آپ یقیناً مجھ سے اور میری خصوصیات سے واقف ہوں گے اگر جواب نا میں ہے تو بھی میری روداد سنئے کیوں کہ میرا سیکھنے اور دوسری ذات کو فائدہ پہنچانے کا سفر ابھی جاری ہے۔آنے والے وقتوں میں،میں خود کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور صبر والا ثابت کروں گا۔میری بنیاد میں کوزہ گر کے ہاتھوں نے اپنے جادو سے جو روح پھونکی تو میں بکھری ہوئی مٹی سے نئی صورت گری سے شناسا ہوا۔پھر وہاں سے مجھے ایک خریدار نے خریدا اور اپنی دوکان،ہوٹل، ریسٹورینٹ میں ٹائل، پتھر اور دوسرے رنگ و روغن سے میرا تعارف کروایا۔مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی جب اس نے پہلی رات میرے اندر آگ کا لاؤ جلایا جس نے مجھے پختگی کی نئی رفعتوں سے شناسا کروایا۔ہاں یاد آیا خوشگوار حیرت اس بات کی کہ جب اس نے میرے اندر آگ جلائی تو مجھے اپنے خریدار  کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ کل سے میری وجہ سے اپنا روزگار حاصل کرنے کے قابل ہو گا جس سے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے نہ صرف اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے قابل ہوں گے بلکہ اپنی تعلیم و تربیت کے عمل کو بھی جاری رکھیں گے اور سماج کے لیے ایک کارآمد فرد بنیں گے۔اس خوشی کی کیفیت میں رات بھر سرشار رہا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کے کب مجھ میں آگ کی تپش برداشت کرنے کا مادہ روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا۔میرے اسی صبر و برداشت کے مادے نے عمر بھر میری ڈھارس بندھائے رکھی کہ میں آج تک اپنے ضبط سے باہر نہ نکل پایا۔میرا سفر برصغیر پاک و ہند،وسطی ایشیا،ایران وغیرہ میں بھی جاری رہا اور یوں میری نسل مختلف ممالک میں آج بھی اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہی ہے۔ترکی میں لوگ  مجھے نیکی کا استعارہ بھی سمجھتے ہیں اور مجھ سے حاصل شدہ روٹی،خمیری ،نان وغیرہ میں غربا کا حصہ بھی رکھتے ہیں۔ایران میں احمدی نژاد کی حکومت کے دور میں عورتیں گھروں میں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیتیں تھیں اور میں ان کے لیے روٹی فراہم کرنے کا باعث بنتا تھا۔برصغیر خصوصاً پاکستان کا ذکر کروں تو لاہور،کراچی،پشاور،فیصل آباد،سرگودھا،ملتان،گجرانوالا،گجرات وغیرہ کے اندر مجھے گلی گلی میں بچے،جوان،بوڑھے،عورتیں سبھی بڑی اچھی طرح جانتے ہیں۔میں لوگوں کے لیے اپنے خریدار کی بدولت روٹی،خمیری روٹی،تکہ کباب،تندوری چکن،بیف ،مٹن کے ساتھ ساتھ سادہ نان،کلونجی والا،اچار والا،تل والا،آلو والا،بیسن والا،قیمہ والا،چکن،بیف،مٹن والا نان بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہوں۔میری روداد کا سفر ابھی لمبا ہے لہذا ابھی اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ بھی میری طرح اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے صبر و تحمل اور برداشت کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی سعی کرتے رہیں گے۔

_____________

تحریر:محمد عظیم

کور ڈیزائن: