دھوپ چھاؤں کا کھیل رہا
سفر حیات میں ہر قدم
کبھی سانسیں نڈھالُ تھیں
کبھی خواب ہوئے منہدم
کبھی تمازتوں  میں سرخیاں
کبھی گال برف کی ڈالیاں
کبھی نم نم راستے
کبھی صحرا صحرا فاصلے
کبھی ہم کہیں کبھی تم نہیں
کبھی بہاریں سب ویراں ہوئیں
کبھی کلائی امید کی ٹوٹ گئی
کبھی جان سفر کی نکل گئی
راہ حیات میں قدم قدم
ایک ہی خواب عذاب ہوا
وہ میری آنکھ میں کیا چمکا
کہ تارا گذشتہ باب ہوا
________

کلام/فوٹوگرافی/کورڈیزائن:

صوفیہ کاشف