تعصب مار دیتا ہے، جہالت مار دیتی ہے

جہالت سامنے ہو تو لیاقت مار دیتی ہے


 طریق اپنا نزاکت کو خدارا مت بنانا تم

بڑی ظالم ہے یہ دنیا، نزاکت مار دیتی ہے


پیچھے رہ جائیں گےجن کا ہم سہارا ہیں

محبت جن کی اکثر شجاعت مار دیتی ہے


زراعت میں پسینہ بہا کر جب حق نہیں ملتا

بِضاعت کی سمجھ پھر قناعت مار دیتی ہے


تعلق بوجھ ہو جائے اسی دم دور ہو جانا

وگرنہ پھر یوں ہوتا ہے رفاقت مار دیتی ہے


ستاروں کی طرح ہونے سے پہلے سوچ لینا ہاں

کہاوت ہے ستاروں کو بھی فرقت مار دیتی ہے


قلم جو قوم پکڑاتی نہیں ہے اپنے بچوں کو

بسرعت پھر سیاست واں صحافت مار دیتی ہے


بھلا ہے ترک کرنا معرکے بھی چند دن کو یوں

کہ اپنا عجز نصرت کی رعونت مار دیتی  ہے


“نہیں “کہنا بھی آتا ہو، مشقت کا نہیں ہے شوق

مگر اکثر وہ بندے کو مروت مار دیتی ہے

________________

کلام:
نُورالعِلمہ حسن

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف