار ہے کہ تم نہ اُس کی بیوی پر بری نظر ڈالو گے ،نہ اُس سے بات کرو گے ۔۔۔اور تیسری سب سے اہم وجہ تم مجھے بھاگنے نہیں دو گے ۔‘‘صاحبہ نے فراست سے جواب دیا تھا۔سیف نے اُسے شاکی نظروں سے دیکھا اُس لڑکی کی خوبصورت آنکھیں بلا کی ذہین تھیں۔

’’اگر اتنی ہی سمجھدار ہیں آپ ،تو آپ کو مجھ سے ڈرنا ہی چاہیے، کیوں کررہی ہیں مجھ سے بات؟‘‘سیف نے بھی عقلمندی سے جواب دیا۔

’’مجھے عام صورتوں سے ڈر نہیں لگتا اور میں ہر وہ کام کرونگی جو اُس درندے کے خلاف ہوگا۔‘‘اُس نے جیسے چیلنج کیا۔

’’جس چیز کے لیے مالکوں کا حکم نہ ہو تو اُس بات سے قیدیوں اور غلاموں کو رک جانا چاہیے۔‘‘سیف نے لچک سے عاری لہجے میں کہا۔

’’عجیب مخلوق ہو تم۔تمھاری تو کوئی عزتِ نفس ہی نہیں۔ یہ کان ،ناک، آنکھیں اور ہا تھ کس لیے ہیں ؟ا پنی عزت کروانے کے لیے ،نہ کہ بھوت بن کر کسی کے دروازے پر بیٹھنے کے لیے۔‘‘وہ کچھ طنز اور تمسخر سے اُسے جوش دلانے لگی۔

’’میں آپ سے بحث نہیں کر سکتا۔۔۔میںجو ہوں۔۔۔جیسا ہوں۔۔۔جہاں ہوں ۔۔۔یہ میرا معاملہ ہے ۔۔میرا مسئلہ ہے۔۔۔ آپ چلی جائیں یہاں سے۔‘‘اُس منہ پھٹ لڑکی کے الفاظ پر سیف کی آواز غصے سے بلند ہوئی تھی۔

’’جارہی ہوں،مگر تم جو بھی ہو ایک بات سن لو مالک لوگ خدا نہیں ہوتے کہ اُن کی ہر بات مانی جائے۔‘‘وہ تیزی سے اُٹھی اور کمرے میں چلی گئی۔سیف بخوبی سمجھ گیا تھا کہ اِس طوفان کو روکے رکھنا واقعی آسان کام نہ تھا۔

*****

اے اجنبی

تمھارا چہرہ دیکھ کر

ہم نے برسوں بعد

زندگی کا اپنا چہرہ دیکھا

کبھی وہ تیز تیز بولنے لگتی تو وہ اُسے گھور کر دیکھتا۔۔۔کبھی وہ مسکرانے کی کوشش کرتی تو وہ منہ پھیر لیتا ۔۔۔اور کبھی وہ بحث پر اُترتی تو وہ ڈانٹ کر چپ کرا دیتا۔تنہائی کی ڈسی ہوئی ،قید کی ستائی ہوئی صاحبہ کے لیے وہ انسان امن کے بیتے دنوں کی آخری تاریخ جیسا تھا۔۔۔ روٹھی ہوئی بہار کی آخری شام کی طرح۔۔۔خالی سمندر کے منہ پھیرتے آخری قطرے کی مانند۔۔۔کٹھنائیوں کے جس جزیرے پر وہ کھڑی تھی زندگی تک پہنچنے کے لیے کوئی کنارہ نہیں تھا،مگر ایک بے ضرر انسان کا آس پاس منڈلاتا سایہ دل کو ڈھارس بندھانے لگا تھا۔۔۔وہ خود سے کوئی بات نہ کرتا ،لیکن اِس ایک ہفتے میں صاحبہ نے اُسے بولنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔وہ دن کے اکثر اوقات میں اُسے بولنے پر اُکساتی اور رات کی تنہائی میں اُس کے ہاں،نہیں پر مبنی مختصر جوابوں سے محظوظ ہوتی ۔۔۔اُسے اِس شخص سے کوئی مطلب نہیں تھا۔۔۔پر مستقل تنہائیاں عارضی سہارے سے بہلنا چاہتی تھیں۔۔۔وہ ایسے لوگوں سے ہمیشہ بھاگتی آئی تھی۔۔۔اُسے معمولی شکل وصورت کے لوگ ہمیشہ کمتر لگتے تھے۔۔۔مگر زندگی نے اُس کی نظروں کو بدل دیا تھا۔۔۔اچھی صورت اور اچھی سیرت کی پہیلی وہ بوجھنا جان گئی تھی ۔۔۔اصلی اور نقلی خزانے کا راز وہ پاگئی تھی ۔۔۔اُس کے ہاتھ خوبصورتی میں چھپی بدصورتی اور بدصورتی سے جھانکتی خوبصورتی پرکھنے کا علم لگ چکا تھا۔۔۔تب ہی وہ ملگجا سا شخص اُسے خوشبوؤں سے نہایا ہوا لگتا۔۔۔اُس کے بکھرے بال سنورے سنورے نظر آتے ۔۔۔اُس کی بجھی ہوئی آنکھیں کوئی امید جلائے ہوئے دیکھائی دیتیں۔۔۔ زندگی کی ہر آرائش اور عنایت سے محروم چہرہ اطمینان سا دیتا۔۔۔اُسے اِس عام شخص میں ایک خاص عکس نظر آیا تھا۔۔۔ ایسا عکس جو کسی دعا یا اپنی نیکی کے عوض ملا کرتا ہے۔

’’کیوں کرتی ہو تم اُس سے بات ؟کیا تمھیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔‘‘وہ سخت طیش میں اُس کی تھوڑی کو ہاتھ کے شکنجے میں دبوچ کر پوچھ رہا تھا۔

’’تنہائی کے ناگ ڈسنے لگے ہیں خان !اب مجھے کسی سچّے انسان کے ساتھ کی ضرورت ہے۔میں کرونگی اُس سے بات ۔نہیں ڈرتی میں کسی سے۔‘‘وہ تکلیف سے کراہتے ہوئے بے دھڑک بولی۔

’’بات کرو گی؟ تمھاری اتنی ہمت ؟میں تمھیں بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑونگا صاحبہ ۔‘‘اُس کا جبڑا اتنی بے رحمی سے مسلا گیا کہ آنسو رواں ہوگئے۔

’’میں صرف لفظوں سے نہیں عمل سے بھی نیچا دیکھاؤنگی تمھیں۔تم دیکھتے رہ جاؤ گے اور میں اِس جہنم سے چلی جاؤنگی۔‘‘آنسو پیتے لب حددرجہ گستاخ ہوئے تھے۔

’’پرانی سزائیں پوری نہیں ہوئیں اور تم پھر بھاگنا چاہتی ہو ؟تم اُس غلام میں اپنی آزادی کے سہارے ڈھونڈ رہی ہو؟‘‘وہ اُسے دیوار کی طرف دھکیلتے ہوئے دھاڑا۔

’’جس دن اُس کی غلامی اور میری قید کی نبھ گئی ،ہاں! میں بھاگ جاؤنگی ۔۔۔سن لو۔۔۔میں بھاگ جاؤنگی۔‘‘صاحبہ کے الفاظ فضا میں بلند ہوئے اور سر دیوار سے جا ٹکرایا تھا۔

’’بے حیا لڑکی !میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا،آج تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردونگا۔‘‘اُس نے دیوار پر لٹکی پرانے طرز کی خاندانی تلوار اُتاری اور اُس کی جانب بڑھنے لگا۔

’’تم مجھے مار کر بھی نہیں مار سکتے،کیونکہ تم میری انا نہیں مٹا سکتے ،میری خواہش نہیں چھین سکتے ۔‘‘صاحبہ نے بے ترتیب سانسوں سے کہا اور سختی سے آنکھیں بند کرلیں۔ایک تیز ضرب گردن پر محسوس ہوئی تو وہ ایک ہولناک چیخ مار کر اُٹھ بیٹھی ۔آس پاس وہ ظالم نہیں تھا ،مگر خوف کے سائے تھے ۔وہ لحاف کو زمین پر پھینک کر پسینے سے تر چہرے کو صاف کرتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگی تھی۔

رات کے تین بج رہے تھے جب اِس خواب نے دوسری بار اُس کی آنکھوں سے نیند نوچ لی تھی۔وہ اُسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اِس لیے دروازے کے پاس بیٹھ کر سوراخ سے باہر دیکھنے لگی۔وہ ہر وقت ساری بتیاں جلائے ہوئے رکھتا ،اِس لیے اُس کا چہرہ صاف صاف دیکھائی دے رہا تھا۔نجانے اُس کی صورت میں ایسا کیا تھا کہ صاحبہ کا سارا خوف آہستہ آہستہ دم توڑ گیا ۔وہ بظاہر کمزور سا شخص اِس وقت اُس کی سب سے بڑی ڈھال تھا۔رات ہولے ہولے سرک رہی تھی ،اچانک اُس نے دیکھا وہ سوتے سوتے رو دیا تھا اور روتے روتے اُس کے لب دعائیہ انداز میں ہلے تھے۔یکدم وہ اٹھ بیٹھا تھا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا ۔اُس کے لفظ،اُس کی ہچکیاں،اُس کے آنسو گردن جھکائے رب کے سامنے کوئی فریاد پیش کر رہے تھے۔صاحبہ نے دھیان لگا کر سنا وہ کسی کی تکلیف کم کرنے کی دعا مانگ رہا تھا،لیکن کس کی تکلیف ؟ یہ حقیقت ابھی اُس کے لیے معمہ تھی۔صاحبہ کے ناامید دل کے اندر اُس کی ذات اور زندگی کے لیے دلچسپی جاگ گئی تھی۔وہ خود کو بھول کر اُ س کی ٹوہ میں لگ گئی ۔اِتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ کسی بڑے دکھ سے گزر کر آیا ہے اور اِس دکھ سے جازم خان کا کیا واسطہ تھا،بس یہی اُسے جاننا تھا۔

*****

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے

دل تو کب کا مر چکا تھا مرچکا تو تم ملے

وہ اکیلی کہاں تھی۔۔۔اِس قید خانے کی دیواریں کسی اور کا درد بھی سننے لگی تھیں۔۔۔کسی اور کی آہوں کو پینے لگی تھیں۔۔۔کسی اور کے آنسوؤں پر تڑپنے لگی تھیں۔۔۔وہ اکیلی کہاں تھی۔۔۔اِس پنجرے میں وہ بھی اُس کا ساتھی تھا۔۔۔وہ بھی اُس جیسا تھا۔۔۔وہ اپنی غلطی کے سبب یہاں پہنچی تھی ۔۔۔ وہ مجبوری کے تحت یہاں بھیجا گیا تھا۔۔۔قیدیوں کی شکلیں نہ بھی ملیں تو اُن کے درد کے چہرے ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔وہ نظر نہیں اُٹھاتا تھا،مگر وہ غور سے دیکھتی تھی۔۔۔ وہ اکیلی کہاں تھی۔۔۔سیاہ دھبے اگر اُس کی آنکھوں کے عاشق تھے ۔۔۔تو سیاہ حلقوں کی جھیل میںسیف کی خالی آنکھیں بھی پتھرائی ہوئی تھیں۔۔۔جیسے اُس کے لبوں پر مسکراہٹ خفگی کی مہر لگا گئی تھی۔۔۔ ویسے ہی سیف اور خوشی کا جھگڑا بھی طویل ہوگیا تھا۔۔۔اُس کے جسم کے بد رنگ نشان ہر ستم ازبر یاد رکھے ہوئے تھے ۔۔۔اور سیف بھی اپنے زخم کہاں ایک پل کو بھولتا تھا۔۔۔وہ اکیلی کہاں تھی۔۔۔وہ تکیوں پر اشکوں کے نشان چھوڑ کر سو جاتی تھی ۔۔۔اور وہ جاگتا تو ہاتھوں کے پیالے میں کچھ اشک سنبھال لیتا۔۔۔وہ سکون سے آنکھیں بند کرتی اور خوابوں سے گھائل ہو آتی ۔۔۔وہ حقیقت سے نظر چراتا اور دل کے چھالوں پر مرہم رکھتا۔۔۔وہ اکیلی کہاں تھی ۔۔۔وہ کمرے کے اندر بے جان چیزوں سے گھری تھی۔۔۔وہ کمرے سے باہر دم بھرتی یادوں میں پھنس جاتا ۔۔۔وہ کھڑکی سے ننھے تارے گنا کرتی ۔۔۔وہ ہر پل لمحوں کی گنتی جاری رکھتا۔۔۔وہ اکیلی کہاں تھی۔۔۔وہ دبی دبی فریادیں کرتی ۔۔۔وہ لمبی لمبی دعائیں مانگتا۔۔۔وہ اپنے گناہ پر نیر بہاتی ۔۔۔وہ اپنی خطا پر جلتا کڑھتا ۔۔۔پس وہ اِس پار کی قیدی تھی۔۔۔وہ اُس پار کا غلام ۔۔۔اور وہ دونوں ہی اِس حویلی سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔

کچھ دن صاحبہ نے کوئی بات نہ کی تو وہ بھی بے پراہ سا رہا۔اپنے دل سے مجبور وہ راتوں کو چھپ چھپ کر اُس کی حرکات کا جائزہ لینے لگی ۔دو دن سے وہ دیکھ رہی تھی ،وہ سو نہیں پارہا تھا۔کوئی پریشانی تھی جو اُسے بے کل کیے ہوئے تھی ۔بند آنکھوں سے رونا، گڑگڑانا ،دعا کرنا اب بھی اُس کے معمول تھے ۔اُس شخص کی کہانی کا کوئی حصہ ایسا ضرور تھا جو صاحبہ کی کہانی میں دہرایا جا رہا تھا۔وہ اُسے یوں دیکھتی جیسے بند کتاب کو پڑھنا چاہ رہی ہو۔وہ کتاب جیسا ہی تو تھا کئی تلخ عبارتوں سے بھرا ہوا۔

’’ایک بات پوچھو تم سے؟‘‘ صاحبہ نے دروازے کی اوٹ سے دوستانہ انداز میں اُسے مخاطب کیا۔

’’اگر میں نہیں میں جواب دونگا ،آپ تب بھی پوچھیں گی۔‘‘سیف نے سادہ سے انداز میں سر جھٹک کر کہا۔وہ اب بہت حد تک اُس کی طبیعت سے واقف ہوچکا تھا۔وہ جو کہنا چاہتی کہہ کر رہتی اور جو پوچھنا چاہتی پوچھ کر دم لیتی۔

’’تم اِتنے دنوں سے اِس دروازے کے باہر بیٹھے ہو۔یہاں اِردگرد کوئی نہیں آتا۔سب نوکر کہاں ہیں؟‘‘وہ اُس کے انداز پر پہلے خفیف سامسکرائی تھی ،پھر سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔

’’کسی کو یہاں آنے کی اجازت نہیں۔‘‘

’’کیا اُسے تم پر اِس قدر بھروسہ ہے۔‘‘اُس کے سرسری جواب پر صاحبہ اچھی خاصی حیران تھی۔

’’نہیں۔۔۔یہ بھروسہ اُنھیں اپنی طاقت پر ہے ۔وہ جانتے ہیں میں اپنا سر اُن کے خلاف نہیں اُٹھا سکتا۔‘‘سیف نے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں آپس میں بھینچ لیں۔

’’کیوں ڈرتے ہو اُس سے اِتنا؟ وہ بھی ایک گوشت پوست کا بنا انسان ہے ۔کیا ہے تمھارے پاس ایسا قیمتی جو وہ چھین لے گا۔‘‘وہ تند مزاجی سے کہتی ہوئی دروازے کے باہر آگئی۔

’’چھین لیا گیا ہے ۔۔۔بس اب اپنی یادوں کی حفاظت کر رہا ہوں۔‘‘سیف کی چھوٹی آنکھیں درد سے بھر گئی تھیں۔

’’کیسی یادیں۔۔۔کس کی یادیں۔‘‘اُس نے بے صبری سے پوچھا،مگر سیف خاموش رہا۔

’’تم اور میں ایک ہی راہ کے مسافر ہیں۔ایک ہی عذاب سے گزر رہے ہیں۔مجھے بتاؤ ۔۔۔کیا کیا ہے اُس نے تمھارے ساتھ؟‘‘صاحبہ کی آواز میں اُس کے لیے ہمدردی تھی۔

’’سب دفن ہو چکا ہے اور یادوں سے مٹی ہٹا کر میں ایک بار پھر نہیں مر سکتا۔‘‘سیف نے التجائیہ انداز میں کہا تو وہ دم بخود رہ گئی۔

’’میں ضد نہیں کرونگی ،مگر جان گئی ہوں کہ اُس نے گہری چوٹ پہنچائی ہے تمھیں۔شاید اُس چوٹ سے بھی زیادہ گہری جو میرے دل پر لگی ہے۔‘‘وہ اُس سے تھوڑا فاصلے پر نیچے بیٹھتے ہوئے روہانسی ہوئی۔

’’کیوں آئی ہیں یہاں آپ ۔۔۔کیوں؟ کیوں آپ لڑکیاں حقیقی محبت کی آنکھیں نہیں پڑھ سکتیں۔کیوں؟‘‘ سیف کے سوال نے اُسے متعجب کردیا تھا۔اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اُس سے ایسا سوال کرے گا۔اُس شخص کی نگاہ کے غصے اور شکوے میں کہیں نہ کہیں صاحبہ کے لیے دکھ ضرور تھا۔

’’تم ٹھیک کہتے ہو مجھ جیسی لڑکیاں محبت کی آنکھیں تب پڑھتی ہیں جب اُن کے خواب جلا دئیے جاتے ہیں۔۔۔محبت کی زبان تب سمجھتی ہیں جب اُنھیں خاموشی کے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔۔۔۔محبت کی دھڑکنیں تب محسوس کرتی ہیں جب ان کا دل کسی ظالم کی ملکیت ہوجاتا ہے۔‘‘وہ ہر لفظ ادا کرتے ہوئے روح تک تڑپی تو سیف کو بھی رنج نے گھیر لیا۔

’’سیاہ پٹی کی حقیقت جانتے ہو ۔یہ پٹی ہر غافل لڑکی کے پاس ہوتی ہے ۔جسے وہ شوق سے اپنی آنکھوں پر چڑھائے رکھتی ہے۔میں تو اُسے تب بھی نہ سمجھی جب دوسری ہی ملاقات میں اُس نے میرا نام بدل دیا تھا۔یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ میری پوری زندگی بدلنے والا ہے۔‘‘وہ دونوں پیروں کو سمیٹ کر اپنے آپ میں سمٹ گئی تھی۔

’’تو کیا آپ صاحبہ نہیں ہیں؟‘‘سیف نے حیرانی سے اُسے دیکھا۔

’’نہیں۔۔۔میں مالا ہوں۔۔۔بدقسمت مالا۔۔۔جس نے اپنے وقار ،رشتوں اور عزت کے موتی اپنے ہی ہاتھوں سے بکھیر دئیے۔وہ کہتا تھا لڑکیوں کو مالا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پل میں ٹوٹ اور بکھر جائیں۔اُس نے میرا نام بدلا اور پھر خود ہی میری ہستی کے موتی بکھیرنے لگا۔‘‘فضا اُس کی ہچکیوں سے گونجنے لگی تھی۔

’’میں ایک سال سے اِس قید ،اِس اذیت میں مبتلا ہوں۔وہ شخص ایک دماغی مریض ہے ۔وہ اپنے کمزور نفس کا پجاری ہے۔جب تکلیف سے ٹیس اُٹھتی ہے اُسے مزہ آتا ہے۔جب درد سے دھواں اُٹھتا ہے اُسے سرور ملتا ہے۔میرے گرد اُس نے بے جا پابندیوں اور بد صورت چہروں کا گھیرا ڈالے رکھا اور جب میں نے اِس گھیرے کو توڑنے کی کوشش کی ۔اُس نے میری اذیت اور بڑھا دی۔‘‘صاحبہ اور اُس کے آنسو ساتھ بول رہے تھے اور وہ آج اُسے سننا چاہتا تھا۔

’’کیا کوئی اپنی محبت کو ایسی تکلیف دیتا ہے۔یہ محبت کی کونسی قسم ہے جو میرے حصے میں آئی ہے۔‘‘اُس نے اپنی گوری کلائیاں آگے کیں جو زخموں سے بھری ہوئی تھیں۔سیف کو شدت سے تکلیف محسوس ہونے لگی۔

’’میں نے ہر ممکن کوشش کی اُسے بدلنے کی،خود کو بدلنے کی،اُسے خوش رکھنے کی ،اُس کے رنگ میں رنگنے کی،مگر وہ کسی ایسی سزا میں مبتلا ہے جس کا حساب وہ مجھ سے لے رہا ہے۔‘‘اُس نے اپنی ناکام کوششوں کا ذکر آزردگی سے کیا تھا۔

’’وہ کسی آہ کی زد میں ہیں۔‘‘سیف نے دل کو سنبھالتے ہوئے کہا۔

’’ہاں! ایسے انسان آہوں اور بددعاؤں کے مارے ہوتے ہیں۔شاید اُس نے بھی کسی کا دل توڑا ہو ،کسی کا چین لوٹا ہو ۔اِس لیے وہ میرے دل میں کبھی نہیں بس سکا۔کتنی نادان تھی میں، کچھ وقت کی پسندیدگی کو عمر بھر کا روگ بنا بیٹھی۔‘‘صاحبہ کا لہجہ نفرت سے مزید کڑوا ہوا۔

’’اب وقت بیت چکا ہے ۔شاید پچھتانے کے لیے بھی وقت نہیں رہا۔‘‘سیف نے شکستہ آواز میں کہا۔

’’یہ پچھتاوا عمر بھر کا ہے۔میں کیا تھی ،کیا ہوگئی ہوں۔میرا غرور صرف خاک میں نہیں ملا ،میں پوری کی پوری خاک ہو چکی ہوں۔‘‘وہ کپکپاتے ہوئے اپنی جگہ پر کھڑا ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

’’اپنی غلطیوں کا اعتراف سب سے بڑی رہائی ہے۔خود پسندی کی دنیا سے رہائی۔ آپ ایک آزادی پا چکی ہیں۔‘‘سیف نے تھکن سے چکراتا ہوا سر پیچھے دیوار پر ٹکا دیا تھا۔

’’ٹھیک کہتے ہو تم ۔۔۔میں ایک خود پسند لڑکی تھی اور نجانے کتنے خود پسند اپنے ہی آئینے کے ہاتھوں چور چور ہوتے ہیں۔میں وہ گھمنڈی لڑکی تھی ،جو دوسروں پر ہنستی تھی۔۔۔اُن کو نیچا دیکھاتی تھی۔۔۔اُن کی عام صورتوں کا تمسخر اُڑاتی تھی۔میری اِس سزا نے میرے دل کو تو رہا کر دیا ہے ،مگر میرا جسم بھی آزاد ہوگا۔میں یہاں نہیں رہونگی ، یہاں نہیں سڑوں گی۔اِس قید سے میں ایک روز ضرور بھاگوں گی۔‘‘باہر یکدم تیز بجلی چمکی تھی۔صاحبہ اپنی آنکھوں کی ساری بارش بہا چکی تھی اور سیف اپنی جگہ ساکت و جامد رہ گیا تھا۔

*****

پہلے بھی کھو گئے

میں بہت ڈر چکی ہوں

تعاقب میں زندگی کے

کئی بار مر چکی ہوں

اِ ن رتجگوں کو نظر کے حصار میں لو

میری نیندوں پر پہرا دیتے رہو

خوف لاحق ہے حقیقت کھونے کا

میرا خواب چوری ہونے کا خدشہ ہے

زخمی روح کی پٹیاں تو اُس نے چاچی شگو پر بھی کھولی تھیں،مگر زخم بھرنے کا معجزہ پہلی بار ہو ا تھا۔پہلی بار مسیحا نے پہلی بار ایک ہمدرد نے کوئی دوا نہیں کی تھی،کوئی تسلی نہیں دی تھی اور وہ پھر بھی شفایاب ہوئی تھی۔جو مرض اُسے چمٹا تھا اُس کا علاج کہاں ممکن تھا،مگر اُن دو ویران آنکھوں کی اک نظر نے کھلے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ دیا تھا۔یوں تھا کہ وہ پورے سمندر سے گزر گئی تھی یا ایک طوفان اسے ڈراتا آگے بڑھ رہا تھا۔اُس نے گہری سانس لی ،سانس سے پہلے اور بعد میں کوئی گھٹن نہ تھی ۔اُس نے زور زور سے متعدد بار سانسیں لیں،جیسے زندہ ہوتے ہوئے بھی سانس لینا بھول چکی ہو۔یہ خالی پن اُسے راحت بخش رہا تھا۔ابھی اُسے نئی زندگی نہیں ملی تھی،مگر وہ پرانی زندگی کے گلے سڑے وجود کو دفنا آئی تھی۔دل اُس کے سامنے کھول کر رکھنے میں کیا حرج تھا ،جو اُسے بے خبر رکھ کر اُس کے دل میں بس رہا تھا۔

ہمت ۔۔۔خواہش ۔۔۔ سانسوں کا آخری مقام تھا

تو اُس وقت میں آیا ہے

کتنا واضح اشارہ ہے

مجھے ابھی اور جینا ہے

کتنی بار اُن ظالم ہاتھوں نے اُسے موت سے ملایا تھا ، مگر اُس کے سپرد نہیں کیا تھا ۔ جینے کی تمنا کئی بار مٹی تھی تو کئی بار پیدا ہوئی ۔خود کو بدلنے کی خواہش لے کر وہ کئی بار میدان میں اُتری تھی اور ہر بار کی شکست اُسے یہ باور کراجاتی کہ زندگی پھر شروع نہیں ہو سکتی۔اکثر اُسے لگتا تھا بند دروازوں کے پیچھے سے کوئی نہیں آئے گا اور اندر کا گھپ اندھرا ایک دن سب مٹا دے گا،لیکن دروازہ کھلا تھا روشنی آئی تھی۔اُس کا سیاہ لباس آہستہ آہستہ سفید رنگ میں چھپنے لگا،یہ اشارہ تھا،دل کی گواہی تھی اُسے جینا تھا۔۔۔اُسے ابھی اور جینا تھا!!

’’خان کے آنے کے بعد وہ چلا جائے گا۔۔۔

نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔

مگر میں اُسے کس حق سے روک سکتی ہوں؟

اُس کے پاس بھی تو رکنے کا اختیار نہیں۔۔۔

آخر میں کیوں؟ اُسے کیوں روکنا چاہتی ہوں؟‘‘

کچھ پل پہلے ملنے والی راحت کو پھر کئی وسوسوں نے گھیر لیا تھا۔وہ پریشانی کے عالم میں کھردرے قالیں پر انگلیاں گاڑنے لگی ۔

’’حیوانیت کی بستی میں وہی تو پہلا انسان ملا ہے مجھے۔۔۔

شاید وہ مجھے اچھا لگتا ہے ۔۔۔

اپنا سا لگتا ہے۔۔۔‘‘وہ زیر لب بڑبڑاتی ہوئی اٹھی اور کھلی کھڑکی سے چاند کی بادلوں میں لکا چھپی کا منظر دیکھنے لگی۔

’’وہ تمھیں کیسے اچھا لگ سکتا ہے صاحبہ۔۔کیونکر اپنا لگ سکتا ہے۔۔۔تم ایک خوبصورت حور جیسی لڑکی اور وہ ایک عام شکل کا معمولی خادم۔‘‘پشت پر کسی کی سخت آواز نے سامنے کا میٹھا منظر کڑوا کردیا تھا۔

’’چپ ہوجاؤ! تم طے نہیں کرسکتے۔۔۔یہ محبت طے کرتی ہے۔۔۔محبت تو خود خوبصورت ہے۔۔۔یہ جسے چاہے اپنی نظرِکرم کرکے اُسے اچھا کردے۔۔۔جسے چاہے نظر پھیر کر برا بنادے۔۔۔یہ اچھے دل والوں سے نظر نہیں پھیرتی۔۔۔یہ برے دل والوں کی نظر میں نہیں سماتی۔۔۔محبت خوبصورت چہرہ نہیں ڈھونڈتی ہے۔۔۔محبت خوبصورت من ڈھونڈتی ہے۔‘‘صاحبہ نے اُس آواز کو بڑا کڑا جواب دیا تھا۔

جازم خان جیسا پرکشش شخصیت اور مردانہ وجاہت کا وڈیرہ محبت کے آئینے میں بدصورت دِکھ رہا تھا اور وہ فقیر جس کی آنکھیں ہی اُس کا آئینہ تھیں،اُس کے سر پر وہ محبت کا ہاتھ دیکھ چکی تھی۔

’’محبت!!!‘‘وہ یہ لفظ دہراتے ہوئے بیڈ پر آبیٹھی۔اپنی ذات کے اندر بولنے والی آوازوں کی تکرار نے جیسے اُس کی ہر مشکل آسان کردی تھی۔وہ کیوں اُس سے بات کرنا چاہتی تھی؟کیوں اُسے دیکھنا اور سننا چاہتی تھی ؟کیوں اُس عام سے شخص کو اِتنا خاص سوچنے لگی تھی؟ آج اِن سب سوالوں کا جوا ب مل گیا تھا۔

اپنے دل کے اِس انکشاف پر وہ مسکرائی،پھر ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔پورے ایک سال بعد وہ یوں دیوانہ وار ہنس رہی تھی۔

’’ابھی ہوئی نہیں۔۔۔ہوئی تو سمجھ جائیں گی کہ محبت کی بے اختیاری کیا چیز ہے۔ــ‘‘

’’بڑے جھوٹے دل کی تھیں آپ ،مگر بات بہت سچ کر گئیں۔‘‘چاچی شگو کی بات ذہن میں دہراتے ہوئے وہ اور مسرور ہوئی۔نظریں اُٹھی تو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل چکا تھا۔

’’کتنے احمق ہو تم جازم۔۔۔تم نے محبت کو توڑنے کی جرت کی اور محبت تمھارے ہاتھ سے پھسل گئی۔۔۔تم مجھے قید کیے ہوئے ہو اور دیکھو میں آزاد ہوگئی۔۔۔۔دیکھو مجھے سکوں کی نوید ملی ہے۔۔۔میری بے چینیاں دم توڑ گئی ہیں۔۔۔تم ہی ہو ناں جس نے مجھ دیواروں پر لٹکی کھوپڑیوں اور چلتے پھرتے زندہ انسانوں سے خوفزدہ کیا۔۔۔سن لو یہ سب مجھے ۔۔۔مالا کو اچھے لگنے لگے ہیں۔۔۔۔تم چاہے جتنی سزائیں بڑھا لو۔۔۔۔میں یہ خود شناسی نہیں مٹنے دونگی۔۔۔

میں اپنی نئی پہچان نہیں مرنے دونگی۔۔۔‘‘

اُس نے مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے پختہ عزم کیا تھا۔

*****

وحشت میں ڈوبا ویران علاقہ۔۔۔

زمین کو چھوتی کڑکتی ہوئی بجلی۔۔۔

بھوکی خاموشی۔۔۔

پیاسی ہوائیں۔۔۔

اُڑتی ہوئی ریت ۔۔۔

ٹوٹے ہوئے مٹکے۔۔۔

ایک کونے پر وہ۔۔۔

ایک پر جازم۔۔۔

کہیں دور سیف۔۔۔

اُس کی اُکھڑتی ہوئی سانسیں۔۔۔

جازم کے بڑھتے ہوئے قدم۔۔۔

سیف کی مدھم ہوتی صورت۔۔۔۔۔۔

’’کہاں ہو تم؟‘‘ دروازے پر ٹکائے ہوئے سر نے جیسے ہی آگے کی طرف جھٹکا کھایا تو اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔دو گھونٹ نیند کے سفر میں یہ خواب تھا،خیال تھا یا وہم ، ابھی وہ نہیں سمجھی تھی۔اُس نے ساتھ ہی پڑا ڈوپٹہ خود سے لپیٹا اور دروازہ کھول کر باہر آگئی،مگر یہ دیکھ کر اُس کے قدموں تلے زمین نکل گئی کہ سیف وہاں نہیں تھا۔ایک بجلی دل کی زمین پر گری ۔ اُسے اپنا حلق کانٹوں سے چبھتا ہوا محسوس ہوا۔

’’کہاں ہو تم۔۔۔کہاں ہو تم۔‘‘دائیں بائیں جانب دیکھتے ہوئے اُس نے مدھم آواز میں پکارا۔

’’کہیں وہ اُسے لے تو نہیں گیا۔‘‘اِس خیال کے ساتھ وہ بے قابو سی ہوگی۔اُس کے قدم خود آگے کی طرف بڑھنے لگے تھے۔وہ بڑی چھوٹی راہداریوں میں دیوانہ وار اُسے ڈھونڈ رہی تھی۔اُسے نہ کسی کا ڈر تھا نہ خوف۔اُس پل اُسے اپنی سانسوں کی پرواہ تھی،جن کا تسلسل متوازن کرکے وہ کھو گیا تھا۔اُس نے ایک ایک کونا دیکھ لیا،مگر سیف کہیں نہیں تھا۔اب اِس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ سیڑھیاں اُتر کر حویلی کے نچلے حصے میں جائے۔وہ ننگے پیر تھی اور جس جنون نے اُس کا ہاتھ تھام رکھا تھا ،وہ رکنے والا نہیں تھا۔وہ گرتی سنبھلتی سیڑھیوں کی طرف بھاگنے لگی۔ابھی اُس نے پہلا قدم ہی نیچے رکھا تھا کہ کسی نے اُس کا بازو مضبوطی سی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فوراً دوسرا ہاتھ اُس کے منہ پر رکھ دیا۔

’’کیا حماقت ہے یہ۔ابھی آپ اپنی اور میری جان مشکل میں ڈال دیتیں۔آپ کا دروازہ کھلا رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اِس رعایت کو عذاب میں بدل دیں۔‘‘سیف نے سخت انداز میں اُس کا بازو چھوڑا اور غصے سے برس پڑا۔

’’جان تو مشکل سے اب نکلی ہے۔کہاں تھے تم ؟‘‘یہ کہتے ہی صاحبہ نے محبت اور تڑپ سے اُس کا چہرہ ہاتھ کے پیالے میں لے لیا۔

’’یہ کیا کر رہی ہیں آپ ۔دور رہیں مجھ سے۔‘‘سیف نے صاحبہ کا بازو ایسے پیچھے جھٹکا جیسے کسی جلتے ہوئے انگارے نے اُسے چھو لیا ہو۔اُس نے پہلی بار اُس لڑکی کو غور سے دیکھا تھا وہ اُسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اُسی کی ہو۔

’’رکو۔۔۔میری بات سنو۔۔۔میری بات سنو۔۔۔نہیں جاسکتے اب تم یہاں سے۔۔۔نہیں جا سکتے میرے بغیر۔‘‘وہ تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ رہا تھا اور وہ پیچھے پیچھے چلتے ہوئے درشتی سے کہہ رہی تھی۔

’’سوچ سمجھ کر بولیے رانی صاحبہ۔۔۔اپنی عزت کا خیال کیجیے۔۔۔میں ایک نوکر ہوں اور آپ میرے مالک کی بیوی ہیں۔‘‘سیف اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے افسوس سے چلایا۔

’’تمھارے مالک کو اگر عزت کا مطلب بھی معلوم ہوتا تو کیا وہ اپنی خوبصورت بیوی کے دروازے پر ایک جوان نوکر کو بیٹھا کر جاتا۔‘‘صاحبہ دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے سُلگ کر بولی ۔

’’کیا چاہتی ہیں آپ۔‘‘وہ اُلجھنے لگا۔

’’تمھارا ساتھ۔‘‘وہ جیسے سلجھ گئی۔

’’میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔چلی جائیے کمرے میں۔کچھ نہیں کرسکتا میں آپ کے لیے۔‘‘سیف نے دونوں ہاتھ بے بسی سے باندھ لیے تھے۔

’’میں نہیں جانتی تم کون ہو؟کہاں سے آئے ہو؟کیا نام ہے تمھارا؟ میں نے تمھاری آنکھوں میں عشق کے دیپ جلتے دیکھے ہیں۔میں یہ بھی سمجھ گئی ہوں کہ یہ دئیے کسی اور کے نام کے ہیں،مگر اِن کی روشنی مجھ تک پہنچی ہے۔ہم ایک سے ہیں ،ہمارے دکھ اور مشکلیں بھی۔ہمیں ساتھ ہونا چاہیے ،ہمیں ہی ساتھ ہونا چاہیے۔‘‘وہ سرکتے ہوئے اُس کے قریب آبیٹھی۔

’’بس ! چپ ہو جائیے۔عشق کی روشنی ایسے ہی نہیں ملا کرتی کسی کو۔اپنا دامن جلا لیا ہے آپ نے ۔اب کیا راکھ ہونا چاہتی ہیں۔‘‘سیف نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔

’’اِسی راکھ میں زندگی ہے ۔میں تم سے محبت کرنے کا اقرار کرتی ہوں۔مجھے یہاں سے لے چلو۔‘‘صاحبہ اور اُس کی آنکھیں ایک ساتھ بول رہی تھیں۔

’’ مجھ جیسے معمولی شکل و صورت کے انسان سے کوئی محبت نہیں کرسکتا۔میری بدصورتی کا مذاق اُڑا رہی ہیں آپ ۔یہاں سے بھاگنے اور بدلہ لینے کے لیے غلط شخص کا انتخاب کیا ہے آپ۔‘‘سیف نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے روکنے کی کوشش کی۔وہ اندر کے طوفان سے تلملاتا ہوا اپنی جگہ سے اُٹھ گیا۔

’’عام تم نہیں وہ ہے۔۔۔بدصورت تم نہیں وہ ہے۔۔۔گمراہ تم نہیں وہ ہے۔۔۔تم تو اتنے خاص ہو کہ تمھارے واسطے میں سب کچھ بھول سکتی ہوں ،ہر ظلم معاف کرسکتی ہوں۔۔۔میں تمھارے ساتھ صرف بھاگنا نہیں چاہتی ۔۔۔تمھارے ساتھ محبت کی زمین پر ٹھرنا چاہتی ہوں۔‘‘وہ خوابناک لہجے میں کہتے ہوئے اُس کے برابر کھڑے ہوکر اپنا یقین دلا رہی تھی۔

’’سوچ سمجھ کر بولیے ۔کسی نے آپ کے یہ الفاظ سن لیے تو قیامت آجائے گی۔‘‘سیف نے منہ موڑتے ہوئے التجا کی۔

’’قیامت آچکی ہے ۔بس اب فیصلہ ہونا ہے ۔یا تو ہم دونوں اِس دوزخ میں جلیں گے یا ایک دوجے کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں اُتریں گے۔‘‘وہ کہاں اُس کی سنتی وہ تو اپنے آپ میں بھی نہیں تھی۔سیف نے اُس کی آنکھوں میں اُمڈتے عشق کے دریا کو دیکھا اور ایک وحشت میں گھرنے لگا۔

’’جانتے ہو مجھے جب جازم سے محبت ہوئی تو اُس کی وجہ کیا تھا۔اُس کا چہرہ۔۔۔اُس کی شخصیت۔۔۔اُس کا رتبہ ۔مگر وہ محبت نہیں تھی ایک دھوکہ تھا ،میرا اپنے آپ کو دیا جانے والا دھوکہ ۔محبت تو وہ ہے جو مجھے تم سے ہے۔پوچھو گے نہیں اِس کی نشانیاں کیسے ملیں مجھے؟‘‘کچھ دیر کی خاموشی کے بعد صاحبہ نے پھر لفظوں سے تعلق جوڑا۔سیف کی آنکھوں میں نا چاہتے ہوئے بھی ایک سوال تھا۔

’’میں بے سکونی کی اِس قید میں مایوسی کے ایک طویل رستے سے گزر رہی تھی۔۔۔پھر تم آئے ۔۔۔تمھیں دیکھ کر میرے دل نے کہا زندگی کی طرف کوئی دروازہ ہے ۔۔۔سکون کی طرف کوئی کھڑکی ہے۔۔۔کسی کو دیکھ کر ٹوٹے خواب جڑ جائیں۔۔۔سوکھا من سکون کی آبشار میں بھیگ جائے۔۔۔سانس دیتی خواہش سانس پا جائے تو اِسے محبت نہیں تو کیا کہوں۔‘‘وہ دھیمے دھیمے بولنے لگی ۔اُس کی نگاہیں خلاؤں میں گھوم رہی تھیں۔

’’میں نہ آپ کے جذبات کی قدر کر سکتا ہوں نہ اِن کی تکمیل۔معاف کردیجیے مجھے۔آپ اُس شخص کو نہیں جانتیں ،وہ درندگی کی ہر حد تک چلا جائے گا۔‘‘سیف ایک گہرے صدمے میں گرفتار تھا۔

’’وہ درندگی کی طرف بڑھتا رہے گا اور تم بزدلی کی طرف ؟تمھارے سامنے ایک لڑکی کی زندگی برباد ہورہی ہے اور تم تماشہ دیکھ کر چلے جاؤ گے۔محبت کی نہیں تو انسانیت کی لاج تو رکھ سکتے ہو۔ محبت کے آگے نہیں جھک سکتے تو اپنے اندر کے انسان سے بھی منہ مت پھیرو۔‘‘صاحبہ کے صبر کا دامن چھوٹ چکا تو وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو دی۔

’’ہاں میں بزدل ہوں۔۔۔کم ہمت ہوں۔۔۔سب کچھ کھودیا میں نے ۔۔۔میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔کچھ نہیں کرسکتا ۔‘‘سیف بھی انکار میں زور زور سے سر ہلاتے ہوئے آبدیدہ ہوا۔

’’میں چاہتی تھی تم اِس ظلم کے خلاف لڑو۔اگر تمھیں میرا یہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجانا منظور ہے تو مجھے بھی منظور ہے۔‘‘صاحبہ نے بے دردی سے کہتے ہوئے منہ پھیر لیا تھا۔

’’میں آپ کا درد سمجھ سکتا ہوں، کاش کم کر سکتا! میں دعا کرونگا کہ اِس قید سے آپ جلد رہا ہو جائیں۔‘‘ہمدردی کی رو میں بہتے ہوئے سیف کا ہاتھ صاحبہ کے کندھے کی طرف بڑھ گیا تھا۔صاحبہ بے اختیار پلٹی اور اُس کے سینے سے لپٹ گئی ۔اِس سے پہلے سیف اُسے الگ کرتا۔سامنے کا منظر دیکھ کر اُس کی سانسیں سینے میں اٹک گئیں۔ اُس نے صاحبہ کو پیچھے دھکا دیا ،دو خونخوار نگاہیں اُن کی طرف بڑھ رہی تھیں۔صاحبہ کے چہرے پر طمانیت بھری مسکراہٹ تھی،جب کہ سیف کے چہرے پر بے انتہا خوف ۔۔۔۔اُس نے جان لیا تھا کہ اب زندگی اُن سے وداع لینے والی ہے۔

*****

(جاری ہے)

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.