ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کی سعی کروں تو اپنی یا اپنے بچوں کی پیدائش کے بعد کے وہ لمحے مدار چشم،ذہن و قلب میں عیاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں جب میرے بچے میری طرف اور میں اپنے والد صاحب کے توانا ہاتھوں کی طرف اس امید کے ساتھ پہلا قدم بڑھ رہا تھا کہ جب میں گروں گا تو یہ توانا ہاتھ مجھے یوں اپنے آغوش محبت میں سمیٹ لیں گے جس طرح ایک مربی اپنے سیکھنے والے کا ہاتھ و قلم تھام کر اس کی ڈھارس بندھاتا ہے کہ بقول شاعر “ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”
اسی طرح کے کچھ دوسرے تجربات بھی یہی سبق دیتے ہیں کہ انسان جب ایک چھوٹے بچے کو ہوا میں اچھالتا ہے تو اس امید کی ساتھ بازؤں کی طرف واپس لوٹتا ہے کہ میرا باپ مجھے اپنے ہاتھوں میں تھام لے گا اور نیچے نہیں گرنے دے گا۔ اسی صورت حال کا سامنا ہمیں اس وقت بھی کرنا پڑتا ہے جب تھوڑا بڑے ہو کر سائیکل،موٹر سائیکل یا کار وغیرہ چلانے لگتے یا اس کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا رہنما ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہماری امید بڑھاتا ہے یوں ہم اس کی مشق کرتے ہوئے اس کام میں مہارت حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔
ماضی کے جھروکوں میں ہی آگے بڑھتا ہوں تو گیارہویں جماعت کا وہ سبق سامنے گھومتا ہے جس میں ایک ننھا بگلا/ ننھی چڑیا اڑنے کے لیے اپنے پنکھ کھولتی ہے مگر پھر اسے یوں سینے سے لگا لیتی ہے کہ باہر کی گرم ہوا اسے کہیں نقصان نہ پہنچا دے اس کے والدین کی موجودگی کا احساس محبت اسے اپنے پنکھ دوبارہ کھولنے اور اپنی سعی شروع کرنے کی ہمت بخشتے ہیں تو وہ ان دیکھے جہاں و آسماں کی طرف کبھی نہ سانس لینے والی جست/غوطہ لگاتی ہے کہ فضاؤں کا بحر بیکراں اس کے ساتھ ساتھ یوں سفر کرتا ہے جیسے نسیم صبح کا احساس،طلوع سحر کی چمک،آفتاب کی سرخی یا پھر روشنی آفتاب۔
انسان جب اپنے احساس و جذبات کو قلم کی روشنائی کے ذریعے زیب قرطاس کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ساتھ مثبت و منفی دونوں رویے سامنے آتے ہیں کچھ لوگ رہنماؤں کی طرح آگے بڑھتے ہیں اور لکھی گئی تحریر میں موجود “سقم،فنی محاسن،الفاظ و ضرب المثال کے استعمال،اصطلاحات وغیرہ” میں اس کی ذہنی آبیاری کرتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ یونیورسٹی میں تحقیق و تعلیم کے مرحلہ میں گزرنے والے افراد کسی فن کو سیکھنے والے بہتر بتا سکتے ہیں کہ کس طرح چند مربی و احباب حوصلہ افزائی یا مثبت مکالمہ و تنقید کے ذریعے مدد کرتے ہیں جس سے ہر نئے آنے والے دن میں فرد خود کو بہتر کرتا چلا جاتا ہے مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب لکھنے والا سیکھنے کے مزاج سے آشنا ہے۔
معدودے چند ناصح دوسرا رویہ جو کہ منفی رویہ یا احساس تفاخر کا بھی ہو سکتا ہے کہ نیا لکھنے والا چونکہ فنی محاسن،الفاظ و ضرب المثال،اصطلاحات وغیرہ سے نابلد ہےاس کو اپنے علم و ہنر کے ذریعے یہ احساس دلایا جائے کہ تم ایک بچے ہو اور تمہیں مجھ سے زیادہ کچھ نہیں آتا، تم کوئی بات مشاہدہ و تجربہ کی بنا پر لکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے وغیرہ مگر میں اپنی عملی زندگی میں حسن ظن رکھنے کا قائل ہوں اور منفی بات سے مثبت نکالنے یا ایک نا سے ہاں نکالنے کا قائل ہوں سو یہ احساس رکھتا ہوں کہ استاد،مربی و رہنما کا یہ رویہ بھی مجھے مہمیز دینے کے لیے تھا نا کہ مجھے احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے۔اس کا یہ مقصود بھی نا تھا کہ مجھے مشاہدہ و تجربہ کی کمی کے ساتھ کم علمی کا احساس دلایا جائے۔
اس رہ میں آنے والے خوف یا خطروں کو گر اپنے احساس گماں سے بیاں میں لانے کی جستجو کروں تو درج ذیل نقاط ذہن میں آ رہے ہیں لامحالہ اور بھی بہت سے نقاط ہو سکتے ہیں۔
پہلا خوف:1-اپنی ذات کے ساتھ مثبت مقابلہ نہ کرنے کی سکت۔ انسان ہمیشہ اپنے بنائے گئے سانچے میں خود اور دوسروں کو پرکھتا/دیکھتا اور نتائج اخذ کرتا ہے۔اپنے خوف کے ازالے کے لیے ہمیں اپنے ساتھ موازنہ کرنا پڑے گا کہ میں کل ذہنی و فکری سطح پر کہاں کھڑا تھا اور آج کہاں کھڑا ہوں؟ اس سوال کا جواب ہی ہمارے اندر ایک مہمیز پیدا کرے گا۔
2-سیکھی،پڑھی،یا لکھی گئی چیز /خیال کو مکالمہ/گفتگو کا حصہ بنانا اور اپنے ہمنشینوں کی رائے/تنقید کا احترام کرنا خواہ وہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو خاص طور پہ اہل علم و فن یعنی مربی کی بات کو مینارہ سمجھنا ہے بہتر طرز عمل ہے۔
3-بولنے/کہنے سے زیادہ سننے، تجزیہ و جوڑنے (Analysis and Synthesis) کی صلاحیت کو بڑھوتری دینا جو کہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے وغیرہ پر عمل پیرا ہو کر ہی انسان اپنے “خوف” پر قابو پاتا ہے۔
4-خود سے لڑنا اور اڑان بھرنا کی حالت پر آنے کے لیے لکھنے کے میدان میں مطالعہ،مشاہدہ، تجربہ، نئے الفاظ سیکھنے کا عمل اور انہیں حسن اظہار کی لڑی میں پرونا بنیادی نقطہ ہے۔
محترم اساتذہ و احباب کا ہمارے لیے وہی کردار ہے جو ایک باپ کا اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے ہوتا ہے۔اس احساس محبت کے عرق میں غرق ہو کر میں اپنے کمزور پروں،لاغر ٹانگوں اور کانپتے ہاتھوں میں قلم لیے اپنی پہلی اڑان بھرتا ہوں کہ گرنے پہ اوپر مذکور کردار رہنمائی کے لیے ہمہ وقت میرے ہمسفر رہیں گے اور غلطیوں پر سرزنش کے ساتھ ساتھ مثبت رہنمائی اور مقصد سے ہم شناسی بنائے رکھیں گے۔اب ہواؤں میں اڑنے کی پہلی خواہش لیےمیں پرندوں کی طرح پنکھ پھیلاتا ہوںاللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین!

——————

تحریر:محمد عظیم

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف