پاداش(10)_________شاذیہ خان

تحریر: شازیہ خان

کور ڈیزائن: طارق عزیز


قسط نمبر 10

_________________

ثنا رضوان کو فون کرنے کے بارے میں سوچ کر ساری رات مخمصے کا شکار ہی رہی۔ فون کرے یا نہ کرے۔۔۔ بہر حال بہت سوچنے کے بعد اس نے اس سلسلے میں سامعہ کو رازدار بنانے کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ اس کی بچپن کی دوست تھی۔۔۔ جب کبھی سامعہ نے اُس سے مشورہ مانگا یا اس کی ضرورت پڑی۔۔۔ثنا ہمیشہ اس کی ہمدرد رہی۔۔۔ آج وہ ایک مشکل میں تھی تواُسے پورا یقین تھا کہ سامعہ اُسے کوئی بہتر مشورہ دے سکے گی۔۔۔ شام کو سامعہ تیار ہو کر نیچے آئی تو ثنا چائے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔ اورکبیر علی اپنے کسی کام سے نکلے ہوئے تھے۔۔۔ اماں چوں کہ دوائی لے کر سوئی ہوئی تھیں، اسی لیے ثنا نے اپنے اور سامعہ کے کپوں میں چائے ڈالی اور ٹی وی لاؤنج میں آگئی۔۔۔" کیا ہوا!طبیعت تو ٹھیک ہے آج کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔ بھائی نیچے آئے تھے بتا رہے تھے کہ تمہارے سر میں درد ہے۔۔۔ کوئی دوائی لی۔۔۔ " " ہاں بس آج اوپر والے پورشن میں بہت گرمی تھی۔۔۔ لائٹ بھی بار بار جا رہی تھی۔۔۔ اسی لئے اے سی بند ہو جاتا تھا۔۔ کمرہ بہت گرم تھا۔۔۔" سامعہ نے گرمی کا ایسا نقشہ کھینچا کہ ثنا نے بہت چونک کر اُسے دیکھا۔۔۔ ثنا کی نظروں میں خالہ کا چھوٹا سا صحن گھوم گیا۔۔۔جہاں گرمیوں میں اکثر چارپائیوں کے پاس پیڈسٹل فین لگا کر سویا جاتا تھا۔۔۔ کیوں کہ کمروں میں بہت شدت کی گرمی ہوتی۔۔۔۔صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کر کے چار پائیاں بچھا کر سب سویا کرتے اور اکثر وہ خود جب خالہ کے گھر جاتی تو بہت شوق سے صحن میں سویا کرتی بلکہ وہ اور سامعہ پاس پاس پڑی چارپائیوں پر لیٹی باتیں کرتی رہتیں اور جب خالہ انہیں ڈانٹتیں کہ ابا جی اُٹھ گئے تو ناراض ہوں گے سو جاؤ۔۔ تب ان کی چلتی زبانیں اور جھپکتی پلکیں بند ہوتیں۔۔۔ اور وہ دونوں آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر جاتیں۔۔۔ آج وہی سامعہ ذرا دیر کو بند ہوتے اے سی کی وجہ سے سر درد کا شکار ہو گئی تھی۔۔۔ "تمہارے لیے سینڈ وچ بنائے تھے اور کچھ کھانا ہو تو بتاؤ۔۔۔" نہیں بس یہی کافی ہے کچھ دل نہیں چاہ رہا۔۔۔ اس نے سینڈوچ کی پلیٹ سامعہ کی طرف بڑھائی تو بڑی نزاکت سے اس نے ایک سینڈوچ اٹھایا اور اپنے دانتوں سے کترنے لگی۔۔۔ نجانے کیا سوچ رہی تھی۔۔۔ کبھی ثنا کو لگتا کہ اسے ایک بھابھی تو مل گئی مگر ایک اچھی دوست کھو دی۔۔۔ پھر بھی ہمت کر کے اس نے سامعہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔" سنو سامعہ! تمہیں پتا ہے نا میں نے یونی ورسٹی میں اپنا فارم جمع کروا دیا ہے۔۔" ہاں اچھی بات ہے تمہیں ماسٹرز ضرور کرنا چاہیے۔۔۔ اچھی ڈگری یا اچھی صورت یہ دو صورتیں ہی اچھا بر دلواتی ہیں۔۔ اب اچھی ڈگری کی وجہ سے ہی تمہیں اچھا بر مل جائے گا۔۔۔۔"

” کیا مطلب؟” ثنا کے دل پر ایک شدید دھکا سا لگا۔۔۔ یہ وہ سامعہ تو نہ تھی جو اس کی بچپن کی دوست تھی۔۔۔ سامنے بیٹھی ہوئی میک اپ میں لتھڑی سامعہ اس لمحے ثنا کو کوئی عیار سی عورت لگی،جو دوسروں کو طعنے دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ تیں۔۔۔ بے شک ثنا سامعہ جیسی حسین نہ تھی لیکن اتنی بد صورت بھی نہ تھی کہ اُسے اپنی شادی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ اور اسی وجہ سے وہ ایم اے کر رہی تھی۔۔۔ کہ اس کے اچھے رشتے نہیں آرہے۔۔۔” تم کہنا کیا چاہ رہی ہو سامعہ کہ میں اس وجہ سے پڑھ رہی ہوں کہ شادی کے لیے اچھا بر تلاش کر سکوں۔۔۔” اس بار ثنا کا لہجہ تیز اور تلخ ہو گیا۔۔۔ جسے سامعہ نے فوراً محسوس کیا اور بات پلٹ دی۔۔”ارے میرا یہ مطلب نہیں تھا میں تو ایک عام سی بات کر رہی تھی۔۔۔ تم بُرا مان گئیں۔۔۔ میں تو یہ کہہ رہی تھی جب تک کوئی اچھا رشتہ نہیں آتا تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم پڑھتی رہو۔۔۔” وہ ایک بار پھر ثنا کو آگ لگا گئی۔۔۔ لیکن اس نے دل میں مصمّم ارادہ کر لیا کہ وہ رضوان کے بارے میں سامعہ کو کچھ نہیں بتائے گی۔۔۔ “بھائی کا خیال تھا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو تمہارا داخلہ بھی کروا دیتے ہیں۔۔۔ انہوں نے تمہیں بھی آفر تو کی تھی۔۔۔” نہیں بھئی شادی کے بعد کون پڑھتا ہے۔۔۔ میری اتنی ہمت نہیں کہ دونوں جگہوں کونبھا سکوں۔۔۔ بس پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا۔۔۔۔”وہ جلدی جلدی چائے کے سِپ لے رہی تھی۔۔۔ اس نے ایک بار بھی ثنا سے اماں کی طبیعت کے بارے میں نہیں پوچھا۔۔۔ حالاں کہ اسے معلوم تھا کہ وہ صُبح سے بستر پر ہیں۔۔۔ ان کا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔۔ شاید کچھ لوگوں کے آگے اپنی ذات سے آگے سوچنے کا خیال بھی محال ہوتا ہے اور سامعہ انہی لوگوں میں سے تھی۔۔۔ قسمت نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا تھا۔۔۔ اس کے بعد وہ ہر پیارے اور محبت کرنے والے شخص سے بدلہ لینا اپنا حق سمجھتی تھی۔۔۔ اسے اپنے ساتھ ہونے والی اس نا انصافی کا بدلہ اپنے سے وابستہ ہر شخص سے لینا تھا۔۔۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں قسمت میں لکھے پر شاکر ہونے کے بجائے اپنے پیاروں سے قسمت کا بدلہ لینے اتر آتے ہیں۔۔۔ اور پھر اسی لڑائی میں آہستہ آہستہ اپنے سار ے پیارے کھو دیتے ہیں۔۔۔ عمر کے اختتام پر اپنی اس بد نصیبی کا سہرا بھی قسمت کے سر ٹھوک کر آنسو بہاتے رہتے ہیں۔۔۔ انہیں اپنے بد صورت رویوں کا کبھی احساس تک نہیں ہوتا۔۔۔ کہ وہ بالکل تنہا خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہو گئے ہیں۔۔۔۔ اس وقت سامعہ کو احساس بھی تھا کہ اس نے اپنی بچپن کی بہترین دوست کھو دی ہے۔۔۔ نئے گھر میں کسی لڑکی کورہنے اور بسنے کے لیے بہت سے رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کوئی لڑکی اس گھر میں اپنے بد صورت روّیوں سے ایک ایک کر کے سارے رشتے کھو دے تو اس کا رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ ثنا اماں کو دیکھنے کے لیے اُٹھ گئی کہ اگر وہ اُٹھ گئی ہوں تو ان کے لیے بھی چائے بنا دے۔۔۔ سامعہ کافی دیر اکیلی وہاں بیٹھی رہی اور پھر بے زار ہو کر اوپر اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔ اُسے کبیر علی پر بہت غصہ آرہا تھا۔۔۔ آج اس کا موڈ اماں کی طرف جانے کا تھا۔۔۔ لیکن وہ نجانے کہاں چلے گئے تھے۔۔۔ان کا فون بھی بند جا رہا تھا۔۔۔ اس نے ٹی وی لگا لیا۔۔۔ جہاں ایک پرانی مووی آرہی تھی۔۔۔ اُسے پرانی فلموں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ چینل چینج کر دیا۔۔۔ اگلے چینل پر بھی اس کے مطلب کی کوئی چیز نہیں تھی۔۔۔ اس نے بور ہو کر ٹی وی بند کر دیا۔۔۔ اور موبائل اُٹھا لیا۔۔۔دوپہر میں اتنا سو چکی تھی کہ اب سونے کا سوچ کر بھی بوریت ہو رہی تھی۔۔۔ ایک بار پھر کبیر علی کا فون ملایا تو اس بار فون مل گیا۔۔۔ انہوں نے بس دس منٹ میں پہنچنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔۔۔ اُن کے آنے تک اس نے دوبارہ شیشے میں اپنا جائزہ لیااور نیچے آگئی۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
رضوان نے اس رات، رات کے آخری پہر تک ثنا کے فون کا انتظار کیا۔۔۔ اور پھر مایوس ہو گئے۔ لیکن دل کو سمجھا لیاکہ یہ مشرقی لڑکیاں اتنی جلدی نہیں کھُلتیں انہیں تھوڑا صبر اور انتظار سے کام لینا ہوگا۔۔۔ ہو سکتا ہے ابھی فون کرنے سے ہچکچاہٹ ہو۔۔۔ تھوڑا انتظار ضروری ہے۔۔۔ یہ سوچ کر انہوں نے دل کو تسلی دے لی۔۔۔ لیکن دل بہل نہیں پا رہا تھا۔۔۔ دل کو کوئی پہلی بار اچھا لگا اور اس سے اس کی مرضی پوچھنا کتنا مشکل تھاانہیں سمجھ نہیں آرہا تھا بات کیسے کی جائے۔۔۔ آسان حل یہی تھا کہ بابا خود کبیر علی کے پاس رشتہ لے کر جاتے لیکن اس سے انہیں ثنا کی پسند کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ اور وہ کسی بھی لڑکی پر زبردستی ایک رشتہ مسلط کرنے کے حق میں قطعا ً نہ تھے۔۔۔ اسی لیے پہلے اس سے بات کر کے اس کی رائے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینا چاہتے تھے۔۔۔ اور شاید اس کے لیے انہیں ابھی خود بھی صبر کرنا تھا۔۔۔ اس وقت کا جب تک ان کی خود ثنا سے بات نہ ہو جائے۔۔۔ اگر اس کا فون نہ آیاتو دوسری صورت کیا ہو سکتی ہے۔ اب وہ اس بات کے بارے میں مسلسل سوچ رہے تھے۔۔۔ کہ فون کا انتظار انہیں کب تک کرنا تھا اور کب انہیں اپنے دوسرے پلان پر کام کرنا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
کبیر علی اور سامعہ کے درمیان ایک خاموش سا سمجھوتہ ہو گیا۔۔۔ بلکہ سامعہ نے سوچ لیا تھا کہ اب جو کچھ اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے۔۔۔ اسی پر صابر رہنا تھا۔۔۔ اسی لیے آہستہ آہستہ وہ اس گھر میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ یہ اور بات تھی کہ اس ایڈجسٹمنٹ میں ایک بے زاری نمایاں تھی۔۔۔ وہ اکثر کبیر علی کی ضروری باتوں کو بھی نظر انداز کر دیتی تھی۔۔۔ اور وہ اُسے سامعہ کا بچپنا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے۔۔۔۔ ان کا دل چاہتا کہ وہ اُسے لے کر باہر جائیں۔۔۔گھومیں پھریں اورکسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں۔۔۔ تو وہ اماں کے گھر جانے کی فرمائش کر دیتی۔۔۔ شادی کے بعد وہ تقریباً ہر دوسرے دن اماں کے گھر جار ہی تھی۔۔۔ اور کبیر علی بغیر ماتھے پر بل ڈالے اسے لے جا رہے تھے۔۔۔ لیکن اس دن پہلی بار انہیں بہت غصّہ آیا۔۔۔جو وہ پی گئے اور وہ مسلسل ان سے اماں کے گھر جانے کی ضد کر رہی تھی۔۔۔ جسے انہوں نے ٹال دیا تو وہ ناراض ہو گئی۔۔۔ سلمیٰ بیگم کی طبیعت صُبح سے ٹھیک نہ تھی۔۔۔ ثنا نے دو بار اُن کی شوگر چیک کی جو کہ بہت ہائی تھی۔۔۔انہوں نے سمجھایا کہ آج نہیں جاتے لیکن نہ جانے وہ کس قسم کی پریشانی کو سر پر سوار کئے بیٹھی تھیں۔۔۔ ثنا پوچھ پوچھ کر تھک گئی لیکن انہوں نے بتانا مناسب نہ سمجھا۔۔ دراصل وہ سامعہ کے رویے سے کچھ پریشان تھیں۔۔۔ سگی بھانجی تھی جسے انہوں نے اپنی بیٹی کی طرح محبت دی۔۔۔ مگر شادی کے بعد اس کا رویہ کچھ عجیب سا تھا۔۔۔ثنا کے ساتھ دوستی کے باوجود وہ بہت کم نیچے اتر کر آتی۔۔۔ چوں کہ ابھی اپنا چولہا چوکا شروع نہیں کیا تھا، اسی لیے کھانا وہ نیچے ہی کھاتی۔۔۔ لیکن کسی غیر کی طرح صرف سرسری سے خالہ کی طبیعت پوچھتی تھوڑا اِن کے پاس بیٹھتی اور پھر اپنے کمرے میں چلی جاتی۔۔۔ جب دوپہر کا کھانا تیار کر کے ثنا اسے انٹر کام پر آگاہ کرتی تو وہ نیچے آتی او رپھر کھانا کھا کر کر دوبارہ اوپر چلی جاتی۔۔۔ حتیٰ کہ اتنی زحمت بھی نہ کرتی کہ ثنا کے ساتھ میز کے برتن ہی سمیٹ لیتی۔۔۔ کافی دن سے وہ یہ سب دیکھ رہی تھیں اور اس کی بے زاری محسوس کر رہی تھیں۔۔۔ لیکن نہ خود کچھ کہتیں اور نہ ہی ثناکو کہنے دیتیں۔۔۔ “تم پہلے بھی تو یہ سارا کام خود کرتی تھیں۔۔۔ابھی اس کے ابتدائی دن ہیں۔۔۔ کیا اچھا لگے گا کہ نئی نویلی دلہن سے تم برتن دھلواؤ۔۔۔ جب اوپر اپنا کچن سنبھالے گی تو سب کچھ کر لے گی۔۔۔” انہوں نے ایک دن ثنا کے استفسار پر اسے جواب دیا۔۔۔” اماں میں تو پہلے بھی خود کرتی تھی اور اب بھی کروں گی لیکن آپ کو پرانی سامعہ اور نئی سامعہ میں کچھ فرق محسوس نہیں ہو رہا۔۔۔ کتنی بے زاری ہے اس کے انداز میں۔۔۔ وہ شادی سے پہلے تو ایسی نہ تھی۔۔۔ جب بھی گھر آتی میرے ساتھ کچن میں بنا کہے کام کرواتی تھی۔۔۔ ہماری کتنی دوستی تھی۔۔۔” ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔وہ پہلے بھی کھُل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتی تھی اور اب بھی نہیں کرتی۔۔۔ لیکن اتنا سرد انداز بھی نہ تھا۔۔۔” ثنانے اپنے دل میں چھُپے وسوسوں کو زبان دی۔۔۔ ” ارے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔وہ نہیں بدلی مگر تم ایک دوست کی نظر سے نہیں بلکہ نند کی نظر سے دیکھ رہی ہو۔۔۔ اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔ وہ ہمیشہ سے ہی ایسی تھی۔۔۔” حالاں کہ ان کے اپنے دل میں بھی سامعہ کے رویےّ سے کافی خدشات پرورش پا رہے تھے لیکن وہ انہیں کوئی زبان دینا نہیں چاہتی تھیں۔۔۔ لیکن محسوس سب کر رہی تھیں۔۔۔ اسی سوچ کی وجہ سے ان کی شوگر اور بی پی دونوں ہائی جا رہے تھے۔۔۔ کیا میں نے انجانے میں اپنے بیٹے کے لیے کوئی غلط فیصلہ کر دیا۔۔۔ وہ اس کے کسی اندا ز میں نئی نویلی دلہنوں کا اپنے شوہروں کے لیے والہانہ انداز بھی محسوس نہیں کر رہی تھیں۔۔۔ ابھی کل ہی کبیر علی نے دونوں کے لیے ایک ہی پلیٹ میں سالن ڈالا کہ دونوں مل کر کھاتے ہیں لیکن اس نے اپنی دوسری پلیٹ بنا کر ان کی آفر ٹھکرا دی۔۔۔ اُس وقت انہیں اپنے بیٹے کے چہرے پر موجود ہلکی سی شرمندگی بہت بڑا دُکھ دے گئی۔۔۔ یہ تو بہت نارمل سی بات تھی کہ اکثر نئے نویلے شادی شدہ جوڑے شروع شروع میں ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہیں۔۔۔شرماتی لجاتی لڑکیاں شوہر کی ایسی کسی خواہش کو انکار نہیں کرتیں۔۔۔ لیکن اس نے آس پاس بیٹھی ساس اورنند کا بھی خیال نہ کیا اور جھٹ اپنی پلیٹ بنا کر کبیر علی کی آفر ٹھکرا دی۔ اپنی اس سُبکی کو کبیر علی نے بڑی خوش دلی سے نظر انداز کر دیا۔۔۔لیکن ان کے چہرے پرہلکی سی شرمندگی سلمیٰ بیگم سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔ وہ سمجھتی تھیں کہ سامعہ ابھی کم عمر ہے۔۔۔ آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی لیکن عادتیں بدلی جا سکتی ہیں بھلا فطرت بھی کبھی کسی کی بدلی ہے۔۔۔ انہیں پتا تھا ان کی بہن سراپا محبت تھی۔۔۔لیکن سامعہ میں بہت ساری عادتیں باپ سے ملی تھیں۔۔۔ جسے اب وہ شدت سے محسوس کر رہی تھیں۔۔۔ اس کی ہر بات کو نظر انداز کر کے ڈھیر سارے دُکھ وہ اپنے اندر پال رہی تھیں۔۔۔ بنا کسی بات کے وہ اس کی بے زاریاں دیکھ کر بھی ان دیکھی کر رہی تھیں۔۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کبیر علی کو کوئی دُکھ ہو۔۔۔ ان چند دنوں میں ہی اس نے اپنا روپ دکھا دیا تھا۔۔۔ لیکن انہیں حیرت اس بات کی تھی کہ ایسی وہ پہلے تو نہ تھی۔۔۔ تو اب کیا ہوا کیا اس شادی سے خوش نہیں۔۔۔؟یہ سوالیہ نشان آہستہ آہستہ سامعہ سے وابستہ ہر شخص پر اس کے رویے کی وجہ سے کھُلتا جا رہا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x

“عمر کل ستارہ گروپ آف کمپنیز کے ساتھ میری میٹنگ تھی میرے خیال میں میں نہیں جاپاؤں گا۔۔۔ تم او ر سیما میٹنگ اٹینڈ کر لینا۔۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر آفندی صاحب نے جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے عمر کو تنبیہ کی۔۔۔
” لیکن بابا میں آپ کو بتانے والا تھا کل بارہ بجے تو میری دبئی کی فلائٹ ہے۔۔۔” عمر نے بڑے آرام سے باپ کو اپنے دبئی ٹرپ سے آگاہ کیا۔۔۔ جس کے لیے وہ کل سے پلاننگ کر رہا تھا کہ یہ خبر کس طرح باپ کو بتائے۔۔ ” تم دبئی جا رہے ہو۔۔۔ اور مجھے بتانا بھی پسند نہیں کیا۔۔۔” وہ حیران تھے۔۔۔ اب بتا تو رہا ہوں بس خرم کا اچانک ہی پروگرام بن گیا تو اس نے بلا لیا۔۔۔ وہاں کوئی انٹرنیشنل بزنس کانفرنس ہو رہی ہے۔۔۔ وہ چاہتا تھا کہ میں بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔۔۔” اس نے بڑی فن کاری سے باپ کو رام کرنے کی کوشش کی۔۔۔ اور وہ بزنس کانفرنس کا سُن کر چونک گئے۔۔۔ ” یہ کون سی کانفرنس ہے جس کے بارے میں مجھے علم نہیں۔۔۔” ارے بابا! ضروری نہں کہ ہر کانفرنس کی انویٹیشن آپ کو آئے۔۔۔ خرم کو ملی تھی تو اس نے مجھے بھی انوالو کر لیا۔۔۔ اب دیکھتا ہوں جا کر کہ کس قسم کی کانفرنس ہے۔۔۔ ” کتنے دن کا پروگرام ہے۔۔۔” “یہی کوئی ایک ہفتہ۔۔” ” ایک ہفتہ بہت زیادہ نہیں۔۔۔” وہ پھر حیران ہوئے۔۔۔ ” بابا کانفرنس تو دو دن کی ہے مگر خرم کا خیال ہے کہ دو چار دن گھوم پھر بھی لیں گے۔۔۔وہ بڑے عام سے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔” چلو ٹھیک ہے تم جاؤ پھر میں سیما سے کہہ دیتا ہوں وہ دیکھ لے گی۔۔۔ مگر تم کوشش کرنا دونوں دن کی پوریdetailکمپنی کو بھیج دینا۔۔۔” جی بابا آپ فکر مت کریں میں سیما کو اپ ڈیٹ کردوں گا۔۔۔”
“اوکے بابا دعا کیجئے گا۔۔۔ سب کچھ ٹھیک رہے۔۔۔ میں ابھی نانو کی طرف جا رہا ہوں۔۔۔ ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گی کہ مجھے بتا کر نہیں گیا۔۔۔ پھر وہاں سے سیما کو لے کر آفس پہنچتا ہوں۔۔۔” عمر نے چائے کا آخری سِپ لیا اور اپنی آج کی سرگرمی کے بارے انہیں آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔۔۔” عمر تم دبئی سے واپس آجاؤ تو مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنا ہے۔۔۔” انہیں نانو بی کے ذکر پر عمر سے اس کی شادی بارے بات کرنا یاد آگیا۔۔۔” جی حکم بابا!” وہ جاتے جاتے رک گیا۔۔۔ نہیں ابھی تم جاؤ واپس آؤ گے تو پھر بات کریں گے۔۔۔ ابھی تم جا کر اپنی تیاری کرو۔۔۔ ٹھیک ہے بابا پھر دوپہر میں آفس میں ملتے ہیں۔۔۔ میں ذرا نانو بی کی طرف چکر لگا لوں۔۔۔ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔۔۔ آفندی صاحب کو خوشی ہوئی کہ وہ شاید سیما کی وجہ سے قدرے ذمہ دار ہو گیا تھا۔۔۔ اور خود ہی دبئی کی بزنس کانفرنس اٹینڈ کرنے کاپروگرام بھی بنا لیا۔۔۔ اب میرا بیٹا واقعی ذمہ دار ہو گیا ہے۔۔۔ انہوں نے سکون کی سانس لی۔۔۔ اور فیصلہ کر لیا کہ اس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں لندن سے بیٹی کے آنے پر وہ عمر کی شادی کر دیں گے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
ایمان نے اپنا پراجیکٹ ختم کر لیا تھا۔۔۔ اور پھر اسی شام عمر آفندی بھی اس کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ وہ اُسے اپنے سامنے پا کر بہت خوش ہوئی اور یہ خوشی اُس کے انگ انگ سے عیاں تھی۔۔۔ ” یار بہت بور کرتی ہوں آئندہ ایسا کوئی پروگرام ہو تو ساتھ ہی آئیں گے۔۔۔” عمر نے کار میں بیٹھتے ہی اس کی طرف بڑے والہانہ اندا ز میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ وہ تو اس پر فدا ہی ہو گئی۔۔۔وہ خود پہلی بار اپنے اکیلے سفر سے بے زاری کا شکار تھی۔۔۔ اور چاہتی تھی کہ جلد از جلد کام ختم کرئے اور عمر اس کے پاس آجائے۔۔۔ جلد ہی دونوں ہوٹل پہنچ گئے۔۔۔ اس کی بکنگ ایمان نے پہلے سے ہی کروا رکھی تھی۔۔۔ دونوں کے روم برابر برابر تھے۔۔۔عمر اس کے کمرے میں تیار ہو کر آگیا۔۔۔” یار میں کمرے میں بند ہونے کے لیے نہیں آیا۔۔۔ چلو ایک ٹرپ لگا کر آتے ہیں۔۔۔ اور کھانا بھی باہر کھائیں گے۔۔۔” جو حکم سرکار بس مجھے دس منٹس دے دیں۔۔۔” وہ اس کی بے تابی کو سمجھ رہی تھی۔۔۔ عمر ایک لمحے بھی اکیلا رہنا نہیں چاہتا تھا۔۔ وہ خود بھی دبئی میں اپنا بقیہ وقت اس کے ساتھ ہی کشید کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس کی صحبت میں، اس کی محبت بھری باتوں کے ساتھ وقت گذارنا کتنا خوش کن تصور تھا۔۔۔ وہ اس کے بغیر صرف اس کے بارے میں ہی سوچتی رہی اور اب سامنے تھا تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اظہار کیسے کرے۔۔۔ دونوں تیار ہو کر نیچے ہوٹل کی لابی میں آگئے۔۔۔اپنے اپنے کمروں کی چابی کاؤنٹر پر دے کر باہر نکل آئے۔۔۔ جہاں ایک کمپنی کا ڈرائیور ان کا پہلے ہی منتظر تھا۔۔۔ یہ وہی کمپنی تھی جس نے ایمان کو اپنے اشتہار کے لیے وہاں بلایا تھا اور پورے ہفتے کے لیے ایمان ان کی مہمان تھی۔۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کی صحبت میں بہت انجوائے کیا۔۔۔ بُرج خلیفہ کا وزٹ ایمان اور عمر اس سے پہلے بھی کر چکے تھے لیکن اس بار ایک دوسرے کی صحبت میں تھکن کا کوئی احساس ان کے پاس نہ تھا۔۔۔ بلکہ یہ تھکن ایک الگ ہی مزہ دے رہی تھی۔۔۔ وہاں کے شاپنگ مال سے ایمان نے کافی ساری شرٹس اور پرفیوم عمر کے منع کرنے کے باوجود اس کے لیے خریدے۔۔۔ ان کی قیمت بہت زیادہ تھی۔۔۔ لیکن ایمان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ وہ پہلی بار کسی کے لیے دل سے شاپنگ کر رہی تھی۔۔۔ ایک ایک چیز جو اپنے لیے خریدتی اس پر عمر کا مشورہ ضرور مانگتی۔۔۔حالاں کہ اس نے اس سے پہلے اپنی شاپنگ میں کسی کی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دی تھی۔۔۔ لیکن اب دل جس شخص کو اہمیت دے رہا تھا اس کی کیا مجال تھی کہ وہ اس کی رائے کو اہمیت نہ دے۔۔۔ اور عمر بھی حیران تھا کہ شاید اس ایڈ سے اس نے جو کمایا ہوگا وہ سب بڑی بے دردی سے اُڑا رہی تھی۔۔۔۔ پھر وہ دونوں ایک بہت مہنگے ریسٹورنٹ میں آگئے۔۔۔جہاں دنیا جہان کا سیاّح موجود تھا۔۔۔۔
“اس ریسٹورنٹ کا کھانا کھاؤ گے تو دنیا کی ساری کوزین بھول جاؤ گے۔۔۔” میں جب بھی دبئی آتی ہوں یہاں ضرور آتی ہوں۔۔۔ اس بار تمہارا انتظار کر رہی تھی کہ تم آؤ تو تمہیں لے کر آؤں۔۔۔” اس کی ہمراہی میں وہ بچوں کی طرح خوش تھی۔۔۔ایک لمحے کو عمر کو اس کے خوب صورت چہرے پر ایسی چھوٹی سی بچی کی سی خوشی نظر آئی جو پہلی بار اپنے کسی من پسند تحفے کو دیکھ کر آنکھیں چمکا رہی تھی۔۔۔ وہ واقعی بہت خوش تھی۔۔۔ ریسٹورنٹ میں بہت شور تھا۔۔۔ کھانا آنے میں تھوڑا ٹائم لگا۔۔۔ ایمان نے اپنے لیے عربک پلیٹر اور اس نے لبنانی پلیٹر منگوایا۔۔۔جو دونوں نے ہنستے بولتے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر کے کھایا۔۔۔ اور ساتھ ہی شیشہ بھی پیا۔۔۔ اسی دوران ایمان نے اس کی اور اپنی کئی سیلفیاں بھی لیں۔۔۔ او ر ایک ویڈیو بھی بنائی۔۔۔ وہاں سے اُٹھ کر واپس ہوٹل جانے کا کوئی پروگرام نہ تھا۔۔۔ وہاں سے وہ دونوں پام الجمیرہ کے ساحل کی طرف گئے۔ وہ جانتی تھی کہ آج پورے چاند کی رات ہے اور آج اتنے خوب صورت ماحول میں دل کی بات بآسانی کہی جا سکتی ہے۔۔۔۔ ساحل کا پرسکون ماحول ایمان کے دل کی دھڑکنوں کو ایک الگ ہی ردھم دے رہا تھا۔۔۔ وہ کافی دیر عمر کا ہاتھ پکڑے خوب صورت ساحل کی پٹی پر چلتی رہی۔۔۔ اور پھر ایک جگہ بنچ پر اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔ ” کیا ہوا تھک گئی؟” ” ہاں تھک تو میں گئی ہوں اور اب چاہتی ہوں کہ کہیں آرام سے ایک گھر کے کونے میں بیٹھ جاؤں اور ساری عمر کسی کی خدمت کروں۔۔۔” وہ کھُل کر کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی۔۔۔” کیا مطلب؟” عمر سمجھ کر بھی انجان بن رہا تھا۔۔۔ یا شاید اسے ایمان جیسی پروفیشنل لڑکی سے قطعاً اس بات کی توقع نہیں تھی۔۔۔ ایسی خواہشتات کے باغ تو شاید مڈل کلاس لڑکیوں کی آنکھوں میں بستے ہیں۔۔۔ مطلب صاف ظاہر ہے میں اب اس زندگی سے تنگ آگئی ہوں۔۔۔ چھوڑنا چاہتی ہوں یہ سب گھر بسا کر کسی ایک شخص کے ساتھ پوری زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ اپنی پوری شدت کے ساتھ اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔اور ایک لمحے کو بے اختیار ہی عمر کی ہنسی نکل گئی۔۔ اور ایسا واقعی بے اختیار ہی ہوا۔۔۔” کیا ہوا؟ تم ہنس رہے ہو۔۔۔ کیا میں نے کوئی لطیفہ سنا دیا۔۔۔۔” اس کی ہنسی پر اُسے حیرانی کے ساتھ ایک عجیب سی وحشت سی ہوئی۔۔۔ یا تو وہ خود اپنے خواسوں میں نہیں تھی یا وہ بے حواسی میں ہنس رہا تھا۔۔۔ حالاں کہ ایمان کا خیال تھا کہ اس کی شدتوں کے جواب میں وہ اُسے اپنی محبتوں کا یقین دلائے گا اور اس کی بات کی تائید میں اظہار محبت کرے گا۔۔۔ لیکن معاملہ تو برعکس ہوا۔۔۔ جو یقینا ایمان کے لیے قابل یقین نہ تھا۔۔۔” ارے یار تم بھی ان مڈل کلاس لڑکیوں جیسی سوچ رکھتی ہو۔۔۔ محبت کا تعلق کبھی دو بولوں یا کاغذ کے ٹکڑوں کا محتاج ہوا ہے۔۔۔ یہ تو ہم انسانوں نے خود کو ایک دوسرے کا قیدی بنانے کے لیے ایسے معاہدے ترتیب دیئے ہیں۔۔۔ ورنہ جب دو روحیں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں تو بس ایک دوسرے کا ساتھ چاہتی ہیں اور انہیں ان سب سے بالا تر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا چاہیے۔۔۔ ” اُسے ایمان کی آنکھوں میں اپنی ہنسی پر عجیب سا احساس نظر آیا تو اس نے پوری چالاکی سے اپنی ہنسی کی وضاحت دی۔۔۔جسے ایمان کے دل نے ماننے سے انکار کر دیا۔۔۔
“سنو! عمر آفندی تم مردوں کے لیے یہ معاہدہ کسی قید نامہ جیسا ہوگالیکن ہم عورتوں کے لیے پوری زندگی ہے۔ مذہب نے یہ معاہدے بنائے ہیں تاکہ عورت کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔۔۔ ورنہ پتھروں کے دور کی عورت تو بنا چھت کے زندگی گزارتی تھی۔۔۔ جسے جب چاہے جو چاہے اپنی ملکیت بنا لے۔۔۔ جیسے کسی جانور کو پسند آنے پر گھیر کر اپنے باڑے میں باندھ دیا جاتا تھا۔۔۔ اسی طرح پسند آنے پر عورتیں کسی بھی مرد کے گھر کی زینت بن جاتیں۔۔۔ جو تمہاری نظر میں فضول سا کاغذ کا معاہدہ ہے یہ کسی بھی عورت کے لیے قید خانے کا معاہدہ نہیں بلکہ اپنی چھت کے تحفظ کا احساس ہے۔۔۔” یار کیا فضول سی باتیں لے کر بیٹھ گئیں ہم یہاں گھومنے پھرنے عیش کرنے آئے ہیں اور تم انہی مخصوص مڈل کلاس عورتوں کی طرح گھر کی باتیں لے کر بیٹھ گئیں۔۔ کم از کم تم سے تو میں ایسی باتوں کی توقع نہیں کر رہا تھا۔۔۔” وہ بہت بور ہوا۔۔۔ اتنے خوب صورت ماحول میں جہاں خوامخواہ گناہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ وہاں یہ عورت اس کا سارا موڈ خراب کر رہی تھی۔۔۔” عمر آفندی ہر عورت کے دل میں پہلا اور آخری خیال اپنے گھر کا ہوتا ہے۔۔۔ اور ہماری جیسی عورتیں بھی گھر بساتی ہیں۔۔۔ کیوں کہ ہر عورت کی آخری پناہ گاہ اس کا گھر ہی ہوتا ہے۔۔۔” اس بار اس نے یہ جملے بہت چبا چبا کر بولے۔۔۔ تم خود ہی بتاؤ ایسی آزاد اور خوب صورت زندگی سے الگ کسی قید خانے میں بند ہو کر تمہیں کیسا لگے گا۔۔۔ یہ سب جذباتی باتیں ہیں۔۔۔ بہت کم عورتیں قید خانوں میں مطمئن زندگی گزارتی ہیں۔۔۔” اگر مرد عورتوں سے تعاون کرنے والا ہو۔۔۔تو ہر عورت صرف ایسے قید خانے میں ہی زندگی گذارنا پسند کرے۔۔۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے قید خانے سے باہر ہزار گِدھ اس کونوچنے اور کھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔۔۔ تم نے تو ایک آزاد پرندے کی زندگی گذاری ہے۔۔۔ کبھی عورت کے دل سے پوچھو اُسے کیا چاہیے۔۔۔ مجبوری میں جب عورتیں باہر نکلتی ہیں انہیں کیسے کیسے لوگوں کی گندی باتیں اور گندی نظریں سہنی پڑتی ہیں۔۔۔ جو ان کی روحوں پر ساری عمر کے زخم چھوڑ جاتی ہیں۔۔۔” وہ بہت دُکھی انداز میں بول رہی تھی۔۔۔ہم یہاں یہ باتیں کرنے آئے ہیں۔۔۔”اس بار وہ جھنجھلا گیا۔۔۔ تو ایمان نے بھی اس سے صاف صاف بات کرنے کی ٹھان لی۔۔۔” ہاں ہم یہاں یہ باتیں ہی کرنے آئے ہیں مجھے کہنے دو عمر آفندی!۔۔۔ زندگی میں پہلی بار کسی سے محبت کر بیٹھی ہوں۔۔۔اور وہ تم ہو۔۔۔ اور میں تمہارے ساتھ پوری زندگی گذارنا چاہتی ہوں۔۔۔” وہ اتنا کہہ کہ ہانپ گئی۔۔۔جب کسی عورت کو مجبوری میں اپنے منہ سے خود اپنی محبت کا اظہار کرنا پڑ جائے تو شاید وہ بھی ایسی ہی میلوں کی مسافت طے کرنے کے بعد کہہ پاتی ہے۔۔۔ اور اسی طرح ہانپ جاتی ہے۔۔۔ مرد تو جھوٹی محبت کا اظہار بھی بہت آسانی سے اور بڑے شاطرانہ شاٹ کھیلتے ہوئے کر بیٹھتا ہے۔۔۔ ایک بار تو عمر آفندی ہکّا بکّا سا رہ گیا۔۔۔ وہ کم از کم ایمان کے منہ سے ایسے اظہار کی توقع نہیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ اب اپنے کیرئیر کے عروج پر تھی۔۔۔ اور اچھا خاصا کما رہی تھی۔۔۔ یہ شادی یقیناً اس کے لیے اپنے کیئرئیر کا اختتام ثابت ہوتی۔۔۔” لیکن تم اس وقت اپنے کیرئیر کے عروج پر ہو اور اس شادی کے بعد تمہارا کیرئیر تباہ ہو جائے گا۔۔۔ “
” I dont care “مجھے اس وقت ایک گھر کی ضرورت ہے۔۔۔ میرا گھر جہاں میں عزت سے اپنی باقی زندگی گذار سکوں۔۔۔” اس کے لہجے میں آس تھی۔۔۔ پیاس تھی۔۔۔ ایک ایسی پیاس جس سے ہر عورت کا خمیر گوندھا گیا ہے۔۔۔ اپنے گھر۔۔۔ اپنے گھروندے کی پیاس۔۔۔ جو شاید ایک بُری سے بُری عورت کے اندر بھی کہیں نہ کہیں دبی رہتی ہے۔۔۔بے شک مجبوریاں اُسے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کریں۔۔۔ لیکن کہیں نہ کہیں ہر عورت میں ایک چھت کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ اپنا گھر۔۔ اپنا شوہر۔۔ اپنے بچے۔۔۔ شاید یہ ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے اور اگر اس وقت عمر جیسے مرد سے ایمان ایسی خواہش کر رہی تھی تو کیا غلط تھا۔۔۔ غلط تو اس وقت عمر نے کیا اُسے صاف صاف لفظوں میں اس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے۔ اس کے سر پر دھماکا کیا۔۔۔
“ٹو بی ویر فرینک ایمان! شادی تو میں نے اپنے خاندان میں ہی کرنی ہے کیوں کہ میں اپنے بابا کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔۔۔ ان کی خواہش ہے کہ میں شادی اپنے خاندان میں کروں۔۔۔” اور پھر تم خود سوچو میرا تعلق ایک بہت شریف خاندان سے ہے۔۔۔ میرے باپ کی پوری سوسائیٹی میں بہت عزت ہے۔۔۔ وہ ایک ماڈل سے میری شادی پر کسی صورت تیار نہیں ہوں گے۔۔۔” عمر نے بہت سنبھل سنبھل کر لفظوں کا چناؤ کیا تھا اسی لیے ایمان کو ساری کہانی سمجھ آگئی۔۔۔ “تو پھر اتنے دنوں سے تم مجھے بے وقوف بنا رہے تھے۔۔۔”
” میں نے تمہیں کب بے وقوف بنایا۔۔۔ اس نے نظریں پھیر کر کہا۔۔۔” وہ محبت بھری بیٹھی میٹھی باتیں۔ بے قراریاں۔ مجھ سے ملنے دبئی تک آجانا۔۔۔ یہ سب کیا تھا عمر۔۔۔ ان سب باتوں نے مجھے ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا تھا جہاں صرف میں اور تم تھے۔۔۔ او مائی گاڈ! عورت کتنی بے وقوف ہوتی ہے بُری عورت کے ساتھ وقت گذاری کرتے وقت تم لوگوں کو اپنے خاندان کی عزت یاد نہیں آتی۔۔۔ اور اگر اس کے ساتھ زندگی گذارنی پڑجائے۔۔۔ اُسے چھت دے کر اس کا سائبان بننا پڑے تو عزت یاد آجاتی ہے۔۔۔واہ۔۔۔ دنیا میں مرد سے زیادہ منافق کوئی مخلوق نہیں۔۔۔”اس بار اس کے لہجے میں دنیا جہاں کی تلخی تھی۔۔۔تو عمر کو بھی شدید غصّہ آگیا۔۔۔” یار! عورت عورت میں بھی فرق ہوتا ہے۔۔۔ اپنے گھر کی چھت ان عورتوں کو دی جاتی ہے جو خاندانی ہوں۔۔۔ جن پر کبھی کسی غیر مرد کا سایا بھی نہ پڑا ہو۔۔۔” ایمان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔ وہ صحیح تو کہہ رہا تھا شریف عورتوں کو ہی گھر کی زینت بنایا جا تاہے۔۔۔ اس جیسی عورتیں تو صرف باہر کے مردوں کا دل بہلانے کے لیے ہوتی ہیں۔۔۔ اس سے کتنی بڑی حماقت ہوئی۔۔۔ عمر آفندی کی میٹھی میٹھی باتوں پر ایمان لے آئی۔۔۔ اس کی آنکھوں پر محبت کی کیسی پٹی بندھی کہ عمر کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا۔۔۔ یہ نہیں سوچا کہ مردوں کا فرقہ بھی کبھی فطرتاً بدلا ہے۔۔ ان کی فطرت توروز ازل سے عورت کو صرف اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے گھیرنے والی ہے۔۔۔ کام نکلنے پر تو کون تو میں کون؟۔۔۔ اور یہاں بھی ایسا ہی تماشا لگنے والا تھا۔۔۔ عورت کا جسم حاصل ہونے کے بعد عورت مرد کے کسی کام کی نہیں رہتی۔۔۔ محبتوں کے چڑھتے بخار بہت جلد اُتر جاتے ہیں۔۔۔ نجانے وہ یہ زہر کھانے پر کیوں تیار ہو گئی تھی۔۔۔ شاید اپنے گھر کی خواہش فطرتاً اسے اس گناہ بھری زندگی سے دور ہونے پر مجبور کرتی۔۔۔ لیکن کوئی ہاتھ تھامنے کو تیا رہی نہیں تھا۔۔۔ مرد عورت کے ساتھ گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے لیکن گناہ کے بعد دوبارہ پاکباز بن جاتا ہے۔۔۔اسے ایک پاکباز بیوی بھی مل جاتی ہے۔۔۔ لیکن عورت کا گناہ، اس کی ساری عزت کو تارکول کی ایسی سیاہ سڑک بنا دیتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔ جس کا کوئی اختتام نہیں کہیں نہ کہیں برائی کا حوالہ اس کے آگے آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔۔۔ اس نے ڈبڈبائی نظروں سے عمر کی طرف دیکھا اور خاموشی سے کھڑی ہو گئی۔۔ بیگ شولڈر پرلٹکایا۔۔۔ اور عمر سے کہا۔۔۔” یہاں تمہارے ساتھ ایک سیلفی لینا چاہتی ہوں۔۔۔” یہ کہہ کر موبائیل آن کیا۔۔۔ دیکھو ایمان جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تم اس وقت جذباتی ہو کر سوچ رہی ہو۔۔۔ عقل مندی کا تقاضا ہے ہم ساری عمر دوست رہ سکتے ہیں۔۔۔ اسی طرح چند اچھی شامیں ان ساحلوں پر بسر ہو سکتی ہیں تم بھی خوش میں بھی خوش۔۔۔ کیا ضروری ہے شادی کا طوق اپنے گلے میں لٹکایا جائے۔۔۔”
عمر نے اس کو ایک بار پھرسمجھانے کی ناتمام کوشش کی۔۔۔ لیکن اس نے آگے بڑھ کر عمر کے شانے پر اپنا سر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کی سکرین اپنی طرف کر کے بٹن دبادیا۔۔۔ ” تھینک یو مجھے تمہارے ساتھ گذرا ہوا یہ دن تا عمر یاد رہے گا۔۔۔ اور شاید تمہیں بھی۔۔۔ میں واپس ہوٹل جا رہی ہوں۔۔۔ اگر چلنا ہے تو آجاؤ کیوں کہ میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔ آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔” ہوٹل آکر اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔۔۔ عمر نے اسے اپنے کمرے سے کافی فون کئے لیکن وہ اپنا موبائل بھی پاورڈ آف کر چکی تھی۔۔۔ اور نیند کی گولی لینے سے پہلے اس نے اپنی صُبح کی فلائٹ سے سیٹ بک کروانی ضروری سمجھی۔۔۔ اتنے ارجنٹ سیٹ ملنا مشکل تھا اسی لیے اس نے شیخ کو کال کرنا مناسب سمجھا۔۔۔ اب اس کے لیے یہاں بچا ہی کیا تھا۔۔۔ ایک گولی کھا کر بھی اُسے نیند نہ آئی تو تین گولیاں اکھٹی کھا ئیں۔۔۔ تب کہیں جا کر اُسے سکون ملا۔۔۔ واقعی نیند نہ ہوتی تو دنیا میں لوگوں کی خود کشیوں کا تناسب کہیں زیادہ ہوتا۔۔۔ کیوں کہ وہ بھی نیند نہ آنے کی صورت میں پوری بوتل حلق میں پھانک لینے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x
اگلے دن ہوٹل کے لابی کاؤنٹر سے عمر کو اس کے واپس جانے کی خبر ملی۔۔۔ کہ دروازہ ناک کرنے پر بھی ایمان کے کمرے کا دروازہ نہ کھلا۔۔۔ تو وہ فوراً نیچے آیا کہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ وہ تو ایمان کی اس حرکت پر حیران ہی رہ گیا۔۔۔ اچانک ہی اس کے موبائل پر بابا کی کال آگئی۔۔۔ عمر نے فون لینا ضروری سمجھا۔۔۔۔” ہیلو بابا! السلام علیکم” ” وعلیکم السلام۔۔۔ عمر تم اس وقت کہاں ہو۔۔” ان کی آواز میں بہت غصّہ تھا۔۔۔”بابا میں میٹنگ میں ہوں۔۔۔” میں تمہیں ایک واٹس اپ کر رہا ہوں ذرا دیکھو اور پھر دوبارہ مجھ سے بات کرو۔۔۔” ان کا انداز اتنا سخت تھا کہ وہ خود پریشان ہو گیا۔۔۔ اس نے جلدی سے موبائل پر واٹس ایپ کھولا تو اس کی اور ایمان کی دو تین تصاویر سامنے آگئیں۔۔۔ خاص طور پریہ وہ تصاویر تھیں جن میں وہ اور ایمان ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔۔۔ کسی فیس بک پیج پر اس کے اور ایمان کے تعلقات اور دبئی کے اس ٹرپ کے بارے میں پوری رپورٹ موجود تھی۔۔۔ ابھرتی ہوئی ٹاپ ماڈل ایمان شاہ کا ملک کے ایک بڑے سرمایہ دار کے بیٹے عمر آفندی کے ساتھ چکر دونوں آجکل ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے دبئی کے ریسٹورنٹس اور ساحلوں پر دیکھے جا رہے ہیں “۔۔۔ اس سے زیادہ عمر سے نہ پڑھا گیا۔۔۔ ایمان اپنا بدلہ اس طرح بھی لے سکتی ہے۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ واقعی کسی نے صحیح کہا ہے عورت اور ناگن میں صرف اسی وقت فرق ہوتا ہے جب تک اُسے چوٹ نہ پہنچائی جائے خود کو چوٹ پہنچانے والے کووہ مشکل سے ہی بخشیں ہیں۔۔۔ لیکن اب کیا ہوسکتا تھا تیر تو کمان سے نکل چکا تھا۔۔۔ ویسے تو اس کے کارنامے دنیا بھر میں مشہور ہو چکے تھے۔۔۔ لیکن اُسے سب سے زیادہ فکر آفندی صاحب کی تھی۔۔۔ جو اب تک اس کے کارناموں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔۔۔ لیکن آج بم پھٹا تو ایسے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
مہنگے والے ٹچ سکرین موبائل پر اس کی انگلیاں بڑے محتاط انداز میں چل رہی تھیں۔۔۔ کبیر علی نے اس کی خواہش پر دو دن پہلے ہی یہ مہنگا موبائل دلوایا تھا۔۔۔ جس پر اس نے نئی سم ڈالی۔۔۔ اور انہی کی ہدایت کے مطابق ضروری Appڈاؤن لوڈ کر لئے۔۔۔ ایک الگ ہی دنیا تھی۔۔۔ وہ پہلے سیما کے موبائل کو دیکھ کر للچاتی رہتی تھی۔۔۔ کئی بار سیمانے اسے fb، انسٹا گرام اور دیگرا یپس کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔ اب اس نے یہ سب خود کیا۔۔۔ برائی انسان کو اچھائی کی نسبت جلد سمجھ آجاتی ہے۔۔ اور اس وقت ایک نئی دنیا اس کے سامنے کھُل چکی تھی۔۔۔ ڈریس ڈیزائنرPages۔۔۔ جیولری کو لیکشن۔۔۔ گھر کی ڈیکوریشن کا سامان۔۔۔ اس کی توآنکھیں ہی کھُل گئیں۔۔ اس نے چند مہنگے سوٹس کا آن لائن ہی آرڈر کر دیا۔۔۔ ایک آدھ جیولری سیٹ بھی منگوایا۔۔۔ اور ثنا کو خوش ہو کر دکھایا۔۔۔ ثنا تو یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔ یہ سب سامان کم از کم بیس پچیس ہزار کا بن رہا تھا، جو وہ بہت آرام سے منگوا رہی تھی۔۔۔
” لیکن یار یہ سب تو بہت مہنگا ہے۔۔۔” وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی اور ان pagesمیں زیادہ تر پیج فیک ہوتے ہیں۔۔۔ جو سامان منگوایا جائے وہ آتا بھی نہیں۔۔۔”
” اب ایسا تو مت کہو میں نے پہلی بار منگوایا ہے۔۔۔” وہ برا مان گئی۔۔۔ ” میں سچ کہہ رہی ہوں یار تمہیں کم از کم مجھ سے یا بھائی سے آرڈر کرنے سے پہلے مشورہ تو کر لینا چاہیے تھا۔۔۔” اس نے سمجھایا۔ تم کیا سمجھتی ہوں میں اتنی آسانی سے بے وقوف بن جاؤں گی۔۔۔ میرے پاس عقل نہیں ہے۔۔۔” وہ ایک دم ہتھے سے اُکھڑ گئی۔۔۔ ارے نہیں یار میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم بے وقوف ہو۔۔۔ لیکن اگر مشورہ کر لیا جائے تو اچھاہوتا ہے۔۔۔ باقی تم خود سمجھ دار ہو۔۔” ثنا اس کے غصّے پر ایک دم خاموش ہو گئی اور اُٹھ کرکمرے سے باہر جانے لگی پیچھے تو اس نے سامعہ کی بڑبڑ اہٹ صاف سُنی۔۔۔” خود میرے میاں کے پیسے پر عیش کرتی رہیں تو کچھ نہیں۔۔۔ اگراب میں خرچ کر رہی ہوں تو بُرا لگ رہا ہے۔۔۔ سب سمجھتی ہوں۔۔۔ اتنی بے وقوف نہیں ہوں میں۔۔۔ ثنا کا دل دُکھ کر رہ گیا۔۔۔ کتنا غلط سمجھتی ہے اس کی دوست۔۔۔ شاید اب اُسے کسی پر اعتبار نہیں رہا۔۔ ہر رشتہ اُسے جھوٹا لگ رہا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے کچن میں آگئی۔۔۔ جہاں دوپہر کی روٹیاں بنانی تھیں۔۔۔ روٹی بناتے بناتے ہوئے بھی وہ صرف اس کی تکلیف دہ بڑبڑاہٹ کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔۔۔۔ بچپن سے لے کر اب تک اس نے اپنی کتنی چیزیں اس کے ساتھ شیئر کی تھیں۔۔۔اس کے کپڑے جوتے۔۔۔ جیولری۔۔۔ ثنا نے اسے کئی بار اپنے نئے جوڑے پہلے اُسے پہننے کو دیئے تاکہ اس کے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے۔۔۔ اس نے بھی ثنا کی ہر چیز پہ بلاشرکت غیرے استعمال کی۔۔۔ اپنا حق سمجھ کر۔۔۔ اور آج وہ اس پر یہ الزام لگا رہی ہے۔۔۔ اس نے تو کبھی ایسی بات سوچی بھی نہ تھی۔۔۔ کیوں کہ وہ خود پیسا برباد کرنے کے حق میں نہیں تھی۔۔۔ اسی لیے صرف اُسے سمجھانا چاہا۔۔۔ لیکن وہ تو غلط مطلب نکال بیٹھی۔۔۔ یا اللہ اس کی بدگمانیوں کو ختم کر دے۔۔۔ بد گمان شخص دوسرے کا تونقصان کرتا ہی ہے لیکن اپنی زندگی کے سکون کو بھی حرام کر لیتا ہے۔۔۔ اور ایسے ہی اس وقت سامعہ اتنے محبت کرنے والے رشتوں سے بدگمان ہو کر اپنی خوشیاں بھی برباد کر رہی تھی۔۔۔ لیکن اُسے اندازہ بھی نہ تھا کہ شام کو کبیر کے آنے پر سامعہ ثنا کی شکایت ان سے بھی کرے گی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
موبائل پر لگی سامعہ نے جیسے ہی کبیر علی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا فوراً بستر سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔” السلام علیکم! کیا حال ہے؟” کبیر علی نے خوش دلی سے اُسے خود سلام کیا۔۔۔” وعلیکم السلام” اس نے بے دلی سے جواب دیا اور دوبارہ فون پر مصروف ہو گئی۔۔۔ انہیں فوراً اس کے موڈ کا اندازہ ہو گیاکہ خراب ہے۔ ورنہ وہ ہر شام ان کے آنے پر اچھے موڈ کا مظاہرہ کرتی یا کم از کم کرنے کی کوشش کرتی۔۔۔” اللہ خیر کرے موڈکیوں خراب ہے؟” بیگ صوفے پر رکھ کر وہ اس کے پاس ہی آکر بیٹھ گئے اور آستینوں کو اوپر کی طرف فولڈ کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔” کوئی بات نہیں۔۔۔ میری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔۔” وہ ابھی بھی بے زاری سے بات کر رہی تھی۔۔۔” بھئی طبیعت کو اچانک کیا ہوا؟ کوئی دوائی وغیرہ لی۔۔۔” وہ اس بار اس کی بات سُن کر پریشان ہو گئے۔۔۔ اور ہاتھ لگا کر ماتھا چھوا۔۔۔ ” بخار تو نہیں ہے۔۔۔”
” طبیعت خرابی کی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں ضروری ہے کہ بخار ہو تو تب ہی طبیعت خراب ہو۔۔۔” وہ بُرا سامنہ بنا کر بولی۔۔۔ تو کبیر علی کو اندازہ ہو گیا کہ موڈ زیادہ ہی خراب ہے۔۔۔ انہوں نے اس کا ہاتھ محبت سے تھاما اور پوچھا ” سچ مچ بتاؤ کیا ہوا؟” کچھ نہیں بس میں نے چند سوٹ آن لائن آرڈر کرلیے تھے۔۔۔ تو ثنا کو بُرا لگ گیا آپ بتائیں کہ کیا آپ کے پیسے پر میرا کوئی حق نہیں؟ ساری عمر آپ ثناکو اچھی سے اچھی شاپنگ کرواتے رہے پہلی بار میں نے اپنی مرضی سے کچھ منگوالیا تو بُرا لگ گیا۔۔۔” سامعہ نے منہ بنا کر بتایا۔۔۔ ارے اس میں بُرا لگنے کی کیا بات ہے تمہیں یقینا غلط فہمی ہوئی ہوگی اس کی بات سے اس نے کیا کہا تم سے۔۔۔” انہیں واقعی ثنا سے یہ توقع نہ تھی۔۔۔ وہ تو بہت کھُلے دل کی تھی پہلے بھی اپنے لیے اکثر ضد کر کے جو چیز لیتی۔۔۔ تو سامعہ کے لیے بھی لے لیا کرتی تھی۔۔۔” کچھ نہیں بس اُسے قیمت پر اعتراض ہو رہا تھا کہ اتنا مہنگا کیوں لیا۔۔۔ تو میں نے بھی کہہ دیا بھئی میرے میاں کی کمائی ہے اگر میں نے لے لیا تو کیا بُرا کیا؟۔۔۔” وہ بہت معصومانہ اندا زمیں آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔ کبیر علی تو بس اس کے انداز پر نہال ہی ہو گئے۔۔۔ مرد کا دل کتنا بڑا ہوتا ہے۔۔۔ اپنوں اور اپنے محبت کرنے والوں پر خرچ کر کے اُسے جو خوشی ملتی ہے وہی خوشی آج ان کے چہرے پر دیکھی جا سکتی تھی۔۔۔ اور سامعہ کے معصومانہ انداز نے انہیں نہال کر دیا۔۔۔” ارے بالکل بُرا نہیں کیا۔۔۔ تمہیں اجازت ہے جب کچھ منگوانا ہو منگوا لو۔۔۔ بلکہ میں جلد ہی تمہارا اکاؤنٹ کھلوا دوں گا۔۔۔ تاکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ بآسانی شاپنگ کر سکو۔۔۔ اور کچھ۔۔” انہوں نے سامعہ کے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے بہت پیار سے اسے کو دیکھا اور کہا۔۔۔ سامعہ نے ان کے ہاتھ تلے دبے اپنے ہاتھ کو آہستہ سے نکال لیا۔۔۔۔” بہت شکریہ بس اب ذرا آرام سے ثنا کو بھی سمجھا دیجئے گا کہ میرے معاملے میں زیادہ نہ بولا کرے۔۔۔ مجھے آپ کی طرف سے پوری اجازت ہے۔۔۔” اس کی تم بالکل فکر مت کر۔۔۔و آج کے بعد وہ تمہارے کسی معاملے میں نہیں بولے گی۔۔۔ بس اب تم جا کر اچھی سی گرم گرم چائے کا انتظام کرو میں نہا کر نیچے امی کے پاس ہی آرہا ہوں۔۔۔وہ ہمارا چائے پر انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔”انہوں نے واش روم کی طرف جاتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔تو وہ بیڈ سے اُتر کر باہر نکل گئی اسے چائے کا کیا انتظام کرنا تھا۔۔۔ ثنا پہلے ہی ٹیبل پر سب سامان لگا چکی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
واپسی پرعمر آفندی کو بابا سے خوب ڈانٹ پڑی۔۔۔۔ اور انہوں نے اُسے اپنا آخری فیصلہ سنا دیا۔۔۔ اس مہینے کی آخر راضیہ آرہی ہے۔۔۔ میں نے تمہاری بات سیما سے پکی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔ اور مجھے یقین ہے کہ اتنی بڑی بات کے بعد تم کو کوئی اعتراض ہوگا بھی نہیں۔۔۔” وہ ہر لفظ چبا چبا کر بول رہے تھے۔۔۔ ان کا بس نہیں تھا کہ جس طرح عمر نے ان کی عزت کا جنازہ نکالا ہے وہ مار مار کر اس کا خون نکال دیں۔۔۔ سو شل میڈیا کے اس دور میں اب تک یہ خبر لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔۔۔ ان کے اپنے احباب فون کر کر کے تصدیق کرنا چاہ رہے تھے۔۔۔ انہوں نے فون ہی بند کر دیا۔۔۔ انہیں خدشہ تھا تو اس بات کا کہ عمر کی نانی اور سیما تک یہ خبر پہنچی تو گڑ بڑ ہو جائے گی۔۔۔ انہیں سیما تو پہلے ہی عمر کے لیے پسند تھی۔۔۔ لیکن اب جب سے اس نے آفس سنبھالا اورعمر سے بہتر کام دکھایا۔۔۔ وہ اُسے ہر حال میں اپنی بہو بنانا چاہتے تھے۔۔۔ اور اسی لیے وہ آج اپنی ساس سے ملنے جا رہے تھے۔۔۔ انہیں یہ بھی فکر تھی کہ اس خبر کے جواب میں انہیں کس طرح اپنے بیٹے کوڈیفنڈ کرنا ہے۔۔۔ وہ فیصلہ کرچکے تھے کہ اب عمر کوشادی کے بندھن میں باندھ دیں۔۔۔مزیدآزادی سے وہ اور گل کھلاے گا۔ شادی بیٹی کے یوکے سے آنے کے بعد مہینے کے آخرمیں ہو گی۔۔۔۔ عمر اس وقت بُری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔ ایک طرف اس کا مستقبل تھا تو
دوسری طرف باپ۔۔۔ اس نے اس فیصلے کے خلاف انہیں سمجھانے کی ایک نا تمام سی کوشش کی” بابامیری با ت تو سنیں ” تو آفندی صاحب نے ہاتھ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور بولے۔۔۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے میں اب تمہیں اپنے پیسے پر عیاشیاں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔۔۔ یہ میرا گھر ہے جو میں نے بہت محنت کے بعد بنایا ہے۔۔۔ اگر کسی نے عیاشی کرنی ہے اور اپنی مرضی کرنی ہے تو وہ یہاں سے جا سکتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔ بس اخبار میں عاق نامہ شائع کرنا ہوگا۔۔۔ اس کے بعد جب تم در در کی ٹھوکریں کھاؤ گے تو واپس مت آنا۔۔۔۔” ان کے لہجے میں حرفِ آخر کا استحکام دیکھ کر عمر کی ہمت ہی نہ ہوئی کہ آگے کوئی اور بات کر سکے۔۔۔شام کوتیار رہنا نانو بی کے گھر جانا ہے۔۔۔ راضیہ سے میری بات ہو چکی ہے اسے بھی اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ او رمیرے خیال میں تمہیں بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ بے شک اِدھر اُدھر کتنے منہ مارو مگر شادی اپنے ہم پلّہ لوگوں میں ہی کی جاتی ہے اور سیما سے زیادہ تمہارا جوڑ اور کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ بس اب میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔۔۔ تم جا کر آرام کرو شام کو تیار ہو کر نیچے آجانا۔۔۔”وہ اپنا فیصلہ سُنا کر جا چکے تھے۔۔۔ وہ کچھ کہنے لائق نہ تھا۔۔۔ ایمان نے اُسے کسی لائق چھوڑا بھی نہ تھا۔۔ وہ آج تک بہت بچ بچ کر کھیلتا رہا تھا لیکن اُسے اندازہ نہ تھا کہ اس بار اُس کا پالا ایک ایسے گھاک کھلاڑی سے پڑا تھا، جس نے پہلی بال پر ہی اُسے چت کر دیا ۔۔۔اس سے وابستہ لڑکیاں جب اندازہ کر لیتی تھیں کہ وہ ان سے صرف فلرٹ کر رہا ہے۔۔۔ تو خود بہ خود الگ ہو جاتی تھیں لیکن یہ پہلی بار تھا۔۔۔ کہ وہ الگ تو ہوئی لیکن اپنے انداز میں اسے ایک سبق پڑھا گئی اور سارے زمانے میں بدنام کر گئی۔۔۔ آج اُسے پتا لگا کہ عزت صرف عورت کی نہیں مرد کی بھی ہوتی ہے۔۔۔ اگر وہ سمجھے۔۔۔ اس کی وائیرل ویڈیواور سلفیاں جب بابا اور ان کے جاننے والوں نے دیکھی ہوگی تو کیا سوچا ہوگا؟۔۔۔ شاید اس کے لیے یہ سب کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔۔۔نئی نسل تھی وہ۔۔۔ لیکن اس کا باپ بزنس طبقے میں ایک مقام رکھتا تھا۔۔۔ ان کی تو عزت تھی۔۔۔ اور اس کی وجہ سے وہ عزت خراب ہو رہی تھی۔۔۔۔وہ کچھ کہنے لائق نہ رہا تھا۔۔۔ بلکہ ان کی بات ماننے پر مجبور تھا۔۔۔ اُسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کا باپ جو بات ایک بار کہہ دیتا ہے۔۔۔ اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔۔۔ اسی لئے بحث کرنا فضول ہے عاق کرنے کی دھمکی ہی کافی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
“سیما ابھی تمہارے خالو جان کا فون آیا تھا۔۔۔” کیوں؟ ” سیما نے پاؤں میں کیوٹکس لگاتے لگاتے ایک دم سر اُٹھا کر پوچھا۔۔” وہ آنا چاہ رہے ہیں شام کو۔۔” “نانو بی میں نے کل رات کو ہی فیصلہ سُنا دیا تھا۔۔۔۔” میں عمر سے شادی نہیں کر سکتی۔۔” وہ دل پر پتھر رکھ کر بولی۔۔۔ حالاں کہ دل ابھی بھی اس دشمن جان کے لیے ترس رہا تھا۔۔۔ لیکن عمر اور ایمان کی تصاویر دیکھنے کے بعد اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب بس بہت ہو گیا۔۔۔۔ عمر نہیں سدھر نے والا۔۔۔ یہ تو حد ہو گئی۔۔۔ آج اتوار تھا۔۔۔وہ نہا دھو کر بیٹھی تو نانوبی نے یہ خبر سُنائی۔۔۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ چھلانگیں لگاتی
لیکن اس وقت نانو بی کی بات سے اُسے کوئی خوشی نہ ہوئی۔۔۔ اس نے رات میں نانو بی کو بھی عمر اور ایمان کی تصاویر دکھائی تھیں۔۔۔ تو انہوں نے اسے بہت لائٹ لیا۔۔۔ بیٹا آج کل کے لڑکے یہ سب funکے طورپر کرتے ہیں۔۔۔ شادی ہوتی ہے تو سب بدل جاتے ہیں۔۔۔” انہوں نے سمجھایا۔۔۔ پہلے میں بھی یہی سمجھتی تھی کہ وہ بدل جائے گا لیکن بات بہت بڑھ چکی ہے۔۔۔ عمر کو جتنا میں سمجھتی ہوں کوئی اور نہیں سمجھتا۔۔۔ آپ انہیں منع کر دیں میراابھی شادی کا کوئی موڈ نہیں۔۔۔۔” اس نے رات کو ہی سختی سے منع کر دیا تھا لیکن اب پھر وہی راگنی۔۔۔ ” دیکھو بیٹا جیسے تم مجھے پیاری ہو ویسے ہی وہ بھی۔۔۔ میری ہمت نہیں ہو رہی انہیں منع کرنے کی۔۔۔ میں نے انہیں کہہ دیا کہ آکر تم سے خود ہی بات کر لیں۔۔ میں نے انہیں نہیں بتایا کہ تم نے انکار کر دیا۔۔۔ بلکہ تم پر چھوڑ دیا۔۔۔ویسے بھی پہلے ہر بار میں نے انہیں تمہاری اور عمر کی شادی کے لیے اصرار کیا اور اب انکار کیسے کروں۔۔۔” اب انکار کی بہت واضح وجہ ہمارے پاس ہے نانو بی۔۔۔ لیکن آپ چھوڑیں میں خود عمر اور خالو جان سے بات کر لوں گی۔۔۔ باہر نکلنے کے بعد سیما میں کافی اعتماد آگیا تھا۔۔۔ اور اس اعتماد کے پکے رنگ نانو بی اس کے چہرے پر دیکھ رہی تھیں۔۔۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی کہ انکار کی وجہ اس کے پاس تھی۔۔۔ لیکن انہیں سیما کے لیے عمر سے بہتر کوئی نظر ہی نہیں آیا۔۔۔ اور ان کے خیال میں لڑکے تو جوانی میں ایسی حرکتیں کرتے ہی ہیں۔۔۔اس میں کیا خرابی۔۔۔ شادی کے بعد سب میچور ہو جاتے ہیں۔۔۔ “ہاں واقعی لڑکے شادی کے بعد میچور ہو جاتے ہیں۔۔۔ اپنی انہی حرکتوں میں۔۔۔پہلے جو حرکتیں کھُلم کھُلا کرتے ہیں شادی کے بعد چھپا کر کرتے ہیں۔۔۔ تاکہ بیوی کو پتا نہ لگے۔۔۔” وہ چڑ کر بولی۔۔۔” تم اس معاملے میں اوور سینسٹوو ہو رہی ہو۔۔۔ تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔۔۔ بلکہ شام کو عمر بھی آرہا ہے۔۔۔ میرے خیال میں تم دونوں تھوڑا ٹائم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرو۔۔۔ اگر وہ تمہیں یا تم اُسے قائل کر پاؤ تو ٹھیک ہے۔۔۔ ورنہ میں یا تمہارے خالو جان تمہیں مجبور نہیں کریں گے۔۔۔ ہم تو اپنی زندگی گذار چکے۔۔۔ اب تم دونوں کو گذارنا ہے۔۔۔ اگر دل میں ابتداء سے ہی ایک دوسرے کے لیے گنجائش نہ ہو توساری عمر کیسے گذاراکرو گے۔۔۔۔” وہ یہ کہہ کر وہاں سے اُٹھ گئیں۔۔۔لیکن سیما کے سوچنے کے لیے ایک راہ چھوڑ گئیں۔۔۔ یہ وہ راہ تھی جو صرف عمر کے دل تک جاتی تھی۔۔۔ بچپن سے اب تک عمر کی محبت اس راہ کے ذریعے ہی پہنچی تھی۔۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔۔۔۔ اب شایداس سے آخری بار بات کرنی پڑے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
شام کو خالو جان نے نانوبی کی اجازت سے عمر اور سیما کو باہر بھیج دیا۔۔۔ تاکہ وہ ایک دوسرے سے بآسانی بات چیت کر سکیں۔۔۔راستے بھر عمر خاموش رہا۔۔۔جب وہ ایک ریسٹورنٹ پہنچے تو اس نے کافی آرڈر کر دی۔۔۔۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ اپنی اس حرکت پر اُس سے معافی مانگے گا۔۔ لیکن عمر نے اس سے دو ٹوک بات کی۔۔۔ “دیکھو سیما ایمان جیسی عورتیں مردوں کی زندگی میں اکثر آتی ہیں لیکن شادی وہ صرف اس عورت سے کرتا ہے جسے وہ اس قابل سمجھتا ہے اور یقین کرو۔۔ میری زندگی میں تم سے زیادہ قابل لڑکی ہوہی نہیں سکتی۔۔۔ میں تمہیں بچپن سے جانتا ہوں۔۔۔ تم جیسی معصوم۔۔۔ بھولی بھالی لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔۔۔ جس کی شرافت کا زمانہ گواہی دے۔۔۔۔” وہ کیا بول رہا تھا سیما کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آیااس کی بات پر خوش ہو۔۔۔ یا حیرانی کا اظہار کرے اس کے لئے اپنے بارے میں ایسے جملے سننے کی وہ کتنی طلب گار تھی۔۔۔ آج اگر وہ اس کی تعریف کر رہا تھا تو وہ بس یک ٹک اُسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔وہ آج اپنے اندر کے گھاک کھلاڑی کو مکمل آزمارہا تھا۔۔۔یہ پہلا موقع نہیں تھاکہ کوئی لڑکی اس کے جملوں سے متاثر نہ ہو۔۔۔۔اور ا س بار کھیل اس کے مستقبل کا تھا۔۔۔آریا پار۔۔۔اسے بہر حال سیما سے ہی شادی کرنا تھا۔۔۔اور اس شادی کے لیے منانا تھا۔۔۔اسے معلوم تھا کہ اس کے اور ایمان کے بارے میں سیما تک بھی پہنچ چکی ہے۔۔۔ اسی لیے اسے اپنے ہر ہتھیار کو آزمانا تھا۔۔۔ کافی ختم ہونے تک وہ اسے رام کر چکا تھا۔۔ اپنی پسندیدگی کے ایسے ایسے چھپے گوشوں کو بے نقاب کر چکا تھا کہ وہ حیران تھی۔۔۔ اور یقین کر چکی تھی کہ وہ واقعی اس سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔۔ یہ سب تو آنی جانی لڑکیاں تھیں۔۔۔وہ ہمیشہ اس کے دل اور گھر میں رہے گی۔۔۔ کچھ لوگ اپنی زبان کا کھاتے ہیں۔۔۔ دوسروں کو اپنی باتوں سے رام کرنے کا ہنر ان کی گھُٹی میں پڑا ہوتا ہے۔۔۔ اور اس کی گھُٹی بھی انہی چھوٹی سچی باتوں کو ملا کر چٹائی گئی تھی۔۔۔ جس نے اسے جھوٹ کے میدان کا ماہر کھلاڑی بنا دیا۔۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اپنی بات کا یقین دلائے اور سامنے والے کو یقین نہ آئے۔۔۔ اور یقین کرنے والا بھی وہ جو ہمیشہ اس پر یقین کر لیتا تھا۔۔۔ اور اس بار تو یقین کئی گنا زیادہ تھا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
دونوں کی بات پکی ہو گئی۔۔۔ سیما کی آنکھوں میں جلنے والے محبت کے دیپ نانو بی کو پر سکون کر گئے۔۔۔ شادی راضیہ کے آنے پر طے کی گئی۔۔ جسے جلد ہی آنا تھا۔۔۔ نانو بی نے سیما کے لیے بہت کچھ جوڑ رکھا تھا۔۔۔ مگر پھر بھی نئے نئے کپڑوں اور دوسری چیزوں کی شاپنگ شروع ہو گئی۔۔۔ روزانہ دونوں نانی نواسی آفس کے بعد شاپنگ کے لیے نکلتیں گھومتی پھرتی اور چیزیں خریدتیں۔۔۔ نانو بی نے اس سے کہا بھی کہ وہ اب آفس جانا بند کر دے تو اس نے جواب دیا کہ شادی کی ڈیٹ فکس ہوتے ہی وہ پہلا کام یہی کرے گی۔۔۔ فی الحال گھر بیٹھ کر وہ کیا کرے۔۔۔اور پھر راضیہ کے آنے پر تاریخ طے کر دی گئی۔۔۔ راضیہ بہت خوش تھی کہ عمر نے کوئی نہ کوئی فیصلہ لے لیا۔۔۔ ایک بہن ہونے کے ناطے اس کی دل پھینک طبیعت سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔۔۔ اس کی نت نئی دوستیوں کی وہ گواہ تھی۔۔۔ وہ اکثر اسے سمجھاتی رہتی لیکن شادی کے بعد لمبی دوریوں سے دونوں کے درمیاں رابطے کم کم ہی تھے۔۔۔ اور جب آفندی صاحب نے اُسے ایمان اور عمر کے اسکینڈل کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ ایک لمحے کو حیران سی رہ گئی۔۔۔ کیوں کہ عمر سیما سے کسی صورت شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔مگر اس واقعے کے بعد وہ ایسے جال میں پھنس چکا تھا کہ باپ کی بات نہ مان کر اتنی بڑی جائیداد سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اسی لیے یہ کڑوا گھونٹ ” فی الوقت” پینے پر راضی ہو گیا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔ x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
راضیہ نے اُسے گاڑی میں ہی مبارکباد دی۔۔۔ تو عمر نے عجیب سی نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔۔” کیا تم سمجھتی ہو میں نے یہ فیصلہ دل سے کیا ہے؟۔۔۔”ہاں وہ تو میں جانتی ہوں۔۔۔ تم تو پہلے بھی اس سے شادی پر تیار نہ تھے۔۔۔ لیکن اب پھنس گئے ہو تو یہ طوق گلے میں پہننا ہی پڑے گا۔۔۔۔” لیکن میرے خیال میں اتنا بُرا طوق بھی نہیں۔۔۔” اس نے جانچتی ہوئی نظروں سے عمر کو دیکھا۔۔۔۔ تو عمر نے اس کی بات پر جھلّا کر کہا۔۔۔” عمر آفندی کے دل کو چھونے والی ابھی تک ملی ہی نہیں جس دن ملے گی۔۔۔ مجبوری کا یہ طوق سب سے پہلے گلے سے اتار پھینکو ں گا۔۔۔ بابا نے عاق کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔۔۔ ورنہ میں دیکھتا کہ یہ شادی کیسے ہو سکتی تھی۔۔۔۔” ” یار وہ اتنی بھی بُری نہیں اور پھر گھر کی دیکھی بھالی ہے پھر تم مرد کو بیویوں میں اورکیا چاہیے ہوتا ہے۔۔۔؟ ” وہ بھی جھلّا سی گئی۔۔۔ماں کے مرنے کے بعد اس نے بڑی بہن ہونے کے ناطے عمر کو ہمیشہ سنبھالنے کی کوشش کی۔۔۔۔ لیکن شادی کے بعد اتنی دوری نے پچھلے چند سالوں میں عمر کو بہت تبدیل کر دیا تھا۔۔۔ اس کی کمپنی بگڑ گئی۔۔۔ وہ خود بگڑ گیا۔۔۔ ورنہ اس کی سوچ پہلے ایسی نہ تھی۔۔۔ عورت کی عزت کرنے والا مرد تھا۔۔۔ لیکن اب۔۔۔ اب وہ صرف عورت کو ایک کھلونا سمجھ رہا تھا۔۔۔ اپنی پسند کا نہ ملا تو توڑ دیا یا اُٹھا کر پھینک دیا۔۔۔” مرد کو گھر میں رہنے والی ستی ساوتری یا ہاں جی ہاں جی کہنے والی گائے نہیں چاہیے۔۔۔ اُسے ایک ایسی عورت چاہیے جس پر اس کا دل ٹھہر جائے جس سے محبت ہو تو اس کی ہر بات مانی جائے۔۔۔۔ ہر جگہ اسے اپنے ساتھ ساتھ رکھنے کا دل کرے۔۔۔ اور ٹوبی ویر فرینک یہ سیما ٹائپ لڑکیاں کبھی میرے دل کو چھو کر بھی نہیں گذریں۔۔۔ تو ریسٹ آف دا لائف میں اسے اپنے پہلو میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔۔۔” ” تو پھر یہ شادی مجبوری کی شاید ہوئی۔۔۔ اس میں سیما کا کیا قصور۔۔۔ اپنے مطلب کے لیے تم اُسے کیوں خراب کر رہے ہو۔۔۔” وہ زور سے چلائی۔۔۔میں کیا کروں بابا اور نانو بی کا زور تھا اس شادی پر میں نے تو کبھی ہامی نہیں بھری۔۔۔۔ اور اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جب اپنی پسند کی لڑکی ملی میں اس سے شادی کر لوں گا۔۔۔” وہ گاڑی چلاتا ہوا کندھے اچکاکر بولا تو راضیہ کو سیما کی قسمت پر ترس آنے لگا۔۔۔” میں بابا کو سمجھاتی ہوں۔۔۔وہ زبردستی یہ شادی مت کریں۔۔ اس طرح سیما کی زندگی خراب ہو جائے گی۔۔۔” وہ بھائی سے زیادہ سیما کے لیے فکر مند تھی۔۔۔۔” وہ سمجھیں گے کہ میں نے تمہیں اس شادی سے انکار کرنے کے لیے کہا ہے اور نتیجتاً کل وہ ایک عاق نامہ میرے ہاتھ میں تھما کر اس جائیداد سے چلتا کر دیں گے۔۔۔ عمر نے کارکو بریک لگائے۔۔۔ کار جھٹکے سے رُک گئی۔۔ تو کیا ایک بد نصیب جو تم سے شدید محبت کرتی ہے کی قسمت خراب کر وگے۔۔۔ تم نہیں جانتے عمر سچی عورت کے لیے نکا ح کے چند بولوں میں پوری زندگی چھپی ہوتی ہے۔۔۔ تم مردوں کے پاس تو ایک چھوڑ چار شادیوں کا استحقاق ہے۔۔۔ لیکن عورت بہت مجبوری میں دوسری شادی کا سوچتی ہے۔۔۔ ورنہ تمام عمر ایک
مرد کے نام پر بیٹھی رہتی ہے۔۔۔” پلیز یار تم میری بہن ہو کر اس کی وکالت مت کرو۔۔۔ جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔۔۔” عمر نے ہاتھ اُٹھا کر اور پھر ہاتھ جوڑ کر بہن سے کہا اور پھر کار آگے بڑھا دی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ یہ حد ہے جہاں بھائی سے مزید کچھ کہنا یا اُسے سمجھانامشکل ہے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
ثنا نے یونی ورسٹی جانا شروع کر دیا تھا۔۔۔ چوں کہ یونی ورسٹی کبیر علی کے راستے میں نہ تھی تو اس نے یونی ورسٹی پوائنٹ سے جانا شروع کر دیا۔۔۔ اماں کو دوائی اور ناشتہ دے کر وہ بھائی اور بھابھی کا ناشتہ بھی بناتی اور کچن میں ہی ہاٹ پاٹ میں رکھ کر نکل آتی۔۔۔ شادی کے دو ماہ گذرنے کے بعد بھی سامعہ نے گھر کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹانا شروع نہیں کیا تھا۔۔۔ یونی ورسٹی سے واپسی پر روٹیاں بناتی۔۔۔ سالن وہ رات کو ہی بنا لیا کرتی تھی۔۔۔ تاکہ اماں کو دوپہر میں کوئی پریشانی نہ ہو۔۔۔ وہ سامعہ سے یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ دوپہر کو روٹیاں ہی بنا لیا کرے۔۔۔ کبیر نے بہت پیار سے اُسے سمجھا دیا تھا کہ سامعہ کے کسی کام میں مداخلت نہ کرے اور نہ ہی اُسے کوئی مشورہ دے۔۔۔ ابتداء میں اس کی کلاسز ایک بجے ہی ختم ہو جاتیں۔۔۔وہ بھاگی بھاگی پوائنٹ پکڑتی اور آدھے گھنٹے میں گھر۔۔۔ اماں اسی کا انتظار کر رہی ہوتیں۔۔۔ وہ جلدی جلدی کپڑے بدل کر روٹیاں بناتی اور اوپر انٹرکام سے سامعہ کو انفارم کر دیتی کہ کھانا تیار ہے آجاؤ۔۔۔ اگر سامعہ کا موڈ ہوتا تو اُتر آتی اور اگر موڈ نہیں ہوتا تو فریج میں رکھی ہوئی ہزاروں نعمتوں سے کچھ نہ کچھ نکال کر کھا لیتی۔۔۔آج کل اس کا زیادہ تر وقت فیس بک یا انسٹاگرام پر گذرتاجہاں اس نے اپنا اکاؤنٹ بنا لیا تھا۔۔۔ اس پر اپنی ایک خوب صورت طرح دار تصویر بھی لگا لی۔۔۔ جس پر بہت likesاور فرینڈ ریکوئیسٹ بھی آئیں،جو اس نے خوشی خوشی قبول کر لیں۔۔۔ وہ اکثر و بیشتر سیلفیاں اپنے اکاؤنٹ پر لگانے لگی۔۔۔ اُسے مزہ آرہا تھا۔۔۔جب لوگ اس کی تعریف کرتے اور پھر” چشم ِ بد دور” “ماشاء اللہ” “کیابات ہے” جیسے کمنٹس اور ہارٹ کے ایموجی اس کے اندر نہ جانے کیسی محرومیوں کو پُر کر رہے تھے۔۔۔ لگتا ہی نہ تھا یہ حاجی مظہر الٰہی کی بیٹی ہے جس کے سرکا ایک بال بھی کبھی کسی غیر نے نہیں دیکھا۔۔۔ واقعی کسی نے صحیح کہا ہے کہ عورت کے مستقبل کا فیصلہ اس کی زندگی میں آنے والا مرد کرتا ہے۔۔۔۔ اور اگر وہ مرد اس سے محبت کرتا ہو تو شاید اس کی محبت میں یا تودونوں آنکھیں مکمل طور پر بند کر لیتا ہے، یا اپنی تیسری آنکھ بھی کھول کر شک کی راہ پر چلنے لگتا ہے۔۔۔ لیکن کبیر علی تو اس پر کسی قسم کا شک بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔۔وہ جانتے تھے کہ وہ ایک شریف خاندان کی بیٹی ہے۔۔۔ جیسی اس کی ماں اور بہن وفادار ہیں۔۔۔ اسی طرح ان کی بیوی بھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی۔۔۔ لیکن یہ اُن کی بھول تھی۔۔۔ عورت کی نفسیات کو مکمل سمجھنے کا دعویٰ رکھنے والے مرد بھی اکثر عورت کے بدلے ہوئے روپ پر حیران رہ جاتے ہیں۔۔۔کبھی کبھی شریف عورت بھی ایسا پینترا بدلتی ہے کہ ساری نفسیات دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور واقعی۔۔۔ وہ جس طرح چیزوں کو اپنا رہی تھی۔۔۔ اپنا پرانا معصوم روپ کھو رہی تھی۔۔۔ ابتداء میں کبیر علی کے لیے سمجھنا مشکل تھا۔۔۔ اکثر رات کوکسی پہر اٹھتے تو سامعہ کے ہاتھ میں موبائل ہوتا۔۔۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی نہ آتا کہ وہ اس وقت فیس بک پر اپنی سیلفیوں کی تعریف میں ہارٹ والا ایموجی بھیج رہی ہے یا انسٹا گرام پر اپنی نئی سیلفی لگا رہی ہے۔۔۔ وہ کروٹ بدل کر سو جاتے۔۔۔اسی میں اس کو نیند بھی لیٹ آتی اور پھر نتیجتاً وہ صبح لیٹ اُٹھتی۔۔۔ اور کبیر علی ناشتہ کر کے جا چکے ہوتے۔۔۔ اس دن چوں کہ ثنا بھی لیٹ ہو رہی تھی اماں کو ناشتہ او ردوائی دینے کے بعد اس کے پاس خود ناشتہ کرنے کا وقت نہ تھا۔۔۔آج پہلی کلاس ہی آٹھ بجے تھی اور گھڑی سواسات کا وقت بتا رہی تھی۔۔۔ اماں کو بتا کر کہ بھائی بھابھی کا ناشتہ نہیں بنا سکتی۔۔۔وہ چادر اوڑھ کر جلدی سے باہر نکل آئی۔۔۔ کبیر علی تیار ہو کر نیچے آئے تو کچن میں ثنا موجودنہ تھی۔۔۔۔ انہوں نے کمرے میں آکر اماں کو سلام کیا۔۔۔ تو انہوں نے بتایا کہ ثنا لیٹ ہور ہی تھی اس لیے ناشتہ نہ بنا سکی۔۔۔۔ وہ ان کے ہاتھ پر بوسہ لے کر” اور کوئی بات نہیں ” کہہ کر باہر نکل آئے۔۔۔ سلمیٰ بیگم کڑھ کر رہ گئیں کہ آج پہلی بار ان کا بیٹا اور بیٹی بغیر ناشتے کے گئے۔۔۔گیارہ بجے جب سامعہ نیچے اتر کر آئی اور ہاٹ پاٹ میں پراٹھے اور آملیٹ نہ ملا تو وہ خالہ کے کمرے میں آگئی۔۔۔ وہ اس کا ہی انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ ” السلام علیکم خالہ ” ” وعلیکم السلام! آؤ بیٹھو”۔۔ انہوں نے ہاتھ میں پکڑی قرآن کی تفسیر ایک طرف رکھی اور اسے پاس ہی بٹھا لیا۔۔۔ وہ آج اس کو سمجھا نا چاہتی تھیں۔۔۔ ” وہ ناشتہ” سامعہ نے کچن کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔ “ہاں آج ثنا لیٹ ہو گئی تھی۔۔۔ خود بھی ناشتہ نہ کر سکی اور کبیر بھی بغیر ناشتہ کئے گیا۔۔۔”دیکھو بیٹا اب تمہاری شادی ہو گئی ہے۔۔۔ کبیر اب تمہاری ذمہ داری ہے اس کا کھانا پینا،کپڑے، جوتے ثنا کی نہیں اب تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔اتنی سی بات سامعہ کو آگ سی لگا گئی۔۔۔ اُسے لگا کہ خالہ اس کی کوتاہیوں کو جتا رہی ہیں۔۔۔ اگر وہ جتا بھی رہی تھیں تو غلط نہیں تھیں۔۔۔ وہ واقعی اس کا میاں تھا اس کی تمام تر خواہشات اور اس کی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا۔۔۔ تو کیا وہ اس کی کھانے پینے کپڑوں جوتوں کی ذمہ داری بھی نہیں اٹھا سکتی تھی۔۔۔۔ لیکن بدگمانی تو شروع سے ہی اس کی فطرت تھی۔۔۔اُسے لگا خالہ کہہ رہی ہیں کہ بی بی اب تم اپنا ہانڈی چولہا الگ کر لو۔۔۔یہ میری اور میری بیٹی کی ذمہ داری نہیں۔۔۔”اور واقعی سلمیٰ بیگم کو کبھی کبھی اپنی بیٹی پر ترس بھی آتا۔۔۔بہت چھوٹی عمر میں ہی ان کی بیماری کی وجہ سے ثنا نے کچن سنبھال لیا تھا۔۔۔ وہ انہیں چولہے کے پاس جانے نہیں دیتی شوگر لو ہونے کی وجہ سے کہیں وہ گر نہ جائیں۔۔۔اور کسی بڑے حادثے کا شکار نہ ہو جائیں۔۔۔ لیکن اب وہ چاہتی تھیں کہ اس کی ذمہ داریاں بھی کم ہوں تاکہ وہ پورا دھیان اپنی پڑھائی پر دے سکے۔۔۔ کل کلاں کو اس کی شادی ہوئی تو پھرسارا گھر تو سنبھالنا ہی پڑے گا۔۔۔۔”
” جی خالہ! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔” اس نے خاموشی سے ان کی بات سن کر سر جھکایا اوراُٹھ کر باہر آگئی۔۔۔لیکن سلمیٰ بیگم کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کی خاموشی اتنی خطرناک ہو گی۔۔۔ اس نے نہ جانے کبیر علی سے کیا کہا کہ انہوں نے شام کو ثنا کو منع کر دیا کہ آئندہ اُن کے لیے کھانا اور ناشتہ نہ بنائے اور نہ ہی ان کے کپڑے دھوئے۔۔۔وہ اب یہ ذمہ داری خود اُٹھا لیں گے۔۔۔ اور دوسرے دن سے ہی اوپر والے پورشن میں سارے کاموں کے لیے ایک کام والی بلالی گئی۔۔۔ جو ایک اچھی تنخواہ پر رکھی گئی تھی۔۔۔ چولہا بھی آن ہو گیا۔۔۔ سلمیٰ بیگم اور ثنا حیران تھے کہ دو بندوں کے کاموں کے لیے عورت رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔
چھوٹے سے پورشن کی صفائی اور دو بندوں کا کھانا ایسا کون سا مشکل کام تھا۔۔۔ لیکن یوں لگ رہا تھا کہ سامعہ کے آٹے میں پانی بہت پڑ گیا تھا۔۔۔۔ جسے سنبھالنا سامعہ کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ اُسے لگا کہ جن خواہشات کے لیے وہ تمام عمر ترسی ہے۔۔۔ وہ کسی نہ کسی طرح پوری ہو جائیں۔۔۔۔ اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔ مہنگے مہنگے پارلرز جا کر فیشل اور دیگر سروسز لیتی۔۔۔ چند مہینوں میں ہی وہ نکھر گئی۔۔۔ خوب صورت کٹنگ اور صاف وشفاف نکھری نکھری جلد کے ساتھ کسی اچھے برانڈ کی پریٹ (pret) اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتیں۔۔اب تو اس نے کبیر علی کے ساتھ مہنگے مہنگے ریسٹورنٹ جا کر Check inاور Checkoutکے اسٹیٹس بھی ڈالنے شروع کر دئیے۔۔۔بڑے بڑے شاپنگ مالز جا کر بھی فیس بک پر سٹیٹس ڈالتی۔۔۔ تاکہ اس کے فیس بک فرینڈ پر اچھا ایمپریشن پڑے۔۔۔ مینی کیور اور پیڈی کیور کے بعد اپنے خوب صورت ہاتھوں اور پاؤں کی تصاویر اپلوڈ کر نا نہیں بھولتی اور پھر اچھے اچھے کمنٹس پڑھ کر شام تک اس پر نشہ سا طاری رہتا۔۔۔ اب تو اماں کی طرف جا کر رہنا بھی مشکل لگتا کیوں کہ ان کے گھر اے سی اور وائی فائی نہ تھا۔۔۔ اور گرمی میں بغیر اے سی اس سے تھوری دیر بھی رہنا مشکل تھا۔۔۔ وہ سرتاپا بدل چکی تھی۔۔۔ اور ایسا فطرتاََسانپ کی طرح اپنی کینچلی بدلنا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور وہ اپنی کینچلی بدل چکی تھی۔۔۔
رضوان نے کافی دن ثنا کے فون کا انتظار کیا۔۔۔ فون نہ آیا تو اپنی بات کہنے کے لیے اچھے وقت کا انتظار کرنے لگے۔۔۔ کیوں کہ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ ثنا سے اس کی رائے لیے بغیر کسی صورت رشتہ نہیں بھیجا جا سکتا۔۔۔۔ آج لنچ کی میز پر رونق لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ رضوان نے اپنے کمرے سے سب کو ہلّہ گلّہ کرتے دیکھا اور اٹھ کر لنچ روم میں آگئے۔۔۔ سب اُن کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔۔۔” ارے پلیز بیٹھیں سر۔۔۔”کوئی بات نہیں آپ لوگ کھائیں۔۔۔” میں تو صرف کبیر علی کو یاد دلانے آیا ہوں کہ کافی دن ہو گئے آپ نے شامی کباب نہیں کھلائے۔۔۔” انہوں نے کبیر علی کو دیکھا تو وہ بولے “جب کہیں سربن جائیں گے۔۔۔۔ بلکہ آج یہ ٹرائی کریں۔۔۔۔” ایک پلیٹ میں روسٹ کا ایک پیس اور نان رکھ کر ان کی طرف بڑھایا۔۔۔ تو انہوں نے پلیٹ تھام لی۔۔۔ اور چکن پیس چکھا۔۔۔ ” لگتا ہے آپ کا کُک بدل گیا ہے۔۔۔” آج انہیں وہ مزہ نہیں آیا۔۔۔ جو کہ ان کے گھر کے کھانوں کا خاصا تھا۔۔ ” آپ کو کیسے پتا؟ ” وہ حیران تھے۔۔۔” تو کیا یہ آپ کی مسز نے پکایا ہے۔۔۔” انہوں نے ایک اور بائٹ لی۔۔۔ نہیں سر دراصل آج تک آپ نے میری بہن کے ہاتھ کے کھانے کھائے ہیں۔۔۔ آج کل اس نے یونی ورسٹی جانا شروع کیا ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے میں نے ایک کھانا بنانے والی رکھ لی ہے۔۔۔” جب ہی وہ ذائقہ نہیں ہے کھانے میں۔۔۔”انہوں نے پلیٹ واپس ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔ “سر کافی ذمہ داریاں تھیں اس پر۔ صبح جاتی تو ایک بجے کلاس ختم ہو تی ہے میں نے سوچا کہ اس کی پڑھائی میں خلل ہوگا۔۔۔۔ یہ ذمہ داری تو کم کی جائے لیکن آپ فکر مت کریں۔۔۔ اتوار کو وہ گھر ہوتی ہے۔۔۔ انشاء اللہ شامی کباب بنوا کر لاتا ہوں۔۔” ارے نہیں نہیں میں تو یوں ہی کہہ رہا تھا۔۔۔ آپ انہیں ڈسٹرب نہ کریں۔۔۔ ویسے کس سبجیکٹ میں ماسٹر ز کر رہی ہیں آپ کی سسٹر”۔۔۔” انہوں بظاہر سرسری انداز میں پوچھا لیکن ان کے کان سر اسر کبیر علی کے جواب کے منتظر تھے۔۔ ” اکنامکس میں۔۔” ماشاء اللہ وہ پڑھائی میں بہت بریلینٹ ہے اور پھر جاب بھی کرنا چاہتی ہے۔۔۔” گڈ ویری گُڈ اچھی بات ہے۔۔۔ لڑکیوں کو ضرور پڑھنا چاہیے۔۔۔” “چلیں آپ لوگ کھانا کھائیں۔۔۔میں ذرا اپنا کام نمٹا لوں۔۔۔۔”وہ یہ کہہ کر باہر نکل گئے اور پھر سب نے دوبارہ لنچ شروع کر دیا۔۔۔ یہ تو رضوان کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بزی ہو گئی تھی۔۔۔ لیکن بندہ بات تو کر ہی سکتا ہے۔۔۔ تمہارا اس سے ایسا کیا رشتہ تھا کہ تمہیں اس سے شکایتیں ہو رہی ہیں۔۔۔وہ یقیناً ایک اچھے گھر کی لڑکی تھی اور ایسی لڑکیاں ہرا یرے غیرے سے بات نہیں کرتیں۔۔۔ میاں سیدھے سیدھے رشتہ بھیجو۔۔۔ اگر ہاں ہو ئی تو تمہاری قسمت اور اگر نا ہوئی تو تمہاری قسمت۔۔۔ فضول کی ضد پال رکھی ہے کہ پہلے اس سے بات کرنا ہے۔۔ اگر کئی مہینوں بات نہ ہوسکی اور اس کا رشتہ کہیں اور ہوگیا تو بس بیٹھے رہ جانا۔۔ ان کے اندر کا ڈر ابل کر باہر آگیا۔۔ اور وہ سوچ میں پڑگئے کہ کیا کیا جائے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
شادی کی ساری تیاریاں مکمل تھیں۔۔۔ نانو بی کو اپنی دلی خواہش اس طرح پوری ہونے پر بہت خوشی تھی۔۔۔ وہ صدقے واری جا رہی تھیں۔۔۔ کبھی سیما کے لیے صدقے کے بکرے دیتیں کبھی اس ہر آیتیں پڑھ پڑھ کر پھونکتیں اور خود سیما بھی آج کل ہواؤں میں تھی۔۔۔ اس کی زندگی میں پہلا ذکر ہی عمر آفندی نام کے مرد کا ہوا۔۔۔ اور آج وہ ذکر ایک مکمل کہانی کا روپ دھارکر اس کی زندگی میں شامل ہو رہا تھا۔۔۔ وہ بھلا خوش کیوں نہ ہوتی۔۔ تانوبی صحیح کہتی ہیں۔۔۔ مرد اس طرح کی حرکات کرتے ہی رہتے ہیں۔۔۔ اگر عورتیں ان پر زیادہ دھیان دیں تو ہر عورت کی زندگی اجیرن ہو جائے۔۔۔ وہ اپنی محبت اور خلوص سے عمر کو مکمل طور پر اپنا بنا لے گی۔۔۔ یہ اس نے خود سے تہیہ کر لیا۔۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ مرد نام کی مخلوق کو کبھی اپنا نہیں بنایا جاسکتا۔۔۔ جلد یا بدیر وہ ہر تعلق اورہر ناطے سے اُکتا جاتاہے۔۔ اور اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔۔ اسی لیے تو قدرت نے بھی مرد کی چار شادیوں میں ہی حکمت رکھی ہے۔۔۔ آخر کار آج کی رات سیما کی زندگی میں آہی گئی۔۔۔ وہ عمر آفندی کے نام کے دو بول پڑھ کر اس کی زندگی اور اب اسکے کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ گھر کے افراد اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔۔۔ لیکن عمر کا کوئی پتا نہ تھا۔۔ اسے لگا کہ عمر کو اس سے زیادہ بے تابی ہوگی۔۔۔ لیکن یہاں تو اس کا اب تک کوئی اتا پتا نہ تھا۔۔۔۔
(باقی آئندہ)

5 Comments

  1. واقعی کسی نے صحیح کہا ہے کہ عورت کے مستقبل کا فیصلہ اس کی زندگی میں آنے والا مرد کرتا ہے۔۔۔۔ اور اگر وہ مرد اس سے محبت کرتا ہو تو شاید اس کی محبت میں یا تودونوں آنکھیں مکمل طور پر بند کر لیتا ہے، یا اپنی تیسری آنکھ بھی کھول کر شک کی راہ پر چلنے لگتا ہے۔

    🙂👍

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.