ہجرت__________خزائمہ بنت محمد

ان گزرتے لمحوں میں , میں ہر انسان میں اس محبت کو تلاشنے لگی تھی جو مجھ سے کھوگئی . محبت مجھے اپنے باپ سے تھی مما کہتی ہیں جب وہ میرے آس پاس ہوتے تھے تو میں سب کو بھول جاتی تھی .اب میں سوچتی ہوں جب وہ مجھے اٹھاتے ہوں گے, پیار کرتے ہوگے , میں محبت سے انکو دیکھتی ہوں گی تو کتنا حسین لگتا ہوگا باپ بیٹی کا رشتہ کتنا مکمل ہوتا ہے نا…

وہ بچپن میں کبھی میرے لئے کپڑے لاتے ہوگے تو کبھی سائیکل کتنا فخر ہوتا ہوگا نا مجھے ان پر… وہ فخر وہ مان وہ محبت کھوگئی مجھ سے نجانے کیوں کہ اب دعاؤں سے بھی نہیں آسکتی کہ میں وہ دعائیں اب مانگنا ہی نہیں چاہتی۔ کبھی ان کی شفقت اور محبت مانگنا چاہتی تھی ان کے سخت , ہتک آمیز اور تلخ لہجوں نے میرا اندر مار دیا تھا میں کسی سے جیلس نہیں ہوئی کبھی بھی،مگر مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی جب وہ میری بہن کے لئے گڑیا لائے تھے اور میرے لئے وہی سخت لہجہ تھا میں اکثر خود سے کہتی تھی
“جن کے والد نہیں ہوتے ناں ،ان کو صبر آجاتا ہے مگر جن کے بابا پاس ہوں مگر آپ اور ان میں صدیوں کا فاصلہ آجائے تو وہ تکلیف کبھی نہیں مٹ سکتی, میری بھی نہیں مٹتی”جب جب میں زینب فاطمہ کے بابا کو دیکھتی تھی اسکے بابا اور ان کی دوستی , جب مدیحہ باجی اور انکے بابا کو دیکھتی تھی تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ۔پھر وہ بھی دن آیا جب وہ ہم تین بہن بھائیوں کو چھوڑ کر اپنی دوسری دنیا بسانے چلے گئے مما نے جس طرح تنہا ہنستے روتے ہمارے اخراجات پورے کیے وہ اللہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا …میں اس وقت فقط 15 سال کی تھی جب اچانک میرے بھائی کے سر میں چوٹ لگی، خون بہت بہہ چکا تھا، تنہا ایک عورت اور دو بچیاں کیا کرتی …؟؟آخر کسی نے ایمبولینس کو کال کی، ہسپتال لے گئے میں نے اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی تھی اللہ اسے بچالیں مگر کچھ دیر بعد ہی اس کا جسم سفید کفن میں لپٹے آنکھوں کے سامنے تھا میرا اکلوتا بھائی… مان کرنے کو وہی بچا تھا وہ بھی نا رہا پہلی بار میں نے اپنے باپ کو روتے دیکھا تھا۔ مگر اب کیا فائدہ میں نے اس رات جی بھر کر اللہ سے شکوے شکایت کی تھیں شاید کوئی سنتا تو مجھ پر کفر کے فتوے لگادیتا مجھے بابا اور اسفند (میرا بھائی) سے شدید محبت تھی مگر میری محبت ٹکروں میں بٹ گئی تھی ،ایک پاس ہوکے دور تھا اور دوسرا اتنی دور جا چکا تھا کہ چاہو بھی تو وہ فاصلہ کم نہ ہو۔ میں کانوں میں ہینڈ فری لگائے اٹھتے بیٹھتے اداس گیت لگائے خلا میں تکتی رہتی۔ یہی چیزیں میرا مسکن بن گئیّں تھیں , آہستہ آہستہ میں اداسی, ڈپریشن اور ناامیدی کے گہرے گڑھوں میں گرنے لگی …تبھی وہ ایک خوشگوار جھونکے کی طرح میری زندگی میں آیا ۔مجھے باپ اور بھائی دونوں کی کشش اس میں محسوس ہونے لگی تھی اور اس نے وہ حق وہ مان مجھ سے کبھی نہ لیا تھا ۔میں زندگی کی طرف لوٹنے لگی تھی میں بہت خوش تھی میں اللہ کو جاننے لگی تھی وہ شکوے شکائتیں, وہ ناراضگیاں ختم ہوچکی تھیں میں اللہ سے پھر سے محبت کرنے لگی تھی مگر پھر بھی اس سے شدید محبت ہونے کے باوجود ایک عجیب سی اداسی جکڑے رکھتی تھی نجانے کیوں ؟تبھی میرے رشتے کی بات گھر میں گردش کرنے لگی ایک نیا امتحاں اللہ آپ تو سب جانتے ہیں اللہ میں نے دل سے اللہ کو پکارا تھا راتوں کے سجدے, قرآن کی تلاوت آہستہ آہستہ میرا دل پلٹنا شروع ہوگیا تھا ایک دن قرآن پڑھتے میرا دل اس آیت پر رک گیا “تم اس وقت تک کامل ایمان کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پیاری چیز اللہ کے لئے قربان نہ کردو” میں واقعی ٹھٹک گئی تھی

“اللہ اس انسان کے علاوہ کچھ بھی, اللہ میں ہر چیز قربان کردوں گی” اور پھر میں نے میوزک کی قربانی دے دی اور نجانے کیوں اس کو مانگنے کی شدت بھی کمزور ہوتی جارہی تھی تبھی میں نے یہ قول پڑھا
“موسیقی کو ترک کرنے سے ہی ہم اپنا دل لغویات سے پاک کرسکتے ۔۔۔
ورنہ ہر ساز ہمیں ان
جذبات کی طرف واپس دھکیل دیتا ہے ۔۔”
جو مشکلوں سے ضبط کرکے آئے تھے ۔۔۔انہ بما تعملون بصیر _______تمھاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے ۔۔۔(القرآن)
اللہ میں نے تو کبھی کوئی برا قدم نہیں اٹھایا کبھی اس سے فیس ٹو فیس بات نہیں کی کبھی بھی کیا پھر بھی میرا اس سے بات کرنا گناہ ہے ؟یہ محبت گناہ ہے؟حالانکہ لوگ تو اس کو سچی محبت کہتے ہیں… قرآن سینے سے لگائے میں محو گفتگو تھی
“تیری یاد آئی تو رو دیا,

جو تو مل گیا تجھے کھودیا”
عجیب سی کشمکش میں تھی
کہ اچانک میری اس عبارت پر نظر پڑی،

“قالت فاطمة سلام الله علیها :” خیر للنسا ان لا یرین الرجال و لا یراهن الرجال “ترجمہ

:حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :” عورتوں کے لئے خیر و صلاح اس میں ھے کہ نہ تو وہ نا محرم مردوں کو دیکھیں اور نہ نامحرم مرد ان کو دیکھیں “۔اور جیسے ہی قرآن کھول کر دیکھا سامنے آیت تھی
یہ نا ہو کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو ۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا ۔ 23 ؏١
وہی پلٹنے اور دل کو مارنے کا وقت تھا میں نے اسٹور روم میں سجدے میں جاکر شدت سے اللہ کو پکارا تھا” اللہ مجھے اس محبت سے نکال کر اپنی محبت عطا فرمادیّں”.

فیصلہ ہوچکا تھا اس نے کئی بار پوچھا کئی بار بار رویا، روکنا چاہا مگر میں اس کو نہیں سمجھاسکتی تھی کہ اللہ نے کسی بھی انسان کے دل میں دو دل نہیں بنائے یا تو مجھے عبدالرحمن کا ہونا تھا یا رحمان کا میں نے رحمان کا انتخاب کیا تھا ۔ میں نے جان لیا کہ جب کسی سے شدید والی محبت ہوتی ہے ،چاہے وہ محرم سے ہو یا نامحرم سے وہ آپ کو کبھی چین نہیں لینے دیتی، آپ کا سکون چھین لیتی ہیں۔ اللہ نے اسلئے تو فرمایا ہے “ایمان والے تو اللہ کی محبت میں شدید ہوتے ہیں” جب ہم اللہ کو اللہ کا حق نہیں دیتے تو اس کے بندے بھی ہم سے ہمارا حق چھین لیتے ہیں سکون چھین لیتے ہیں میرا بھی سکون چھن چکا تھا مجھے بھی سمجھ آگیا تھا کہ یہ بے وجہ اداسی کیوں تھی۔اور اس مشکل وقت میں مجھے جس نے سب سے بڑھ کر حوصلہ دیا وہ قرآن تھا

“لوگو تمھارے پاس ایک ایسی شے اتری ہے جو دلوں کی بیماریوں کی شفا ہے “

سورت یونس کی آیت پڑھ کے میں نے جانا اللہ سے جڑنے کے لئے قرآن کو پکڑنا پڑتا ہے ۔سمجھ کر ترجمہ کے ساتھ پڑھنا پڑتا ہے ۔ جنگ و جدل بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے والے فحاشی و عریانی والے معاشرے کو کس نے سدھارا تھا ۔۔۔؟؟؟وہ کیا چیز تھی ۔۔؟؟جس کے نازل ہوتے ہی ان کے دل بدل گئے ؟؟معاشرہ بدل گیا وہ سب بدل گیا جو ان کی گھٹی میں شامل تھا۔ بے شک وہ قرآن ہی تھا
میں نے بھی قرآن کو تھامنا تھا اور سچ میں میں نے اس کو تھاما تو میری زندگی پھر کسی سہارے کی محتاج نہ رہی میں نے ہجرت کرلی اور بھلا ہجرت کیا ہوتی ہے ؟میں نے کہیں پڑھا تھا ہجرت عزیز ترین شے پسندیدہ جگہ کو چھوڑ کر کسی اور انجانی راہ کی طرف چلنا ہوتا ہےہر وہ دل جو کسی کی محبت میں مبتلا ہے جو کسی ایسی چیز کی طرف مائل ہے جو اللہ کو منظور نہیں وہ دل بھی جو ٹوٹا بکھرا ہوا ہے،دکھ سہہ رہا ہے، اللہ کے لئے صرف اللہ کے لئے اپنی چاہ کی طرف جانے والا راستہ چھوڑ دے 💔ہجرت کر جائے اپنے رب العلمین کے لئے تو اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف فرمادیں گے
‘3 : سورة آل عمران 135
وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انھیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے ۔”
اس تکلیف سے نکلے آنسو اسے اللہ کے اور قریب لا کھڑا کریں گے ۔۔اس جہان میں بھی اور اس جہان میں بھی اس کو بہترین نعم البدل عطاء فرمائیں گے ان شاءاللہ قدم تو بڑھائےاور میں نے قدم بڑھادیا میں چاہتی تھی میں ان بشارتوں کی مستحق ٹھہروّں، اللہ نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا ۔خدا کا راستہ دشوار نہیں ہوتا ۔دین اسلام تو آسان ہے دشوار گھاٹی دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹنا ہوتا ہے ۔آگے سب آسان ہے! جس سکون کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی وہ سکون مجھے اللہ کو پاکر مل گیا. باپ کی محبت ہو بھائی کی محبت ہو یا کوئی بھی جذبہ..میں اس کو اللہ کی ذات میں تلاشنے لگی ہوں. یقین کریں جو اللہ کی محبت کو پا لیتا ہے پھر اس کے دل میں کوئی کمی کمی نہیں رہتی جو اللہ کو کھودیتا چاہے ساری دنیا دل میں بسا لے وہ خلا کبھی نہیں بھرتی! “وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گ”5
تو آپ کب کررہے ہیں ہجرت ؟؟

__________

تحریر:خذائمہ بنت محمد

کور و فوٹو گرافی: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.