کل وہ پہلی مرتبہ ٹوٹا تھا

اسے ہر حال میں ایک خوشی خریدنی تھی

سو وہ اپنے آپ کو فروخت کرنے کے لئے

اور اُس کی جیب خالی تھی

بازار میں پیش ہوا

ویسے ہی جو بازار کا اصول رہا ہے

پھر اُسے بھی دستور کے مطابق جانچا گیا

اُسے دودھ کی طرح جانچا گیا

جیسے چاول کو ہتھیلی پہ رکھ کر پرکھا جاتا ہے

جیسے دو انگلی ڈبو کر دودھُ کی پہچان کی جاتی ہے

جسے آم کی قاش کو زبان پہ رکھ کر محسوس کیا جاتا ہے

جیسے ترازو میں باٹ رکھ کر “شکر” ناپی جاتی ہے جیسے میڑ سے کپڑا ناپا جاتا ہے

جیسے ٹاٹر میں ہوا کا دباؤویسے ہی جیسے “سوگندگی” کو ماچس کی تیلی کی روشنی میں گاہک نے جانچا تھا

وہ پورا فروخت آدمی کے ہاتھوں میں

سو جب وہ بازار کے اصول کے مطابق

کھرا اترُ تو اُسے

اور وہ پورا فروخت ہوگیا

چند سکوںّ میں خرید لیا گیا

شام گھر لوٹتے ہوئے

ایک گڑیا تھی

_____________

احمد نعیم

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف