و ٹیوب پر مرینہ خان،شہناز شیخ، بشری انصاری وغیرہ کے ڈراماز دیکھیں تو لگتا کہ ڈرامے تو وہ ہی تھے اصل میں…. کیا ڈائیلاگ کی ادائیگی تھی کیا شائستہ مزاح ہوتا تھا بیک گراؤنڈ میوزک کے نام پر بے ہنگم شور بھی نہیں تھا لیکن اب  کامیڈی ڈرامہ کے نام پر اچھل کود اور بونگیاں ایک منٹ میں دیکھنے والوں کو بیزار کر دیتی ہیں. دکھ تو یہ ہے کہ ماضی کے بہترین اداکار بھی اب اس قسم کے ڈراموں میں دکھائی دیتے ہیں اللہ جانے پاکستانی ڈرامہ پروڈیوسرز ٹرک کی بتی کے پیچھے کیوں لگے رہتے ہیں . ایک ڈرامہ ذرا سا ہٹ ہوا نہیں چلو جی اب اسی ٹاپک کی جگالی کرتے جائیں گے…. یہاں تک کہ ڈرامے کا  نام بھی دیکھا دیکھی چلتا ہے.  کسی ہٹ ڈرامے کے نام میں لفظ “پیار” آ گیا تو چلو اب پیار ہی پیار ہر ڈرامے کے نام میں نظر آئے گا. لفظ “قصور” آ گیا تو “میرا قصور”, “میرا کیا قصور”…. “بے قصور” اور پتہ نہیں کس کس کا قصور نام کے ڈراماز بنتے چلے جائیں گے..لیکن یہ تو بتا دیں کہ ہم دیکھنے والوں کا کیا قصور ہے آخر؟ ……..
دوسری شادی والا کوئی ڈرامہ چل گیا تو تیار رہیے اب ہر ڈرامہ میں دوسری شادی ہو کر رہے گی. جن میں ایک لو میرج اور دوسری زور زبردستی کی بیوی بنا کر اس پر تھوپ دی جائے گی .جو تیس پینتیس اقساط تک اپنے شوہر کے تمام تر مظالم چپ چاپ بھیگی بلی بنی نہ صرف سہتی رہے گی بلکہ اگر کوئی شریف النفس قسم کا سیکنڈ ہیرو اسے مظالم سے بچانے میدان میں اترے گا تو وہی بھیگی بلی اسے خونخوار بلی کی طرح پنجے دکھا کر چلتا کرے گی اور آخری قسط تک ڈرامہ پروڈیوسرز کی مشترکہ کوششوں سے اسی ناپسندیدہ بیوی کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا… 
سب سے لمبا ٹرینڈ جسے دیکھ دیکھ کر چودہ طبق روشن ہو ہو کر فیوز ہو چکےہیں وہ ٹرائی اینگل ڈراماز ہیں یعنی تین شکلیں آپکو ٹائٹل میں نظر آئیں گی.. ایک ہیرو دو ہیروئنز یا پھر ایک لڑکی دو ہیروز.. جن میں ہیرو سوٹڈ بوٹڈ اکڑ کر سامنے کھڑا ہو گا اور ہیروئینز دونوں بن سنور کر چپکی ہوئی اسے اپنی اپنی طرف کھینچ  رہی ہوں گی. پتہ نہیں کیوں یہ سب دیکھ کر بچپن میں پڑھی ہوئی بندر بانٹ والی کہانی یاد آ جاتی ہے خیر چھوڑیں….. بات ہو رہی مثلث ڈراماز کی ہیرو صاحب کا اکڑنا بنتا ہے دو دو حسینائیں ان پر مر مٹ رہی ہوتی… اف جن میں ایک معصوم، مظلوم، نیک پروین، گل یاسمین قسم کی اللہ کی گائے  اور ایک بلا  ٹائپ، ہلاکو خان کی پڑپوتی یا چنگیز خان کی حقیقی جانشین ہو گی پھر تمام اقساط سٹار پلس کہ تھرڈ کلاس چالاکیاں چلتی رہیں گی ہیرو کی ناک کے نیچے اور بعض اوقات ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ہیرو یااسکی اس کی معصومیت کے ریکارڈ توڑنے والی ہیروئین کو خبر تک نہ ہوگی کہ اسکے خلاف کتنی گول یا چوکور میز کانفرنسز ہو رہی ہیں یا پتہ ہوتے ہوئے بھی وہ مظلوم ہستی آخری اقساط تک ظلم سہتی رہے گی پر ہیرو کو ایک لفظ نہیں بتائے گی مزید مظلومیت کا تڑکا لگانے کیلئے ہیروئین کو بن ماں باپ کی بچی جسے چچا، تایا، پھپھی یا ماموں کے گھر چھوڑ دیا جاتا ہے.. ہاں مگر اس بے چاری کو ایک نانی یا دادی دے دی جاتی جو زیادہ تر  سوبر سی پیاری سی صبیحہ ہاشمی صاحبہ ہوتی ہیں… بس پھر ڈرامہ تیار چاہے سو سے اوپر اقساط کرلیں. ہاں آخری قسط تک  زیادہ تر ڈراموں میں ہیرو اچانک چالاکو ماسی ٹائپ  ہیروئین کی باتیں سن لے گا اور اسے نو دو گیارہ کرنے میں ایک منٹ نہ لگاتے ہوئے کر دوسری بھولی بھالی گائے ٹائپ ہیروئین سے شادی کر لے گا… ایسا لگتا کہ ایک کی کہانی نام اور چہرے بدل بدل کر دکھائی جا رہی…نہ اردو زبان کی مت مارنے پر توجہ نہ ڈائیلاگز پر نظرثانی ہوتی ایک ڈرامہ میں سینئر ایکٹر اپنی بیگم سے کہہ  رہے کہ “شکر ہے تمام معاملات نجوبی طے پا گئے” چلو انہیں پتہ نہیں چلا تو ڈرامہ ٹیم ورک ہوتا پوری ٹیم کو آن ایئر ہونے پر بھی احساس تک نہ ہوا کہ”بخوبی” کو “نجوبی” بول دیا… ایسی غلطیاں عام ہو چکی… شاید انہیں لگتا کہ دیکھنے والے بےوقوف ہیں ارے ناظرین کو  یہ بھی پتہ ہوتا کہ ایک ڈرامہ میں ہیرو کو امریکہ جس گھر میں بیٹھے دکھایا جا رہا وہ پاکستانی گھر دراصل ہر تیسرے ڈرامہ میں آ رہا ہے اس سب کا مطلب یہ نہیں کہ اچھے ڈرامے بالکل نہیں ہیں یقیناً کچھ بہت  اچھے بھی ہیں مگر انکی تعداد کم ہے.  ایک اور چیز جو بیزار کرتی وہ انکی  طوالت ہے جو بات ایک قسط میں دکھائی جا سکتی اسے فقط اشتہارات کیلئے کھینچ تان کر دس اقساط میں پھیلا دیا جاتا ہے. عوام کیلئے ڈرامہ سستی تفریح ہوتا ہے.ڈرامہ میکرز  کو سمجھنا چاہیے کہ جو چیز دکھائی جا رہی وہ کچے ذہنوں پر تادیر نقش رہتی ہے لہٰذا اپنی اقدار و روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری موضوعات سامنے لائے جائیں.   

___________

                     تحریر:                   طیبہ صباحت