صاحبِ خوش خصال تھا ایدھی

آپ اپنی مثال تھا ایدھی

دورِ ظلمت کی ہولناکی میں

ایک روشن ہلال تھا ایدھی

قوم کی بے بسی پہ ہر لمحہ

ہر گھڑی پر ملال تھا ایدھی

درس انسانیت کا دیتا تھا

تحفہِ ذوالجلال تھا ایدھی

جن کو دھتکارتے رہے اپنے

ا ن کا پرسانِ حال تھا ایدھی

جو ہواؤں کا رخ بدلتا تھا

وہ شجر با کمال تھا ایدھی

ظلم سہتے ہوئے شکستہ پا

خستہ حالوں کی ڈھال تھا ایدھی

جاتے جاتے بھی روشنی دے دی

گوہرِ لازوال تھا ایدھی

آہ!! محروم ہو گئی دنیا

اس کا حسن و جمال تھا ایدھی

جیسے ماؤں کے لعل ہوتے ہیں

میری دھرتی کا لعل تھا ایدھی

____________

کلام: طیبہ صباحت