انگلش،غلامی کی زبان !!!!
(ایک بحث میں میرا موقف)
لارڈ میکالے کو مرے تو صدیاں ہو گئیں ۔دو صدیوں میں تاریخ ہزاروں پنے بدل گئی۔حقائق واقعات سب کچھ بدل گیا۔اس وقت اگر کوئی سازشیں تھیں تو آج وہ سازشیں حقائق بن کر پھل پھول لا چکے۔میرا پوائنٹ صرف یہ ہے کہ یہ باتیں صرف میٹھی میٹھی ٹافیاں ہیں کہ غلامی کی یادگار،ہمادی زبان ہمارا غرور! میں trilingual
ہوں۔میرے گھر میں میری نسل انگلش اور ہم میاں بیوی آپس میں اردو بولتے ہیں۔اپنے والدین سے ہم پنجابی بولتے ہیں۔مجھ سے زیادہ کون اہمیت جانتا ہے اپنی زبان کی جسے اردو میں لکھنا پڑتا ہے انگلش میں پڑھنا اور بولنا پڑتا ہے۔بات صرف یہ ہے کہ دوسروں سے جھوٹ بولنا بند کر دیں۔لوگوں کو بہلانا اور خود کو دھوکہ دینا چھوڑ دیں حقائق یہ ہیں کہ اردو کے لئے ستر سالوں میں آپ کی قوم نے کچھ نہیں کیا۔آپ سائنس ،ادب , ٹیکنالوجی کی تعلیم سے لیکر جدید معلومات تک کچھ اردو میں حاصل نہیں کر سکتے۔آپ سوشل میڈیا تک اردو میں استعمال نہیں کرتے آپ امریکہ،برطانیہ،کینڈا،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ انگلش کا امتحان پاس کئے بغیر نہیں جا سکتے نہ ان کے اعلی اداروں میں داخلہ لے سکتے ہیں،آپ اپنے ہاں کی اچھی یونیورسٹیز اور کالجز تک میں اچھی انگلش کے بغیر ایڈمیشن نہیں لے سکتے ۔بغیر اعلی ترین تعلیم کے،بغیر جدید علم کے آپ دنیا میں ترقی کیسے کریں گے؟ کیا یہ علم آپ کو اردو میں مہیا کیا جا رہا ہے؟نہیں!۔جب آپ دنیا کے مقابلے میں اپنی زبان کے بل بوتے پر کھڑے ہی نہیں ہو سکتے تو پھر وہ زبان مر گئی۔اس بات پر یقین کر لیں۔یہ حقائق ہیں۔چودھویں صدی کے شیکسپئر کی ہر تحریر اس پر موجود ہر ریسرچ انٹر نیٹ پر موجود ہے۔آپ مجھے مستنصر حسین تارڑ کی کچھ کتابیں ان پر موجود کچھ ریسرچ انٹر نیٹ پر ڈھونڈ کر دکھا دیں۔زبان ایسے ذندہ نہیں رہتی کہ ہمارے گھر میں بولی جاتی ہے وہ ایسے ذندہ رہتی ہے کہ وہ آگے جانے ،علم سیکھنے،اپنے معاشرے اور دنیا بھر میں کامیاب ہونے میں آپ کی کتنی مدد کرتی ہے.دنیا ہمیشہ طاقتور معاشرے کی زبان جانتی ہے۔اللہ نے اپنی کتابیں ہمیشہ طاقتور ترین بڑی قوموں پر ان کی زبانوں میں اتاریں۔زبانیں کافر،جہنمی یا بہشتی نہیں ہوتیں۔زبانیں صرف طاقتور معاشرے کا اپنی طاقت پھیلانے کے لئے ایک ہتھیار ہوتی ہیں ۔اور جب علم کے سارے رستے کسی ایک زبان سے کھلتے ہوں تو انہیں کالعدم قرار دے کر آپ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔چائنہ جاپان کوریا کی اگر بات کرتے ہیں تو ان کے ہاں پورا پورا نظام ان زبانوں کا موجود ہے۔ان کے ہاں پوری دنیا کا علم اور تاریخ ان کی زبانوں میں موجود ہے،آپ کے پاس کیا ہے؟آپ کی سرحد کے باہر اردو کو کوئی جانتا نہیں ،سمجھتا نہیں۔آپ کے پاس تو انٹرنیٹ پر اپنے چند ناولوں کی پی ڈی ایف اور اردو اخبارات کے سوا کچھ بھی نہیں۔آپ کے ہاں تو انگلش پڑھنے والوں کے لئے اور خبریں اور تجزیے ہوتے ہیں اردو والوں کے لئے اور۔اردو والوں کو اس قدر پسماندہ رکھا جاتا ہے۔آپ آج کسی سرکاری دفتر میں اردو میں درخواست لکھ کر مجھے دکھا دیں اگر اس کو کوئی قبول کر لے۔۔آپ نے ستر اسی سال اپنی زبان پر بے تحاشا کام کرنا تھا اگر آپ نے اسے ذندہ رکھنا تھا۔آپ کے ہاں اردو کی ترویج کے لئے صفر کام ہوا ایسی صورتحال میں جب ہر طاقت اپنی زبان کے فروغ کے لئے لڑ رہی تھی۔جنگ میں یا ہار ہے یا جیت ہے۔اس میں نیوٹرل کوئی پوزیشن نہیں۔ایسی جنگ آپ نے لڑی نہیں اس لئے آپ ہار گئے۔آپ کی سو فی صد آبادی اتنی احساس کمتری میں مبتلا ہے کہ بغیر انگلش کے آپ کو پڑھا لکھا تصور ہی نہیں کرتی۔آپ کا تعلیمی نظام سولہ سال تک صرف انگلش سکھانے کی کوشش کرتا ہے مگر سکھاتا پھر بھی نہیں۔باقی تو کسی چیز کو وہ اہمیت ہی نہیں دیتا۔آپ کے ہاں صرف انگلش ہی تمات تر قابلیت کا معیار ہے۔مجھے اس پر شرمندگی ہے کہ ایسا ہے مگر ہماری بے بسی کہ ایسا ہی ہے۔آپ کی ساری آبادی چند اردو رائیٹرز کو چھوڑ کر رومن میں اردو لکھنے اور پڑھنے کی عادی ہو چکی۔آپ کے بچوں کو آج اصل اردو آتی ہی نہیں بالی وڈ اردو آتی ہے۔ایسے میں انگلش کو غلامی کی زبان قرار دینا اور اردو پر فخر کرنا سوائے خود کو دھوکہ دینے اور دوسروں کو غلط رستہ دکھانے کے اور کچھ نہیں۔


چالیس سال ہمیں ہو گئے بانسری کی اس لے پر سر دھنتے (کہ اردو کو عزت دو،انگلش غلامی کی نشانی ہے)! ہم سے پہلے مستنصر حسین تارڑ،قدرت اللہ شہاب،اشفاق احمد جیسے لوگ عمر بھر یہ ہی ڈھول بجاتے رہے ،کچھ ناکام و نامراد چلے گئے کچھ نارسائی اوڑھ کر جانے کے منتظر۔بڑے بڑےنام پاکستان سے باہر دنیا میں پہچان بنائے بغیر چکے گئے جنہوں نے انگلش کو تھاما وہ آسکر اور مین بکر لے اڑے۔اردو والوں کوساری عمر اردو سے باہر کوئی پہچان نہ سکا۔ہم پاؤلو کاہلو اور اورحان پاموک کو انگلش میں پڑھتے ہیں جو انگلش میں لکھتے ہی نہیں۔مگر ہمارا مستنصر حسین تارڑ آج تک انگریزی والے نہ پڑھ سکے۔بات ساری یہی ہے کہ معاشرہ سو فی صد افراد کے ملنے سے بنتا ہے،ایک دو پانچ سات آوازیں افراد ہی رہتی ہیں معاشرہ نہیں بنا پاتیں۔لارڈ میکالے فرد نہ تھا وہ ایک طاقتور صاحب اختیار سسٹم تھا جسے طاقت کے ساتھ نافز کیا گیا۔آج یہ برگد کا درخت جڑیں گاڑ چکا ہے تو افراد اسے کیسے ہلا سکتے ہیں۔ہلانا بھی صاحب اختیار اور طاقت کے اداروں سے ہی ممکن ہے جو پچھلے سو سالوں سے بھنگ پئیے سو رہے۔نہ عوام کو مرنے دیتے نہ جینے!ہم بھی نارسائی پی کر مر جائیں گے ایک دن آپ بھی چار دن نعرے لگا کر دیکھ لیں ۔اردو منٹو اور ساغر ہے اس کا مقدر سڑک پر ایڑھیاں رگڑ کر مرنا ہے۔۔۔بدقسمتی سے!

_____________

تحریر و فوٹوگرافی/کور ڈیزائن:


صوفیہ کاشف