ندیاں بہہ بہہ کر پانی سے بھر گئی ہیں، چہار اطراف پانی ہی پانی___ ایسی کیفیت میں بلبل بھی نغموں سے منہ موڑ لیتی ہے۔ اب کیا کریں دنیا والے تو ایک ایک درد کے باعث بلبلاتے پھرتے ہیں۔ زندگی کی کشتی پر سوار ہونا بھی لازم ہے اور ڈھے جانے یا بہہ جانے کا خطرہ بھی لاحق ہے ، خوف بھی ستاوے ہے۔ ایسے میں درد کے مارے بلبلاتے پھرنا یا چپ سادہ کر درد سینے سے لگائے پھرنا انسان کا اپنا انتخاب ہے۔ پر کچھ ہستیاں ایسی بھی تو ہوتی ہیں جو اپنے کیس کی فائل رحمنٰ کی عدالت کے میز پر جمع کروا کے خود ایک طرف ہو جاتی ہیں۔وہ بھی ایسی ہی ہستی تھی۔ سہہ دری کی چوکی جیسی۔۔۔جس جگہ قبلہ بنا کر جس کام کے واسطے رکھا جاتا وہیں کی ہوئی رہتی یا پھر کھیت میں لگے ٹیوبل کے فٹر جیسی ۔۔۔ جتنے پانی کی غرض سے چلایا جاتا اتنا ہی چلتی اور پھر خاموشی سے ایک طرف پڑی کھیت کی ہریالی دیکھتی رہتی__________صاف ستھری چازن صحن کے پرلے چونترے  میں بچھائے رنگ برنگے کپڑوں کی کنتریں بکھرائے جمیلہ سلک کے کپڑے کو ناپ تول رہی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی برساتی تلے جون کی تیز اور بےحد پیلی دھوپ کے قتلے سارے میں پھیلے تھے۔ سلک کے کپڑے کی ریب نکال کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کپڑے کا حساب پورا کرتے ہوئے وہ مسکرائی____سانولے سلونے، جلے جھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ۔۔۔ کپڑے کی ناپ تول کے بعد جھریوں بھرے سوکھے سوکھے ہاتھوں سے وہ سلک پر زریں لگانے لگی ۔اب جمیلہ ایسی بھی کوئی بڑھی نہ تھی ۔ یہی کوئی لگ بھگ پینتالیس کی عمر تھی۔ پھر بھی جسم ساٹھ کے بڑھاپے کو چھوتا تھا۔ جوانی تو جیسے اس پر آئی ہی نہ تھی۔ نہ رخساروں پر زلفیں پریشاں ہوئیں، نہ آنکھوں میں کرنیں ناچیں، نہ سینے میں طوفان اٹھے، نہ ساون بھادوں میں مچل مچل کر پریم گیت گائے۔۔۔۔ جوانی دبے پاؤں آئی اور نجانے کہاں کو چلی گئی یوں بھی اماں، باوا کے بعد لڑکی کی جوانی یا تو پھن پھیلائے ناگن ہوتی ہے یا سوئی ہوئی بلی جیسی بےخبر ۔۔۔جو ذرا کم ہی روپ لاتی ہے۔ اب تو بالوں میں سفیدی اتر آئی،کمر ذرا جھک گئی ، آنکھیں کمزور ہوگئیں ، بدن تو خیر شروع سے ہی دبلا پتلا سا تھا حالانکہ کہ جمیلہ کی ماں نے کئی حکیموں سے نسخے پکڑے۔ پر جمیلہ ویسی ہی رہی سوکھی، پتوں سے نگی ٹہنی جیسی۔ شکل اس کی اتنی بری نہ تھی بس جلے ہوئے آدھے چہرے اور گردن کی وجہ سے ذرا کراہیت محسوس ہوتی تھی۔ محلے کے بچے بنا چہرہ ڈھانپے اس کو دیکھ لیتے تو چیخ اٹھتے اور مائیں چلا اٹھتیں۔ یہ تو شکر ہوا کہ بھابھی کے بچے بڑے ہو گئے تھے ورنہ سارا دن آدھے چہرے کا گھونگھٹ نکالے رکھنے پر بھی ناجانے کیسے نظر پڑتی کمبختوں کی کے رو رو کر آسمان لرزا ڈالتے اور بھابھی ہاتھ نچا نچا کر وہ گالیاں بکتی کہ آس پڑوس والے استغفار کا ورد کرتے ہوئے کانوں میں انگلیاں دے لیتے۔ اپنی زندگی میں بطور ایک عورت حقیقی اور روایتی گھونگھٹ تو جمیلہ پر کبھی نہ پڑا تھا۔ ہاں بھدے چہرے کو چھپانے کے لیے اس نے ساری عمر گھونگھٹ اڑھے رکھا تھا۔ حقیقی گھونگھٹ اگر پڑ بھی جاتا تو اٹھاتا کون!! بھلا کونسا مرد تھا جو دل اتنا بڑا کرتا۔ اس کو تو بچپن کا منگیتر اور عشق میں پاگل ہوا عاشق عین بارات کے وقت چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ بھئی عاشق نے بڑی بے وقوفی جانا کہ بچپن کی منگنی کے بتاشوں کا لحاظ کرتے ہوئے ساری عمر جمیلہ کا جھلسہ کراہیت آمیز چہرہ دیکھ کر زندگی سے نفرت کرتا۔ جس جمیلہ پر وہ مر مٹا تھا وہ تیرھویں سال میں قدم رکھتی نئی نئی جوانی کا روپ چراتی نازک اور ملائم مکھڑے والی تھی۔ اور جس سے بیاہ ہو رہا تھا وہ بیسویں سال کو پھلانگتی جلے چہرے والی خوفناک  سی جمیلہ تھی جس کو دیکھ کر حلق کڑوا ہو جاتا اور منہ بھر قہہ آنے لگتی۔ رات کے گھپ اندھیرے میں چھپ چھپا کر چھت پر کبھی کبھی یہیں ہمدردی کے واسطے چند لمحے اسکے ساتھ بیتا لینا ایک الگ بات تھی لیکن ساری عمر تو ہمدردی نہیں کی جاسکتی تھی اب صبح کی روشنی میں جمیلہ کو کون چھوئے بھلا! ۔ یوں تو خیر سے دس جماعتیں بھی پڑھ چھوڑی تھیں۔ اور سرکاری مڈل سکول میں استانی بھی تھی۔ صبح صبح منہ چھپاتی سکول کو نکل جاتی سہہ پہر لوٹتی تو شام ڈھلے تک سلائی مشین گیڑتی رہتی۔بڑے پیسے کما لیتی انہیں پیسوں کے لالچ میں بھائی، بھاوج نے گھر کی کوٹھری اس کو دے رکھی تھی ___ مچھروں والی کوٹھری جس میں سردیوں کو بکریاں بھی اس کے ساتھ رات گزارتیں۔ اماں، باوا جب زندہ تھے تو گھر میں درمیانی کمرہ جمیلہ کا تھا۔ جس پر وہ سال میں دو بار مٹی کی لپائی کرتی، رنگ برنگی کاغذ کی پھریریوں سے مٹی کی دیواریں سجاتی اور ہر چودہ اگست پر لکڑی والے دروازے کے ماتھے پر جھنڈیاں لگاتی۔ اب گھر سیمنٹ کا تھا پر جمیلہ کی کوٹھری ویسی ہی تھی۔۔۔حبس کی ماری، بدبو دار۔جمیلہ کی عمر کا پندرھواں سال بڑا خوفناک تھا بالکل اس کے چہرے جیسا۔ کیسی بھیانک شام تھی جب وہ اپنی سہیلی کی مہندی پر جانے کو تیار ہوئی تھی۔ پیلا گوٹے سے سجا شیفون کا سوٹ، کمر پر دائیں سے بائیں کو بل کھاتا سیاہ بالوں میں لپٹا لال پراندہ ، گلابی اور پیلی چوڑیوں سے بھری کلائیاں اور رنگ دار مسواک سے رنگے پنکھڑی جیسے ہونٹ___ پراندہ گھماتی، چوڑیاں بجاتی وہ گھر سے نکلی تو اماں نے کئی قرآنی آیتیں پڑھ کر پیٹھ پر پھونک ڈالیں دل ہی دل میں بلائیں لیں۔ رستے میں ہی جمیلہ کو اپنے ہاتھ ڈھولکی بجاتے ہوئے محسوس ہوئے اس کی ڈھولکی سارے میں مشہور تھی۔ ڈھولکی بجاتے ہوئے سریلی آواز میں گیت گاتی تو دل کے ساز بجا ڈالتی۔ بیٹوں کی مائیں ساتھ والی کے کان میں منہ دے کر لڑکی کا اتا پتا پوچھتیں تو جواب میں منگنی شدہ سن کر افسردہ ہو جاتیں۔ سانولی دبلی مگر معصوم اور پیاری سی جمیلہ_______یہیں گنگناتے وہ سہیلی کے گھر کو نکلی تھی مغرب کا سمے تھا۔اپنی طرف سے اس نے محفوظ اور سنسان راستہ چناتھا۔ کھیت کی بنی پار کرتے ہوئے جمیلہ ٹھٹھک کر رکی زہراہ تائی کا لفنگا، مسٹنڈا نظیر ناجانے کب سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ کونسی ایسی برائی تھی جو نظیر میں نہ تھی۔ جوا، سگریٹ، لڑائی فساد اور لڑکیوں کے معاملے میں تو بڑا بدنام تھا۔ چونک میں سبزی والی دوکان کے پھٹے پر بیٹھ کر ہر آنے جانے والی کے جسم کا آنکھوں سے ایکسرے کرتا۔”کیا تکلیف ہے، کیوں پچھے چلا آرہا ہے آوارہ”۔۔۔ جمیلہ نے غصے سے ناک پھلا کر کہا “تیری رکھوالی کو پچھے پچھے آرہا ہوں” ۔۔۔ نظیر نے گلے کی زنجیر انگلی سے ہلاتے ہوئے پیلے دانت نکال کر کہا”ہونہہ۔۔۔اخ تھو۔۔ اب کیا قصائی کی دکان پر گوشت کی حفاظت کتے کرنے لگے ہیں؟!!”۔۔۔۔ جمیلہ نے نخوت اور نفرت سے تھوکتے ہوئے بھنبھنائینظیر نے تلملا کر بازو دبوچا چہرے پر عیار مسکراہٹ تھی۔ جمیلہ نے ایک بار پھر تھوکا ” جیرے! چھوڑ میرا بازو تو میرے بھائیوں کو نہیں جانتا تیرے ٹوٹے کردیں گے۔۔ چھوڑ ۔۔میں کہتی ہوں چھوڑ ۔۔ جیرے چھوڑ”۔۔۔۔۔ بس! پھر جمیلہ چیخی، چلائی ، روئی ، پیٹی پر کوئی حربہ کام نہ آیا۔اگلی صبح تک گھر بھر میں کہرام مچ گیا تھا۔ ساری رات جمیلہ گھر نہ لوٹی نہ ہی سہیلی کے گھر پہنچی۔ عورتوں نے بڑے صحن میں بیٹھ کر دلاسے کی غرض سے کئی باتیں بنائیں۔ سہہ پہر کھیت سے پھٹے لباس اور اجڑے وجود کے ساتھ ملی تو باوا صدمے سے مر گیا اماں بین کرتی رہی پھر نڈھال سی چارپائی کے ساتھ جا لگی اور ایسے ہی باوا کے برابر والی قبر میں جا سوئی۔ جمیلہ اپنے وجود کی غلاظت اور نحوست لیے کوٹھری میں پڑی رہی۔ چین نا پڑنے پر چھوٹے بھائی نے تیزاب کی بوتل جمیلہ پر انڈیل ڈالی۔ ” نامراد نہ یہ منحوس چہرہ سجا کر گھر سے نکلتی نہ ہماری عزت کو بیچ چوراہے لٹکاتی، مر جا اب بےغیرت، مر کیوں نہیں جاتی تو “۔۔لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر چھوٹے بھائی نے بیوی، بچوں کو لیا اور سسرال جا بسا وہی کا ہو گیا۔ بڑے بھائی، بھاوج نے اللہ کے نام پر ترس کھایا اور جمیلہ کو کوٹھری دے دی۔جلی جھلسی، خوفناک اور منحوس جمیلہ_________ مڈل سکول میں جمیلہ استانی تھی۔ بچے چہرہ دیکھتے ہی دبکے بیٹھے رہتے۔ ششم کلاس کی نئی نئی بالغ لڑکیاں عجیب عجیب چہرہ بنا کر اس کو دیکھتیں۔ اور جمیلہ بٹوہ بغل میں دبائے، چہرہ چھپائے یوں بے نیازی سے گزرتی جیسے اب اس کو فرق نہ پڑتا ہو۔ اب وہ عادی چکی تھی اس نخوت اور کراہیت کی۔ کلاس سے نکل کر گراؤنڈ میں کھیلتے چھوٹی جماعتوں کے شریر بچے اس کو دیکھتے ہی سب چھوڑ چھاڑ کلاس کی جانب دوڑ لگا دیتے۔ سکول میں دوسری استانیاں اپنے طلباء کو ڈراوے کے واسطے جمیلہ کو بلاتیں، کبھی گھیر کر جمیلہ سے اس شام کے ہوئے منحوس واقعے کے بارے میں کرید کرید کر نازیبہ سوال پوچھتیں اور پھر ساری استانیاں پیٹھ پچھے ساتھ بیٹھ کر ٹھٹھے لگا کر ہنستیں۔ پر جمیلہ کو اب اس سے بھی فرق نہ پڑتا تھا۔۔۔۔۔۔ کپڑے کی کانٹ چھانٹ کے معاملے میں جمیلہ کے تجربہ بڑا اور مرتبہ اونچا تھا ۔سب عورتیں اس سے کپڑے سلواتیں پھر کیا دور ، کیا قریب۔۔سوکھے سوکھے ہاتھوں نجانے کتنے جہیز سنورے اور کتنے ہی کفن بھونتے تھے۔ جہاں کہیں کسی درزانی کے پاس کپڑا کم پڑ جاتا تو معاملہ جمیلہ کے آگے رکھ دیا جاتا۔ کپڑے کی کان نکال کر، کلف توڑ کر جمیلہ ناپ تول کرتی اور جیسے تیسے کپڑا پورا کرکے سنوار دیتی۔ عورتیں کپڑا دینے آتیں تو گز بھر دور بیٹھتیں ، جمیلہ کا چہرہ دیکھنے سے گریز کرتیں اور جاتے ہوئے منہ کے زاویے بنانا کسی طور نا بھولتی تھیں۔ جمیلہ کو اس سب بھی ذرا فرق نہ پڑتا_____جمیلہ کپڑوں کی  ترپائی والی ایسی سوئی بن گئی جسے پٹری پر رکھ کر منوں بوجھل ٹرین گزاری ہو۔۔۔ بوجھل ٹرین چھکا چھک کر کے میلوں دور نکل گئی ہو اور سوئی دھنس گئی ہو۔ اب کوئی اس پر پیر رکھ کر چلے، یا گاڑی کے پہیے گھومیں وہ دھنسنے کے خوف سے بے نیاز ہوگئی تھی۔۔۔۔یا پھر برف کا تودہ بن گئی تھی_________ سورج غروب ہونے کو تھا۔ دھوپ بنیروں اور دیواروں کو پار کر رہی تھی اور جمیلہ تیز تیز ہاتھوں سے میشن گیڑ رہی تھی۔ سلک کا جوڑا تیار کر کے اس نے تمام کنتریں سمیٹیں اور میشن اٹھاتی کوٹھری میں جا گھسی۔ شام ہوتے صحن میں بھابھی اور بچے نکل آتے تو جمیلہ کوٹھڑی میں آبیٹھتی یہ بھابھی کا حکم تھا۔ باہر بھابھی اور بچوں کی آوازوں اور چہل پہل نے خوب رونق لگا رکھی تھی۔کہ ایک دم سے دو چار عورتوں کی تیز تیز بولنے کی آواز آئی۔ جمیلہ نے ڈوپٹہ لپیٹ کر باہر جھانکا سارے ماحول میں عجیب شور مچا ہوا تھا عورتیں کانوں کو ہاتھ لگاتیں سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ “ہائے! ابھی پندرہ برس کی تھی”۔۔۔۔ کسی من چلی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ “نظیر کا تو گھر اجڑ گیا سر پیٹ پیٹ رو رہا ہے”۔۔۔۔۔ کہیں دوسری طرف سے آواز ابھری جمیلہ نے پلٹ کر چہرے سے پردہ ہٹایا اور خاموشی سے چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں مند لیں۔ رات بھر چاند کی روشنی نے کوٹھری کے چھوٹے دروازے کو بڑی مشکل سے پار کر کے جمیلہ کے بھدے چہرے کو کئی بار چھوا اور کرنوں نے دھویا۔۔۔ نرم نرم لمس سے پیار کر کے بتایا کہ۔۔۔۔ ” اے بدنما داغ والی لڑکی اداس مت ہو چاند پر بھی ایسا ہی داغ ہے٫ پھر بھی وہ روشن ہے”____صبح منڈیروں پر دھوپ اتری تو جمیلہ کی چارپائی صحن میں پڑی تھی۔ عورتیں اردگرد جمع گوٹلیاں پھینک رہی تھیں اور باتوں سے زبان کا چسکا پورا کر رہی تھیں ۔۔۔ چارپائی پر لیٹی جمیلہ کے چہرے پر پراستقلال سکون اور خاموشی تھی۔ نجانے کیوں آج وہ اتنی خوفناک اور بھیانک نہیں لگ رہی تھی۔ چار مردوں نے آ کر جمیلہ کی چارپائی اٹھائی اور لکڑی کا پھاٹک پار کر گئے۔                                  ***

____________

تحریر: مائرہ انوار راجپوت

کور ڈیزائن و فوٹو گرافی: صوفیہ کاشف