عجیب لڑکی ہے ۔۔۔۔۔!حویلی کے دالان سے آتی آوازیں اسے بے چین کئے دے رہی تھیں۔ آج پھر حویلی میں بابا ، امی اور بھیا اسی کی ذات کو موضوع بنائے ہوئے تھے ۔کبھی آوازوں میں شدت آ جاتی کبھی کچھ لمحوں کے لیے خاموشی ، کبھی بابا بولتے اور کبھی بھیا، کبھی تینوں ہی بولنے لگتے اور ایسا جب بھی ہوتا وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں پڑی کلستی رہتی اور اندر ہی اندر کُڑھتی رہتی اسے حویلی کی راہداریوں میں حویلی کے کھلے ماحول میں عجب سی گھٹن کا احساس ہوتا تھا کبھی کبھی تو ذہنی کیفیت اس نہج پر پہنچ جاتی کے دم گھٹنے لگتا ایک لااُبالی سی خواہش من میں کہیں سکون نہ ہونے دیتی اور وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں حویلی کے دالان میں کملائی پھرتی۔ آج بھی یہی ہوا تھا گھر میں اسے کیا کچھ نہ کہا گیا تھا ۔بات وہی پرانی کے ایک اور رشتہ اس چوکھٹ پر آیا تھا۔ انکل شمسی بابا کے پرانے دوستوں میں سے تھے اور انکا بیٹا ان ہی دنوں بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے پاکستان پہنچا تھا ۔سیاست میں بھی ان کا ایک مقام تھا مگر اسے اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی اس کی طرف سے ہنوز انکار نے احسان عظیی کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔بھیا الگ چیخ رہے تھے بابا آخر اس رشتے میں کمی کیا ہے اب اس شانزے عظیمی کے لئے اور کونسا شہزادہ آئے گا آخر کمی کیا ہے اس لڑکے میں اعلی تعلیم یافتہ ہے، اعلی گھرانہ ہے، دولت مند ہیں، مگر آپ کی بیٹی کی نظر کسی پر ٹکتی ہی نہیں بابا۔۔۔۔! آپ امی سے کہیں پوچھے اسے مگر بابا چُپ امی، جسےجسے اس نے ہمیشہ امی کہا حویلی کے ایک خاص ماحول کو اپناتے ہوئے اماں نہیں کہا۔ آج امی بھی ہمیشہ کی طرح چپ تھیں ،صرف بھیا بول رہے تھے اور ان کی آواز اُس کمرے تک پہنچ رہی تھی۔ پھر ایک چُپ ایک یاسیت نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کافی دیر کی خاموشی نے اسے محسوس کروا دیا کہ بھیا نے ہمیشہ کی طرح گاڑی کی چابی اٹھائی ہوگی اور لانگ ڈرائیو جو ہمیشہ وہ پریشانی میں کرتے ہیں چلے گئے ہوں گے ۔ بھیا کی شروع سے عادت تھی جب ڈسٹرب ہوتے یونہی سڑکوں پر گھومتے رہتے اور رات گئے لوٹتے سرخ سرخ آنکھیں لیے اور وہ اُ سے بہت کچھ باور کرا جاتے مگر کہتے کچھ نہیں تھے ۔شانزے عظیمی ہر بار اس کیفیت کو محسوس کرتی آزردہ ہوتی مگر اس کے پاس بھیا کے مسئلے کا کوئی حل نہ ہوتا۔ وہ پریشانی میں ٹیرس سے دالان پھر اپنے کمرے کئی چکر لگا لیتی اور بھیا سڑکوں پر گاڑی گُھما کر اپنا دکھ کم کر تے۔وہ سمجھتی تھی کہ بہت مختلف لڑکی ہے اسے حویلی کے نوکروں پر مالکن کی طرح حکم چلانے کی عادت نہیں تھی وہ حسین تھی حسن بھی ایسا کے چاند کی ماند پڑتا مگر شانزے عظیمی مختلف زندگی کی متمنی تھی اس نے کئی بار اپنے بھیا سے کہا تھا کہ بھیا میری شادی اس شخص سے کیجئے گا جو عام لوگوں جیسا ہو جس کے عام سی خواہشیں ہوں حویلی کی پرانی روایتیں مجھے پسند نہیں اس نے بارہا اپنے بھیا سے کہا تھا شادی وہ وہاں کرے گی جہاں اُسکا دل مانے گا بس ایک یہ حق عورت کو اسلام نے دیا ہے تو مجھ سے میرا اختیار چھینئےگا مت ۔وہ چاہتی تھی ایک عام سا لڑکا ہو اور ایک چھوٹا سا گھر مگر ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔کیونکہ احسان عظیمی شہر کا مشہور سیاسی خاندان انہیں ایسا گوارا کب تھا زندگی کے دن گزر رہے تھے راتیں بوجھل دوپہریں دل جلاتی تھیں یوں لگتا تھا جیسے صدیاں اس کا تماشہ دیکھنے آ کھڑی ہوئیں ہوں وقت کی رفتار کم ہوگئی تھی یا اسے محسوس ہوتا تھا دل پر ایک عجیب سا بوجھ تھا وہ بابا سے نظر چرائی پھرتی بھیا بولتے نہیں تھے۔امی مطلب کی بات کرتیں دل بہت بار موت کی خواہش کرتا شانزے عظیمی کو خاندان کی عزت کا خیال تھا مگر دل کہیں نہیں لگتا تھاایک بےکلی دن بھر بے چین رکھتی وہ کسی کھوئے ہوئے لمحے کی تلاش میں رات سے صبح اور صبح سے شام اور شام سے رات کرتی۔ اس نے سنا تھا مقدر ،قسمت صرف ایک پر دروازے پر دستک دیتے ہیں مگر شانزے عظیمی کی قسمت تو کئی بار جاگی تھی اس کے دہلیز سے تو ایسے کئی لوگ ناکام و نامراد پلٹ گئے تھے جن کا نام تھا مقام تھا جن کا ساتھ پاکر کوئی لڑکی بھی فخر کرتی۔مگر شانزے عظیمی جو اپنی بات پر ڈٹی تو ڈتی رہ گئی۔آج کئی مہینوں بعد پھر بھیا نے اس سے بات کی تھی کہ میرا ایک دوست ہے برٹش نیشنلٹی ہولڈر ہے تم بہت خوش رہو گی مگر شانزے عظیمی تو جیسے پھٹ ہی پڑی تھی ۔بھیا میں کوئی گائے بھینس ہوں جہاں باندھ دی، میری بھی کوئی خواہشیں ہیں خواب ہیں میں نے کہا تھا نہ مجھے ایک یہ حق دے دیں مگر بھیا۔۔۔۔! آپ کو بوجھ اتارنے کی جلدی کیا میں اتنا ہی بوجھ بن گئی آپ پہ، مجھے جینے دیں خدارا مجھ سے میری زندگی مت چھینئے۔مجھے سانس لینے دیں اس اونچی حویلی میں دم گھٹنے لگا ہے میں ایسے ہی پتھروں کے عظیم الشان بنگلے میں نہیں جانا چاہتی، جہاں انسان بھی روبوٹ بنے پھرتے ہوں جہاں احساس نام کی کوئی چیز نہ ہو، نہیں میں زندہ ہوں مجھے مارا نہ جائے میں ایک عام لڑکی ہوں مجھے عام رہنے دیں۔بھیا میں کسی شاندار حویلی میں شوپیس کی طرح احساسات، جذبات سے عاری چہرہ لئے نہیں پھِرنا چاہتی جہاں نوکروں کی فوج تو ہو مگر انسان پتھر جیسے نہیں بھیا مجھے ایک طرف پڑا رہنے دیں۔ہاں اگر اتنی جلدی ہے تو ڈھونڈ لیجئے کوئی ایسا شخص جسے میری آنکھوں سے زیادہ میرے خواب پیارے ہوں،جسے یہ ادراک کو کہ میں گوشت پوست کی بنی ایک زندہ انسان ہوں نہ کہ کوئی ایسی چیز کی جسے سنوارو، سجاؤ اور گھر کے ایک کونے میں رکھ دو ۔۔۔۔۔!اور اگر ایسا نہیں تو پھر ہم سے بہتر تو فلسطین کا وہ ایک غریب مجاہد ہے جس کی آنکھوں میں کوئی عزم جاگتا ہے جینے کا، زندہ رہنے کا، آگےبڑھنےکا ،آزادی کا ہاں میں کوئی اعتراض نہیں کروں گی ورنہ مجھ سے بہتر تو وہ عورتیں ہیں جن کے سر پر چھت نہیں پاوں تلے زمین نہیں مگر اتراتی پھِرتی ہیں کہ خواب سلامت۔ بھیا ہکابکا اس کا شدتِ احساس سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہے تھے۔وہ سوچ رہے تھے کہ یہ لڑکی یہاں ہے ہی کب ، جو اس کی بات کو سُنے سمجھے ۔وہ تو کب کی اپنے کمرے میں کہیں دفن ہو چکی ہے ، جسے بچپن میں وہ جانتا تھا یہ تو وہ تھی ہی نہیں جو ہنستی تو لگتا آسمان پر قوسِ قزح کے رنگ پھیل جاتے وہ جو چھوٹی چھوٹی معصوم سی باتیں کرتی تھیں مگر آج۔۔۔۔۔! وہاں کوئی گڑیا سی شانزے عظیمی نہ تھی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھے کہ اس کے بھیا نے اسے اکیلا چھوڑ دیا تھا زندگی میں ضرورت کی ہر شے تو دی مگر اس سے خود اتنا دور ہوگئے کہ آج بالکل ایک غیر ،ایک اجنبی لڑکی سے ملا تھا جسے وہ جانتا ہی نہیں تھا ۔اکلاپے کا زہر انسان کو مار دیتا ہے یا اُسے یکسر بدل دیتا ہے ۔یکدم اسے شانزے عظیمی پر بہت پیار آیا کیونکہ وہ اُن تمام لوگوں سے مختلف تھی شاید وہ سب ہی دولت کی ہوس ،دولت کے بوجھ تلے کب کے مر چکے تھے اگر زندہ تھی تو شانزے عظیمی ایک لمحے کو اُس نے سوچا کہ شاید خواب ہی زندگی کا تعین کرتے ہیں۔ اس نے بیڈ روم کی جانب دیکھا مگر وہ وہاں سے اپنا بکھرا بکھرا وجود سمیٹے کب کی ٹیرس پہ جا چکی تھی کیونکہ جب سے بھیا نے اُسے اکیلا چھوڑ دیا تھا تب سے ٹیرس ہی تو اس کا ٹھکانا تھا مگر آج وہ ایک فیصلہ کرکے اس کے کمرے سے نکلا تھا کہ اُسے سب سے پہلے زندگی کو رشتوں کا اعتبار لوٹانا

تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!