تین ہفتے بعد گھر واپس آکر آسما کو اچھا لگا۔ لندن کی یہ چھٹیاں روح افزا اور فرحت بخش ثابت ہوئیں۔ ہوائی اڈے سے گھر آکر وہ ذہن میں امڈتے ہوئے طوفان پر قابو پاتے ہوئے اندر کے خالی کمرے میں داخل ہوئی۔ ایک میز اس عظیم کھڑکی کے پاس تھی جو پورے کمرے کو روشن کررہی تھی۔ کھڑکی کے نیلے کپاس کے پردے ہمیشہ سرکائے ہوئے رہتے۔ باہر کا منظر نہایت پرسکون تھا۔ دوسری منزل پر واقع اس کے والدین کا یہ فلیٹ قرب و جوار کے تمام علاقے پر نظر رکھنے کا موقع دیتا۔ سامنے وسیع نیلگوں آسماں ہمیشہ آسما کے ذہن کے تمام کشمکش کو دور کرنے میں مدد کرتا۔
میز پر چائے بنانے کا سامان سلیقے سے رکھا گیا تھا۔ لندن میں اتنی طویل مدت تک قیام کرنے سے چائے پینے کی عادت پیدا ہوئی۔ کام کی مصروفیات کے بعد وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بغیر دودھ کے ارل گرے چائے سے لطف اندوز ہوتی اور اپنے افکار سے اپنی سہیلیوں کو متحیر بھی کرتی جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آسما کے لئے تعظیم مزید بڑھ جاتا۔ یہ یونیورسٹی کے ایام تھے۔ بعد میں یہی معمول لندن میں دس سال کی ملازمت کے دوران قائم رہا۔
آسما میز کے پاس لگی ہوئی کرسی سرکا کر بیٹھ گئی۔ میزپوش کوپھولوں کی بیل سے مزین کیا گیا تھا۔ یہ میزپوش اس نے لندن میں ایک ہندوستانی دکان سے خریدا تھا۔ اس پر لگے ہرے رنگ کے پتے اورگلابی پھول اس کی چائے کی پیالی سے ملتی جلتی تھی۔ یہ قیمتی سرامک کی پیالی جس کے کنارے کو سنہرے رنگ سے اجاگر کیا گیا تھا، اس کے لندن کے سفر کاہی یادگارتھا۔ کمرے کو دانستہ طور پر خالی چھوڑا گیا تھا۔ دیوار پر کوئی تصویر نہیں تھی۔ ایک طرف صرف وہی وسیع و عریض کھڑکی تھی جو پوری دیوار میں سمائی ہوئی تھی۔ اس کمرے میں آسما اپنے تھکے ہوئے ذہن کو ہلکا کرنے آتی۔

افسانہ: من موہن کرمکر کی بیٹی( یہ بھی پڑھیے)


وہ بڑی کھڑکی گویاایک مصوری تھی۔ اس کے باہر جہاں تک نظر جاتی گنے کے ہرے لہلہاتے پودے دکھائی دیتے۔ پس منظر میں تناور درختوں کی قطاریں کھیتوں کے کنارے لگے ہوئے تھے۔ ان کی ہری شاخیں ہر وقت ساکت نظر آتیں۔ اس دوری اور اونچائی پر گمان ہوتا کہ ان کو کوئی نہیں ہلا سکتا۔ یہ صدیوں سے یہاں موجود ہیں اور رہیں گی۔
آسما کے مکان کے قریب ایک وسیع فٹ بال کا میدان تھا۔ جس کی ہری گھاس کو سلیقے سے کانٹا گیا تھا۔ میدان کے سامنے ایک اسکول تھا جو اس کمرے سے نظر نہیں آتا۔ میدان کے برابر گول چکر تھا جس کے بیچوں بیچ ایک فلاؤ کا درخت تھا۔ اس گول چکر کی دائیں طرف بانس کی جھاڑیاں تھیں۔ گول چکر سے جڑا ہوا راستہ سیدھا گنے کے کھیت کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی لئے یہاں کم گاڑیوں کا گزر رہتا اور ماحول کی خاموشی برقرار رہتی۔
ارشاد ہمیشہ کی طرح شام کے وقت فٹ بال کا لباس پہنے میدان کا رخ کرتا جہاں اس کے دوست اس کا انتظار کرتے۔ ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے ارشاد کھیل شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ میدان کا ایک چکر لگاتا۔ ارشاد آسما کے فلیٹ کے باکل اوپر رہتا تھا۔ ٹیکسی سے سامان اتارتے وقت اراشاد سے نظریں تو ملی تھیں لیکن آسما نے اپنا دھیان ڈرائیور کے پیسے ادا کرنے میں لگا دیا۔ اب کمرے میں بیٹھی ارشاد کو دیکھتے ہوئے آسما نے اپنا بایاں پیڑ ہلانا شروع کیا۔ ارشاد اسے کسی کی یاد دلاتا تھا۔ جسے وہ بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی۔۔۔
’لڑکوں کو بس فٹ بال مل جائے، انہیں پھر کسی بات کی فکر نہیں رہتی۔ گھر پر بھی ٹیوی پر میچ دیکھیں گے اور پھر انہیں کسی کی موجودگی یاد نہیں رہے گی۔۔۔‘
آسما نے کیتلی میں تازہ پانی ابالنے کی غرض سے سویچ آن کیا۔ کیتلی میں پانی کے ابلنے کا شور گھر آنے کے احساس کو عیاں کر رہا تھا۔ وہ موریشس کو اپنا گھر مانتی تھی۔ اس کے والدین موریشس میں پیدا ہوئے اور اس کی پیدائش کے بعد پورا خاندان لندن منتقل ہوگیا۔ لندن کی مصروف ترین گلیوں میں اس نے اپنا بچپن گذارا، تعلیم مکمل کی اور اچھی نوکری حاصل کی۔ پھر اس کی بیماری نے سب کچھ بدل دیا اور وہ مصروف ترین زندگی کو خیرباد کہہ کے پرسکون جزیرے میں آگئی۔ لندن میں وہ اپنے گھر میں رہتی تھی جبکہ یہاں والدین کے ساتھ رہنے کا رواج ہے۔
ایک آہِ سرد بھرتے ہوئے آسما نے ابلے ہوئے پانی کو دوسری کیتلی میں تحلیل کیا تاکہ اسے ٹلسی اورگلاب کی چائے کے پتوں کے رنگ میں رنگنے کا وقت ملے۔ آسما نے اپنی پیالی کو گلابی ڈبے سے نکالا اور اپنے سامنے رکھا۔ اس نے پھر شکر دان کا دھکن کھولا اور باقی تمام سامان کی طرح یہ بھی لندن کی چھوٹی گلیوں میں گشت لگاتے ہوئے اسے نظر آیا تھا۔ اس میں مرتسم کئے ہوئے لندن کے ٹاور برج کی سنہری مصوری اسے پہلی نظر میں پسند آگئی تھی۔ وہ اپنے ساتھ لندن کو لے لر آئی تھی۔ لندن جہاں اسے اپنی زندگی جینے کی مکمل آزادی تھی۔ ہر چیز کے لئے والدین سے اجازت نہیں مانگنی پڑتی تھی۔ جہاں اسے اچھی تنخواہ ملتی تھی اور جہاں ہر طرح کی سہولتیں ملتی تھیں۔ ذرائع آمد و رفت میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ لندن وہ شہر تھا جہاں اس کے تمام خوابوں کو پورا ہونے کے لئے کوئی نہ کوئی سبیل نکل آتی تھی۔ وہاں دنیا کے ہر کونے سے اس کے دوست تھے جن کے ساتھ تبادلۂ خیالات میں اسے خوشی ملتی۔ جہاں وہ ہر موضوع پر بلا جھجھک اظہارِ خیال کرسکتی تھی۔ لندن میں اسے محسوس ہوتا کہ وہ دنیا کے کاروبار کا اہم حصّہ تھی۔ اسے وہاں لامحدود مواقعے نظر ا ٓتے۔
چائے میں شکر ڈالتے وقت آسما نے خود سے کہا: ’یہ تمام چیزیں نہیں بھی ہوتیں تو کیا میں تب بھی لندن کی یادوں کو خود سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوتی؟‘
پیالی کو اپنے نازک ہونٹوں سے لگائے آسما سامنے سلسلۂ کوہ کو غور سے دیکھنے لگی جن کی چوٹیاں کالے بادلوں سے محوِ گفتگو تھیں۔ لگتا ہے کچھ دیر میں بارش ہونے والی تھی۔ گنے کے کھیتوں کی بائیں جانب رہائشی مکانوں کے پاس چھوٹی سڑکوں پر چند گاڑیاں گزرتی ہوئی نظر آئیں۔ ارشاد اور اس کے دوستوں کا کھیل شروع ہوگیا تھا۔ ایک گیند کے پیچھے بھاگنے میں اتنے سارے مردوں کو نہ جانے کیا لطف آتا ہوگا۔ آسما نے کہیں پڑھا تھا کہ جب انسان غاروں میں قیام کیا کرتا تھا تو زندہ رہنے کے لئے شکار کیا کرتا۔ آج کے مہذب دور میں گیند کے پیچھے جاناپرانی عادتوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔
ان کو دیکھتے ہوئے اچانک آسما کی نظریں کھڑکی کے کنارے دیوار پر پڑی۔ وہاں کبوتروں کی غلاظت تھی۔ کھڑکی کے اوپرکا حصّہ کھلا رہ گیا ہوگا اور تین ہفتوں میں کبوتروں کی آمد و رفت نے کمرے کو گندہ کردیا۔ پونچھے کی مدد سے آسما نے کھڑکی کے کنارے کی تمام گندگی کو صاف کرنا شروع کیا کہ اچانک کرسٹل کا بنا ہوا چھوٹا ڈالفن زمین پر گر گیا۔ اسے اٹھاتے ہوئے آسما کی آنکھوں سے آنسو کا سلسلہ جاری تھا۔ ڈالفن کے منہ سے لگا ہوا چھوٹاکرسٹل گیند گرنے کے باعث الگ ہوگیا۔ آسما کو لگا کہ اس کے دل کا کوئی ٹکڑا اس سے الگ ہوگیا۔
ان ترکش کرسٹل کو لندن کے ایک میلے میں منتخب کرنے میں سمیر کو تین گھنٹے لگائے تھے۔
’سامان منتخب کرنے میں اتنا وقت لگا دیا، شادی میں کتنا وقت لگائیں گے؟‘ دکان میں ترکش لڑکی نے سمیر کی ٹانگ کھینچتے ہوئے کہا تھا۔
’میں بہترین انتخاب کرنا چاہتا تھا۔‘
ڈالفن کے پاس ایک بطخ تھا جس کے بازو بھی ٹوٹ گئے تھے لیکن آسمانے انہیں دوبارہ جوڑا تھا۔ بطخ کے قریب گھوڑا تھا جو ایک گیند پر کھڑا تھا۔ وہ گھوڑا بھی ایک دن صفائی کے دوران نوکرانی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔
’یہ ٹوٹ گیا میم صاحب۔ اس کو پھینک دوں؟ ٹوٹی ہوئی چیزیں رکھنا برا شکن ہوتا ہے۔‘ کملا نے کہا تھا۔
’نہیں میں انہیں جوڑ دوں گی۔ ان سے یادیں وابستہ ہیں۔‘ سمیر کا مسکراتا ہوا چہرہ، ہونٹوں پہ سگریٹ اور شہدکے رنگ جیسی آنکھیں اچانک یاد آنے لگیں۔ ان آنکھوں کو دیکھتے ہوئے وہ خود کو کھو دیتی تھی۔ ان آنکھوں کی خوشی کے لئے وہ سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھی۔ چھ سالوں تک دور رہ کر بھی آسما کوسمیر کا صاف رنگ، پتلے گلابی ہونٹ اور ٹھوڑی پر چھوٹی داڑھی یاد ہے۔ آسما کو داڑھی کھینچنے میں لطف آتا۔
’یہ نہیں رہیں گی تو میرے پاس کیا رہ جائے گا؟‘ آسما نے خالی کمرے سے دریافت کیا۔ ٹوٹے ہوئے گیند کو ڈالفن کے منہ پر واپس چپکا کر اس نے بے بس نگاہوں سے ٹوٹے بطخ، گھوڑے اور ڈالفن کو دیکھا۔
’یہ جانا چاہتے ہیں۔ ان کو دفنا دو آسما۔‘ ’نہیں‘
’کب تک ان زندہ لاشوں کے دیدار سے دل کو تسلی دیتی رہوگی؟ تم نے مسلسل تین ہفتے سمیر کو لندن کی گلیوں میں تلاش کیا۔ نہیں ملا نہ۔ اب جانے دو۔‘ آسما نے خود سے منہ پھیر لیا۔ خود کو تکلیف دینے کی لذت نشے کی لت کے جیسا ہوتا ہے۔ جتنا درد کو اپنی گرفت میں رکھو اتنا ہی اس سے دور جانے کی تمنا باقی نہیں رہتی۔
زوروں کی بارش ہونے لگی۔ کالے بادل آسما کے گھر تک پہنچ گئے تھے۔ تن کی بنی ہوئی چھت پانی کے اس حملے سے درد و کرب کے باعث صدائے احتجاج بلند کر رہی تھی۔ آسما نے کھڑکی سے منہ پھیر لیا۔
سمیر کا چہرہ اس کے سامنے رقص کرنے لگا:
’تم ہیرا ہو۔‘
اس چہرے کا تعاقب کرتے کرتے آسما بھی گھومتی رہی۔
’میرے گھر والوں کو اس رشتے سے اعتراض ہے۔ کچھ دن باتیں کرنا بند کردیتے ہیں۔‘
’میں اپنے بھائی کے پاس ریاض جارہا ہوں۔‘
’میری ماں نے روتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے تم سے شادی کی تو اس کا مرا ہوا منہ دیکھوں گا۔‘
آسما گھومتی رہی۔
’تم اپنے ملک میں شادی کر لو۔‘
’میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا۔ تمہارے پیسے لوٹا دوں گا۔‘
’میں کسی اور کے فون کا انتظار کر رہا ہوں۔‘
’چلی جاؤ میری زندگی سے۔‘
’سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔‘
’میرے گھر والوں کو اس رشتے سے اعتراض ہے۔۔۔ اپنے بھائی کے پاس ریاض جارہاہوں۔۔۔اس کا مرا ہوا منہ دیکھوں گا۔۔۔ اپنے ملک میں شادی کرلو۔۔۔‘
آسما کرسی پر گر پڑی۔ وہ کھڑکی کے پاس لگی ہوئی ٹوٹے ہوئے ڈالفن، گھوڑے اور بطخ کو دیکھتی رہ گئی۔ جس سے اتنا پیار کیا اس کا دھوکا کیسے قبول کیا جائے؟ دل کیسے مان لے کہ اسے اچھا اور سچا ہونے کی سزا ملی ہے۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ اچھائی کا صلہ اچھا ہوتا ہے۔ پھر جس کو سب سے زیادہ چاہا اس نے دوسروں کا ساتھ دینے کے لئے اپنا ساتھ کیسے چھوڑ دیا؟
ان سوالات کے ساتھ آسما کمرے سے چلی گئی

_________________۔

تحریر: آبیناز جان علی
موریشس

کور ڈیزائن/ فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف