نو سال گزر جانے کے باوجود وہ ان چار سالوں کی قید میں ہے جو اس نے حالت جنگ میں، اپنی دفاع میں، زخم سہتے سہتے گزارے!
وہ اب یونیورسٹی میں پڑھتی ہے مگر اس سے بات کرو تو لگتا ہے وہ اب بھی اسکول جاتی ہوگی۔ چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور مستیاں کرتی ہوگی اور پکڑے جانے پر ٹیچر سے ڈانٹ بھی کھاتی ہوگی۔ اس کو آج بھی جیب خرچ کے دس روپے ملتے ہوں گے جن میں پانچ کا وہ کچھ کھا لیتی ہوگی اور پانچ روپے وہ اپنے پاس محفوظ کر لیتی ہوگی۔ اس سے بات کر کے لگتا نہیں وقت گزر گیا ہے۔ اس سے بات کر کے لگتا ہے وقت تھم گیا ہے۔ سانحہ ہے! وقت کسی کے لیے رک جائے یہ سانحہ ہے! ایسا سانحہ جس پہ برسوں ماتم کرو تو بھی حساب برابر نہیں ہوتا۔ اس کا بھی حساب برابر نہیں ہوا کیونکہ اس کے لیے وقت تھم گیا ہے۔ وہ نو سالوں میں آگے ہی نہیں بڑھی۔ وہ آٹھویں جماعت کی قید میں ہے۔۔۔ آج بھی کوئی ذکر چھیڑو تو لفظ بہ لفظ ہر بات یاد رہتی ہے اسے۔ اس کا ذہن ماضی کی باتوں سے یوں چمٹ گیا ہے جیسے یہ ابھی کی بات ہو۔ اس کے لیے ماضی کی ہر بات ابھی کی بات ہے۔ اسے حال سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حال اس پر یوں بوجھ ہے جیسے کسی انسان کے سر پر پہاڑ رکھ کر اسے کہو کہ اسے سر پہ رکھ کر چلو۔ بھلا وہ کہاں پہاڑ سر پہ لیے چل سکتی ہے؟ وہ ماضی میں قید لڑکی حال میں کیسے جی سکتی ہے؟ اس کو کیا غم ہے کوئی نہیں پوچھتا۔ وہ گزرتے برسوں کے ساتھ بڑی کیوں نہیں ہو پاتی؟ کوئی اس سے کچھ نہیں پوچھتا اور وہ اپنا دل کسی کو کھول کر دکھا نہیں سکتی کہ وہاں کس قدر اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں کوئی دیکھ نہیں سکتا اس کو غم کیا ہے؟ وہ اپنی زندگی کو بلیک ہول کہتی ہے۔ اس سے زیادہ موزوں نام اس کے لیے ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
اسے ہر قسم کی آوازوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ اتنی کہ وہ اپنے کانوں میں روئی ڈالے تو بھی نہیں سو پاتی۔ اسے گھڑی کی ٹک ٹک سے چڑ ہے۔ کوئی اس کے پاس بیٹھا کھانا کھا رہا ہو تو وہ اٹھ کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔ رات کو سو نہیں پاتی کیونکہ اس کے ارد گرد سوئے ہوئے لوگوں کی سانسوں کی آوازیں اسے سونے نہیں دیتیں۔ کوئی پاوں گھسیٹ کے چل رہا ہو تو وہ بے دھڑک بول اٹھتی ہے کہ مہذب لوگوں کے چلنے کا طریقہ یہ نہیں۔ کبھی کبھی تو سامنے والے مان جاتے ہیں۔ کبھی کبھی جھگڑے پر اتر آتے ہیں۔ سب کہتے ہیں وہ بد زبان ہے۔ اس کی بہنیں اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتی ہیں وہ سائیکو ہے۔
پانی بہنے کی آواز آئے تو نیند تک سے جاگ اٹھتی ہے۔ اس کی زندگی میں مسئلہ آوازوں کا ہی ہے۔ وہ ہمیشہ خاموشی کو ترسی ہے۔ اس نے ہر جگہ خاموش گوشہ ڈھونڈا ہے۔ اس نے اللہ سے ہر آواز مٹا دینے کی دعائیں مانگی ہیں پر اس کی دعائیں قبول ہی نہیں ہوتیں۔
یونیورسٹی جاتے ہوئے مسکارا اور لپ اسٹک لگانا نہیں بھولتی۔ جتنی بھی دیر ہو رہی ہو وہ میک اپ کر کے جاتی ہے۔ سب کہتے ہیں وہ فیشن کے لیے یونیورسٹی جاتی ہے۔ وہ کسی کو صفائی پیش نہیں کرتی۔ خاموش رہتی ہے یا زیادہ سے زیادہ مسکرا دیتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے، تفصیل سننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ سب بس سطحی گفتگو کا چسکا لیتے ہیں۔ تہہ میں کہاں کوئی دیکھتا ہے؟
یونورسٹی جاتے ہوئے ہمیشہ اسے دیر ہو جاتی ہے کیونکہ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہے چاہے کلاس اسٹارٹ ہی کیوں نہ ہوئی ہو، اس کے چلنے کی اپنی رفتار ہے جس سےزیادہ وہ تیز کبھی نہیں چلتی۔ ہاں! وہ اپنی رفتار سے تیز تب چلتی ہے جب کوئی اس کے برابر میں چل رہا ہو اور وہ اس سے ذرا آگے ہو جائے تو وہ بڑے بڑے قدم اٹھانے لگتی ہے اور تب تک تیز چلتی ہے جب تک اگلے بندے کو پیچھے نہ چھوڑ دے۔
وہ کسی کو مفت میں کچھ نہیں دیتی۔ اسے لگتا ہے ہر انسان کو ہر چیز کی قیمت چکانی پڑھتی ہے اسی لیے وہ کسی کے ساتھ مفت میں کوئی اچھائی کبھی نہیں کرتی۔ کوئی اگر اس سے کچھ مانگ لے تو تب دیتی ہے جب اسے یاد آجائے کہ سامنے والے نے ماضی میں اس کے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی۔ وہ کسی کی اچھائی اور برائی کبھی نہیں بھولتی۔ کوئی اچھائی کرے یا برائی، دونوں کا بدلہ وہ جلد سے جلد اتارتی ہے۔
وہ محبت میں اظہار کو دکھاوا سمجھتی ہے۔ وہ بے لوث جذبوں کی قائل ہے۔ کوئی اس سے محبت کا دم بھرے تو اسے لگتا ہے جیسے سامنے والا اس سے کوئی کام نکلوانے کے چکر میں ہے۔ وہ بے حد بد مزاج لڑکی ہے۔ کوئی اس سے بات کرے تو اس کو ٹکا سا جواب دے کر خاموش ہو جاتی ہے۔ اسے بولتے ہوئے لوگ سخت ناپسند ہیں۔ اس کی زندگی میں عجیب بے سکونی ہے۔ بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے۔ اور پوچھو تو کچھ نہیں بتاتی۔ ایک وقت ایسا تھا جب اسے کوئی سننے والا چاہیئے تھا مگر کوئی تھا نہیں اسے سننے والا۔۔۔ سب کی زندگی اتنی مصروف تھی کہ اسے اپنا حال سنانے کا کسی کو موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ اس کے چھوٹے بہن بھائی اپنے اسکول کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اور امی ابو ہمیشہ کی طرح اپنے ٹوٹے گھر کی مرمت میں۔۔۔ اور یہ مرمت آج تک مکمل نہ ہوئی۔ ان کے ہتھوڑوں کی آوازیں اس کے سر پہ پڑتی ہے مگر وہ تین کمروں کے گھر میں بھلا کہاں ان آوازوں سے پناہ لے سکتی ہے؟ آوازوں نے تو اس کا جینا حرام کر رکھا ہے اور یہ بات کوئی نہیں سمجھتا۔ کسی کو سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ اب اس کے لیے کوئی آوازوں سے خالی خاموش دنیا تعمیر کرنے سے رہا؟
اس کو بس ان چار سالوں کا درد ہے۔ ان چار سالوں کی زد میں ہے وہ۔ وہ اس قید سے نکل بھی آتی مگر وقت پہ اسے کسی نے سنا ہی نہیں۔ پر وہ بولی بھی تو نہیں تھی وقت پہ۔۔۔ اسے کسی نے بغیر سنے سمجھا ہی نہیں اور وہ کسی کو پکڑ کر جھنجوڑ ہی نہ پائی کہ اسے سمجھا جائے۔
وہ آٹھویں میں تھی جب اسے ہاسٹل بھیجا گیا۔ وہ واپس آئی تو کچھ بھی ویسا نہیں تھا جیسا اس کے جاتے وقت تھا۔ لوگ بدل جائیں تو منظر بھی بدلا بدلا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے لیے بھی لوگوں کے ساتھ ساتھ منظر بدل گیا تھا۔
جس کمرے میں وہ سوتی تھی اس میں اب اس کی چارپائی بھی نہیں تھی۔ تھی بھی تو کسی اور نے لے لی تھی۔ الماری میں اس کے کپڑوں کے لیے جگہ نہیں تھی۔ گھر میں اس کے پہننے کے لیے چپل تک نہ تھے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں مگر اس کے دل کو زور سے لگ رہی تھیں۔ یوں جیسے اسے کسی نے دھیرے دھیرے اس گھر کی روزمرہ زندگی سے نکال دیا تھا۔ اب نہ وہ آٹا گوندھتی ہے نہ برتن دھوتی ہے۔ اسے کام کرنے کو بلایا نہیں جاتا۔ کام اس کی مداخلت کے بغیر ہی مکمل ہو جاتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے اس کی اب کسی کو ضرورت نہ رہی۔ پہلے جب برتن دھونے یا آٹا گوندھنے کا وقت ہو جاتا تھا تو پورے گھر میں اس کے پیچھے آوازیں لگتی تھیں۔ کوئی کام، کوئی منظر کوئی محفل اس کے مکمل نہ ہوتا تھا اور اب سب کی زندگیاں جیسے اس کے بغیر ہی مکمل تھیں۔ اب کوئی محفل میں رونق لگانے کو اسے آواز نہیں دیتا۔ اب تو جیسے کسی کو اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ضرورت تھی بھی تو کسی اور نے پوری کر دی۔ کسی کو اب اس کی چاہت ہی نہ رہی تھی شاید۔ حالانکہ کسی زمانے میں اسے ایک دوست نے کہا تھا “۔۔۔you are a precious gem”
اس سے آج بھی بیٹھ کر بات کرو تو ماضی کے بارے میں بولنا پسند کرتی ہے۔ اس کا حال اس کے لیے عذاب ہے۔ لوگوں کے بدلے رویے اس کو تکلیف دیتے ہیں اور یہ بات وہ کسی کو سمجھا نہیں پاتی ہے۔ وہ تو بس اتنا جانتی ہے کہ کسی اجنبی سے بدل جانے کا شکوہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ بہرحال اجنبی ہی ہوتا ہے۔ بدل جانا تو اپنوں کا تکلیف دہ ہوتا ہے جب وقت پہ وہ اپ کو سر رکھنے کو اپنا کندھا نہ دے سکے۔۔
اب تو وہ روٹھ جائے تو کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔ وہ کئی دنوں تک کھانا نہ کھائے تو کوئی نہیں پوچھتا کیونکہ سب سمجھتے ہیں وہ الگ تلگ رہنا پسند کرتی ہے۔ وہ بدل گئی ہے۔ یہ بات وہ جانتی ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا وہ کیوں بدل گئی؟ کوئی زحمت نہیں کرتا کہ اس سے پوچھے اس نے رونق محفل بننا کیوں چھوڑ دیا؟ میٹھی میٹھی باتیں کرنا کیوں بند کر دیا؟ لوگوں سے ملنا کیوں چھوڑ دیا؟ گھنٹوں جائے نماز پر پیٹھ کر اللہ سے گفتگو وہ اب کیوں نہیں کرتی؟ نماز پڑھ بھی لے تو اس کی آنکھیں ویران کیوں رہتی ہیں؟ اسے انسان کی اچھائی اور اچھائی کی جزا پر سے کیوں یقین اٹھ گیا کہ آج وہ جب کسی کے کام آتی ہے تو اسے خوشی ملنے کے بجائے افسوس ہوتا ہے۔ وہ اس قدر بد زبان ہو گئی ہے تو کیوں؟ اس کی معصومیت کی لاش نہ جانے کہاں رہ گئی کہ اب اس کی صورت پہ بے زاری اور غصہ رہتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی محبت لے پاتی ہے اور نہ ہی دے پاتی ہے۔ اسے محبت کا اظہار کرنا کسی دکھاوے سے کم نہیں لگتا۔ اسے لگتا ہے ہر انسان اگر کچھ اچھا کرتا ہے تو اپنا فائدہ دیکھ کر۔ اور ہر انسان کو اپنے حصے کی آزمائش اکیلے جھیلنی ہوتی ہے۔ کوئی کسی کا بوجھ اٹھا کر اپنے کندھے پر نہیں رکھ کر چلتا۔
اسے کوئی کچھ نہیں پوچھتا تو وہ کچھ نہیں بتاتی اور اب تو برسوں ہو گئے اسے اپنی ذات کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے۔ اب تو اس کا زخم مرہم پٹی کے قابل بھی نہ رہا۔ اب اس سے پوچھا بھی جائے گا تو وہ نہیں بتائے گی۔ اب اس کو کندھا بھی ملے گا تو سر نہیں رکھے گی۔ وہ اکڑ کر چلتی ہے۔ اس کو محبت اور ہمدردی پر بھروسہ نہیں تو وہ اپنا زخم ساتھ لے کر چلنا سیکھ چکی ہوگی۔ یہ تو پھر مزید ایک لمبی بحث ہے کہ اس سے کوئی پوچھے گا تو اس کا کیا جواب ہوگا؟ بھلا وہ پوچھنے والے کے سامنے روئے گی یا اس کا منہ کوچ کر کہے گی جنگ پہ بھیجے جانے والے سپاہی یا تو شہید ہوتے ہیں یا غازی بن کر زندہ لوٹتے ہیں مگر ایک لمبے عرصے تک گھر والے ان کے زخموں کو ٹکور دیتے ہیں۔ آپ جب ایک چھوٹا بچہ گھر سے بھیجتے ہیں تو اس کی مثال بھی جنگ پر بھیجے جانے والے سپاہی کی سی ہوتی ہے۔ کیا تم نہیں جانتے یہ دنیا میدان جنگ ہے۔ یہاں جو سخت جان ہے وہی زندہ ہے۔ پھر میں جس کو بغیر ہتھیار کے میدان جنگ میں اتارا گیا۔ مجھے کسی نے لڑنے کا گر نہ سکھایا۔ مجھے دفاع کا طریقہ بتلایا نہ ہی وار کرنا سکھایا۔ میں نے جو سیکھا جنگ میں رہ کے سیکھا۔ میں جو غازی بن کر لوٹی۔ میرا وجود کسی نے ٹٹول کر نہیں پوچھا کہ زخم کہاں لگا ہے۔ کسی نے یہ دریافت نہیں کیا کہ مجھ پہ میدان جنگ میں کیا گزرا؟ جس نے وہ نہیں پوچھا۔ وہ اب یہ پوچھتے ہیں کہ میں اس قدر بد مزاج کیوں ہوگئی ہوں تو میں کسی کو یہ پوچھنے کا حق بھی نہیں دیتی۔ میرے لیے سبھی پوچھنے والے جواب سننے کا حق کھو چکے ہیں۔
اس سے امیدیں لگانے والے یہ نہیں سمجھتے کہ بچپن میں اسے بڑا کروا دیا گیا۔ اس نے باہر دنیا کا اکیلے سامنا کر کے اتنا بوجھ اٹھایا کہ اس کا بچپن کہیں کھو گیا اور اب جب وہ واپس آئی ہے تو اسے اپنوں سے وہی بچپن، وہی محبت چاہیئے۔ اسے بھی اپنے زخموں کے لیے مرہم رکھنے کو کسی اپنے کی محبت درکار ہے۔
وہ اپنی پیوند لگی زنگی کو چھپانے کے لیے میک اپ کا سہارا لیتی ہے۔۔ اسے ظاہر کی مار نے مارا ہے اسی لیے وہ باطن کو فراموش کر کے اپنا ظاہر سنوارے رکھتی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ اس کی لہو لہان روح پر برداشت سے زیادہ بوجھ ہے۔ اس کے اندر کے زخموں پر تو کبھی کسی نے مرہم نہیں رکھا۔ اس سے تو کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ وہ چار سال کیسے گزرے تھے؟ کہ وقت گزرنے کے باوجود اس کے لئے نہیں گزرتا۔ کسی نے پوچھا نہیں تو اس نے بتایا نہیں۔ بس بد مزاجی کا خول چڑھا کر خود کو سخت دکھانے کی کوشش کی۔ اس سے خداراء پوچھ لو اسے کیا مسئلہ ہے؟ اسے گلے سے لگا کر کہہ دو کہ وہ رو سکتی ہے اور وہ رو لے تو سمجھ جانا وہ وقت کی قید سے آزاد ہو گئی۔ ان نو سالوں کا ستم لمحوں میں بہہ سکتا ہے۔ مگر کوئی تو ہو جو اسے آوازوں سے محبت کرنا سکھائے۔ اسے بتائے کہ گھڑی کی ٹک ٹک کس قدر اہم ہے۔ یا کوئی ہنستا ہے تو یہ کس قدر اچھی بات ہے۔ کوئی تو ہو جو اسے آوازوں سے محبت کرنا سکھائے۔ اسے خاموشی کے عذاب سے بچائے۔ اسے بلیک ہول سے نکال کر زندگی کی روشن حقیقتوں کی طرف لے آئے۔ کوئی تو ہو جو اسے بد مزاج کہنے کے بجائے اس کے اندر وہی ہنستی گاتی، گنگناتی لڑکی سے مخاطب ہو کر اسے اس کے اندر کی خوبصورتی دکھائے۔ اسے بتائے کہ وہ درحقیقت کس قدر حسین اور انمول ہے۔ پر ہم انسانوں کا المیہ ہی یہی ہے! ہم کسی انسان کی زندگی میں اسے نہیں سنتے۔ اس کی موت کے بعد اسے جھنجوڑ کر پوچھتے ہیں کہ وہ ہم سے منہ کیوں موڑ گیا؟
ارے! یہ تو ہم اور آپ ہیں جو ان کو مار دیتے ہیں۔ ہاں! یہ ہم ہیں۔ ہمارے رویے ہیں جو لوگوں کی جانیں لیتے ہیں۔ ہم بیٹھ کر بات ہی نہیں کرتے۔ کسی سے پوچھتے ہیں نہیں کہ اسے کیا مسئلہ ہے؟ کوئی بتا بھی دے تو مذاق میں اڑا جاتے ہیں۔ یہی بات ہوتی ہے جس سے جانے انجانے میں کسی موت واقع ہو جاتی ہے۔!

______________

تحریر: شیما قاضی

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

ماڈل:فاطمہ