بے اعتبار وقت پہ جھنجھلا کے رو پڑے

کھو کر کبھی اُسے تو کبھی پا کے رو پڑے

خوشیاں ہمارے پاس کہاں مستقل رہیں

باہر کبھی ہنسے بھی تو گھر آ کے رو پڑے

کب تک کسی کے سوگ میں روئیں گئے بیٹھ کر

ہم خود کو کتنی بار یہ سمجھا کے رو پڑے

__________

کلام : نا معلوم

فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف