خواب توڑ دیتے ہیں

زندگی سے محبت سے 

منہ موڑ لیتے ہیں

۔سانسوں کی یہ کچی ڈور

سمے میں توڑ دیتے ہیںچلو آو فرض کرتے ہیں

 کہ ہم تم اجنبی ہیں

شناسائی کے 

سبھی آئینے توڑ دیتے ہیں۔

چلو آو ۔

۔ کرچی کرچی خواب یکجا کرکے

بدنما عکس بنا لیتے ہیں

۔پھر وہی عکس اپنے چہروں پہ سجا کر

اک دوسرے کا سامنا کرتے ہیں

اپنے اپنے حصوں  کی نفرت میں

جینے کی عادت ڈال لیتے ہیں

 چلو آو۔

درد تقسیم کرتے ہیں 

زخم بانٹ لیتے ہیں

فیصلے کرتی گھڑیوں سے

خزاں کی بھیک مانگ لیتے ہیں

کہ اب بہاروں سے ، ہواوں سے ۔

۔۔زخموں کے ہرے ہونے کا ڈر ہے

تتلیوں  کے پر ٹوٹنے کا خدشہ ہے

چلو آو سارے خدشے ختم کرتے ہیں 

تتلیوں کے پر نوچ کے

 انکے مردہ جسموں کو 

رنگوں سمیت سپرد خاک کرتے ہیں

چلو آو ۔۔

سبھی خدشوں کا سامنا کرتے ہیں!

_________

کلام:الف ز

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف