اے جذبہ دل گر میں چاہوں،ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

ہم میں سے کون ہے جسے یہ غزل پسند نہیں،جس نے کبھی منزل کو چھونے کی خواہش نہیں کی۔خواب تعبیر کے لئے ہی تو دیکھے جاتے ہیں۔

Ambition

اچھی چیز ہے مگر ہم انسانوں کو بھاتی نہیں۔اس کا سسٹم ہماری دنیا کے ساتھ میل نہیں کھاتا۔ایمبیشن اندھا دھند ایک سفر ہے مگر کامیاب زندگی ہر دوسرے موڑ پر ہماراسر جھکاچاہتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ جو راہ وہ ہمیں پیش کرے ہم اس پر چلیں۔ہم مظطرب ہیں کہ جو ہم نے چاہا وہی ہم کو ملے۔ایمبیشن قناعت کا متضاد ہے۔ملتا دونوں میں کچھ نہیں ۔فرق صرف سکون اور بے سکونی کا ہے۔ورنہ ذندگی سے تو انساں وہی پا سکتا ہے جو بلآخر ہمارے مقدر میں لکھ ہی دیا گیا ہے،لڑ کر بھی،جھک کر بھی،سلامت بھی اور زخمی ہو کر بھی ملنا تو وہی ہے جو مقدر ہے۔مجھے اپنا وقت یاد آتا ہے جب مجھے بھی اور مجھ سے بھی بڑھ کر میرے احباب کو یقین تھا کہ یہ ضرور کچھ کر دکھائےگی۔مگر ذندگی نے کہا اب ایسی بھی میں آساں نہیں!

۔مجھے لگتا تھا مجھ سے بڑھ کر رنگوں سے کوئی کھیل نہیں سکتا،میں نہ گئی تو ایسے بڑے بڑے فائن آرٹ کے کالج کس کے لئے ہیں بھلا۔مجھ سے بڑھ کر آرٹسٹ کون ؟

۔میں جو سالہا سال اسکول اور کالج میں مصورہ کہلاتی رہی ہوں۔سالوں تک میری سکول اور کالج فیلڈز میرے پاس سے گزرتے ایک دوسرے سے کہتی تھیں یہ مصورہ ہے۔مجھے بارہویں میں بھی یقین تھا ۔”رکھ دو چاہے جو مرضی سامنے ،میں بنا سکتی ہوں!”

مگر میں فائن آرٹس کے لئے نہ جا سکتی تھی۔یہ میری اوقات سے بہت اونچا خواب تھا۔ابا ہیروں کے اسمگلر نہ تھے اور جینز پہن کر بیٹھی رنگوں میں لپٹی لڑکیاں ان کا شعور قبول نہ کر پاتا تھا۔پھر بڑے شہر تک کا گھنٹوں کا سفر،دن بھر کا،اتنی دور محض فائن آرٹ کے لئے،،،،نا ممکن تھا۔اور میرے چھوٹے شہر میں آج سے پچیس سال پہلے فائن آرٹس کا کہیں کوئی شعبہ نہ تھا۔سو مجھے فائن آرٹس کو چھوڑنا ہی تھا،چھوڑ دیا!

ایف ایس سی اس دریا کی طرح عبور کیا جو خواہ مخواہ کا ایک آگ کا دریا بن کر سامنے آ جاتا ہے۔سو آگے جانا تھا تو اسے پار ہی کرنا تھا۔تیسرے سال میں پہنچی تو ہر جگہ ہر قسمت پر آمین پڑھتی لڑکی اڑ گئی۔کوئی کہے میتھ پڑھو،ایم بی اے ،ایم سی ایس جیسے گلیمرس مضامین!”میرے پاس خود اتنا گلیمر ہے۔” میری بے نیازی!مجھے گلیمرس چیزوں کے پیچھے بھاگنے کی کبھی طلب نہ رہی تھی۔ابا جی کی ہمیشہ سے سوچ یا بیٹی ڈاکٹر یا پروفیسر / ٹیچر! اور بس!چناچہ فزکس کیمسٹری یا بائیو میں سے کچھ نہ کچھ لینا چاہیے۔اور میں اس بار انگلش لٹریچر پر اڑی کھڑی تھی۔

شہر کے واحد کالج میں اچھا پڑھانے والے نہیں۔۔۔نہ سہی
ایم بی اے،ایم سی ایس؟ اعلی کرئیر ،اچھے رشتے!نہیں! نہیں! نہیں!

میں رنگوں خوشبوؤں کی لڑکی نچڑ کر رہ جاتی۔مجھے تو کہانیوں میں جینا تھا،تصور کی تصویروں میں رنگ بھرنا تھا۔مجھے تو ہواؤں کی سرگوشیاں سننی تھیں،موسموں کے ترانے لکھنے تھے۔میں تو ان وزنی کتابوں کے بوجھ میں دب کر مر جاؤں گی۔

مجھے خبر نہ تھی کہ مرنا ہو تو انسان ہر حالات ہر موسم میں مر ہی جاتا ہے۔

انگریزی ادب کی کلاس میں ٹوٹل سات لڑکیاں،سائکالوجی میں اسی۔دونوں محبوب مضامین۔ایسے جن سے دل لگ سکتا تھا۔سو لگ گیا.ایمبیشن اور اس کی طرف جاتا رستہ۔شراب اور نیند کی گولیوں کا جوڑ! مار دینے والا!

پڑھتے پڑھتے ریسرچ میں گم ہو جاتی،سیاق و سباق ڈھونڈتی کہیں سے کہیں نکل جاتی۔ہر حوالہ حسب توفیق کھول کھول دیکھتی،چیزوں کو دور تک پھیلا کر سمجھتی۔کتاب کو پہلے لفظ سے شروع کرتی اور آخر تک پڑھتی تو جانا کہ کیسی بیکار کتابیں تھی کتاب محل کی ۔وہی چند باتیں اور الفاظ تین سو صفحات پر آگے پیچھے کر کے دہراتے رہتے تھے۔آنکھوں میں ایک بڑی اونچی عالیشان درسگاہ کے سپنے جگائے۔

Center of all the cream of English literature

یہ اخبار سے کٹی سطر میری کتاب پر لگی تھی۔میں خود کو تصورات میں لال عمارت کے انگریزی ادب شعبے میں، کلاس کی سب سے اگلی کرسی پر بیٹھے دیکھتی تھی۔ایک زہین فطین سٹوڈنٹ کی آخری منزل وہاں تھی تو پھر مجھ سے زیادہ کون حقدار تھا؟

تھرڈ ائیر کے رزلٹ آئے تو سائیکالوجی کی سنئیر پروفیسر نے کلاس میں کھڑا کر لیا:

” میں نے آج تک کسی سٹوڈنٹ کو اتنے نمبر نہیں دئیے!” انہوں نے کہا تھا۔میرا پرچہ ان کی زندگی کی تاریخ کا سب سے بہتر پرچہ تھا۔میں لال سرخ چہرہ لیکر ایسے سنتی رہی جیسے تعریف کی بجائے سزا سن رہی تھی۔میں شرمیلی کبھی نہیں رہی۔تماتر تعلیمی سفر کسی نہ کسی طرح سٹیج پر ہی گزرا۔مگر تعلیمی میدان میں یہ غیر معمولی جملے انتہائی غیر متوقع تھے۔سہیلیوں نے بٹھا کر تسلی دی۔کچھ نہیں تعریف ہی ہوئی ہے!

اگلے دن انگلش ادب کا رزلٹ آیا اور میں کالج سے غیر حاضر!

حمیرا نے فون پر داستان سنائی۔

“ٹیچر نے ہمیں دیکھا تو سب سے پہلے پوچھا

‘صوفیہ نہیں آئی’

“ہت تیرے کی،ہم نے سوچا۔۔۔۔۔۔یہاں بھی صوفیہ ہی جیت گئی!”

صوفیہ کے لئے یہ وقت انمول اور مکمل طور پر اوقات سے باہر کا تھا۔اس کا خواب بھی نہ دیکھا تھا۔خدا نے میری جھولی بن مانگے موتیوں سے بھری تھی۔ہمارے گھر میں میری بہن کی صورت ایک ڈاکٹر بنتی بہن موجود تھی سو ہمیں ہر قابلیت کے لئے انکے ناپ سے جوڑ کر دیکھا جاتا۔اور ہم ہمیشہ کمتر نکلتے!سو نمبر ون کا سپنا آنکھیں کم ہی دیکھ پائی تھیں۔ہاں مگر ایک اور سپنا مزید تر پختہ ہوا۔

انگلش ادب کے معراج ادارے سے نیچے کچھ بھی سوچنا گناہ تھا۔خود کو معتبر کرنے کا،خود کو مکمل کرنے کا! جس تاج کی مجھے ضرورت تھی وہ اسی منزل کو چھونے کا تھا۔

لیکن ہر سپنا پورا نہیں ہوتا!

فورتھ ائیر کے فائنل امتحانات میں سائیکالوجی کا پریکٹیکل تھا۔ایکسٹرنل کوئی نیا بھرتی شدہ تھا اور انتہا کا شوخا۔پریکٹیکل ہال میں پہلے ہی ڈری سہمی سر جھکائے لڑکیوں کے بیچ بولتا ہی جاتا تھا،دھمکیاں ہی دھمکیاں،”کوئی بولی،تو فیل،میں ایسا سخت،میں ایسا بے درد”____پھر جب خاتون پروفیسر جو کسی دوسرے شہر سے آئی تھیں کے پاس بیٹھتا تو ان کی خوشامد کرتا،اور وہ سارا اعتماد اس کے کندھوں پر الٹ دیتیں

،اتنی ہراسانی!( اور ہاں تب مجھے خود بھی پتا نہ تھا ہراسانی کہتے کس کو ہیں بس اتنا پتا تھا ناقابل برداشت گھٹن تھی ، لڑکیاں مزید سہمی جاتی تھیں اور اس کی بک بک سے میرا سر دکھ چکا تھا

“آپ پلیز اب چپ کر جائیں،آپ کے مسلسل بولنے سے ہمارا پیپر خراب ہو رہا ہے!”

ایسی لمبی زباں تھی میری،میں ہی بول سکتی تھی سو میں ہی بولی تھی۔

کچھ دیر کو افاقہ ہو گیا
مگر عمر بھر کا روگ لگ گیا!

اس کے پاس مجھے فیل کرنے کا اختیار تھا!

کئیوں نے ڈانٹا،کئیوں نے سمجھایا،یہ کیا کیا؟تمھاری ساری محنت پر کالک پھیر دی تو؟؟؟؟،مگر اپنے سچ پر پکا بھروسہ تھا۔غلط بات نہیں کی،وہ غلط تھا،ڈرائے جا رہا تھا بلا مقصد!مگر یہ کونسی دنیا ہے جس میں حق کو سراہا جائے ۔میں ہر طرف سے چھان پھٹک کر دیکھتی اور خود کو صحیح لگتی۔کوئی ایسا کینہ پرور کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے لکھے ہوئے کو کراس کر کے مجھے فیل کر دے! یقین نہ آتا۔جس پر یقین نہ ہو وہی دکھانے کے لئے شاید یہ دنیا بنی ہے۔

میں ایم اے انگلش کا سلیبس خرید چکی تھی کتابیں پڑھ رہی تھی۔لاہور جانے کی تیاریوں میں مگن تھی جب رزلٹ آیا!

ہر مضمون میں اعلی نمبر لئے تھے بس سائیکالوجی میں فیل تھی۔۔۔۔۔۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کچھ غلط پرنٹ ہوا ہو گا! میں پھر بھی احمقوں کی جنت میں تھی رزلٹ کارڈ آنے دو! رزلٹ کارڈ آیا تو فیل سائیکالوجی میں نہیں اس کے پریکٹیکل میں تھی۔۔۔

اماں ابا نے ڈانٹا ہو گا بہن بھائیوں نے طعنے دیے ہونگے،للکارا ہو گا،،،مگر وہ جو تنی گردن ٹوٹی تھی،اس کی تکلیف کا کوئی انت نہ تھا،وہ جو آسماں سے گر گئی تھی،اس کی چوٹ سہی نہ جاتی تھی۔

مجھے تو کہاں جانا تھا
مجھے تو کیا سے کیا بننا تھا
میرے ساتھ کے سب کے سب پاس ہوئے

سب آگے بڑھ گئے،میں گر گئی!


روتی تھی،دن بھر،تمام رات! جانے کتنے دن،صبح شام لگاتار روتی رہی،ایسا روئی کہ لوگ حال پوچھنے آنے لگے۔کالج کے چکر لگے تو لوگوں کو سر اٹھائے پاس ہونے کا کارڈ لئے شادماں و کامران دیکھتی۔وہ لڑکیاں جو آخری بینچز پر بیٹھتی تھیں،دور دور سے مجھے حسرت سے دیکھتی تھیں اور مجھے کسی سلطنت کی شہزادی سے کم نہ سمجھتی تھیں،میں ان کے سامنے ٹوٹے ہوئے درخت کی طرح جڑوں سے اکھڑ کر گر چکی تھی۔۔۔۔مگر ابھی کچھ ذندگی کی رمق باقی تھی
مرنے سے پہلے اپنا مقدمہ لڑنا تھا
درخواستیں لکھیں،جانے کس کس اخبار میں،کس کس محکمے میں،کس کس کے نام انکوائری کے لئے! میرا پرچہ موجود ہو گا! مجھے انکوائری چاہیے تھی
میری تکلیف میں میرے ابو میرے ساتھ کھڑے ہوئے،مجھ سے زیادہ درخواستیں انہوں نے بھیج دیں۔مگر تکلیف تھی کہ کم نہ ہوتی تھی

میری ذندگی میں والد صاحب کا کردار:پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں!


درد سنبھلتا نہ تھا!

پیچھے رہ جانے کی تکلیف! اس لمحے اس،سال اس کارواں سے نکل کر پیچھے رہ جانے کا دکھ!

مقدمہ لڑ نہ سکی!فائلیں کھلنے سے پہلے ہوش و حواس گنوا بیٹھی!

آس پاس والے سمجھانے آنے لگے،سہیلیوں کو دعوت دے کر بلایا جانے لگا کوئی اسے سمجھائے،پھر ایک رات چیخیں مار کر اٹھی تو آس پاس انجانے چہرے نظر آتے تھے،خالی سڑکوں پر لوگ مجھے آوازیں دیتے تھے،ہر نکڑ پر کوئی نہ کوئی مجھے پکار رہا تھا،میں بھاگتی،مجھے پکڑا جاتا،سمجھایا جاتا،میں سمجھنے کی حد سے گزر چکی تھی!!!میرے دل اور دماغ میں جو واحد ردھم کا رشتہ تھا ٹوٹ چکا تھا!

ایک طویل تر عذاب شروع ہوا۔ایک ڈاکٹر سے دوسرا،ایک شہر سے دوسرے شہر،ایک درگاہ سے دوسری درگاہ،ایک فقیر سے دوسرا فقیر۔۔۔۔میرا غریب باپ مجھے لئے کون کون سی چوکھٹ پر نہیں پہنچا۔۔۔۔۔انیس سال کی حسین،مغرور،خودپرست لڑکی کو چار چار لوگ سنبھال کر لے کر جاتے،کہھں بھاگ نہ جائے کسی طرف،کہیں گم نہ جائے!۔۔۔۔

جانے کتنے دن ،کتنی راتیں میں دن رات سو نہ پاتی تھی۔نیند کے ٹیکے سے بھی بس زرا سی غنودگی ہوتی پھر اٹھ کر بھاگ پڑتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کب جانے کیسے آہستہ آہستہ غنودگی بڑھنے لگی،ہاتھ پاؤں سست ہوئے،نظروں میں بھاگتی تصویریں رکنے لگیں۔۔۔۔۔اور میں دوائیوں کے زیر اثر بستر پر پڑی دیواروں کو دیکھتی سونے لگی۔

مجھے یہ یاد ہے کہ ڈائری پر اگست کی آخری تکلیف دہ درد بھری پوسٹ کے بعد اگلی پوسٹ اکتوبر کے کسی دن کی تھی، ٹوٹی پھوٹی تحریر میں دو تین لفظ اپنی واپسی کے لکھنے کے قابل ہو سکی تھی۔۔۔۔۔ان دو تحریروں کے بیچ کا وقت گمشدہ تھا!!!!!!

دوائیں اپنا کام کر کے میرے ٹوٹے دماغ کو جوڑ چکی تھیں مگر ذندہ ہونے کے لئے ابھی ایک طویل ترین سفر درکار تھا۔وہ دماغ جو ریزہ ریزہ بکھرا تھا اب گوند سے جوڑا جا رہا تھا۔زلزلے چلے گئے تھے اب سکوت کی باری تھی۔بجتے ہوئے دل اور دماغ میں سناٹے طاری تھے۔جسم ایک مومی مجسمے کی طرح اکڑ گیا تھا،ہاتھ پاؤں جسم ہلتے تو کراہنے لگتے،منت کرتے ہمیں مت چھیڑو!کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔انیس سالہ شعور صفر ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔اور ہاں! اس دوران دفتری انکوائری کا ایک نیا سلسلہ بھی کھل چکا تھا۔کتنے کالجز میں حاضریاں ہوتیں،کبھی وہ لیکچرر نہ پہنچتا،کبھی جج نہ آتا،کبھی پرچے نہ ملتے! مجھے پکڑ کر لیجایا جاتا،میں کھلی آنکھوں سے کچھ دیکھے سنے، کچھ سمجھے بغیر واپس آ جاتی۔میں مقدمہ لڑنے کے قابل نہ تھی۔

مٹھی بھر بھر دوائیں،روزانہ کے انجیکشن،ڈاکٹر وزٹ،وزٹ،وزٹ! دوائیں کھاتی رہی اور یہ موت بھری زندگی جیتی رہی۔مقدمہ چلتا رہا اور درجنوں پیشیوں کے بعد ایک دن میرے سامنے ایک پرچہ اور ایک سوالنامہ رکھ کر دکھایا گیا کہ دیکھیں سوال کچھ ہیں جواب کچھ،۔ سب کے سب جواب کسی اور سوال کے تھے۔ دیکھتے دیکھتے میں مقدمہ ہار گئی۔عرصے بعد سوچا ایسا کبھی ہو نہیں سکتا کہ کوئی ہوش و حواس میں سارے ہی لمبے لمبے جواب غلط لکھ آئے۔مگر اس وقت کون جان سکتا تھا کہ وہ پرچہ کب کون سے بینچ ،کونسے گروپ کا تھا!!!!اس پرچے کی تصدیق کی واحد گواہی میں تھی اور میں گواہی دینے کے قابل نہ تھی

مہمان حال پوچھنے آتے،ترس بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے،میں مسکین بنی سہتی! کیا کیا نہ زبانیں چلی تھیں،،کیسے کیسے بہتان میرے نام پر لگے تھے۔بھلا ایسے کیسے ایک جوان حسین لڑکی پیپر کے لئے فیل ہو سکتی ہے۔ضرور ہی ہو گا کوئی چکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانے کتنے چکر کس کس نام سے میرے نام پر لگے!جانے کس کس عزیز اور دوست کی زباں سے!!!!

اب سناٹے تھے، خموشی تھی اور موت تھی۔اماں ابا بھائی سمجھاتے،ڈائری لکھو،شاعری کرو،کوئی رنگ لیکر آتا،پینٹنگ کرو!میں چیزوں کو دیکھتی ،دیکھتی رہتی۔اندر کوئی نقش بنتا ہے جس کی نقل بنانے کو انسان قلم اور برش اٹھاتا ہے۔۔۔۔میرے اندر کوئی نقش نہ تھا۔۔۔۔۔۔میرا دل دماغ خالی قبر تھا جس سے کوئی کونپل نکلتی نہ تھی۔

دن گزرنے لگے۔ دوائیں کھا کھا کرمیرا چہرا سوج چکا تھا!تب سپلی کے امتحانات آئے۔داخلہ بھجوایا گیا تھا مگر جانے کی حالت نہ تھی۔۔بہنیں ساتھ پکڑ کر لیکر جاتیں۔پیپر پکڑا تو ایک لفظ نہ لکھا گیا۔ہاتھ ہلتا نہ تھا۔یاداشت بھی کاغذ جیسی کوری تھی۔۔۔۔۔۔اسی طرح اٹھا کر واپس لے آئیں!

۔پھر اگلے امتحان آئے کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگتا تھا سال بھر بعد بھی سب آتا ہے۔۔۔۔مگر کچھ نہ آتا تھا نہ یاد ہوتا تھا۔یاد کیسے کرتے ہیں،کیسے سمجھتے ہیں کچھ خبر نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلآخر گھر والوں نے ایک آسان سا پنجابی مضمون ڈھونڈا۔کئی ماہ تک ابا نے بٹھا کر چند فقرے یاد کروائے تو مشکل سے چالیس نمبر لیکر پاس ہوئی۔

ان دو سالوں کے عرصے میں میری ہر دوست،مجھ سے مقابلے کرنے والی،میری قابلیت کو حسرت سے دیکھنے والی ہر لڑکی یونیورسٹی پاس کر چکی تھی جب میں پنجابی کا ایک پرچہ پاس کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی۔

دو ہزار سے دو ہزار دو تک ،،،ایک آزمائش کا سفر تھا۔۔۔۔۔مگر بس یہیں تک نہ تھا!!!

مجھے واپس زندگی میں لانا تھا۔۔جامد دماغ کو رواں کرنا تھا یہ محض میرے باپ کی محنت تھی۔میری یہ زندگی انکی کوششوں کی دین ہے دو ہزار تین تک ہاتھ پکڑ کر کس کس منزل سے گزارا میرے باپ نے کہ اس قابل ہو سکوں کہ انسانوں کی طرح کسی نہ کسی طرح ذندگی جی سکوں۔

اس قابل ہوئی تو پھر ایک اور آزمائش تھی۔میں ایک دکھتا پھوڑا تھی۔مجھے دوسرے شہر پڑھنے کیسے بھیجا جا سکتا تھا۔ایک موت سے نکلی تو یہ دوسری موت سامنے کھڑی تھی۔اور میں دونوں کے بیچ جاں بلب کھڑی تھی۔۔۔۔اتنی محنت سے ذندہ رکھا ہے تو اب جینے دو!

اب تو جینے دو!

اور ماں باپ سوچتے ہونگے کس مشکل سے اسے ذندہ رکھا ہے اب کیسے نئی مشکل میں اتار دیں۔۔۔۔

وہ اگلا دروازے کھلتا نہ تھا،ایک سے ایک اور مشکل آگے کھڑی تھی۔۔۔۔

تو جب پھنس گئی ،جینے کی خواہش اور کھینچتی موت سے لڑتے لڑتے تھک گئی تو ایک روز کئی نیند کی گولیاں کھا لیں۔۔۔۔

۔اور کھا کر رو پڑی۔اللہ سے معافی مانگی اسے بتایا

“یا اللہ! مجھے حرام موت نہیں مرنا تھا،مگر یہ دنیا مجھے جینے  نہیں دیتی !”

میں نے دیکھا جسم نیچے تھا میں اس سے کم سے کم دیڑھ دو فٹ اوپر تھی۔۔۔۔۔جب کوئی جسم کو اٹھا کر یا کھینچ کر بھاگا۔۔۔مجھے خبر نہیں،کیونکہ میں تو اس سے زرا اوپر تھی________

بچ گئی بلآخر! گھر والوں نے گھٹنے ٹیک دئیے۔ آہستہ آہستہ ایک قریبی یونیورسٹی میں میرا داخلہ کروا دیا گیا جہاں میرا چھوٹا بھائی داخل تھا______کوئی خیال رکھنے والا ہو گا!

کبھی انسان محبت کے لئے مرتا ہے کبھی محبتیں انسان کو مار دیتی ہیں!!!!

اس کا کیا ذکر کہ ماسٹرز کے دو سال میری نئی زندگی کی آزمائش تھے۔بیچ فیلوز نوکریاں شروع کر چکی تھیں مجھے ابھی ایم اے کرنا تھا۔اپنے سے کم عمر لڑکیوں کے بیچ تنہا رہ کر ذندگی پھر سے جینی تھی صفر سے شروع کر کے اوپرچڑھنا سیکھنا تھا۔

اتنے کرائسز بھگتے تھے کہ یقین نہ تھا کہ پڑھ بھی سکوں گی___پاس بھی ہو سکے گا؟ جو یاد کیا وہ لکھ سکوں گی؟ تھوڑی سی جوشیلی ہونے لگتی تو خود کو پکڑ کر بٹھا لیتی! نہیں! نہیں! مجھے اب کوئی ریس نہیں لڑنی۔میں ڈر گئی تھی،اب ہر مقابلے سے ڈرتی تھی۔پھر بھی ۔۔۔پڑھ بھی گئی ، اچھے نمبروں سے اچھے درجوں میں پاس بھی کر گئی۔اس آزمائش سے پار اتر گئی۔

ہاں لیکن اس تین سالہ کرائسز نے زندگی کا ڈی این اے بدل کر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔ذندگی دوبارہ سے شروع کی تو ہزار طرح کی کمزوریاں تھیں ہزار طرح کے خوف۔۔۔۔پتہ بھی ہل جائے تو ڈر جاتی تھی۔خود کو ہر قدم پر سنبھالنا پڑتا تھا مگر کمزور انساں تھی بہت بار ٹھوکر کھا کر گر جاتی تھی۔ان سالوں نے کرونا کی طرح کئی گہری جڑیں گاڑیں جن کا خمیازہ عرصے تک اٹھاتی رہی۔ایک قدم غلط پڑھ جائے تو انساں منزل سے کتنی دور چلا جاتا ہے،میرے تو میلوں کے سفر غلط تھے،تو آنے والی کئی منزلیں بھوت بنگلہ نکلیں___!

وہ ایکسٹرنل لیکچرر۔۔۔۔اس کے کئی کیسز ایسے تھے اور کئی انکوائریز اس پر چلتی رہتی تھیں۔میں ہار گئی مگر کوئی اور تھا جو جیت گیا،سو جلد ہی وہ رسوا ہو کر نوکری سے نکالا گیا!!!!!

اور ہاں۔۔۔۔۔۔۔میری کتاب ” گہر ہونے تک” پچھلے سال گورمنٹ کالج یونیورسٹی میں ایم فل کے تھیسز میں ریسرچ کے لئے دی گئی ہے۔۔۔۔اس میں میرا کوئی ہاتھ نہ تھا۔۔۔بس خدا کی عنایت تھی۔وہ جس تک میرے قدم نہ پہنچ سکے تھے،مگر کتاب پہنچ گئی تھی۔۔۔ہے ناں زندگی کسی ناول اور کہانی سے بھی زیادہ پیچ دار!

تو ذندگی میں بے پناہ خواہش سے سوائے تکلیف کے کچھ نہیں ملتا۔ہمیں بے پناہ خوبصورت،قابل ترین ،کامیاب ترین فرد، ہو کر بھی آخر مرنا ہی ہے تو ہر وہ طلب جو ہوس بن جائے چاہے حسن کی ہو،شہرت کی،علم کی کہ رتبے کی نقصان ہی پہنچاتی ہے۔

۔تیز رفتار خواب، شوق اور جذبے کا مطلب یہ نہیں کہ جیت ہی مقدر ہے۔

کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے

مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے!

جو مقدر ہے وہ ضروری نہیں ہمارے منتخب رستوں پر ہو۔ہو سکتا ہے اس تک پہنچنے کے لئے کئی بار ٹوٹ کر گرنا پڑ جائے! !پچھلا بلاگ لکھتے نہیں سوچا تھا کہ یہ بھی لکھنا پڑے گا۔مگر جب کئی دماغوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مصالحے دار وجہ کیا تھی؟ تو یہ بھی لکھنا پڑا۔کہ اس کہانی میں مصالحہ تو نہ تھا وجہ ضرور تھی۔

__________________

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف