وہ گرمیوں کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی ۔ آسمان انگارے برسا رہا تھا اور زمین جھلس رہی تھی ۔ ایسے میں جب رحمٰن نے اعلان کیا کہ ہم کل سوات جا رہے ہیں تو میں خوشی سے اچھل پڑی ۔ سوات تو بچپن سے میرے خوابوں میں بسا تھا ۔ جب میرے ماموں اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں گھومنے پھرنے گئے تھے اور واپسی پہ بے شمار تحفوں اور اخروٹوں کے ساتھ خوبصورت یادوں کے بھی بورے بھر لائے تھے ۔ پھر دنوں وہ بورے ہمارے گھر میں کھلتے رہے اور وہ خوبصورت کہانیاں میرے ذہن کے تھیلے میں سمٹتی رہیں ۔ مجھے پوری دنیا کی سیر کا شوق تھا جومیں سفر نامے پڑھ کر پورا کرتی تھی ۔ شادی ہوئی تو میاں ہم ذوق ہی ملا ۔ پر ان دنوں دنیا کا سفر کرنے کے لئے جیب میں پیسے نہ تھے پر ہم موٹر سائیکل پہ شہر میں گھومتے اور سال میں ایک مرتبہ کسی دور دراز مقام کی جانب نکل جاتے ۔ ٹوٹی پھوٹی بسوں میں سفر کرتے،سستے ہوٹلوںمیں ٹھہرتے، ڈھابوں سے کھانے کھاتے، پر رگوں میں جوش کھاتا لہو سرد نہ پڑ سکا ۔ بچے بھی اس شوق کی راہ میں حائل نہ ہو سکے بلکہ وہ بھی سیلانی اور سخت جان ہوتے گئے ۔ سو آج سوات جانے کا سن کر تو جسم میں بجلی سی بھر گئی ۔ خوشی خوشی سب تیاری کی اور اگلے دن منہ اندھیرے نکل کھڑے ہوئے ۔ لاہور سےمردان تک کا سفر تو بہت حوصلہ شکن تھا ۔ بس میں شدید گھٹن تھی اور باہر جھانکو تو تین نجومی اور چار ہیلتھ کلینک کے اشتہارات متواتر چومکھی لڑنے میں مصروف ۔ اکتا کر آنکھیں ہی بند کر لیں ۔ جب بس مالاکنڈ کے سیاہ پہاڑ پہ چک پھیریاں کھانے لگی ، تب خدا کی قدرت یاد آ گئی ۔ منگورہ پہنچے تو ایسی شدید گرمی پڑ رہی تھی کہ لاہور کی گرمی بھول گئی ۔ وہاں کچھ دیر رک کر کھانا وانا کھایا اور پھر سفر شروع ۔ منگورہ سے نکلتے ہی سوات کا حسن کچھ کچھ عیاں ہونے لگا ۔ ایک طرف سر سبز و شاداب پہاڑ اور دوسری جانب ہلکورے لیتا دریائے سوات اور بیچ میں بل کھاتی سرمئی سڑک ۔ بحرین پہنچنے تک سوات کا حسن میرے دل کو اپنی مٹھی میں لے چکا تھا ۔ ایک جانب مٹیالے اور قدرے پرسکون دریائے کالام کی جھلک اور دوسری جانب سفید براق، جھاگ دار اور غضبناک دریائے سوات کی پرجوش آمد ۔ کچھ آگے جا کر دونوں دریاؤں کا سنگم ۔ساتھ ساتھ بہتے ہوئے بھی اپنی اپنی شناخت قائم رکھنے کے چکر میں لہروں کا وہ لڑنا بھڑنا اور آخر ایک دوسرے میں مدغم ہو جانا ۔ کیا ہوش ربا نظارہ تھا دیکھنے والی آنکھ اس میں حیات انسانی کے بہت سے لطیف نکات دریافت کر سکتی تھی۔ میں فطرت کی نیرنگیوں میں کھوئی ہوئی تھی مگر میرے رفیق حیات کو اپنی فیملی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس تھا ۔ سو انہوں نے ایک مناسب سا ہوٹل تلاش کر لیا ۔ رہائشی کمروں میں جانے کے لئے جب ہم سیڑھیاں اتر رہے تھے تو نیچے سے ایسی گڑگڑاہٹ سنائی دے رہی تھی جیسے کوئی مشین چل رہی ہو ۔نیچے پہنچے تو دیکھا کہ ہوٹل کا برآمدہ دریائے سوات کے عین اوپر جھکا ہوا تھا ۔ یہ شور دریا کا تھا اور یہاں سے اس کے حسن کا ایک ایسا دلربا نظارہ یکدم آنکھوں کے سامنے آیا کہ شائد ورڈزورتھ کے سامنے آبی نرگس کے پھول بھی یوں نہ آئے ہوں گے ۔ میں تومبہوت کھڑی رہ گئی ۔ برآمدے میں ایک اور فیملی بھی کھڑی تھی اور ایک گیارہ بارہ سالہ لڑکے نے دریا میں ڈوری ڈال رکھی تھی ۔ ایک دم وہ اچھلا اور تیزی سے ڈور کھینچنے لگا ۔ اور پرجوش نعروں اور تالیوں کی گونج میں ایک تڑپتی ہوئی ٹراؤٹ دریا سے باہر نکل آئی ۔ میرے بچے بھی تالیا ں بجانے والوں میں شریک ہو گئے ۔ بمشکل رحمٰن نے ہم سبکو پکڑ دھکڑ کر اندر کیا ۔ واہ ! دروازہ بند ہوتے ہی شور بالکل ختم ہو گیا ۔ کانوں کو سکون ملا ۔ گرم پانی سے غسل اور چائے کے ایک کپ نے سفر کی تمام کلفتیں دور کر دیں اور ہم ایسے بےخبر سوئے کہ پھر سہ پہر ہی کو اٹھے اور اپنے ننھے سیاحوں کو لے کر گھومنے پھرنے کے لئے نکل گئے ۔ بے شمار لوگ دریا کے کنارے پتھروں پہ بیٹھے تھے ۔ کچھ کیمرے لئے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ۔ ہم اوپر کی طرف جانے لگے جہاں گاؤں کی گلیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں ۔ لٹکتے ہوئے پل کو عبور کر کے ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ گلیاں بہت صاف ستھری ہیں ۔ پتھر اور لکڑی سے بنے مکان سطح زمین سے قدرے اوپر ہیں اور ہر گھر کے نیچے ایک نالی کی صورت ، دریائے سوات کا شفاف پانی لہریں لے رہا ہے ۔ ہم ان پیاری پیاری گلیوں میں گھوم رہے تھےتو ایک لمبا اور دبلا پتلا آدمی کہیں سے نمودار ہوا ۔ عام سواتی طرز کے لباس میں ، ٹوپی سر پہ رکھے، چادر اوڑھے اس شخص نے اتنی اپنائیت سے سلام کیا جیسے پرانی واقفیت ہو پھر بچوں کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور عاشی کو گود میں اٹھا کر پوچھنے لگا ۔

صاحب ! کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟

لاہور سے ۔ رحمٰن نے جواب دیا ۔

لاہور ؟ اس نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا اور گرم جوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا ۔

صاحب ! میں محمد عمر گائیڈ ہوں ۔کہاں ٹھہرے ہیں آپ ؟ اگر ابھی بندوبست نہیں ہوا تو میں حاضر ہوں اور اگر آپ ہوٹل میں ٹھہر گئے ہیں تو پھر میرا مشورہ ہے کہ آپ نیچے ہوٹل میں رہنے کے بجائے اوپر آبادی میں مکان کرائے پہ لیں ۔ نہ صرف اخراجات میں کمی ہوگی بلکہ گھر والا ماحول بھی ملے گا ۔ آپ چاہیں تو مالک مکان چولہا اور برتن بھی فراہم کر دے گا ۔ آپ کھانا خود بنا سکتے ہیں ۔

میری تو جیسے جان ہی جل گئی ۔ میں نے ان پیشہ ور گائیڈوں کے بے شمار قصے سفر ناموں میں پڑھ چکی تھی ۔ ان پہ بنی فلمیں دیکھ چکی تھی کہ ان کا تو دھندہ ہی لوگوں کو ٹھگنے اور بےوقوف بنانے پہ چلتا ہے ۔ اوہو تبھی تو اسقدر چرب زبانی کر رہا ہے ۔ کم بخت کہتا ہے کہ چولہا اور برتن مالک مکان دے دے گا ۔ اگر مجھے چولہا پھونکنا تھا اور برتن مانجھنے تھے تو اپنا باورچی خانہ کیا برا تھا ۔ میں یہاں قدرت کے دلفریب نظارے دیکھنے آئی ہوں یا آلو مٹر پکانے اور روٹیاں تھوپنے ؟ پل بھر میں محمد عمر نے جیسے میرے خیالات میرے چہرے سے بھانپ لئے ہوں، فوراً پینترا بدل کر کہنے لگا ۔

اور اگر آپ خود کھانا نہ پکانا چاہیں تو کھانا مل بھی سکتا ہے جو ہوٹل کے کھانے سے اچھا اور سستا ہوگا ۔

رحمٰن میری شکل دیکھ رہے تھے اور میں دل ہی دل میں بھنا رہی تھی کہ یہ کون آکر خواہ مخواہ چپکا جا رہا ہے ۔ اس نے فوراً بات بدل دی اور پوچھنے لگا کہ کہاں کہاں گھومنے کا ارادہ ہے ؟ کب تک یہاں رہنا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ عاشی اسکی گود میں تھی ۔ اس نے کیمرہ بھی رحمٰن کے ہاتھ سے لے لیا تھا ۔ وہ ہمیں ایک بار پھر لٹکتے پل پہ لے آیا تھا ۔ اسکے پار بھی مکانات دکھائی دے رہے تھے ۔ پل پہ وہ لمحہ بھر کو رکا اور بولا ۔

صاحب ! یہ منظر کیمرے میں بند کرنے کا ہے ۔

مجھے اسکی حسن نظر پہ رشک سا آیا ۔کیونکہ ایسا سنہرا منظر میں نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا ۔ ڈوبتے سورج کی الوداعی کرنوں نے دریائے سوات کے سفید جھک پانی میں جیسے آگ لگا رکھی تھی اور پوری وادی میں شفق کا کوئی ایسا شیڈ اتر آیا تھا جسے کوئی نام دینا مشکل تھا ۔

پل کی دوسری جانب راستہ اتنا مشکل تھا کہ چلنا محال ہو گیا ۔ محمد عمر نے ٹیپو کا کندھوں پہ بٹھایا ، دونوں بچیوں کو بازوؤں میں لٹکا کر لپک جھپک وہاں سے گزر گیا ۔ ہم دونوں بمشکل وہاں سے گزرے ۔ یہاں بھی صاف ستھری گلیاں اور مکان کے نیچے پانی کلکاریاں مارتا نظر آیا ۔ ایک گھر کے قریب پہنچ کر محمد عمر نے کہا ۔

صاحب ! آپ مکان لیں یا نہ لیں ۔ آپ کی مرضی ،پر ایک نظر دیکھ تو لیں ۔ نیچے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا ۔ جہاں چولہے کے قریب ایک خوبصورت مسکراتا ہوا لڑکا بیٹھا تھا ۔ مجھے تو یوں لگا کہ سکندر اعظم کی فوج کا کوئی حسین سپاہی غلطی سے یہاں آ بیٹھا ہے ۔ سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر پہنچے ۔ تین کمروں کا مکان ، برآمدہ، کھلا صحن، ایک طرف باورچی خانہ دوسری جانب باتھ روم ۔ مکان کھلا اور ہوا دار تھا اور یہاں دریائے سوات کچھ اور ہی چھب دکھلا رہا تھا ۔ بلندی سے نیچے آتی پانی کی چادر اور کناروں پہ سرخ ڈھلوانی چھتوں والے مکان اور ان میں جگنو کی سی ٹمٹاتی روشنیاں ۔ ہوٹل کے برآمدے سے تو ایک پر شور نظارہ اور پرہیبت دریا کا کونا ہی دکھائی دے رہا تھا ۔ یہاں اسکی کشادگی اور وسعت کی الگ ہی کچھ بات تھی ۔ رحمٰن تو میرے چہرے سے ہی سب کچھ پڑھ لیتے تھے ۔ مجھے رضا مند سا پا کر محمد عمر سے کرایہ وغیرہ پوچھنے لگے ۔ واقعی ہوٹل کے مقابلے میں نرخ نصف تھے جبکہ فرنیچر اور بستر وغیرہ تقریباً ایک جیسے تھے ۔ محمد عمر فوراً مالک مکان کو بلانے چلا گیا ۔ معلوم ہوا کہ وہ مسجد میں ہیں ۔ اس نے ہمیں فوراً مسجد دیکھنے کی دعوت دی جو اسکے مطابق ڈیڑھ دو صدی پرانی تھی ۔ پتھر سے بنی سادہ سی مسجد نے ہمیں متاثر کیا ۔ فرش پہ قالین سے نرم پرالی بچھی تھی ۔ درختوں کے تنے چیر کر نالیاں بنائی گئی تھیں ۔ جن میں وضو کے لئے دریا کا پانی آ رہا تھا ۔ سب لوگ رحمٰن سے آگے بڑھ کر مصافحہ کرتے ۔ بچوں کو پیار کرتے اور مجھے جھک کر سلام کرتے ۔ مالک مکان صاحب تو یوں ملے جیسے پرانی یاد اللہ ہو ۔ اب میرے دل سے وہ بدگمانی دور ہونے لگی جو محمد عمر کے لئے پیدا ہوئی تھی اورمجھے یقین آ گیا کہ خلوص یہاں کے لوگوں کا خاصہ ہے ۔ محمد عمر نے طے کر لیا کہ وہ کل صبح ہوٹل پہنچ جائے گا اور ہمارے پروگرام کے مطابق ہمیں سیر کروائے گا ۔ صبح منہ اندھیرے اٹھ کرمیں نے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تو مجھے جوش یاد آ گئے جن کا کہنا تھا کہ اگر پیمبر نہ بھی ہوتے تب بھی صبح صادق کا جلوہ ، حق تعالیٰ کی گواہی کو کافی ہوتا ۔ اس ملگجے ، مدھم اندھیرے اجالے میں فطرت کا کینوس میرے سامنے تھا ۔ کاہی سبز فرغل میں ملبوس پہاڑ اور رنگ برنگے مکانوں میں چمکتے روشنی کے جگنو جو دفعتاً تاروں کی طرح آنکھیں پٹ پٹانے لگتےاور سفید جھاگ اڑاتا دریا۔میں نجانے کتنی دیر مبہوت کھڑی رہی پھر دروازہ بند کیا تو یہ طلسم ٹوٹا ۔رحمٰن بھی اٹھ چکے تھے ۔ ہم نے بچوں کو تیار کروایا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے آٹھ بج گئے ۔ محمد عمر کے آنے کے کوئی آثار نہ دیکھ کر ہم نے ہوٹل سے ناشتہ منگوا لیا ۔ بدبو دار انڈے، عجیب سے توس اور بدمزہ چائے پی کر ہم باہر نکلے تو سامنے والے چائے خانے سے وہ دانت نکالتا نمودار ہو گیا ۔

صاحب ! ہم تو صبح سات بجے سے ادھر ہے ۔ سوچا بچہ لوگ بھی ساتھ ہے ۔ صاحب لوگ اتنی جلدی کہاں اٹھے گا ۔ اسی لئے نیچے نہیں آیا ۔

اب اس بات کاکیا جواب ہو سکتا تھا ۔ خیر آج ہم نے میاں دم جانا تھا۔ پہلے مدائن تک کے لئے ایک پک اپ ملی ۔ ڈرائیور نے درخواست کی کہ ایک عورت لوگ کو بھی بٹھا لیں ۔ اس کا بچہ بیمار ہے ۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا ۔ خود محمد عمر بھی اپنے بارہ تیرہ سالہ بچے محمد جواد کو ساتھ لایا تھا ۔ سہمی سکڑی سی عورت ہڈیوں کے ڈھانچے سے بچے کو لے کر ایک کونے میں سمٹ گئی ۔ محمد عمر اور اس کا بیٹا بچوں کو بہلانے لگے ۔ ہم دونوں نظارے دیکھنے لگے لیکن میری نظر بار بار اس عورت اور اسکے بچے پہ پڑ رہی تھی ۔ سوات کا حسن صرف اسکی مٹی میں ہی نہ تھا بلکہ یہاں کے لوگ بھی بے حد حسین تھے مگر اس عورت اور بچے کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ حسن اور جوانی محاورۃً ہی چار روزہ نہیں بلکہ غربت اور فاقے واقعی چار دن مین ساری دلکشی نگل جاتے ہیں ۔ محمد عمر رحمٰن کو باہر ایک منظر دکھا رہا تھا ۔

دیکھیے صاحب ! یہ جو پانی ہی پانی ہے ۔ اس میں ایک درخت کا اوپر والا حصہ دکھائی دے رہا ہے نا ؟ پچھلے مہینے تک یہاں آبادی تھی ۔ ایک رات یہاں پہاڑ پہ بجلی ٹوٹی اور آدھا پہاڑ دریا میں گر پڑا ۔ بس جہاں خشکی تھی وہاں پانی ہو گیا اور جہاں پانی تھا وہاں خشکی ہو گئی ۔ ایک عورت لوگ بھی مر گیا صاحب جی!

میں درخت کی پھننگ کو دیکھ کر سوچنے لگی کہ جو کل تھا آج نہیں ہے اور جو آج ہے کل نہ ہوگا ۔فطرت صرف حسین ہی نہیں ۔ شدید بھی ہے ۔ مدائن سے میاں دم کےلئے ہمیں بڑی بس پکڑنی تھی ۔ یہاں راستہ کشادہ ہو گیا تھا ۔ وادی کھلتی جا رہی تھی ۔ ایک کھالے سے ہاتھ منہ دھو کر ہم بس میں سوار ہو گئے ۔ لوگ بڑی بڑی بوریوں اور دودھ کے برتنوں سمیت یہاں بیٹھے تھے ۔ گندم کی کٹائی ہو رہی تھی۔ تیز ہوا نے بھوسے کو اڑا کر پورے ماحول کو بھوسہ بھوسہ کر دیا تھا ۔ میاں دم پہنچتے ہی محمد عمر چاک و چوبند ہو گیا ۔ پھرتی سے ہمیں میاں دم کا تاریخ جغرافیہ سمجھاتا ، اوپر لے جانے لگا ۔ یہاں پہاڑ کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنائی گئی تھیں اور اوپر قطار در قطار ہوٹلوں کا سلسلہ پھیلا تھا ۔ وہ اپنی مرضی کے ہوٹل میں ہمیں لے گیا وہاں سے نیچے وادی کا پورا منظر سامنے تھا ۔ مگر یہ بحرین کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا ۔۔ واپسی پہ ہم نے ٹراؤٹ مچھلی کا فارم بھی دیکھا جو واقعی حیرت انگیز تھا ۔ سہ پہر تک ہم لوٹ آئے ۔ ہوٹل کا کرایہ ادا کیا اور بیگ اٹھا کر مکان میں منتقل ہو گئے ۔ مالک مکان کی لڑکیاں فوراً ملنے آ گئیں ۔ لڑکیاں گئیں تو میں نے کپڑے دھو کر ڈالے پھر کھلی چھت سے دریائے سوات کا نظارہ کرنے لگی۔ ایک پر فسوں سا غبار ہر طرف پھیلا تھا ۔ کچھ دیر بعد محمد عمر سیڑھیوں پہ نمودار ہوا ۔اسکے ساتھ نیلی آنکھوں اور یاقوت ہونٹوں والا وہی نوجوان تھا جس پہ یونانی دیوتا کا گمان ہوتا تھا ۔ معلوم ہوا کہ یہ اپالو نہیں محمد صدیق ہے ۔ ہماری پیٹ پوجا اور لذت کام ودہن کا تمام تر بندو بست یہی کرے گا ۔ چلیے جناب محمد صدیق صاحب اس وقت تو گرما گرم چائے پلوائیے ۔ رحمٰن نے فرمائش کی تو وہ نیچے چلا گیا ۔ محمد عمر ایک چارپائی پہ بیٹھ گیا اور بے تکان باتیں کرنے لگا ۔ اچانک اسکی زبان تالو سے جا لگی ، آنکھیں چمکیں ، کنوتیاں پھڑکیں ۔ وہ زقند لگا کر چارپائی سے اٹھا اور دیوار کے پاس جا کھڑا ہوا اور گردن لمبی کر کے نیچے جھانکنے لگا ۔ پھر پھرتی سے مڑا ۔ صاحب ! میں ابھی آیا ۔ اور قلانچیں بھرتا سیڑھیاں اتر گیا ۔ مجھے تجسس ہوا ۔ میں دیوار کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ دیکھا نیچے دو انگریز چھوکرے کھڑے تھے اور محمد عمر ان سے انگریزی بگھار رہا تھا ۔ اچھا تو اسکی گائیڈانہ حس نے اسے خبردار کیا تھا کہ شکار آ رہا ہے ۔ جانے نہ پائے-

پل بھر میں ہی محمد عمر پھر اوپر تھا ۔ صاحب چھوٹا چھوٹا لڑکا ہے ۔ بالکل چھوٹا ۔ آپ کی اجازت ہو تو جو یہ باہر کے رخ کمرہ ہے یہاں ٹھہرا دیں ؟ ہاں ہاں ۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ رحمٰن فوراً بولے ۔ اسکے جانے کے بعدکہنے لگے یہ تو ان لوگوں کی وضع داری اورمروت ہے کہ اجازت لے رہے ہیں ۔ ہمیں تو ہوٹل سے کہیں سستا ہے یہ مکان ۔ اتنی دیر میں محمد عمر لڑکوں کو لے کر آ گیا ۔ ابھی ان کی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں ۔ کانوں میں مندرے ڈالے بھورے بھورے بال شانوں پہ گرائے وہ معصومیت سے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔ شائد انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر فیملی مانی تبھی وہ ٹھہر سکتے ہیں ۔ ہم نے خوش آمدید کہا تو محمد عمر ان کے ساتھ معاملات طے کرنے لگا ۔ کچھ دیر میں ہی ایڈم اور الیگزینڈر ہمارے ہمسائے بن گئے ۔ محمد صدیق چائے لے آیا اور ہم سب یوں بے تکلفی سے چائے پینے اور گپ شپ کرنے لگے جیسے پرانی جان پہچان ہو ۔ ثابت ہوا کہ چائے کی پیالی بنی نوع انسان کو باآسانی ایک دوسرےکے قریب لے آتی ہے ۔ چائے کے بعد لڑکے اپنے کمرے میں چلے گئے اور ہم بچوں کو لے کر دریائے کالام کی طرف نکل گئے کہ ذرا کالے دریا کی جولانیاں بھی دیکھ لیں ۔ شام ڈھلی توبازار چلے گئے۔ بھوک لگی تو ایک ریستوران کا رخ کیا ۔میں نے اپنا بیگ کرسی کی پشت پہ لٹکا دیا ۔ کھانا مزیدار تھا ۔ قہوہ بھی بہت خوب تھا ۔ پر بل تو میاں جی نے دینا تھا ۔ اپنی جیب ڈھیلی کرنی پڑتی تو پرس یاد آتا ۔ سو پرس وہیں لٹکا رہا اور ہم آرام سے باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی چند قدم ہی گئے تھے کہ باجی باجی کی صدا نے قدم روک لئے ۔ مڑ کر دیکھا تو ہوٹل کا نو عمر بیرا میرا پرس لئے کھڑا تھا ۔ دل دھک سے رہ گیا ۔ خفیہ خانے میں کافی رقم چھپا رکھی تھی ۔ خوشی سے بچے کو انعام دینا چاہا مگر اس نے لینےسے انکار کر دیا ۔ پھرمیری یہ بھلکڑ پن کی عادت اور اہل سوات کی ایمانداری مسلسل ملاکڑہ کرتے رہے اور جیت انہی کی رہی ۔ جہاں بھی میں کچھ بھولی واپسی پہ مجھے ملتا رہا ۔ آخر میں جب ہم واپسی کے لئے ویگن میں بیٹھے تو عاشی کو اتنی شدت سے قے ہونے لگی کہ اسے سنبھالتے سنبھالتے میں خود نڈھال ہو گئی ۔ میرا بیگ ، وہی خفیہ رقم والا ، میرے کاندھے سے کھسک کر کسی کونے میں جا پڑا ۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا ۔ مردان پہنچ کر جب یاد آیا تو ہم دو ویگنیں بدل چکے تھے ۔ اب کیا ہو سکتا تھا ۔ مگر رحمٰن نے ہمت نہ ہاری اور ہمیں پنڈی، بھائی کے گھر پہنچا کر خود واپس گئے اور منگورہ ویگن اڈے سے میرا پرس مل گیا ۔ حالانکہ خفیہ خانہ دریافت کیا جا چکا تھا ۔ رقم گنی جا چکی تھی ۔ اس خفیہ خانے کی نشاندہی کی بدولت ہی پرس واپس ملا اور کسی نے کوئی انعام نہ طلب کیا اور نہ ہی اصرار کرنے پہ کوئی رقم لی ۔

تو اس رات جب ہم تھک ہار کر گھر پہنچے تو بچوں کو سلا کر میں کچھ دیر کے لئے نیچے مالک مکان کی بیٹیوں سے ملنے چلی گئی۔ہم چارپائیوں پہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ۔ لڑکیوں نے ہر حوالے سے بہت معلومات دیں ۔ کھانے پینے کے بارے میں بتایا کہ گوشت وغیرہ تو کم پکتا ہے ۔ زیادہ تر آلو ، پیاز ٹماٹر کھائے جاتے ہیں یا پھر ساگ جو دودومہینوں کے وقفوں سے اچھے موسم میں اگتے رہتے ہیں ۔ انہیں توڑنے سہیلیاں اکٹھی ہو کر پہاڑوں پہ جاتی ہیں ۔ کھانا ساتھ لے جاتی ہیں ۔ بچاؤ کے لئے سب کے پاس لاٹھیاں ہوتی ہیں ۔ راستے میں پھل بھی چنتی جاتی ہیں ۔ سیر سپاٹا بھی ہو جاتا ہے اور ہفتے ، دس دن کا ساگ بھی آ جاتا ہے ۔ اس روز گھر میں جو ساگ پکا تھا ۔ اس کا نام شوتل تھا ۔ مجھے چکھایا گیا ۔ کافی مزیدار تھا ۔ بھئی اوپر گھنے جنگلوں میں جانور بھی تو ہوں گے ؟ ہاں ہاں ۔ لومڑیاں، سانپ ، ریچھ اور پہاڑی بکرے ہوتے ہیں ۔ پہلے شیر اور چیتے بھی تھے ۔ اب نہیں ہیں ۔ ڈر نہیں لگتا تم لوگوں کو ؟ ریچھ تو بہت اوپر رہتے ہیں اور پہاڑی بکرے بھی ۔ نہ وہ نیچے اترتے ہیں نہ ہم اتنا اوپر جاتے ہیں ۔ لومڑیاں دیکھتے ہی بھاگ جاتی ہیں ۔ بس سانپ سے خطرہ ہوتا ہے ۔ پر اسکے لئے ہماری لاٹھی کافی ہے ۔ اور جب خوب برف پڑتی ہے ۔ تب کیا کرتے ہو ؟ کبھی نیچے شہروں میں چلے جاتے ہیں کبھی یہیں رہتے ہیں ۔ ہر گھر میں ایک اطاق ہوتا ہے پہاڑ کے اندر کی طرف کوٹھری در کوٹھری ۔ آؤ تمہیں دکھائیں ۔ لڑکیاں میرا ہاتھ تھام کر لے گئیں ۔ مٹی سے بنے کمرے کے وسط میں ایک چولہے پہ دیگ رکھی تھی ۔

یہ دیکھو ! یہاں سردیوں میں آگ جلتی ہے ہر وقت پانی گرم رہتا ہے ۔ یہ مویشیوں کا کمرہ ہے ۔ یہ ایندھن ، چارہ اور خوراک محفوظ کرنے کا گودام ہے ۔ ساری سردیاں ہم یہیں رہتے ہیں ۔ خشک میوہ ، خشک گوشت، سبزیاں اور اناج ہماری خوراک ہوتی ہے ۔ جب دل گھبرائے باہر جا کربرف سے کھیل لیتے ہیں ۔ ٹی وی اور فلموں سے بھی دل بہلاتے ہیں ۔ باتیں کرتے کرتے ہم پھر باہر آ گئے ۔ اب وہ میرے سر ہوگئیں ۔ تو نے اتنی باتیں پوچھیں ۔ اب تو بھی بتا نا ۔ میں کیا بتاؤں ؟ تو لاہور میں رہتی ہے ۔ انڈیا کے بالکل پاس ۔ تونے سب کو دیکھا ہوگا ۔ کن سب کو ؟ جواب میں اتنے بھارتی فلمی ہیروز کے نام لئے گئے کہ میں دنگ رہ گئی ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ سب ہر وقت لاہور میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں ۔ بھارتی زیورات اور ساڑھیوں کی بھی وہ دیوانی تھیں ۔ انہوں نے اتنے اوٹ پٹانگ سوال کئے کہ جان چھڑانی مشکل ہو گئی ۔ اوپر آئی تو رات کے ساڑھے بارہ بج چکے تھے ۔ آسمان پہ دودھیا سی روشنی مدھم غبار کی طرح پھیلی تھی ۔ چاند میرے دائیں سمت والے پہاڑ کے پیچھے طلوع ہو چکا تھا پر ابھی سامنےنہیں آیا تھا ۔ البتہ اس کا روپہلا فسوں دریا کو نقرئی چمک بخش چکا تھا ۔ اور مکانوں کے قمقمے پہاڑوں کے جھلمل گہنے محسوس ہو رہے تھے ۔ میں کھلے آسمان تلے بچھے بستر پہ بیٹھ کر دیر تک یہ نظارہ دیکھتی رہی ۔ پہاڑ کی چوٹی سے اچانک چاند نے جھانکا ۔ میں نے اتنا بڑا چاند پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ بالکل نقرئی تھال جیسا ۔ میں نے بستر پہ لیٹ کر آنکھیں موند لیں ۔ صبح موذن کی آواز سے میری آنکھ کھلی ۔ اذان کا اپنا ہی ایک انوکھا حسن ہے ۔ اللہ اکبر کی صدا سیدھی دل میں جا اترتی ہے ۔ دعا مانگ کر میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ ارے رات کو تو یہ چاند دائیں طرف سے جھانک رہا تھا ۔اب بائیں طرف کیسے آ کودا ؟ میں حیرانی سے اس نور پارے کو تکنے لگی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پہاڑی ڈھلوان پہ کسی سکے کی مانند لڑھکنے لگا اورتیزی سے نظروں سے اوجھل ہوگیا جیسے کوئی شریر بچہ خوب اچھل کود کے بعد اب ماں کی سرزنش کے خوف سے گھر کی جانب بھاگا جا رہا ہو ۔ چاند سے تو میری بچپن کی دوستی تھی ۔ میرے ساتھ رکتا اور میرے ساتھ چلتا تھا ۔ آج اتنے قریب سے بھی اسے دیکھ لیا ۔ اندھیرا منہ چھپا رہا تھا اور مشرق سے ایک نئی نویلی، الہڑ، چنچل صبح شفق کی ردا اوڑھے چلتی چلی آرہی تھی ۔ آج مجھے محمد عمر کے گھر جانا تھا ۔ صبح کی مصروفیات سے نمٹ کر میں نے ٹیپو کو اسکے ابو کے حوالے کیا اور عاشی اور خولہ کو لے کر نیچے اتری ۔ ہمارے مالک مکان کے گھر کا دوسرا دروازہ جس گلی میں کھلتا تھا ۔ اس کے عین سامنے محمد عمر کا گھر تھا ۔بینا مجھے اسکے دروازے تک چھوڑ گئی ۔ میں اندر داخل ہوئی تو سامنے محمد عمر کی والدہ چارپائی پہ بیٹھی تھیں ۔ یہ پہلی خاتون تھیں جو مجھے روائتی سواتی لباس میں دکھائی دیں ۔ معلوم ہوا کہ یہ لباس خاص کپڑے سے بنتا ہے اور کڑہائی بھی وقت مانگتی ہے ۔اس لئے اب یہ متروک ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ اب نئے دور کے کپڑے زیادہ مقبول ہیں ۔ دیر پا سستے اور دھونے میں آسان ۔ میں نے سلام کیا تو والدہ نے شفقت سے میرا ماتھا چوما اور پھر سلائی مشین کی طرف متوجہ ہو گئیں ۔۔ معلوم ہوا کہ زیادہ تر روزے سے رہتی ہیں ۔ بات چیت کم کرتی ہیں اور زیادہ وقت عبادت یا سلائی کڑہائی میں مصروف رہتی ہیں ۔ مجھے ان پہ بے حد رشک آیا ۔ اس عمر میں اس سے زیادہ مکتی اور کیا ہو سکتی ہے ۔ محمد عمر کی بیوی سات بچوں کی ماں تھی پر ایسی دبلی پتلی اور پھرتیلی کہ حیرت ہوتی تھی ۔ سرمے میں بسی چمکدار آنکھیں، دنداسے کی ڈلک سے چمکتے دانت اور اخروٹی رنگ رنگے ہونٹوں والی وہ حسینہ لپک جھپک سوئیاں بنا رہی تھی ۔ اسکی نند بھی آئی ہوئی تھی ۔ وہ مصروف تھی اس لئے اسکی نند نے مجھے سارا گھر دکھایا ۔ بکری کے اون سے بُنی گئی رنگین پایوں والی سو سو سال پرانی چارپائیاں ، سواتی کڑہائی کے نمونے ،پرانے برتن ۔ یہ سب کچھ میرے لئے بہت دلچسپ تھا ۔ بچیاں صحن میں بندھی بکریوں سے کھیل رہی تھیں ۔ میں نے واپسی کی اجازت چاہی تو سب خواتین میرے سر ہو گئیں کہ ہم آج رات کا کھانا ان کے ساتھ کھائیں ۔آخر مجھے مانتے ہی بنی ۔ اسکے بعد ہم دن بھر گاؤں میں گھومتے رہے ۔ پن چکی دیکھی ۔ کئی چشموں کی سیر کی ۔ دوپہر کو گھر لوٹے تو صدیق نے آلو گوشت اور تندوری روٹی کھلائی ۔ سہ پہر کو آدم اور سکندر سے بھی ملاقات ہوئی ۔وہ آج دریائے کالام کی طرف نکلے ہوئے تھے ۔ اپنے کپڑے بھی دھو لائے تھے ۔ کچھ دیر میں محمد عمر بھی آ گیا ۔

صاحب ! آپ لوگوں کا بہت شکر گزار ہے ۔ آپ نے غریبوں کی دعوت کو قبول کیا ۔ اپنی پسند بتاؤ ۔ کیا تیار کرواؤں؟آپ بالائی کھاتے ہیں یا دہی ؟ روٹی گھر کی یا تندوری ؟ محمد عمر ! ہم وہی کھائیں گے جو تم کھلاؤ گے ۔ بلکہ ایسا کرو کہ ان لڑکوں کو بھی دعوت دو ۔ یہ ہم سب کے مہمان ہیں ۔ یہ ہماری تہذیب دیکھنے آئے ہیں ۔ خرچے کی فکر نہ کرنا ۔ وہ میں دوں گا ۔ رحمٰن نے کہا ۔ بڑی مہربانی صاحب ! ان کو بتا دیں کہ آج رات یہ بھی محمد عمر گائیڈ کے مہمان ہیں ۔ یہاں بہت مہمان آتا ۔ پر دل کسی کسی سے ملتا صاحب ! آپ پہلے مہمان ہو جو محمد عمر کے گھر کھانا کھاؤ گے ۔ میری بی بی ، بچیاں ، اماں اور بہنیں سب بہت خوش ہیں ۔ پھر مجھے دور بیٹھ کر لکھتے دیکھا تو بولا ۔

آپ کیا لکھتی ؟

یہ جو کچھ دیکھتی ہیں سب لکھ لیتی ہیں ۔ محمد عمر ان سے ڈر کر اور بچ کر رہنا ۔ رحمٰن نے چھیڑا ۔

مگر وہ تو ذرا بھی نہ ڈرا ۔ اشتیاق سے پوچھنے لگا ۔

بیگم صاحب ! آپ یہ سب لکھے گا اور یہ چھپے گا بھی ؟

ہاں ۔ شائد چھپ بھی جائے ۔

نہیں ۔ نہیں ۔ شائد نہیں ۔ آپ سب کچھ لکھو اور اس کو اخبار میں چھپواؤ ۔ میرا حال ضرور بیان کرنا ۔ سچی سچی لکھ دینا کہ محمد عمر بڑا محنتی اور ایمان دار گائیڈ ہے ۔ بڑا تجربہ کار ہے ۔ پر بہت غریب ہے ۔ روزی کا کوئی ذریعہ نہیں ۔

یہ ذریعہ ہے تو ۔ تم گائیڈ ہو اور یہی تمہارا روزگار ہے ۔

بی بی صاحب ! یہ ہوائی روز گار ہے ۔ آج ہے تو کل نہیں ۔۔ سردیوں میں تو ہم جیسے مر جاتا ۔ یہ جو تھوڑا سا موسم ملا ہے ۔ اس میں مہمانوں کے لئے بھاگ دوڑ کرتا اور سوکھی لکڑی بھی جمع کرتا ۔پھر سوکھی روٹی ہے اور سرکہ اور پیاز ہے ۔ کبھی کبھی وہ بھی نہیں۔ بی بی صاحب !بس عید بقرہ عید پہ ہی ہمارے گھر تڑکہ لگتا اور ہم دو چار بوٹی چکھ لیتا ۔ زیادہ تو فاقے پہ فاقہ ہے اور بس ۔امیر آدمی تو مزے کرتا ۔ بیٹھے بیٹھے ہاتھ سینکتا ہے اور کھاتا ہے ۔ غریب کے لئے موت ہے ۔ پہننے کو کپڑا نہیں ۔ کھانے کو اناج نہیں ۔ بی بی صاحب ! حکومت کو بولو۔ غریب کے لئے کچھ سوچے کوئی کام دے ۔

وہ بولتا جا رہا تھا اور میرے خیالوں میں بینا ہنس ہنس کر کہہ رہی تھی کہ ہم نیچے نہ بھی اتریں تب بھی ہمارے مزے ہیں ۔حرارت بھرا اطاق اور اس میں زندگی کی ہر نعمت ۔ اکتا جاؤ تو باہر جا کر برف سے کھیلو ۔ واہ پیسے کی حرارت زندگی میں کمال کردار ادا کرتی ہے ۔ میں اپنی سوچوں میں ڈوبی تھی اور سب اٹھ کر ادھر ادھر ہو چکے تھے ۔ میں نے بچوں کو نہلا کر انہیں دودھ دیا اور پھر وہ کپڑے لینے نیچے چلی گئی جو میں نے کل بینا کے ساتھ گلی والے چشمے پہ دھوئے تھے اور وہیں ان کے صحن کی الگنی پہ ڈال دئیے تھے ۔ نیچے گئی تو بینا کہنے لگی ۔

آؤ سہیلی باتیں کریں ۔ تم سے باتیں کرنے کا بڑا مزہ آتا ہے ۔

نہیں ۔ ابھی کچھ دیر میں محمد عمر کے گھر جانا ہے ۔ آج رات کا کھانا ان کے گھر ہے ۔

اسکی توابھی اپنے سالوں سے زبردست جنگ ہوئی ہے ۔ اسکی بیوی بچوں کو لے کر بھائیوں کے ساتھ چلی گئی ہے ۔ وہ بھی کہیں غائب ہے ۔

ارے نہیں کچھ دیر پہلے ہی تو اوپر بیٹھا ہم سب سے باتیں کر رہا تھا ۔ سارا پروگرام طے کر کے گیا ہے ۔

ہے نہیں، تھا ۔ اب پتا نہیں کہاں ہو گا ۔ ابھی پندرہ منٹ پہلے ہی تو ہنگامہ ہوا ہے ۔ اس کا غصہ توبہ توبہ ۔ ہانڈی اٹھا کر نیچے پٹخ دی ۔ بیوی تو ڈر کے مارے بھائیوں کے ساتھ چلی گئی ہے ۔

وہ خوب ہنس رہی تھی ۔ میں حیران پریشان اوپر آئی ۔ باہر والی سیڑھیوں سے وہ صاحب بہادر ہانپتے کاپنتے آ رہے تھے ۔

صاحب ! بڑی گڑ بڑ ہوگئی ۔ میرے سالے بہت خبیث ہیں ۔ انہوں نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ گھر پہ آ کر لڑتے ہیں ۔ صاحب ! میں تو دعوت کے انتظام میں لگا تھا۔ وہ دیکھو صاحب ! وہ جو پگڈنڈی پہ گرتا پڑتا بھاگا جا رہا ہے وہ میرے بدبخت سالوں میں سے ایک ہے ۔یہ تھانے جا رہا ہے ۔ صاحب ! میری مدد کرو ۔ میں دوسرے راستے سے اس سے پہلے تھانے پہنچوں گا ۔ صاحب بڑا افسوس ہے ۔ آپ کی دعوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رحمٰن نے اسکی مٹھی بند کرتے ہوئے کہا ۔

بھاگ جاؤ محمد عمر ! کہیں تمہارا سالا تم سے پہلے تھانے نہ پہنچ جائے ۔

اس رات ہم نے محمد صدیق سے کھانا بنوا کر آدم اور سکندر کی دعوت کی ۔ انہیں سوات کے انتہائی شریں سردے بھی کھلائے ۔ دونوں خوش ہو ہوکر تفصیلات نوٹ کر رہے تھے ۔ ان کا ارادہ تھا کہ لندن جا کر وہ اپنی یاداشتیں چھپوائیں گے تو جنوب مشرقی ایشیاء کے سفر کا سارا خرچہ نکل آئے گا ۔ میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اپنی ڈائری کو بے دلی سے ایک طرف ڈال دیا ۔ رحمٰن کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔ اگلے دن ہم عازم کالام ہو گئے واپسی پہ مالک مکان نے بتایا کہ محمد عمر نے اپنے ایک سالے کی اچھی خاصی پٹائی کی تھی اور اب تھانے دارکے ڈر سے چھپا پھر رہا ہے ۔ بیوی بھائیوں کے گھر ہے اور والدہ کو بیٹیاں لے گئی ہیں ۔ اب اگر ہم اسکی ضمانت کروا بھی دیں اور وہ آ بھی جائے تو گھر کیسے چلائے گا ۔ اس لئے وہ اوپر ہی پہاڑوں میں چھپا بیٹھا ہے ۔

محمد عمر گائیڈ سے میری دوبارہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی ۔ لیکن جب بھی میں کسی پہاڑی مقام پہ جاؤں ۔ مجھے اس کا خیال ضرور آتا ہے ۔ وہ غصیلہ ضرور تھا مگر اسکی باتوں میں کتنا سچ تھا ۔ غربت نے اسکے اندر کڑوا پن بھر دیا تھا مگر اسکی شخصیت کا کھرا پن مٹ نہیں سکا تھا ۔ لو محمد عمر ! میں نے سچ سچ لکھ دیا ہے کہ تم سفر ناموں اور فلموں والے گائیڈ نہیں بلکہ بہت سچے ، کھرے اور اچھے انسان ہو ۔

_____________

تحریر: رضوانہ علی سید

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف