مصنفہ:حمیرا فضا

کور ڈیزائن:حمیرا فضا

گیارویں قسط

________

لکڑی کے بوڑھے پلنگوں کو جوان رکھتی رنگین چادریں ۔۔۔رواجوں کی شان بڑھاتے کڑھے ہوئے گول تکیے ۔۔۔ جھومتے پردوں کے وجود پر گھومتی موتی کی لمبی لڑیاں۔۔۔آئینوں کو باہوں میں لیتی مصنوعی پھولوں کی بیلیں۔۔۔ مہندہی رنگ سے رچی اونچی اونچی پایوں والی مسہریاں ۔۔۔علم اور حکمت کا اعلان کرتی کتابوں سے بھری شیلف ۔۔۔شوق کے ہاتھوں رکھی مٹی کی حسین مورتیاں ۔۔۔منہ کھلی الماریوں کی گود میں سجے دیس پردیس کے انوکھے شوپیس اور روایت کا سر اونچا کرتی دیوروں کے سینے سے لٹکتی تلواریں ، حویلی کے ہر کمرے میں سب کچھ موجود تھا پر زندگی نہیں تھی ۔بصارت رکھنے والوں نے حویلی کے ہر حصّے میں زندگی ڈھونڈ کر دیکھی تھی ،لیکن ایک مردہ خاموشی ہر کونے میں اپنی قبر بنا چکی تھی،الفاظ مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور آوازیں اب پلٹ کر نہیں آتی تھیں۔اُس کے جانے کے بعد حویلی اور اُس کے مکینوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا،جیسا سیف نے کہا تھا۔ہر طرف ایک عجیب طرح کی وحشت تھی۔ زندہ لوگ سانسیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لے رہے تھے ، حویلی کا دل مرچکا تھا، جیون چلی گئی تھی ۔کھنکتی ہنسی گم ہوئی تو بولتی حویلی کھنڈر بن گئی ۔۔۔پھول کھلانے والے ہاتھ کھو گئے تو پھول بھی سوکھنے لگے۔۔۔حُسن پر ناز کرنے والا چہرہ نہ رہا تو شیشے بھی چٹخ سے گئے ۔حویلی کی ساری بہاریں، ساری رونقیں، ساری روشنیاں اُسی کے دم سے تو تھیں۔اب کھڑکیوں سے تانک جھانک کرتی پیلا رنگ اُوڑھے اداسیاں تھیں تو ہر بام پر ظلمت کے کالے ٹکے لگاتا درد کا ڈیرہ۔یوں لگتا تھا ساری دیواریں زہر پی کر نیلی پڑ چکی ہیں اور کھلا آنگن گھٹن کو گلے لگا کر سہم سا گیا ہے۔

انسانوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک ہولناک سناٹا تھا جو انسانوں کو انسانوں سے دور کیے ہوئے تھا۔سب نوکر یوں نظریں جھکائے رکھتے جیسے وہ جیون کے لیے کچھ نہ کرکے گنہکار ہو گئے ہوں۔ذکیہ بیگم بند کمرے میں جیون کے جانے کا نہیں ،جازم کے کٹھور پن کا دکھ منا رہی تھیں۔وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔اُن کے دل کو یہ صدمہ ہی کافی تھا کہ جس بیٹے کے لیے وہ سارے اُصول توڑ گئی تھیں ، اُس نے اپنی حد پار کرنے سے پہلے ایک بار بھی اُن کے متعلق نہیں سوچا تھا۔رقیہ ناز اپنی جگہ تنہا اور افسردہ تھیں۔اپنی کم ہمتی کا بدلہ اُنھوں نے ایسے لیا کہ ہر سنگھار ساری آسائشیں خود پر حرام کر لیں۔حویلی کے آخری کمرے میں وہ سارا دن اپنے ضمیر کی جنگ لڑنے میں مصروف رہتیں اور ایک دن یہ جنگ اُس نہج پر پہنچی کہ وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں۔

’’جس بیٹے کی خاطر تم نے اپنا مرتبہ۔۔۔حویلی کی عزت اور جیون کی جان قربان کردی ،آخر وہ تمھیں چھوڑ کر چلا گیا ذکیہ بیگم۔۔۔چلا گیا وہ ایک اجنبی لڑکی کے ساتھ۔‘‘ حجرے کے اندر داخل ہوتے ہوئے وہ نخوت بھرے انداز میں بولیں ۔ذکیہ بیگم کھڑی کے پاس گم صم کھڑی تھیں۔رقیہ ناز کی آواز پر چونکنے کے باوجود اُنھوں نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔

’’باہر کیا دیکھ رہی ہو ؟ کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟ اب تو یہاں بادل بھی نہیں آتے۔۔۔اب تو کوئی کلی بھی نہیں مہکتی۔۔۔اب تو کوئی گیت بھی نہیں گونجتا ۔چلی گئی وہ بدنصیب اپنے ساتھ سارے موسم اور سارے منظر لے کر۔‘‘انھوں نے ذکیہ بیگم کے برابر کھڑے ہو کر بھرّائی ہوئی آواز میں دوسرا وار کیا تھا، مگر اُن کی چپ پھر بھی نہ ٹوٹی۔

’’نواب زادی ۔۔۔ملکہ ۔۔۔رانی ۔۔۔کیا کیا خطاب نہیں ملے تمھیں ؟ اب کیا رہ گیا تمھارے پاس ۔۔۔کیا رہ گیا تمھارے پاس! ‘‘رقیہ ناز نے گریہ زاری کرنے والے انداز میں اُنھیں کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا تو ایک آنسو ذکیہ بیگم کے کرخت چہرے پر پھسل گیا تھا۔

’’ یہ آنسو تو جازم کی جدائی کا ہے ۔کاش! تم اُس کے لیے بھی دو آنسو بہا دو جس کے خون کے چھینٹے حویلی کی سرخ اینٹوں پر نظر آ رہے ہیں۔‘‘اُنھوں نے ملامتی انداز میں کہا تو ذکیہ بیگم نے یکلخت اُن کے چہرے کی طرف دیکھا۔

’’ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں۔اِس کمرے سے باہر نکلو ۔تمھیں جگہ جگہ جیون کا خون نظر آئے گا۔۔۔اُس کی سسکیاں سنائی دے گیں۔۔۔اُس کی بے بس تصویر نظر آئے گی۔۔۔اور یہ سب تمھارا پیچھا تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک تم اپنے اندر کے قاتل کو خود گرفتار نہیں کر لیتی ۔‘‘

’’نہیں ہوں میں قاتل ۔۔۔کچھ نہیں کیا میں نے ۔۔۔کچھ نہیں کیا میں نے۔۔۔‘‘رقیہ ناز کے الفاظ برداشت سے باہر ہوئے تو ذکیہ بیگم مضطربانہ لہجے میں پوری قوت سے چلا اُٹھیں ۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اُنھیں بولنے میں تکلیف ہو رہی ہو۔

’’ خود سے بھاگنے سے حقیقت نہیں بدلے گی ۔یہ تمھارے سکون کے لیے بہتر ہوگا کہ تم میری طرح اِس حقیقت کو تسلیم کرلو۔‘‘اُن کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات اُبھرے تو ذکیہ بیگم حیرانی سے دو قدم پیچھے ہٹ گئیں۔

’’ہاں ذکیہ میں تمھاری حویلی چھوڑ کر جارہی ہوں۔ میری سزا میں در بدر ہونا لکھا ہے اور تمھاری سزا میں اِن در و دیوار کی تنہائی ۔‘‘رقیہ ناز کی آنکھیں اور آواز بھیگنے لگی تھی۔

’’نہیں آپ کہیں نہیں جا سکتیں ۔اِس حویلی نے اب تک آپ کو سنبھالا ہے۔آپ اِس حویلی کو نہیں چھوڑ سکتیں۔‘‘ذکیہ بیگم نے غیر ارادی طور پر اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔اتنے سالوں میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ وہ رقیہ ناز کے سامنے جھکی تھیں۔

’’میری جرم بھی کم نہیں ہے ذکیہ ۔میں جیون کے لیے تم سے لڑ سکتی تھی ،تمھارے خلاف کھڑی ہو سکتی تھی ۔جازم کے آگے ہاتھ جوڑ سکتی تھی کہ وہ یہ ظلم نہ کرے اور جیون کے قدم چھو سکتی تھی کہ وہ اِس ظلم کا شکار نہ ہو،مگر میں نے عملی طور پر ایسا کچھ نہیں کیا ۔اب میری سزا میری گم نامی ہے۔‘‘رقیہ ناز نے سر تا پیر ملال میں ڈوبے ہوئے کہا۔

’’ہم میں سے کوئی جیون کی موت نہیں چاہتا تھا۔ہم میں سے کوئی قصور وار نہیں۔یہ سب قسمت کا لکھا ہے !یہ سب تقدیر کے فیصلے ہیں۔‘‘ذکیہ بیگم بہ عجلت بولیں۔اُنھوں نے جیسے رقیہ ناز کے دل کا بوجھ ہٹانے کی موہوم سی کوشش کی ۔

’’ہم نے اُسے دھکا نہیں دیا ،مگر موت کی کھائی کے قریب تو کیا ہے ۔‘‘رقیہ ناز نے اپنا جھریوں بھرا ہاتھ چھڑاتے ہوئے ذکیہ بیگم کی جھوٹی تسلی بھی جھٹک دی ۔

’’میں نے اِس حویلی میں ارشد خان کی بے بسی دیکھی تھی اور اب جازم خان کا ظلم ۔ہو سکے تو اپنا احتساب کرنا۔‘‘رقیہ ناز نے اپنے آخری الفاظ ادا کیے اور بت بنی ذکیہ بیگم کو اکیلا چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل آئیں۔

’’مت جائیے ۔۔۔مت جائیے ۔۔۔میں اکیلی ہو چکی ہوں۔۔۔بہت اکیلی۔‘‘جیسے ہی ہوش آیا ذکیہ بیگم دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر شکستہ آواز میں کہتی ہوئی پیچھے دیوار سے جا لگی تھیں۔

*****

میں اِس جہاں میں ہوں

اور تم اُس جہاں میں

مگر یہ دل

کوئی فاصلہ مانتا نہیں

بے یقینی کا دریا سامنے ہو تو یقین کے کنارے پر کھڑے ہو کر بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اُسے بھی یہ یقین کب ہوا تھا کہ جیون اِس دنیا میں نہیں رہی ،وہ یقین کرتا بھی تو کیسے ؟جس راہ کا وہ مسافر بن چکا تھا وہاں صرف احساس کے رستے نظر آتے تھے اور جیون کے ہونے کا احساس اب بھی اُس کے پاس تھا۔اب بھی خیال کی خالی سڑک پر وہ دور سے نظر آتی تھی ،کتنے بڑے بڑے پتھر تھے اُن دونوں کے بیچ ،اور کچھ جدائیاں پتھر ہی تو ہوتی ہیں ،واسطوں یادوں کا سر کچلنے والی پتھر جیسی ظالم ۔ اُس کے ہاتھ میں ہجر کے لکھے اتنے جواب تھے کہ ملن کی رت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔اُس کے لیے خواہش اور حقیقت کا یہی ملن ہوا کہ جیون آخری لمحوں میں اُسے محبت سے دیکھ گئی۔کوئی محبت سے بس دیکھ لے اور محبت نہ دے سکے ایسی فیاضی بھی کسی چھپی ہوئی محرومی کا مداوا ہوجاتی ہے ۔وہ محرومی مٹا کر ایک بڑی کمی چھوڑ گئی تھی ۔کبھی کبھی اُس کا دل چاہتا کہ وہ کوئی مصنف یا شاعر ہوتا جو آخری لمحوں کی چند باتوں پر داستان بنتا ،لمبی تشریح لکھتا یا کوئی مصور ہوتا جو جدائی کے کٹھن پل میں جیون کی آسودہ آنکھویں سفید کاغذ پر اتا رتا اور گھنٹوں قرار کے گھونٹ پیتا۔ وہ پہلے سے زیادہ سوچنے لگا تھا ،اُس کے چار سو گونجتی مدھر آواز معدوم جو ہو چکی تھی۔

مارچ کے اوائل دن تھے ،پھول اُترنے کا موسم تھا۔یہ جیون کا پسندیدہ موسم تھا ،وہ اِس موسم میں چڑیا کی طرح چہکتی ،گنگناتی ،بات پے بات مسکراتی ۔سیف نے اپنی زندگی میں پہلی ایسی بہار دیکھی تھی جسے خزاں نے ڈس لیا تھا،ہرے پتوں میں زرد لکیریں ،ایک اجڑی ہوئی بہار ۔کچھ دنوں سے بے تابی حد سے سوا ہونے لگی تو وہ ایک دن یادوں کی دوری مٹانے جیون کے کمرے میں چلا آیا۔کتنا انمول تھا یہ کمرہ جہاں اُس کی محبت نے زندگی گزاری تھی۔جگہ جگہ دیواروں پر جیون کے ہاتھوں کا لمس تھا جو وہ رنگوں میں ڈبو کر چھوڑ گئی تھی ۔اُس نے اُن ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور پورے بدن میں ایک سنسی سی دوڑ گئی ،ہاتھوں کی کوئی نس خاکوں میں ہی رہ گئی تھی ۔دروازے کے پیچھے جیون کی پسندیدہ گھڑی لٹک رہی تھی ،وقت رکا ہوا تھا ،اُس نے سوئیوں کو چھیڑ دیا ،یہ ٹک ٹک اِس کمرے میں اُس کی پہلی ساتھی تھی ۔کمرے کی اُجڑی ہوئی حالت بسانے کے لیے سب سے پہلے اُس نے ساری روشنیاں پھیلا دیں۔وہ آگے بڑھا اور کئی چیزوں کی جگہ بدلنے لگا۔کونے میں رکھی کتابیں پھر سے میز پر سج گئیں تو بند ڈبوں میں رکھے دئیے ایک ایک کر کے جلا دئیے گئے ۔اُس نے چاندی کی پلیٹ میں صرف کلیاں ہی نہیں ،جیون کی چوڑیاں بھی رکھ دی تھیں۔انسان مر جائے تو یادوں میں ہی مل پاتا ہے ۔وہ اب اِن یادوں کی لو کو بجھنے نہیں دینا چاہتا تھا۔

’’میں تمھیں خود سے الگ نہیں کر سکتا۔۔۔

اِس کمرے میں رہ کر تمھاری چیزوں اور یادوں کی حفاظت کرونگا۔۔۔

تم اپنی چھوڑی سب نشانیوں میں محسوس ہو رہی ہو۔۔۔

تمھاری ہنسی کی جلترنگ آس پاس ہے ۔۔۔

تمھارے گائے گیت اب بھی گونج رہے ہیں۔۔۔

شاید یہ ساری آوازیں میرے اندر سے آرہی ہیں۔۔۔

مجھے محبت نے وہ سماعت عطا کی ہے کہ میں تمھیں سن سکتا ہوں۔۔۔سن سکتا ہوں۔‘‘وہ کھلی کھڑکی میں کھڑا پورے چاند کو دیکھ کر اپنی ہی دھن میں بولتا رہا۔اُس کے لیے چاند میں ہی جیون کا عکس تھا۔جیون کے کمرے میں پہلی رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی ۔

’’کہاں جارہے ہو سیف بیٹا۔‘‘مالی بابا صبح صبح اُسے حویلی کے بیرونی دروازے پر ہی مل گئے تھے۔یہ سوال اُنھوں نے بات شروع کرنے کی غرض سے کیا تھا ورنہ حویلی میں کون تھا جو سیف کی روٹین سے واقف نہ ہو۔

’’قبرستان۔‘‘سیف نے نظر جھکا کر یک لفظی جواب دیا۔

’’بٹیا کو گئے کئی مہینے گزر چکے ہیں اب تم بھی لوٹ آؤ بیٹا۔مت جایا کرو روز روز ۔ایک زندہ انسان کو مرے ہوئے انسان کی اتنی عادت نہیں ہونی چاہیے۔ ‘‘مالی بابا اُسے شفقت سے سمجھانے لگے تھے۔

’’وجود کے مٹنے سے جذبات نہیں مٹتے۔اِن جذبات کو تو موت بھی نہیں آتی کہ میں دل کو سمجھا لوں۔وہ سب کے لیے نہیں ہے ،مگر میرے لیے ہے۔‘‘سیف نے آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے کچھ سختی سے کہا۔

’’میں نے اُس کی زندگی کو اپنے سامنے دیکھا ہے ۔اُس کی ایک ایک شرارت یاد ہے مجھے ۔تم اُس کی زندگی میں کبھی نہیں تھے سیف۔اُس نے کبھی تمھارے لیے پھول نہیں توڑے۔‘‘ مالی بابا نے ہمدردی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ۔

’’میں نہیں تھا۔۔۔مگر وہ تھی۔۔۔ہے ۔۔۔رہے گی۔۔۔میری فکر نہ کیا کریں۔۔۔میں ساری فکروں سے آزاد ہو چکا ہوں۔‘‘سیف نے بوڑھے ہاتھوں کو محبت سے چوما اور تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا حویلی سے باہر چلا گیا۔

’’تو ایک پاک اور نیک روح ہے سیف ۔تیرے ہاتھ سے ضرور کچھ اچھا ہوگا۔‘‘مالی بابا نے گیلی آنکھوں سے اُسے جاتے ہوئے دیکھا اور دل سے دعا دی۔

وہ چاہ کر بھی حویلی میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا تھا۔اُسے ہر پل یوں محسوس ہوتا جیسے جیون اُسے اپنے پاس کھینچ رہی ہو ۔دن ہو یا رات اُس کا جب دل چاہتا وہ اُس کی طرف چل پڑتا۔سچی محبت مر کر بھی نہیں مرتی ،بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے ،کیونکہ اُس کی ہر غرض مٹ جاتی ہے ،ہر ڈر دم توڑ دیتا ہے۔ اُس کا اور جیون کا تعلق بھی ایسا رہ گیا تھا ۔۔۔زندگی کے اِس پار اور اُس پار محسوس کرنے کا تعلق۔۔۔دعا کا تعلق!

’’میں پھر سے آگیا ہوں۔۔۔

شرمندہ۔۔۔پشیمان سا۔۔۔

میں کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا کہ میں بھی تمھارا مجرم ہوں۔۔۔

میں ایک بزدل انسان ہوں،جو تمھارے لیے کچھ نہیں کر پایا۔۔۔

میں ایک بار تو حویلی کی ساری بندشوں سے ٹکراتا۔۔۔

میں ایک بار تو اُس کا گریبان پکڑ کر تمھارے سامنے کھڑا کرتا۔۔۔

مگر میں ہار گیا۔۔۔

میری اِن گنہگار آنکھوں کے سامنے تمھاری پہلی خواہش بھی ادھوری رہی اور آخری تمنا بھی۔۔۔

اور میں کچھ نہ کر سکا۔۔۔کچھ نہ کر سکا۔۔۔

یہ میری بزدل محبت تھی کہ میں نے تمھیں تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھا۔۔۔

مجھ جیسا کمزور اور بد نصیب شاید ہی کوئی ہو۔‘‘

وہ ہر روز کی طرح یہ الفاظ بولتے بولتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور پھر جب تھک گیا تو وہی مٹی پر ڈھیر ہوگیا۔سورج ڈوبنے تک وہ وہی پڑا رہا تھا۔اُس کے لیے یہ مٹی پھولوں کی سیج تھی،کیونکہ وہ جیون کے پاس کی مٹی تھی۔

*****

وہ ملگجے حلیے میں بال بکھیرئے بیٹھی تھیں۔چہرے کی چند جھریوں میں کئی صدیوں کی تھکن تھی تو کپڑوں کی شکن میں کسی ملال کی پرچھائی ۔سوکھے ہوئے ہونٹ کسی کے نام کی گردان کے گواہ تھے تو بڑھے ہوئے ناخن لاپروائی کی چغلی کھا رہے تھے ۔زندگی کو اپنی مرضی اور خواہشوں کے مطابق گزارنے والے چہرے پر اب صرف زندگی سے بیزاری تھی ۔اُن کی خالی بنجر آنکھیں اِس بات کا اعلان کر رہی تھیں کہ آنسو خشک ہو چکے ہیں ،مگر دروازے پر ٹکی ہوئی آنکھوں میں انتظار تھا۔آنکھیں خالی ہوکر بھی پچھتاوے اور پشیمانی سے بھری ہوئی تھیں۔کچھ دیر پہلے اُنھوں نے نیند کی دوا لی تھی اور اُن کا ذہن کئی شناسا ہیولوں سے مدبھیڑ کرتا ہوا چکرانے لگا تھا ۔کوئی اُنھیں کم ہوتی ہوئی روشنی میں صاف دیکھائی دے رہا تھا۔وہ خوبصورت لڑکی بالکل اُن کے سامنے بیٹھی تھی ۔وہی جس کا وہ انتظار کرتی تھیں ۔پھر اچانک سے وہ لڑکی غائب ہوگئی۔ اُنھوں نے شدت سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی اور سامنے بکھری ہوئی تصویروں پر پاگلوں کی طرح ہاتھ مارنے لگیں۔

’’مالا ۔۔۔مالا۔۔۔واپس آجاؤ۔۔۔میں بہت تنہا ہوں۔۔۔تمھارے پاپا بھی نہیں رہے مالا۔۔۔وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘وہ شدت سے التجا کر رہی تھی۔

’’آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ کیوں نہیں بلایا؟ کیا میں اِس قدر بری تھی؟‘‘مالا نے درد بھرا شکوہ کیا۔

’’بری تو میں ہوں۔۔۔میں نے ہی تو تمھیں رشتے توڑنے کی سیکھ دی۔‘‘اُنھوں نے ندامت سے کہا۔

’’ایسا مت کہیں۔آپ نے سارے رشتے نبھائے ہیں۔‘‘مالا تڑپی تھی۔

’’نہیں مالا! جب میرا باپ اِس دنیا سے گیا تب میں باخبر تھی پھر بھی سنگدل بن کر آگے بڑھ گئی۔تم تو بے خبر ہو ۔تم تو اُس قیامت سے انجان ہو جو اِس گھر پر گزر رہی ہے۔‘‘اُنھوں نے اپنا کڑا احتساب کیا۔

’’آپ بھی تب مجبور ہونگیں۔خود کو الزام مت دیں۔‘‘مالا بے بس ہوئی۔

’’نہیں نہیں پہلے میں سرکش بیٹی تھی اور پھر ایک غافل ماں بنی۔‘‘اُنھوں نے اعتراف پر اعتراف کیا۔

’’غافل آپ نہیں ۔۔۔میں ہوں۔۔۔میں ایک نافرمان اولاد ہوں۔‘‘مالا نے بھی پچھتاوے کے دائرے میں قدم رکھا۔

’’اِس میں بھی میرا ہی قصور ہے ۔یہ نافرمانی ،یہ بغاوت میرے لہو سے تمھارے اندر سمائی ہے۔سزا مجھ جیسی ماں کی بنتی ہے۔‘‘انھوں نے دونوں ہاتھوں میں بھیگتا چہرہ چھپا لیا۔

’’مت روئیں۔۔۔مت روئیں۔۔۔میں آپ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔‘‘مالا نے ہاتھ جوڑے۔

’’تو پھر لوٹ آؤ۔۔۔معاف کردو مجھے۔۔۔لوٹ آؤ۔‘‘وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولیں۔

’’کیسے لوٹ آؤ ممی ! آپ نے میرے سارے رستے بند کردئیے تھے اور اب تو اُن رستوں پر کانٹے اُگ آئے ہیں۔‘‘مالا اُن کے قدموں میں گر چکی تھی۔

’’مالا تمھیں آنا ہوگا۔۔۔ورنہ تمھارے پاپا کی طرح میں بھی کہیں دور چلی جاؤنگی۔‘‘وہ سخت اشتعال میں آئیں۔

’’ایسا مت کہیں ممی۔۔۔ایسا مت کہیں۔۔۔آپ کے یہ الفاظ میرا درد بڑھا رہے ہیں۔‘‘مالا دھیرے دھیرے اُن کی گود میں سما گئی۔

’’تو پھر جلد آجاؤ میری بیٹی۔۔۔میں نے تمھارا ہر قصور معاف کیا ،تم بھی مجھے اِس پچھتاوے سے رہائی دے دو۔‘‘اُنھوں نے اپنا ہاتھ اُس کے سر پر رکھ دیا تھا۔

پورے کمرے میں ریحانہ کی بلند آواز گونج رہی تھی ایسے جیسے وہ مالا سے ہمکلام ہوں۔

’’یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ روز کیوں اُس کی تصویروں سے باتیں کرتی ہیں؟ کیوں نہیں سمجھتی کہ وہ اب کبھی نہیں آئے گی۔‘‘اچانک سے کمرے کا دروازہ کھلا اور اُن کی چھوٹی بیٹی فکرمندی سے کہتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھی جہاں جگہ جگہ مالا کی تصویریں بکھری ہوئی تھیں۔

’’وہ آئے گی۔‘‘ریحانہ کو اُس کے الفاظ اور مداخلت پر غصہ آگیا تھا۔

’’اُسے آنا ہوتا تو اب تک آجاتی ۔یا وہ آ نہیں سکتی یا آنا نہیں چاہتی ۔خود کو مت تھکائیں۔اب آپ سو جائیں۔‘‘ وہ کسی شفیق بزرگ کی طرح ماں کو محبت سے باہوں میں سمیٹتے ہوئے بولی۔

’’وہ آئے گی۔۔۔وہ آئے گی۔۔۔تم بھی کہیں مت جانا۔‘‘ریحانہ نے اٹک اٹک کر کہا اور نیند کی وادی میں کھو گئیں۔اُن کی بیٹی نے اُن کا سر آہستہ سے تکیے پر رکھ دیا تھا۔وہ جانتی تھی کہ اُس کی ماں اب کچھ بھی سمجھنے والی نہیں،کیونکہ وہ ہوش کی دنیا سے بہت دور جا چکی تھیں۔

*****

’’خان ہمارا پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے ۔اب کمپنی مزید نقصان برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔‘‘اُس کا دوست اور بزنس پارٹنر رافع پریشان کن لہجے میں بولا۔

’’ہمم تو توجہ دو سب معاملات پر۔‘‘اُس نے سرسری مگر حکمانہ انداز میں کہا۔

’’توجہ دینے کی ضرورت تمھیں ہے ۔تم ہر چیز کو بہت لائٹ لے رہے ہو۔اتنی غفلت ٹھیک نہیں۔‘‘رافع نے اُسے تنبیہی نگاہوں سے گھورا۔

’’یہ پیسوں کا نقصان ہے دوست ۔یہ کوئی اِتنا بڑا نقصان نہیں۔‘‘کافی کا سپ لیتے ہوئے وہ بے پروائی سے مسکرا دیا تھا۔

’’یہ صرف پیسوں کا زیاں نہیں ہے ۔یہ ہماری ساکھ اور دن رات کی محنت کا بھی نقصان ہے۔‘‘رافع نے اُس کی بات کی سختی سے تردید کی تو وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا۔اُس کے چہرے پر کوئی پریشانی صاف لکھی ہوئی تھی۔

’’پچھلے ایک سال سے تمھاری توجہ بزنس پر ویسی نہیں رہی ۔ایسا کونسا مسئلہ ہے جو تمھارے دماغ پر ہمہ وقت سوار ہے۔‘‘

’’بس دل نہیں لگ رہا۔۔۔‘‘رافع نے کھوجنے والے انداز میں پوچھا تو وہ گہری سانس لے کر بولا۔اب وہ اُسے کیسے بتاتا کہ اُس کی انا کا مسئلہ صاحبہ تھی۔صاحبہ کی بغاوت دن رات اُسے ایک ذہنی اُلجھن میں مبتلا رکھتی ۔صاحبہ وہ زخمی مگر شاطر پرندہ تھی جس نے قید میں رہ کر بھی اپنے صیاد کی نیندیں حرام کی تھیں۔

’’تمھاری آنکھیں بتاتی ہیں کہ تم کسی کشمکش یا مشکل میں گرفتار ہو۔‘‘رافع نے اُس کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ بھانپ لیے تھے۔

’’کوئی بھی مشکل اتنی بڑی نہیں کہ وہ مجھے مشکل میں ڈال دے۔‘‘اُس نے تصور میں صاحبہ کا چہرہ لاتے ہوئے تکبر سے کہا اور سر کرسی کی پشت پر رکھ دیا۔

’’پھر اِس مشکل کو حل کرنا تمھارے لیے تو چٹکی بجانے جیسا ہے۔اگلے ہفتے ایک بہت ہی important میٹنگ ہے اور تمھارا جانا بہت ہی ضروری۔‘‘رافع نے ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے ایک فائل اُس کے سامنے رکھی ۔

’’میں نہیں جا سکتا۔۔۔میں اِس شہر سے باہر نہیں جاسکتا۔‘‘ایک اچٹتی نگاہ فائل پر ڈالتے ہوئے اُس نے دو ٹوک انداز میں کہا اور فائل پیچھے سرکائی۔

’’مگر کیوں۔‘‘رافع نے چونک کر سوال کیا۔

’’اِس کیوں کا فلوقت میرے پاس جواب نہیں۔‘‘اُس نے سابقہ لہجے اور نپے تلے انداز میں جواب دیا۔

’’پچھلی کئی میٹنگز میں تمھارا یہی رویہ رہا ہے۔عجیب ہو تم خان !جس بزنس کو یہاں تک لائے ہو اُسے ہی ڈوبونے کے درپے ہو۔خیر تمھاری مرضی جو چاہے کرو۔‘‘رافع نے غصّے کا اظہار کیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔

طاقت کے نشے میں انسان چھوٹے چھوٹے نقصان کرنے لگتا ہے ،بنا سوچے سمجھے کہ یہ نقصان ایک دن اُس کا سارا نشہ اُتار دیں گے۔صاحبہ کے گھمنڈی دل پر حکومت کرنے کے لیے اُس نے رشتے اور دولت دونوں ہی لٹائے تھے۔وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ جنون کو اِس حد تک لے جانی والا یہ سودا سراسر گھاٹے کا سودا ہے ۔اذیت کے سانپ کسی کے جسم پر چھوڑ کر انسان کتنی دیر مزے لے سکتا ہے ؟شاید تب تک جب تک یہ سانپ پلٹ کر اُسے نہ ڈس لیں۔زبردستی کے رشتے جوڑنے والے یہ کبھی نہیں جان پاتے کہ دلوں کو فتح کیا جاتا ہے ،ہر وقت حالتِ جنگ میں نہیں رکھا جاتا۔

رافع کے جانے کے بعد اُس نے بے دلی سے فائل اُٹھائی اور سوچ میں گم ہوگیا۔وہ ارشد خان کے بزنس کو بڑی محنت سے آگے لایا تھا۔ملکی اور غیر ملکی سطح پر اُس کی ایک پہچان تھی اور اب وہ سب کچھ ایک لڑکی کے لیے داؤ پر لگائے بیٹھا تھا۔وہ لڑکی جو اُس کی محبت نہیں ضد تھی ،جو اُس کے دل کا قرار نہیں انا کی تسکین تھی۔اُس نے بے چینی سے آنکھیں موند لیں اور سارے معاملات پر غور و فکر کرنے لگا۔اُس کا جانا واقعی ضروری تھا،مگر صاحبہ ! صاحبہ کو کسی بھی قیمت پر نوکروں کے بھروسے نہیں چھوڑا جاسکتا تھا۔اِس مسئلے کا اُسے صرف ایک ہی حل نظر آیا اور اُس کے لیے ابھی دل کی اجازت ضروری تھی۔

*****

’’ممی پاپا مجھے معاف کردیں۔میں بہت مشکلوں سے یہاں تک پہنچی ہوں ۔ مجھے اندر آنے دیں۔میں اپنی غلطی کی سزا سہہ چکی ہوں۔دیکھیں میرے ہاتھ پیر ،میرا چہرہ تقدیر نے کتنی بری طرح سے مارا ہے مجھے ۔‘‘وہ دروازے میں دونوں ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔اُس کی آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے۔

’’بہت دیر ہو چکی ہے ۔۔۔بہت دیر ہوچکی ہے۔۔۔میرے پاس تم سے بات کرنے اور تمھیں معاف کرنے کا اختیار نہیں رہا۔‘‘مردانہ آواز میں ایک کپکپی سی تھی۔

’’ممی آپ تو مجھے معاف کردیں۔میں ناسمجھ تھی،کم عقل تھی۔قسمت کی ٹھوکروں نے مجھے سمجھادیا کہ آپ کتنا ٹھیک کہتی تھیں۔‘‘اب اُس نے امید بھری نظروں سے ماں کی طرف دیکھا۔

’’چلی آؤ میری بچی ۔۔۔چلی آؤ۔۔۔ہم نے اپنی انا کے سارے دروازے توڑ دئیے ہیں۔ہم نے اپنے دل کا دروازہ کھول دیا ہے تمھارے لیے ۔‘‘ماں نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اُسے اندر آنے کی اجازت دی۔مردانہ ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی تھی ۔اُسے یقین ہوا کہ اُس کا باپ بھی اُسے معاف کر چکا ہے۔

ایک نادم دل کے لیے گناہ کی لذت سے بڑھ کر معافی ملنے کی سرشاری ہوتی ہے ۔وہ سر تا پیر سرشار تھی ،اِتنی خوش وہ تب بھی نہیں تھی جب اُس نے اپنی خواہش کو گلے لگایا تھا۔رشتے ایک بار قتل ہوجائیں تو اُن کا خون معاف نہیں ہوتا،لیکن اگر یہ لہو بخش دیا جائے تو اِن رشتوں کو پھر سے جوان کرنا پڑتا ہے۔اُس کے دل میں بھی ایک عزم تھا،پختہ ارادہ تھا کہ وہ سب بگڑے رشتوں کو پھر سے سنوار لے گی۔اجازت نامہ ملتے ہی اُس نے ہاتھ میں پکڑی چیزیں پھینکی ،جوتے اُتارے اور تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے بھاگنے کے انداز میں آگے بڑھی۔اُن کے بیچ فاصلہ کم تھا،مگر اُس کے بھاگنے سے وہ فاصلہ بڑھتا چلا جارہا تھا، بالکل ایسے جیسے دور سے نظر آنے والے پہاڑ پر چڑھنا سہل لگتا ہے اور جب انسان اُس پہاڑ پر قدم رکھتا ہے تو سانسیں بار بار دل پر ہاتھ رکھ دیتی ہیں۔یہ کچھ قدموں کا راستہ بھی میلوں تک پھیل چکا تھا۔وہ بھاگتے بھاگتے ہانپنے لگی ،دل جیسے نیچے ہی نیچے کسی گہری کھائی میں اُتر نے لگا ۔اچانک اُس کے قدم بھاری ہو گئے اور نظروں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا اور سانس جیسے قسطوں میں آرہی تھیں ۔اُسے لگا وہ اب دو قدم بھی نہیں چل سکے گی اور اُسے ٹھیک ہی لگا تھا۔

’’اپنا ہاتھ دو مجھے۔۔۔اور تیز بھاگو۔‘‘اُس کی ماں نے دور سے چلاتے ہوئے کہا۔

’’میرا ہاتھ پکڑ لیں۔۔۔میرا ہاتھ پکڑ لیں۔‘‘وہ پوری طاقت سے مدد مانگتی ہوئی نیچے گر چکی تھی۔

ہر طرف تاریکی ہی تاریکی تھی ،رات سے بھی زیادہ گہری تاریکی۔اُس نے خود کو ہوش میں لانے کے لیے بہت جتن کیے تھے۔سیاہ سمندر میں وہ پیاسی مچھلی کی طرح تڑپی ،مگر اندھیرے نے اُسے اپنے بس میں کرلیا تھا۔کچھ دیر گزری تو پھر اُسی اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن نظر آئی۔ وہ بوجھل پلکوں کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی ۔ سر ابھی بھی چکرا رہا تھا۔اُسے ایسے محسوس ہوا جیسے وہ بہت زیادہ سوئی ہے۔وہ کمبل منہ سے ہٹانے کے لیے ہاتھ کو حرکت دینے لگی تو اُسے اپنے ہاتھ بے جان سے لگے۔

’’اُٹھ جاؤ گستاخ لڑکی۔‘‘ایک بارعب نفرت سے بھری آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔اُسے اِس آواز کو پہچاننے میں زیادہ دیر نہ لگی۔وہ کمبل پیچھے دھکیلتے ہوئے ایک جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔پوری آنکھیں کھلیں تو ایک بھیانک حقیقت سامنے تھی۔یہ تو وہی جگہ تھی جہاں سے وہ چلی تھی۔یہ تو وہی قید تھی جہاں سے وہ بھاگی تھی۔یہ تو وہی کمرہ تھا جسے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ کر گئی تھی ۔اُس کے سامنے وہ سارا زیور بکھرا ہوا تھا جو اُس نے چاچی شگو کی جھولی میں ڈالا تھا۔دائیں طرف بڑی کرسی پر بیٹھا وہ اُسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اُس نے سہم کر سامنے دیکھا تو ادھ کھلے دروازے کے باہر کھڑی چاچی شگو فاتحانہ انداز میں مسکرا رہی تھیں۔

’’ہماری شکلوں پر نہ جانا بی بی !ہم دل کے کھوٹے اور فریبی نہیں ہیں۔‘‘زہر یلی مسکراہٹ دیکھ کر اُسے وہ الفاظ یاد آئے جو چاچی شگو نے کہے تھے۔اُسے اپنا آپ انتہائی بے وقوف لگا اور اب اُسے اِس حماقت کا خمیازہ بھگتنا تھا۔

’’اِسے تب تک بے ہوش رکھو جب تک اِس سرکش لڑکی کی سزا طے نہیں کی جاتی۔بہت جلد اِسے معلوم چل جائے گا کہ دوسری بار وہی غلطی کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔اِس کی زندگی اجیرن کردی جائے گی۔یہ نہ زندوں میں شمار ہوگی نہ مردوں میں۔‘‘وہ اُسے دہشت میں مبتلا کر کے پاؤں پٹختا ہوا باہر نکل گیا۔اُس کے باہر جاتے ہی چاچی شگو آگے بڑھیں ۔صاحبہ کو چاچی شگو سے شدید گھن محسوس ہوئی ۔اُن کے ہاتھ میں پکڑے انجکشن کا مطلب وہ بخوبی سمجھ گئی تھی۔اُس نے پہلے ہی آنکھیں بند کرلیں ۔ وہ خود اب اِس دنیا سے نظر چرانا چاہتی تھی۔

*****

بارش دا موسم نہ ہو وے

تے بارش تھی ویندی اے

بہار سندیسا نہ ڈیوے

ول پُھلاں دی آمد ہوندی اے

ہر رنگ کوئی گیت سُناں داں اے

خَشبو نل رل جھومر پاندا اے

جد تُوں آویں

جد تُوں آویں

ڈھولن یار میرے

وہ قبرستان سے واپس آرہا تھا کہ کچّے راستے پر کچھ فقیروں کو جھومتے گاتے دیکھ کر رک گیا۔بکھرے بال۔۔۔میلے کپڑے ۔۔۔اور ہاتھ میں چمٹا ڈگڈگی لیے وہ اپنی ہی دھن میں مگن تھے۔سیف نے آنکھیں بند کرکے غور سے سنا اُن کی آواز کی فسوں خیزی نے اُسے باندھ سا لیا۔دھیان بول پر گیا تو لب کہہ اُٹھے یہ تو تیرے ہی دل کی آواز ہے ۔ کتنا سوہنڑاں خیال تھا کہ محبوب کے قدم دل کی چوکھٹ پر پڑتے ہی رت ،موسم ،وقت کیسے بدل جاتا ہے ۔۔۔برسات کی چٹھیاں دور نکل چکی ہو بھی تو کوئی نہ کوئی چٹھی بادلوں کا پیغام لے آتی ہے ۔۔۔بہار اپنا جوبن دکھا کر راستہ بدل گئی ہو بھی تو پھولوں سے لدی بھگیاں واپس پلٹ آتی ہیں۔۔۔مٹی کی سوندھی خوشبو اور کسی کے آنکھوں کا مٹیالا رنگ ملتا ہے تو محبت سُر بھرتی ہے ،رنگ ملتی ہے ،دھمال ڈالتی ہے ۔۔۔بس دل میں رہنے والے کا نظر میں آنا ہی ساری راحتوں کا سبب بنتا ہے۔ سیف نے اب آنکھیں کھول کر آسمان کی طرف دیکھا سفید پرندوں کا ایک جھرمت آس پاس منڈلا رہا تھا اور چھوٹے چھوٹے بادلوں کی سیاہ ٹکڑیاں یکجا ہو رہی تھیں۔اُس نے دوسری نگاہ فقیروں پر ڈالی تو وہ اُسے بہت ہی اُجلے نظر آنے لگے تھے۔

اُو دن داں ستارا لگدا اے

جیڑا ں رات نوں ڈوبدا من اندر

بن موسم بھاویں چار سجن

لگدے نے میکوں ہزار پیا

میڈی ساں وچ ساں آ و ے سی

ساری خوشیاں توڑ پجاں وے سی

جد تُوں بولے

جد تُوں بولے

مِٹھن یار میرے

اُن میں سے ایک لمبے بالوں والا فقیر جس نے سبز رنگ کا پھٹا ہوا چولا پہن رکھا تھا سارنگی بجاتا ہوا اُس کے گرد چکریاں کاٹنے لگا ۔اُس دیوانے کے بھی کیا کہنے تھے جسے اپنے محبوب کی روشنی ستارے کی طرح لگتی تھی ۔۔۔وہ اِس ستارے کی لو مستعار لے کر دن کو دیکھتا تھا اور رات کو اُسے من کے ساگر میں اُتار کر نیند سے لپٹ جاتا تھا ۔۔۔پس اُس کے رات دن روشن تھے۔۔۔ وہ یہی گا رہا تھا کہ وہ ایک ان پڑھ فقیر ہے پر اُس کا عشق پڑھا لکھا ہے۔۔۔ وہ چار کا پہاڑہ نہیں جانتا ۔۔۔اپنے ساجن کو دیکھے بنا اُس کے چار موسم ہزاروں پر مبنی ہوجاتے ہیں۔۔۔اُس کا بس یہی کہنا تھا کہ اُس کی سانس کا تسلسل ۔۔۔اُس کی خوشیوں کی عمر درازی ۔۔۔ بس محبوب کے بولنے سے ہے ،بولنے سے ہے۔ اُس فقیر کی آواز میں ایسا سوز تھا کہ سیف کا دل پھٹنے کو آگیا۔اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی جیبیں ٹٹولیں اور سارے پیسے ہوا میں اُچھال دئیے۔

میاں اکھاں نوں تُوں بند چا کر

اے سوچ سمجھ دا ں ہتھ چھوڑ وی ڈے

تیڈاں یار ملے تیکوں ہوں پاسے

جے پاسے ناں کوئی ہور ہو سی

اے عشق ناں ایوے ٹلدا اے

دل تیلی وانگوں بلدا اے

جد تُوں دیکھے

جد تُوں دیکھے

رانجھن یار میرے

اچانک اُس کے پیچھے سے کوئی آیا اور اُس نے سیف کا ہاتھ اپنے رنگ برنگی انگوٹھیوں سے بھرے ہاتھ میں لے لیا۔اُس روشن چہرے والے کے گلے میں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنی مالائیں لٹک رہی تھیں۔ سیف کو لگا ہر پتھر میں وہی پھول جیسا چہرہ ہے ۔سیف نے اعتراف کیا جوگی سچ کہتا ہے ۔۔۔بڑا سادہ سا تقاضا تھا اُس کا کہ تو بے خودی کی اُس منزل پر آ جہاں سمجھ بوجھ کے سارے در بند کردے۔۔۔ پھر دیکھ دل کی لال دیوار پر وہی کالی آنکھیں ہونگیں۔۔۔جنھیں کھلی آنکھیں ڈھونڈ نہیں پاتیں ۔۔۔وہ ٹھیک ہی تو کہتا ہے کہ عشق ٹالنے سے ،ٹھکرانے سے، مرنے سے کہاں ٹلتا ہے ؟۔۔۔عشق کی ماچس کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔۔کسی برسات میں نہیں بھیگتی ۔۔۔کسی طوفان میں نہیں بکھرتی۔۔۔کسی کی نظر پڑتی رہتی ہے اور ایک کے بعد ایک تیلی جلتی رہتی ہے۔سیف عجیب انداز میں یہ منظر ایک ٹک دیکھے جارہا تھا کہ سُر بکھیرنے والے دیوانے نے اُس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اُسے اپنے ٹولے میں شامل کر لیا۔اُس نے کوئی احتجاج نہ کیا۔اُس کا وجود آہستہ آہستہ ہوا میں تحلیل ہورہا تھا۔اِسی اثنا میں بارش برسنے لگی ۔سیف نے آنکھیں بند کر لیں۔ایک عجیب سا نشہ اُس کے رگ و پے میں اُتر چکا تھا۔

ہک واری اُو داں ناں چاں گھن

ہک واری اُو کوں پکار دل نل

اُو جیون تیڈاں ہے کملا

جیون تُوں بھاوے دور سہی

’’تم جو کوئی بھی ہو مجنوں دل سے اُس کا نام لو ،وہ چاہے زندگی سے دور ہے ،مگر تمھاری زندگی ہے ۔‘‘اُن میں سے ایک چھوٹے قد والے نے سیف کے کان میں بڑی بات کی تو وہ بھی بے خودی میں جھومنے لگا۔اُس کا ایک ہاتھ دائرے میں تھا تو ایک ہاتھ ہوا میں بلند۔

اُو میکوں جے نئی مل سگداں

میں اُوکوں جا ں مل وے ساں

اے بارش عشق دی بارش اے

میں جل جاساں تے کھل وے ساں

جد تُوں ملے

جد تُوں ملے

جیون یار میرے

’’اگر تمھارے پاس آنے کی کوئی سبیل نہیں،تو جب تم چاہو میں تم تک آنے کی راہ ڈھونڈ لونگا۔میں جان گیا ہوں جان گیا ہوں کہ یہ عشق بارہ مہینے برسنے والا مینہ ہے جو ’’میں‘‘ کی چمڑی کو پوری طرح جلا کر من کو جلا بخشتا ہے۔‘‘ رنگ پوری طرح سے چڑھ چکا تھا۔اب کے فضا میں سیف کی آواز بھی گونجی۔بارش اور تیز ہونے لگی تو کچّی مٹی گارا بن کر اُن سب کے ننگے پیروں سے چپک گئی۔وہ کیچڑ میں یوں دیوانہ وار گھوم رہے تھے جیسے پھولوں پر گھوم رہے ہوں۔آس پاس سفید پرندے جمع ہورہے تھے اور اُن سے کچھ فاصلے پر ایک سیاہ گاڑی رک چکی تھی۔

*****

پرندہ اپنی قید سے لڑ سکتا ہے ،لیکن ایک زخمی پرندہ ہمیشہ قید سے ہار جاتا ہے، وہ سمجھ جاتا ہے کہ صرف اُسے ہی نہیں اُس کی ہمت ،اُس کے حوصلے اور جذبے کو بھی باندھ دیا گیا ہے ۔سونے اور جاگنے کی بیچ کی کیفیت بڑی دردناک ہوتی ہے انسان ایک طرف ہاتھ پیر مار کر حقیقت کا سرا پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری طرف اندھیرے کے سخت ہاتھ اُسے مضبوطی سے جکڑ لیتے ہیں، نہ وہ پوری طرح سے رہا ہوتا ہے نہ قید ،بس ایک ایسی تڑپ میں مبتلا ہوجاتا ہے جو شاید جلتے پر نمک ڈالنے سے جنم لیتی ہے ۔صاحبہ کے ساتھ بھی ہوش اور بے ہوشی کا ایک اذیت ناک کھیل کھیلا جارہا تھا۔اُسے اِتنا تھکایا جارہا تھا کہ وہ اپنے اندر کے زخمی پرندے کو اپنی شکست کا پیغام دے ،اُسے تھپک کر ڈپٹ کر سمجھا دے کہ وہ ہار چکی ہے۔مدھم روشنی اور گھپ اندھیرے میں ساری ہمت اور بہادری لڑکھڑاتی پھر رہی تھی۔نہ اُسے رات دن کی خبر تھی نہ دنوں کے حساب کا علم ۔ بس کوئی آس پاس تھا جو کھانے کے نام پر منہ میں چند نوالے ٹھونس دیتا تاکہ وہ زندہ رہ سکے۔کئی بار اُس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ،مگر ایک سیاہ پٹی تھی جو بس ذرہ سا سرکتی۔اِس وقت کوئی اپنا اُسے دیکھتا تو صدمے سے نڈھال ہوجاتا آئینے کو بولنے پر مجبور کرنے والی آنکھیں بے رونق ہو چکی تھیں۔۔۔ تو پھول کی پنکھڑیوں کو رشک میں مبتلا کرنے والے ہونٹ سیاہی مائل۔۔۔دونوں بازؤں پر لگنے والے انجکشنز نے اُس کی گوری رنگت کو اِتنا بدنما کردیا تھا کہ کراہت کا احساس ہوتا۔۔۔کئی دنوں سے اُس کے کپڑے بھی نہیں بدلے گئے تھے ۔۔ ۔دوائیوں اور پسینے کی بدبو کمرے کے ماحول کو بوجھل کیے ہوئے تھی۔۔۔سزا تو یہ بھی کچھ کم نہ تھی۔۔۔مگر سزا دینے والے کے نزدیک یہ شاید سزا نہ تھی۔

’’پانی۔۔۔پانی۔۔۔‘‘وہ پیاس کی شدت سے چلانے لگی تو کسی نے پانی سے بھرا گلاس سختی سے اُس کے لبوں سے لگا دیا۔کچھ گھونٹ حلق تک اُترے تھے تو کچھ اُس کے چہرے کو بھگو گئے۔وہ لیٹے لیٹے دونوں طرف سے بیڈ شیٹ مٹھی میں جکڑے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔بچی کچی طاقت صرف کرنے کے بعد آنکھوں کو ایک ہلکی سے روشنی نصیب ہوئی تھی۔

’’مت دو یہ اذیت ۔۔۔ایک بار مجھے مار دو۔۔۔ایک بار مجھے مار دو۔۔۔‘‘اُس نے کمزور لہجے میں لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے کہا تو چاچی شگو اُٹھ کر اُس کے سامنے آگئیں۔

’’اچھا تو جاگ ہی گئیں آپ۔ویسے بڑی ڈھیٹ ہیں قسمت کی اتنی مار پڑنے پر تو آپ کو خود ہی مر جانا چاہیے تھا۔‘‘چاچی شگو بیڈ کے گرد چکر کاٹتے ہوئے طنزاً بولیں۔

’’چلی جائیے میرے سامنے سے ۔نفرت ہے مجھے آپ جیسی جھوٹی مکار عورت سے، نفرت۔‘‘حواس کچھ بحال ہوئے تو صاحبہ نے سب سے پہلے غصے کا اظہار کیا تھا۔

’’محبت کا صلہ تو پا ہی چکی ہیں آپ ۔اب نفرت کا مزہ بھی چکھ لیجیے۔‘‘چاچی شگو اُسے سلگتا دیکھ کر مکروہ انداز میں ہنسی تھیں۔

’’کیوں کیا آپ نے یہ سب۔۔۔ کیوں؟ کیا ملا اِس گھٹیا کھیل میں آپ کو؟‘‘وہ کراہتے ہوئے اُٹھنے لگی تو اُس کا سر پھر ایک جھٹکے سے تکیے پر جالگا تھا۔

’’سکون اور پیسے کے لیے۔آپ سے زیادہ عنایت کی ہے حکم نے مجھ پر۔‘‘چاچی شگو کو اُس کے چہرے کے بدلتے رنگوں نے خاصا لطف دیا ۔

’’پیسہ تو مل گیا۔سکون کس بات سے ملا ہے آپ کو۔‘‘صاحبہ کے درد بھرے لہجے میں حیرانی بھی تھی۔

’’موت چاہتی ہو ناں تم ۔تم جیسی لڑکیاں تب کیوں نہیں مرجاتی جب ماں باپ کی عزت روند کر دہلیز پھلانگتی ہیں۔جب جب تم جیسی کسی لڑکی کو سزا ملتی ہے تو بہت سکون ملتا ہے مجھے۔تمھارے جیسی بیٹی تھی میری ،جو میرے منہ پر ویسی کالک مل کر گئی جیسی تم مل کر آئی ہو۔اُس کو تو ڈھونڈ کر سزا نہ دے پائی ،لیکن تمھارے اُدھڑے زخم دیکھ کر میرے زخم بھرتے ہیں۔‘‘چاچی شگو نے اپنی لال ہوتی آنکھیں اُس کے وجود پر گاڑ کر دل کا بیر ظاہر کیا تھا۔نفرت سے تپتے ہوئے وہ آپ سے تم تک کی حد بھی پار کر گئی تھیں۔

’’اِتنا زہر چھپا ہے آپ کے اندر۔اچھا ہوا وہ واپس نہیں پلٹی ورنہ آپ اُسے کبھی معاف نہ کرتیں۔‘‘صاحبہ نے آنسوؤں کا گو لہ حلق سے نگلتے ہوئے بمشکل کہا۔

’’ہاں میں اُسے کبھی معاف نہیں کرونگی۔اگر وہ مجھے مل گئی تو اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کردونگی ۔نافرمان بیٹی کی یہی سزا ہے میرے نزدیک۔‘‘چاچی شگو دانت کچکچاتے ہوئے حتمی انداز میں بولیں۔

’’بہت ہی سفاک ماں اور پتھر دل عورت ہیں آپ۔ہمدردی کا خوب کھیل کھیلا آپ نے ۔مدد کرنے کا اگر ظرف نہیں تھا تو میرے لیے ایک اور عذاب تیار کرکے کم ظرفی نہ کرتیں۔‘‘صاحبہ نم پلکوں سے چھت کو گھورتے ہوئے دلگرفتہ ہوئی۔

’’کتنی معصوم ہو تم ! اپنے سگے رشتوں کا خون کرنے والی مجھ پر کم ظرفی اور سنگدلی کا جرم عائد کررہی ہے۔‘‘چاچی شگو نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تو صاحبہ کو بیک وقت کئی سوئیاں اپنے جسم میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

*****

بے خودی نے کردیا جذباتِ دل سے بے نیاز

اب تیر ا ملنا نہ ملنا سب برابر ہو گیا

اُس نے ایسے آنکھیں بند کیں کہ اپنے اندر ایک نئے جہان میں پہنچ گیا۔۔۔جہاں دل نے کئی راہیں کھولی تھیں۔۔۔روح نے ایک اور ہی نگری میں گھمایا تھا ۔۔۔ تخیل کے پردے پر نظر آتی یہ دنیا بہت خوبصورت تھی ۔۔۔اُجلی اُجلی نکھری نکھری دھواں دھواں سی ۔۔۔کوئی رکاوٹ ،کوئی ڈگمگاہٹ نہ تھی ۔۔۔راستہ سیدھا سیدھا صاف صاف تھا ۔۔۔یہ کیفیت ہی تو حاصل تھی در بدری کی ۔۔۔اردگرد سب کچھ مکمل۔۔۔آس پاس نکھری چمکیلی کرنوں کا جال ۔۔۔بے نام سی منہ چھپاتی تاریکی ۔۔۔اُس نے کئی سفید پرندوں کو زمین پر اُترتے دیکھا ، جنھیں وہ دانہ ڈالتی تھی۔۔۔یہ سارے ساز یہ سارے راگ اُس نے پہلے نہیں سنے تھے۔۔۔ہر کوکتی آواز میں اُس کی آواز کی آمیزش بھی تھی ۔۔۔اُس کے اندر کوئی گاتا بھی تھا۔۔۔وہ گیت کار جو برسوں پرانی کویتا ڈھونڈ لایا تھا۔۔۔ وہ غلط تھا کہ اُس کے اندر ایک گونگا دل ہے۔۔۔اُسے اِس خیال کی تقلید میں اور آگے بڑھنا تھا ۔۔۔وہ واپس نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔اِس حالت کے سرور کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔مگر کسی نے زبردستی اُسے اپنی جانب کھینچا۔۔۔اُس نے خود کو چھڑانے کے لے مذمت کی ۔۔۔مگر گرفت بہت مضبوط تھی۔۔۔پھر کسی نے اُسے زور سے زمین پر دھکّا دیا تھا۔۔۔اُس کا منہ کیچڑ میں دھنس گیا ۔۔۔دل و دماغ پر چھائے سحر کو ٹوٹنے میں اب دیر نہیں لگی تھی۔

’’آنکھیں کھول کم ذات۔۔۔دن میں سپنے دیکھ رہا ہے ۔‘‘گرانے والے نے ایک جھانپڑ منہ پر جڑ کر ہتک سے کہا تھا۔

اور سیف نے چہرہ دیکھنے سے پہلے وہ آواز سنی جسے وہ ایک پل میں پہچان گیا تھا۔اُس نے فوراً مٹی سے اٹی آنکھیں ملنا شروع کیں ۔جازم بالکل اُس کے سامنے تھا۔وہ تعجب کے ایک جھٹکے کے ساتھ تھوڑا پیچھے ہونے لگا۔وہ پورے ایک سال بعد یہ صورت دیکھ رہا تھا۔اِس صورت اور اِس آواز کو وہ کیسے بھول سکتا تھا جس نے اُس کی سب سے قیمتی دولت چھینی تھی ۔آخر وہ یہاں کیوں اور کس لیے آیا تھا ؟کئی سوال اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگے ۔اُس نے تکلیف سے نظریں جھکالیں ،اُس ظالم شخص کی شکل پر جابجا خون کے دھبّے تھے۔

’’چل میرے ساتھ۔۔۔میں تجھے لینے آیا ہوں۔‘‘جازم نے دونوں ہاتھوں سے کیچڑ بھرا گریبان پکڑا ۔

’’میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔۔۔میں یہاں سے نہیں جاسکتا۔‘‘سیف نے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے بلند آواز میں انکار کیا تھا۔

’’تیری اتنی ہمت کہ تو مجھے انکار کرے ،جازم خان کو !‘‘جازم نے ایک زور دار گھونسا اُس کے ناک پر مارا تو خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔

’’مجھے چھوڑ دو لالہ مجھے چھوڑ دو۔جیون یہاں ہے ،میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤنگا۔‘‘سیف نے درد سے بلبلاتے ہوئے ہاتھ جوڑے۔

’’اگر اب تم نے انکار کیا تو میں تمھیں جان سے مار دونگا اور تمھاری قبر اتنی دور بناؤں گا کہ تمھاری روح بھی اُس کے نشان نہ ڈھونڈ پائے گی۔‘‘جازم نے پستول نکال کر اُس کی کنپٹی پر رکھ دیا۔

سیف نے خوف ذدہ ہوکر اُس کی طرف دیکھا ۔لہو ٹپکاتی آنکھوں نے اُس کا دل مٹھی میں لے لیا تھا، اور یہ ڈر موت کا نہیں جیون سے تعلق ختم ہونے کا ڈر تھا،اُسے زندگی سے محبت نہیں تھی ،مگر وہ جازم کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا تھا۔

’’آپ مجھے اپنے ساتھ کیوں لے جانا چاہتے ہیں؟‘‘اُس نے معترض انداز میں ہمت جمع کرکے پوچھا۔

’’گاڑی میں بیٹھو ،سب سمجھ آجائے گا۔‘‘جازم نے تحکم بھرے انداز میں کہا اور تیز تیز ڈاگ بھرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔

گاڑی تیز رفتار سے دوڑتی ہوئی جا رہی تھی اور وہ اُسے حکمانہ لہجے میں ایک گھنٹے سے متواتر اپنی حویلی لے جانے کا مقصد سمجھا رہا تھا۔ سیف نے اُس کی ہر بات پر ادب سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ شخص کتنا مفاد پرست ہے جو اپنے فائدے کے لیے نہ صرف زندہ لوگوں ، بلکہ مرے ہوئے رشتوں کو بھی اذیت پہچاتا آیا ہے۔سیف کی سماعتیں بیشک اُس کے تابع تھیں،مگر نگاہیں باہر کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ذکیہ بیگم کی حویلی بہت پیچھے رہ گئی تھی اور راستے میں وہ قبرستان بھی گزر گیا تھا جہاں جیون دفن تھی۔سیف کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ اب یہاں کبھی نہیں آسکے گا۔زندگی اُسے ایک نئے امتحان میں ڈالنے والی تھی۔

*****