سنوایسے چلے آو
وبا کو مات دے دو
ماسک گھر ہی بھول آو
یوں ہی آجاو
بتا دو ساری دنیا کو
کہ تم کتنے بہادر ہو
وبا کو مات دے سکتے ہو
لڑ سکتے ہو وائرس سے
یہ ساری دنیا جس نے ہلا کے رکھ دی ہے
بتا دو سب کو
تم ڈرتے نہیں ایسے عذابوں سے
مرے ہمدم! مرے پاگل
توڑ دو ساری حدیں اور
بھول جاو ہجر کے قصے
چلو آو کہ ذرا وصل ہو،
خالی ہیں سب سڑکیں،
یہاں ہیں لوگ سبھی بیمار پڑے گھر پہ
مرے کالج کی ہے چھٹی
اور تم آفس نہیں جاتے
حکومت بھی ہوئی بے بس
سو اب مشکل نہیں کوئی
کھلی چھٹی ہماری ہے
چلو آو
ذرا مل لیں
کہ یہ ملنے کے ہی دن ہیں
نہ کوئی کام ہے نہ کام کی ٹینشن
ہماری زندگی میں اب فراغت ہی فراغت ہے
مگر! سن لو
مجھے ملنے سے پہلے
جوابا خط میں لکھ لینا
کہ تم نے ٹیسٹ کروایا؟
اگر مثبت ہے تو سن لو!
ذرا سا ویٹ کرتے ہیں
تمہاری زندگی اور موت کا ہو جائے فیصلہ۔۔۔
تو ملتے ہیں
میں تب تک اپنے جذبے کو
ذرا قابو میں رکھتی ہوں!

_______________

کلام: شیما قاضی

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف