(Dominant Quality)
واصف علی واصف صاحب  نے جب حواس  کا ذکر  فرمایا ، تو غالب صفت  کے بارے میں بھی بات کی۔
انسان کی غالب صفت رُوح ، دِل یا وجود  میں سے کوئی ایک ہو سکتی ہے ، جِس سے اُس  کی نیت، احساس، عمل اور ردِ عمل پر اثر پڑتا ہے۔

وجود کو دیکھا جائے توہائیپوتھیلیمس کے نقطۂ نگاہ سے انسان جسم ہی جسم ہے۔ مختلف قسم کے ہارمونز کا  خون میں اخراج ،  جسم کے درجۂ حرارت   اور فشارِ خون کی برقراری،  بُھوک ، پیاس ، نفسانی اور جذباتی ہیجانات و ردِ عمل۔ لڑائی ، مارکُٹائی اور فرار۔سروائیول کا جنگجُو۔ اِس کا زور جینے پر ہے۔ تھالامس اور پینیئل گلینڈ ، دوسرے فرائض کے ساتھ ساتھ، سونے اور جاگنے کے معمولات کو بھی دیکھتے ہیں۔دماغ   احساسات، معلومات  اور کنڑول سسٹمز  کاگھر ہے۔ چیزوں کو دیکھنے ،پہچاننے،   سُننے، یاد رکھنے، سیکھنے، معنی دینے اور زُبان سے متعلق امور یہیں انجام دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اعصاب اور احساس کا باہمی تعلق بھی یہیں استوار ہوتا ہے ، جیسے چھونا، درد محسوس کرنا، ذائقہ، وزن اور درجۂ حرارت بھی۔ دماغ کاآخری ، زیریں حصہ نظامِ انضہام اور دِل کی دھڑکنوں کو برقرار رکھتا ہے اور غیر شعوری و اضطراری اعمال  کو بھی(مثلاً چھینکنا، نِگلنا، سانس لینا) ۔
ماتھے کے بالکل پیچھے  موجود فرنٹل لوب  جذبات ،سوچ بچار، منصوبہ بندی، شعوری حرکات، زُبان کے استعمال اور فیصلہ سازی کا زینہ ہے۔ تخلیقی صلاحیت، بصیرت اور حکمتِ عملی اِس کی خصوصی صفات ہیں۔ 

دِل کو دیکھا جائے ، تو خواہش  اور اُس کی جانب محنت  و مشقّت ، ایک ہر دم حرکت پذیرعضو ہی کرواسکتا ہے۔  دُعائیں بھی دِل ہی سے نِکلتی ہیں اور  پسندیدگی بھی یہیں سے جنم لیتی ہے۔ دِل زندگی اور زندہ دِلی کا استعارہ ہے۔

رُوح کو دیکھا جائے ، تو اس کے بارے میں ہمیں زیادہ علم نہیں دِیا گیا۔ قرآن میں آتا ہے کہ  انسان  کو بنانے کے بعد اس میں رُوح پھونکی گئی ، اور سُننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں عطا کی گئیں۔  جتنا ہم جانتے ہیں ، رُوح کی یادداشت بھی ہوتی ہے ، اور رنگ و رُوپ بھی۔ رُوح دیکھتی سُنتی سمجھتی بھی ہے ۔  رُوح نیک بھی ہوتی ہے ، اور بد بھی۔ پر وہ سب کُچھ ، جو انسانی جسم (خصوصاًدِماغ ) کا خاصہ ہے ، وہ رُوح کے مقام پر آ کر  رُک جاتا ہے ، یا شاید اسے اس سے آگے جانے، سمجھنے اور دیکھنے کی اجازت نہیں۔

وجود  کو  زماں اور مکاں کی انتہاؤں میں محدود کر دیا گیا ہے۔ وجود کا سارا معاملہ مادی ہے۔
رُوح ہر قید سے آزاد  اوردائمی ہے ۔رُوح کا سارا معاملہ غیر مادی ہے۔
دِل کے معاملات مادی بھی ہیں اور غیر مادی بھی۔ یہ دوئی دِل کی خاصیت بھی بن سکتی ہے اور خرابی بھی۔

غالب صفت کی کسوٹی   اپنے دائرۂ کار میں نیت، فیصلے، عمل اور ردِ عمل  کی ابتدا سے انتہا تک  کی کیفیت  کو پرکھنے میں ہے۔ ہم یہ جان سکتے ہیں ، کہ ہماری معمول کی  چاہتوں اور  خواہشوں   کی بُنیاد، طرزِ عمل اور نتیجہ کِس سے نمو پاتے ہیں۔ وجود، دِل یا رُوح؟
دوسرے الفاظ میں ، ہماری خوشی کا مقصود کون ہے۔  ہم خود،  خُدائی یا  خُدا؟
خود کو خوش رکھنا زندگی کا بہت ہی عامیانہ درجہ ہے۔ خُدائی کو خوش رکھنا ایک احسن عمل ہے۔ اور خُدا کو خوش رکھنا تو انسانیت کی معراج ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خوش رکھنا، مُطمئن ہونے کے سِکے کا دوسرا رُخ ہے۔ اگر ہم خود سے مطمئن ہیں، خُدائی (یعنی مخلوقات و کائنات) سے بھی خوش ہیں اور خُدا کے بھی شکر گزار ہیں ، تو ہم خوش قسمت ہیں۔ یہ وہی خوش قسمتی ہے، جہاں انسان اپنی “قسمت پر خوش ہے”۔ 
میرا ذاتی خیال ہے کہ خُدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے خُدا کی مخلوق کے ساتھ آسانی، خوشی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کیا جائے، اور اس سلسلے میں خُدا کے احکامات کو مانا جائے۔ کسی بھی صورتِ حال میں خدا کی مخلوق کے حقوق ادا کئے بغیر خُدا کو راضی کرنا ایک عبث خیال ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی غالب صفت کو جان کر ہم اپنی صلاحیتوں کا بہترین مصرف اور استعمال بھی کھوج سکتے ہیں۔

_____________

تحریر: عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف