“ہم جدتوں کے ساتھ ڈھلتے جاتے ہیں..

زمانے کے ساتھ رنگینیوں کے ڈھنگ بدلے ہیں ‘اور ہم رسالے کے پنے سے اٹھ کر اسکرین کی دنیا میں جھانکنے کے لیے آمادہ ہوئے ہیں..
گو کہ کتاب کاغذی شکل میں ہی اپنا ایک حسن رکھتی ہے..
لیکن اسکرین کی افادیت سے بھی کوئی انکاری نہیں کہ کتابوں اور خطوں کا پہنچنا قدرے آسان ہوگیا ہے.
طویل تر فاصلوں میں بٹے ہوئے افراد انگلی کی حرکت پر جڑجاتے ہیں.
جدت کے اس سفر میں..
ویب سائٹس نے بھی اپنے ڈھنگ کا کام کیا ہے.
اور ویب میں ایک ویب سائٹ صوفیہ ڈاٹ لاگ بلاگ بھی شامل ہے..جو اپنے ڈھب سے کبھی کتاب تو کبھی مضامین..اور کبھی وڈیو سے فوٹو گرافی کے کئی مناظر بانٹتی آئی ہیں..
ویب کی دنیا میں صوفیہ ڈاگ بلاگ کی تیسری سالگرہ ہے..
اور یہ قدرے خوش آئیند ہے کہ وہ ویب کی مینیجمینٹ کی ذمہ داریوں سمیت اچھے معیار کے مواد کا خاص خیال رکھتی رہی ہیں..
اسی امید کو لیکر پیاری انسان دوست
گہر ہونے تک (مضامین ‘اور مشہور شخصیات کی جہد زندگی سے سینچی ہوئی کتاب)کی مصنفہ.
صوفیہ کاشف کو تہہ دل سے مبارک باد بھی دیتی ہوں.
اور امید کرتی ہوں کہ وہ ویب پر اسی نہج سے معیاری مواد کو ہم تک پہنچاتی رہیں گی.
اوراسی بنیاد پر ویب کی دنیا میں اپنے بلاگ کا جھنڈہ
گاڑتے ہوئے مواد کو نئی جہتیں..نئے سلسلے..نئی کوششوں سے ہمکنار کرنے کے لیے کوشاں رہیں گی.
یہ مہینہ ان کی سالگرہ کا بھی مہینہ ہے تو ان کے بلاگز کی دنیا میں قدم رکھنے کا بھی ہے.
تمنا نیک ہے کہ یہ مہینہ ان کے لیے سدا مبارک رہے..
اور سال کے تمام مہینے اس کام کو آگے دکھاتے ہوئے نظر آئیں..
پیاری صوفیہ..
بلاگ کی سالگرہ کے لیے ڈھیروں مبارکیں..
اور نیک امیدیں.
قبول کریں

سدرت المنتہی ‘

___________

“صوفیہ لاگ کی چیف ایڈیٹر کو صوفیہ کاشف کو بلاگ کی تیسری سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔ صوفیہ لاگ کی تیسری سالگرہ اس بات کی ضمانت ہے کہ لگن اور کوشش ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں ۔ کٹھن وقت گزر جاتا ہے ۔پہلے صوفیہ لاگ ایک بلاگ تھا اب ایک کاروان ہے ۔ جہاں نئے پرانے سبھی لکھاریوں کے لیے راستہ ہموار ہے ۔ قلم اور قلمکاروں کی آواز بننے والے فراموش نہیںُ ہو سکتے جلد یا بدیر دنیا ان کی ہمنوا بن ہی جاتی ہے ۔ صوفیہ لاگ کی تیسری سالگرہ کے موقع پہ میری دعا ہے کہ یہ مزید ترقی کرے ، پھلے پھولے ۔ ابھی تو ابتدا ہے لیکن جلد یہ نام بھی نمایاں مقام حاصل کر لے گا ۔ خدا اس کا دامن خوشخبریوں اور ادب دوستوں سے بھر دے
آمین “۔

بااحترام
ثروت نجیب

______________