اس کامل یقین والی بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ کئی دہائیوں سے انتہاپسندی کا شکار ہے، یہ انتہاپسندی کب، کیسے اور کہاں سے شروع ہوئی اس بات پہ کافی تاریخی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ مورخین کی نظر میں اس انتہاپسندی کی بنیاد جنرل ضیاالحق کے زمانے میں ہوئی جب اسلامائیزیشن نے زور پکڑا، جب کہ بعٰض مورخین جن میں پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھنے والے صاحب زاہد چودہری بھی شامل ہیں ان کی نظر میں پاکستانی معاشرے میں اس کی بنیاد پاکستان کے قیام کے بعد جلد ہی پڑ چکی تھی۔ کچھ تاریخدان اس کی بنیاد کافی صدیوں پہلے بتاتے ہیں جب مسلم معاشرے میں فلسفہ، ریاضی اور دیگر جدید سائنسی علوم کی تعلیم پر منع نامہ جاری ہوا۔
صفدر زیدی صاحب کا یہ ناول بھی پاکستانی معاشرے میں انتہاپسندی کے موضوع کو زیرنظر رکھ کر تخلیق کیا گیا ہے،  مجموعی طور اس ناول کے تین حصے ہیں، پہلے حصے میں کہانی تین ہزار عیسوی سن میں شروع ہوتی ہے جب ماہرین اپنی ان تھک کوشش سے تاج محل کو جمنا کے کنارے سے لے جاکر لندن کی ٹیمز ندی کے کنارے نصب کر دیتے ہیں، کیوں کہ برصغیر میں ایٹمی جنگ ہونے سے اب وہاں کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ اب یونیورسٹی کے پروفیسرز اور شاگرد برصغیر کے اس وقت کے حالت پر بحث کرنے کی شروعات کرتے ہیں اور انہیں ایک ناول سنایا جاتا ہے جس میں اس وقت کی کہانی ہے۔ وہ کہانی راجن پور کے ایک ہندو اچھوت کے گھر سے شروع ہوتی ہے جس میں بھاگ بھری نامی ایک عورت کے گھر ساون کی رُت میں ایک بچا پیدا ہوتا ہے جس کا نام بھی ساون رکھا جاتا ہے، ایک دن وہ گاوں سے بھاگ کر مسلمان ہوجاتا ہے، اب وہ ساون کی جگہ کمانڈر خالد خراسانی ہے، وہ جہاد کے لیے افغانستان اورکشمیر میں جاتا ہے، جہاد کے سلسلے میں وہ ایک بار  ہندستان میں کاراوئی کرتا ہے۔ یہاں سے اس کی زندگی میں کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں، اب اس کی نفسیات ایسی وحشیانہ ہوجاتی ہے کہ اسے قتل کرنا اور کسی کا خون بہتے دیکھنے کے بعد ہی سکون ملتا  ہے، ایک بار جب اسے قتل کرنے میں کافی دن دیر ہوئی تو اپنے بازو پر چاقو چلا کر خون دیکھتے ہوئے اسی خوشی ملتی ہے۔
ناول کی کہانی چلتی رہتی ہے، جس کے دوران یونیورسٹی کے طالب علم برصغیر میں بڑہتی ہوئی انتہاپسندی پر سوالات کرتے ہیں کہ جب انتہاپسندی بڑہ رہی تھی تب دوسری دنیا کہاں تھی ؟، کیا انتہاپسندی کا اسلام سےکوئی تعلق تھا ؟ یا پھر اتنی ترقی یافتہ تہذیب اتنی جلدی پستی میں کیسے گر گئی ؟، اور اس طرح کے کافی سوال جن کے جوابات ناول میں مختصر طور پر دیے گئے ہیں۔ ہندستان میں خالد کی اس کاروائی کے بعد جس میں کافی اموات ہوتی ہیں، ہندو انتہاپسند اس کو مدعا بنا کر حکومت پر دباو ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اب پاکستان پر ایٹمی حملے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں میں ایندھن بھر کہ انہیں لانچنگ پوزیشن پر لایا جائے، حکومت ہند کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی لانچنگ پوزیشن پر آنے کہ بعد پاکستان بھی اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو لانچنگ پوزیشن پر لے آتا ہے اور دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ لگ جاتی ہے، جس کے نتائج کافی بھیانک نکلتے ہیں۔
اب ناول کا دوسرا حصا شروع ہوتا ہے جس میں ایٹمی حملوں کے بعد کی صورتحال کے مناظر کو پیش کیا گیا ہے، کیلاش پربت تباہ ہوچکا ہے، سارے گلیشیئر پگھل چکے ہیں، دونوں ملکوں میں کافی تباہی آچکی ہے، سیلاب کی وجہ سے دونوں ملکوں کے بڑے شہروں کا ایک دوسرے سے  رابطہ نہیں ہو پاتا، دونوں ملک اس حملے کے بعد عارضی طور پر اپنی سرحدیں معطل کر دیتے ہیں، اقوام متحدہ امدادی کاموں کی شروعات دونوں ملکوں سے ایک معاہدہ کرکے کرتی ہے جس میں دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں۔ اب خالد اپنی ماں کو وڈیرے سے آزاد کراکر اسے مسلمان کرتا ہے۔ اتنی بڑی تباہی کے باوجود بھی خالد کے ذہن میں کافروں سے جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے والی بات ہی ذہن میں رہتی ہے اور وہ افغانستان جاکر غزوہ میں شرکت کرنےکی تب ضد کرتا ہے جب سیلاب کے بعد وہ شادی کرکے کسی اوپر پہاڑی کے علائقے میں رہ رہا ہوتا ہے، ایٹمی تابکاری کے اثرات کی وجہ سے اسے ایک عجیب و غریب بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ تب اس کی ماں اسے گھر سے دور جانے سے روکتی ہے، پر وہ ضد نہیں چھوڑتا تب بھاگ بھری بھی اس کے ساتھ چلتی ہے۔
اتنے سالوں کے بعد جب وہ باہر نکلتا ہے تب حالات بہت بدل چکے ہوتے ہیں، اس کے سارے پرانے ساتھی یا تو مر چکے ہوتے ہیں یا پھر خوراک کا ذخیرہ کرکے پھر امیروں کو مہنگے دام پر فروخت کرنے کا کاروبار کرتے ہیں، اب سب پر بھوک غالب آچکی ہوتی ہے۔  اسے جب ایک پرانا ساتھی ملتا ہے جس سے وہ جہادی کاروایوں کے بارے میں پوچھتا ہے تب وہ اسے کہتا ہے “شاید تم کسی نئی دنیا سے اس دنیا میں ابھی وارد ہوئے ہو، لوگ کھانے اور پانی کے سوا کوئی دوسرا لفظ نہ سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی انیں کوئی انہیں دوسرا لفظ سمجھ میں آتا ہے”۔ اب اسے پتا چلتا ہے کہ برصغیر پر کیا قیامت گذری ہے، پورا برصغیر خالی ہوچکا ہے لوگ نقل مکانی کر کے چلے جارہے ہیں۔
اس ناول میں بھاگ بھری کا کردار کافی دلچسپ ہے، بعض اوقات اس سے ایسے ایسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں جو آدمی کے ذہن کو جنجہوڑتے ہیں۔ ناول کے آخر میں خالد کا ذہن پچھتاوے میں آتا ہے، اس کے ہاتھوں مارے جانے والوں انسانوں کا خون اس کے اندر میں سیلاب لے آتا ہے، اب وہ تو بہ کرنا چاہتا ہے مگر بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، تابکاری اس پر اپنا اثر کرکے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستانی معاشرے کے انتہاپسندی والے پہلو کو سمجھنے کے لیے یہ ناول کافی جاندار کوشش ہے، یہ ناول وسیع کینواس پر برصغیر کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی اور دفاعی حالات پر ایک بحث کرتا ہے۔  یہ ناول اردو ناول نگاری میں ایک چھلانگ ہے، اس ناول کی ہمارے ہاں چھپ جانا ہی بڑی بات ہے،  بقول زیدی صاحب کے چار پبلشرز نے کان پر ہاتھ رکھ کر ان کے ناول کو چھاپنے سے انکار کر دیا تھا !

___________

تحریر : عنایت نوہڑی
inayatullahnohri@gmail.com