مجھے وبا نے نہیں
بے حسی نے مارا ہے،

میں خوش رہا تو
سبھی قہقہے لگاتے تھے،
میں چپ ہوا تو
سبھی بولتے ہی جاتے تھے..
کسی نے یہ نہ کہا
تیرا “غم” ہمارا ہے..
مجھے وبا نے نہیں
بے حسی نے مارا ہے…

میں شعر کہتا تو
سب واہ واہ کرتے تھے
جو گھر بناتا وہ
تباہ کرتے تھے
کھڑا ہوا ہوں تو
چُبھنے لگا ہو‍ں آنکھوں کو..
مجھے کسی نے نہیں
وقت نے سنوارا ہے..

وبا کا دکھ میرا دکھ ہے
نہ میرا غم، غمِ جاں
مجھے لِسان نے،
انساں نے
خوب وارا ہے…

تھکا ہوا ہوں تو
بس دشت نے پکارا ہے.
مجھے وبا نے نہیں
بے حسی نے مارا ہے…

______________

کلام:حجاب(عمارہ احمد)

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف