کتنا عجیب ہے ہم اشرف المخلوقات کے دعویدار ہونے کے باوجود بھی وفاداری کے معاملے میں کتے کی مثال دیتے ہیں، میں تو دعوی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کتے ہمارے مثال بیوفائی کے طور پر بھی نہیں دے سکتے ! ہم انسان ہیں اور سوچتے ہیں، شاید کتے سوچتے نہیں ہونگے اس لیے وفاداری کے معاملے میں ہماری مثال نہیں سننے میں آئی، سوچنا اور نہ سوچنا وہ جانوروں کا مسئلہ ہے لیکن انسان کیا سوچ رہے ہیں یہ انسان اور جانوروں دونوں کا مسئلہ ہے، ویسے تو ہر طرف مسئلے ہی مسئلے ہیں اور حل بہت کم، حل ہونے کہ بعد مسئلہ، مسئلہ نہیں رہتا، اور مسئلہ حل  ہونا چاہتا ہے لیکن حل نہیں ہورہا۔ سب چاہتے ہیں کہ مسئلے حل ہوجائیں لیکن حل کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی جاتی  کہ مسلئہ حل ہوجائے بلکہ اس لیے کی جاتی ہے کہ مسئلہ حل کرنا ہی نہیں۔میں بھی مسئلے حل نہ کرنے والوں کا عیب نکالنے بیٹھ گیا ہوں، یہ سب الفاظ میری سوچ ہیں، میں سوچ رہا ہوں اور لکھ رہا ہوں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے بڑا عیب انسان کی سوچ اور اس کی زبان ہے جس نے اسے سب پر حاوی ہونا سکھایا ہے، ہم ذہن سے اچھا کم سوچ رہے ہیں، ہم زبان سے اچھا کم بول رہے ہیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنا پڑتا ہے۔ یوال نوح اپنی کتاب “سیپیئز” میں لکھتے ہیں کہ “انسانی روابط کا بیشتر حصہ خواہ وہ ای میل کی شکل میں ہو، فون یا اخباری عالم، غیبت پر مشتمل ہے۔ یہ ہمارے لیے اتنی فطری ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری زبان نے اسی مقصد کے لیے بالیدگی پائی”۔ میں یہ الفاظ پڑھ کہ حیرت میں ہوں کیا ہماری زبان اس لیے بنائی گئی ہے ؟ میں اگر آپ کو پسند نہیں، یا میرا یہ مضمون (جو آپ ابھی پڑھ رہے ہیں) پسند نہیں تو اس سے کم سے کم ایک ہزار عیب نکالے جاسکتے ہیں، اگر یہ آپکو پسند ہے تو لائیک یا کمینٹ کی صورت میں اس کی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا جاسکتا ہے، خاموشی سے پڑھ کر پسندیدگی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن ٹھریے !، آپ کی پسند خوب ہے لیکن بدقسمتی سے چند لوگوں کی نظر میں آپ کی پسند کا اظہار بھی سب سے بڑا عیب ہے، کیوں کہ جن لوگوں کو یہ الفاظ پسند نہیں آئے، ان کی نظر میں وہ ان کا عیب نہیں آپکا عیب ہے جو وہ لوگ آپ کو اپنے سے زیادہ سوچ اور فہم کے مالک تصور کرتے ہیں، جن کو یہ الفاظ پسند نہ آئے یا ان کے معیار کے نہ تھے۔ہم اس زندگی سے عیب نکالتے ہیں، امیر کسی نہ کسی طرح غریب کی زندگی سے عیب نکال سکتا ہے، ایک غریب آدمی اسی امیر  کے عیب اس کی دولت میں ڈھکے ہوئے دیکھ سکتا ہے، غریب کی جھوپڑی اور امیر کا محل ایک دوسرے کے ضد رہے ہیں۔ عیب کس چیز سے نہیں نکالے جاسکتے ؟  انسان میں ہزاروں عیب ہیں، اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، گھومنے مطلب ہر چیز  عیب زدہ ہے کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ساری زندگی ہی سب سے بڑا عیب ہے لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اس چیز سے عیب کیوں نکالتے ہیں جو خود ہی سب سے بڑا عیب ہے ؟عام طور پہ عیب بدصورتی سے ہی نکالا جاتا ہے پر کیا ہم خوبصورتی سے عیب نکال سکتے ہیں ؟ اس کا جواب شاید ہاں میں ہے۔ مستنصر حسین تارڑ  کے ناول “پیار کا پہلا شہر” کی نائیکہ پاسکل اپاہج ہے سنان نامی سیاح اسے ایک دن وینس کا مجسمہ (اس کی کاپی، اصل نہیں) تحفے میں دیتا ہے تو وہ اس سندر دیوی کی تعریف تو کرتی ہے لیکن میوزیم میں اس کے کٹے ہوئے ہاتھ دیکھ کر یہ سمجھتی ہے کہ  ایسا تحفہ دے کر اس کے اپاہج پن کے ساتھ مذاق کیا جارہاہے۔برصغیر پہ مذاق تو ایک امریکی صدر نے بھی کیا تھا، میں اسے مذاق نہیں کہہ رہا، پر شاید اس کی زبان سے ادا ہونے والے لفظ ہمارے سماج کی ایک ایسی ہولناک تصویر ہیں جن سے منہ نہیں موڑا جاسکتا۔ کہتے ہیں جب وہ تاج محل گھومنے آیا تو حیران رہ گیا، مقبرے کی خوبصورتی اور سنگ مرمر کا  اعلی کام دیکھ کر اس نے کہا مجھے تعجب ہے کہ اتنا بڑا مقبرا ہماری امداد کے بغیر کیسے بن گیا ! کمال ہے اتنی خوبصورت چیز میں صرف ہماری غربت کا عیب نکالا گیا، ان کے الفاظ میں ان کی سامراجی تنگ نظری ظاہر دکھائی دیتی ہے۔میں مانتا ہوں کہ مجھ میں عیب ہیں، لیکن جہاں مجھ میں بہت سارے عیب ہیں وہاں آپ بھی تو عیب سے پاک نہیں ! آپ کتنی دیر سے اپنا قیمتی وقت میری اس مضمون کو پڑھنے میں صرف کر رہے ہیں، جب کہ اتنی دیر میں اگر  آپ افسانہ نگار ہیں تو  ایک اچھا افسانہ لکھ سکتے ہیں، شاعر ہیں تو ایک غزل لکھ سکتے ہیں، ایک نظم کے کچھ بند لکھ سکتے ہیں، لیکن یہ سب آپ نہیں کرپائے، وہ اس لیے کہ آپ کسی مشھور و معروف لکھاری کو چھوڑ کر ایک نئے لکھنے والے کی تحریر پڑھ رہے ہیں، جس میں آپ کا اتنا وقت ضایع ہوگیا جو صرف اور صرف آپ کا ہی عیب کہا جاسکتا ہے میرا نہیں !

__________

تحریر:عنایت نوہڑی