وہ رہا!! اپنے کمرے میں پکڑ لیا تھوڑا سا۔۔ مگر بھاگ گیا۔ امی ابو کے کمرے میں۔۔۔ وہاں نظر آجاتا ہے پر ہاتھ نہیں آتا۔ بھائی کے کمرے میں تو نظر بھی نہیں آتا۔ میں بھاگ بھاگ کے اس کے پیچھے پورے گھر کے چکر لگاتی ہوں پر ہاتھ نہیں آتا وہ۔
پھر بھی کوئی مشورہ دے تو عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں اسی لیے میں غسل خانوں میں بھی ڈھونڈتی ہوں اسے۔ نہیں ملتا وہاں بھی۔ اوپر چھت پہ بھی دیکھا۔ نظر آیا ہاتھ نہ آیا۔ اس نے مجھے اپنی تلاش میں خوار کر دیا۔ کسی مجنوں کی طرح ڈھونڈتی پھرتی ہوں اسے۔ آج خیال آیا کہ پورے گھر میں بس اب ایک ہی کونا بچا ہے جہاں وہ مل سکتا ہے۔ میں کچن کے اسٹور روم کے اندر گئی تو نظر آیا اور ہاتھ بھی آیا۔ میں بتا نہیں سکتی کس قدر خوشی کا عالم تھا وہ۔ میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ اس کو پا کر آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھی ابھرے مگر ابھی اس کو پانے کی خوشی پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی آنکھ مچولی پھر سے شروع ہوگئی۔ وہ پھر سے غائب ہو گیا تھا اور میں ایک بار پھر خالی ہاتھ رہ گئی تھی۔
تقریبا ایک ہفتے سے، جب سے آن لائن کلاسز شروع ہوئی ہیں میں انٹرنیٹ کے ایک سگنل کے لیے یوں ترس رہی ہوں جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کی دیدار کو ترستا ہے۔ پر۔۔۔ نہیں! نہیں! اس سے بھی زیادہ شدید قسم کا احساس ہے یہ۔ غم دوراں ہے یہ۔ غم جاناں سے بڑھ کر، درد سر ہے یہ۔ بھلا محبوب کے وصال کے لیے تڑپتا عاشق سگنل کے پیچھے خوار ہونے کا درد کیا سمجھے؟ صبح نو بجے سے لے کر دوپہر تین بجے تک مسلسل سگنل کے پیچھے پاگلوں کی مانند بھاگتے پھرنا اور ایڑیوں میں درد ہوجانا۔۔۔ یہ تکلیف بھلا عاشق مزاج لوگ کیا سمجھے کہ محبوب کی جدائی میں اسے یاد کرنا تو اس قدر آرام دہ درد ہے کہ لیٹے رہو اور یاد کرتے رہو۔ درد کی انتہاء تو یہ ہے کہ دوسری طرف سے ٹیچر لیکچر دیں اور اس طرف سے میں کبھی سیڑھیاں چڑھتے اترتے سگنل ڈھونڈتی ہوں تو کبھی سیڑھیوں کے قریب لگے آڑو کے درخت پہ چڑھ کر دیکھتی ہوں کہ کہیں کوئی سگنل درخت کے پتوں پہ پڑا مل جائے مگر آج کل تو سگنل کی مثال بھی کرونا پازیٹیو مریض کے پلازمہ کی سی ہو گئی ہے۔ غریبوں کے حصے میں نہیں آتی۔
درد تو یہ ہے کہ کچھ بھی نہ سن کے جب ٹیچر لیکچر کے آخر میں پوچھتی ہیں “انڈرسٹینڈ اسٹوڈنٹس!” تو ہم کچھ بھی نہ سن کے بھی مارے مروت کے کہتے ہیں “یس میم!” اور وہ سمجھتی ہیں ہم سچ بول رہے ہیں۔
تنگ آکر ابو سے سوال بھی کرتی ہوں کہ بھلا آپ کو کس نے مشورہ دیا تھا خیبر پختونخواہ میں گھر بنانے کا؟ اور پھر خیبر پختونخواہ کے ایسے پسماندہ علاقے میں۔ جہاں ایک سگنل کی تلاش میں زندگی تو گزر جاتی ہے۔ سگنل نہیں ملتا۔ ابو بھی بڑے طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہیں تو بھئی آپ دے دیتیں نا مشورہ۔ کہاں گھر بنانا چاہیئے تھا۔
میں مشورہ دے بھی دیتی تو بھلا انہوں نے کہاں عمل کرنا تھا؟ خیر! وہ کہتے ہیں یہاں پہلے سگنل اچھا ہوتا تھا۔ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے نیٹ ورک خراب ہوا ہے۔ جو بھی ہے مسئلہ ہے۔ وائی فائی نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ ہمارے گاوں کی طرف جو پل آتی ہے اس کے اندر پی ٹی سی ایل کی وائر کٹ گئی ہے۔ یہ بچپن سے سنتی آئی ہوں اور آج تک کسی نے ٹھیک کروانے کی زحمت بھی نہیں کی۔ اسی لیے ہمارے گاوں کے کسی گھر میں پی ٹی سی ایل نہیں۔ اس احساس محرومی سے پہلے کبھی دوچار نہ ہوئی تھی۔ اب تو ہر رات سونے سے بھی ڈرتی ہوں۔ کہ سوجاوں گی تو اگلی صبح جاگ کر پھر سے آنکھ مچولی کھیلنی پڑے گی۔ بھلا اس سے بڑا اور کیا غم ہو سکتا ہے؟
سوچتی ہوں جب اگلی نسل کرونا کے بارے میں کتابوں میں پڑھے گی تو اس وقت ہم گرینڈ پیرینٹس ہوں گے۔ وہ بڑے شوق سے احوال جاننا چاہیں گے۔ میں ان کو کرونا کی تباہ کاریاں بتاوں نہ بتاوں یہ ضرور بتاوں گی کہ ایک سگنل کے لیے میں کس قدر خوار ہوئی ہوں۔ آن لائن کلاسز نے کس قدر میرا مذاق اڑایا ہے اور کسی کو بتاو بھی تو ہنستے ہیں لوگ کہ بھلا یہ بھی کوئی پریشانی ہے؟ اور میں جوابا کہہ نہیں پاتی کہ اب غم جاناں میں مبتلا ہونے سے رہے؟ ہماری جان لینے کو روز یہ چھ گھنٹے ایک سگنل کی دیدار کو بھاگتے رہنا ہی کافی ہے۔ بھلا کون یہ سمجھے کہ یہ کتنی خطرناک بات ہے کہ گھر میں کسی کو سگنل نہ ملے تو وہ اس کی تلاش میں گھر سے باہر دوڑتا ہے۔ پھر تو وہ دن دور نہیں کہ میں ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر ان سے بھیک میں انٹرنیٹ سگنل مانگوں گی۔۔۔
24 Jun 2020

____________

تحریر:شیما قاضی
کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف