Yes! I’m forty!

بالکل بیس منٹ پہلے میں نے چالیس کا ہندسہ عبور کر لیا۔پچھلے کئی صفحات پر آپ نے اس کا تزکرہ سنا ہو گا۔ایک ماہ سے میرے دماغ میں اس سنگ میل کی گھنٹیاں بج رہی تھی۔مگر چالیس کا ہو جانا آسان نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔

خود کو تیس میں ہوتے بوڑھا کہنا ایک شوخی ہے یا عاجزی ،چالیس کا ہو کر بوڑھے ہو جانا مجبوری ہے۔اب کوئی نہیں کہہ سکتا،ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے،کیونکہ آپ کی عمر تو بوڑھی ہو گئی ہے۔مگر چالیسواں سال جیسا سوچا تھا ویسا نہ ہو سکا۔آسماں سے اچانک ایک جوج ماجوج کی قوم بن کر کرونا اتر آیا اور اس نے ہماری راستوں پر بند باندھ دئے،آگے کی طرف جانے والی ہر راہ بند ہو گئی۔ہمیں پیچھے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہونا پڑ گیا۔عمر کے آخری سالوں میں آتا ہے وہ وقت جب ہمارے پاس مزید آگے سوچنے کو کچھ نہیں ہوتا تو انساں پلٹ کر بچپن اور جوانی کو یاد کرنے لگتا ہے۔کرونا نے آج کے ہر جوان اور بوڑھے سب کی زندگیوں کو تیز کر کے اسی سرحد پر لا کھڑا کیا ہے۔ہر جواں اوربوڑھا ایک ہی طرح سے پیچھے کی طرف منہ کئے کھڑا ہے،اپنے ماضی اور اچھے دنوں کو سوچ رہا ہے۔آج کی تاریخ میں اس دنیا کا ہر وجود بوڑھا ہو چکا ہے۔اگلے لمحات ایک سوال ہیں،اگلے سال ایک معمہ ہیں!حل ہو کہ نہیں،اس پل صراط سے کوئی گزر سکے کہ نہیں!

گذشتہ چالیس سال اس زمیں پر ان لوگوں میں گزار دینا اس ذندگی کو جی لینا،مذاق نہیں۔دس دس سال کر کے چار بار جئیا جائے تو چالیس سال بنتے ییں۔پہلے دس سال ہماری زندگی ہمارے والدین جیتے ہیں اگلے دس سال اپنی پہچان کی طلب میں ہم ہاتھ پاؤں مارتے گزار دیتے ہیں،بیس سے تیس تک معاشرے سے لڑنا پڑتا ہے اور پھر تیس سے چالیس اپنے بچوں کو جی لینے کا وقت آ جاتا ہے۔چالیس سے پچاس۔۔۔۔اب یہ سوچنا ہو گا کہ ان سالوں میں ذندگی کا آخر کیا کرنا ہے؟مگر آگے تو کرونا ہے جس کے پار کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔

ہماری الماریاں ہمیشہ چیزوں کے ڈھیر سے بھری رہتی ہیں۔پھر کبھی کبھار ہم ان کی صفائی کرنے بیٹھتے ہیں تو ان میں سے ڈھیروں ڈھیر بیکار چیزیں نکالتے ہیں اور ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔مجھے بھی آج اس سالگرہ پر خود کو ایک خاص تحفہ دینا ہے۔مجھے ذندگی کی کچھ بند نالیوں کا کچرہ ہمیشہ کے لئے صاف کر دینا ہے،ان لمحوں کو جن کو میں نے آج تک مٹھی میں سختی سے قید کر کے رکھا ہے آج مجھے ان کو کھلی ہوا میں اڑا دینا ہے۔کیونکہ ذندگی کے بیس سال میں اس وزن کو کاندھے پر اٹھائے تھک چکی ہوں۔آنے والی صبحوں میں میں اس کرب سے رہائی چاہتی ہوں۔کھلی ہوا میں سانس لینا چاہتی ہوں،بادلوں سے ہلکے سانس چاہتی ہوں۔تو آج میں ان اوراق پر وہ لکھوں گی جو میں آج تک کھل کر کہیں نہ لکھ سکی اور بغیر کسی دکھ،اذیت اور پیشمانی کے لکھوں گی!یہ میں نے آج تک نہیں لکھا کیونکہ یہ میری کمزوری اور پیشمانی تھی،میری عزت نفس کو گوارا نہ تھا کہ اپنے بدصورت پہلو دنیا کے سامنے رکھے۔مگر عمر کے اس حصے میں یہ پہلو ان اوراق پر رکھنے کا مطلب ہے کہ اب اس خوف اور بدصورتی سے میں مزید کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتی۔میں ان کو دیس نکالا دے چکی ہوں۔

میری ذندگی کا بڑا حصہ اس دکھ سے عبارت رہا کہ عین ذندگی کے خوبصورت وقت میں جب لوگ ابھی گاگر میں پانی بھرنےلگتے ہیں،بہاروں کو محسوس کرنے لگتے ہیں میرا ذہن اپنی موت مر گیا تھا۔حالات و واقعات کے ستم نروس بریک ڈاؤن کا باعث بنے اور میری ذندگی اگلے کئی سالوں تک کے لئے پٹری سے اتر گئی۔میں نے ہفتوں کا پاگل پن سہا،مہینوں کی تاریکی دیکھی اور سالوں کے اندھیرے اور ان کے باعث آنے والا ہر وقت پہلے سے زیادہ خوفزدہ،اور سہما ہوا دیکھا ،خود کو ہر اگلے موڑ پر تنہا دیکھا۔میں نے مہینوں کمرے کی دیواروں سے پوچھا” کیا میں پھر سے جی سکوں گی؟”

یا میں پھر سے سوچ سکوں گی؟

میں پھر سے بول سکوں گی؟

لکھ سکوں گی؟

مہینوں بھر بند کمروں میں بیٹھ کر محض یہی ایک بات سوچی۔

“کیا میں پھر سے وہی صوفیہ ہو سکوں گی؟”_

جب دو درجن ماہ تک کتنے ہفتے،روزانہ کے چوبیس گھنٹے خالی دماغ لئے میں اس کی سناٹے کو سہتی تھی اور خود سے یہی اک سوال کرتی تھی تو ان کا جواب میری روح کو چھلنی کر دیتا تھا ۔دو سال بعد جب میں ظاہری طور پر انسانوں کی دنیا میں انسان بن کر لوٹ آئی تو مجھے لگا کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا،ذندگی نے پھر سے جنم لے لیا۔مگر آج سالوں بعد سوچتی ہوں کہ جنم تو ہوا مگر وہی صوفیہ پھر دوبارہ کبھی اس زمیں پر نہ اتری۔وہ میری شکل صورت لئے کوئی سہمی ہوئی لڑکی تھی جو اگلی دو دہائیوں تک ان دو سالوں کے اتارے ہر عذاب کو سہتی رہی۔آنے والی ہر آزمائش میرے ذندگی کے انہیں دو سالوں کی گود سے نکلی۔2000 میں جو لوگ مجھ سے چھوٹے وہ پھر کبھی مجھ سے مل نہ سکے۔یہ صوفیہ وہ تھی جس نے لوگوں کو خود پر ہنستے دیکھا تھا،جس نے ذندگی کو تماشا بنتے دیکھا تھا،جس نے ان کئے ان تمام جرائم کی تہمت سہی تھی جو اس نے کبھی کئے نہ تھے۔جو گناہگار نہ ہو کر بھی دنیا کے تماشے کا سامان ہو گئی تھی۔ایسے جینا آسان نہ تھا مگر میں نے پچھلے بیس سالوں سے اس ذندگی کو جئیا ہے جس میں انسان ہر آہٹ سے ڈرتا ہے۔

پچھلے بیس سال میں نے اس خوف میں گزارے ہیں کہ آنے والا دن کیا ہو گا،آنے والا کل کیا ہو گا۔میں آج بھی اس ٹراما میں ہوں۔میں آج بھی ذندگی کو نارمل نہ لے سکتی۔۔میں نے عام انسانوں کی طرح اسے جینے کے لئے محنت کی ہے جبکہ میں عام انسان نہ تھی۔میں تو سپیشل تھی۔۔۔۔۔

میں سپیشل اس لئے تھی کہ میں کبھی ایک عام لڑکی ایک عام عورت نہ ہو سکی۔میں کبھی بے تحاشا نیچے تھی تو کبھی بے تحاشا اوپر۔کبھی ایسا تھا کہ ہر راہ پر میں نے ہواؤں کو جھکتے دیکھا اور کبھی اتنی پست کہ گلی کے کنکر تک مجھ پر ہنس رہے تھے،مجھے پتھر مار رہے تھے۔میں نے زندگی ان تمام انتہاؤں کے بیچ گزاری،اور الحمداللہ خوب گزاری۔میری ذندگی ایک معجزہ ہے،میرا وجود خدائی رحمت کا ایک کرشمہ ہے!

آج کون سوچ سکتا ہے کہ کبھی میرے ہاتھ ہلتے نہ تھی،پلک جپھک نہ پاتی تھی،گردن مڑ نہ سکتی تھی۔آج کون یہ سوچ سکتا ہے کہ کبھی میں ایک محض مومی مجسمہ تھی۔الحمداللہ سینکڑوں مضامین اور مقالے،افسانے،اور بلاگ،چار کتابیں،،،کیا کوئی جانتا ہے کہ کم سے کم بھی عمر کے پانچ سو دن میں نے عین شباب میں صرف حرفوں کو جوڑنے کی کوشش میں گزارے ہیں،جب ذندگی نے میرے ہر صفحے پر رسوائی اور نارسائی لکھ دیا تھا۔جب اٹھانے کی عمر تھی تب میرا سر جھک چکا تھا۔میں “میری ذات ذرہ بے نشاں” کی وہ کردار تھی جس نے علامتی نہیں ،وہ کردار حقیقت میں جئیا تھا۔مگر میں اس کردار کی طرح مر نہ سکی تھی،خدا نے مجھے زندگی کے ہر جمود سے لڑنے کی ہمت دی تھی،اس نے مجھے گرے ہوئے ہر کنویں سے نکالا ہے۔ خلاؤں کو گھورتے زندگی گزارنا آسان ہے،مگر ان خلاؤں میں ہاتھ پاؤں مارتے زمین پر اترنا اور چلنا،چلنا اور پھر بھاگنا مشکل ہے۔میں دنیا کو کبھی الٹ نہ سکی مگر میں جانتی ہوں کہ اتنی محنت میں نے ہمیشہ خود کو سیدھا رکھنے میں لگائی ہے کیونکہ میں بار بار گرتی تھی۔ الحمداللہ خدا نے مجھے اس میں سرخرو کیا ہے۔ذندگی ایسے بھی امتحان اتارتی ہے اور ذندہ ہوں انساں تو ان آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے کہ عمر صاحب نے ایک پوسٹ پر کیا خوب بات لکھی تھی

“سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی!”

میرے گھر میں ایک فاختہ روز میری بالکنی پر آ کر دن بھر مجھے وہ اداس گیت سناتی ہے جسمیں سے دہائی سنائی دیتی ہے “یوسف کھوہ” کی!اور میں اسے سمجھاتی ہوں خدا نصیب کرے تو ہر یوسف ایک روز کھوہ سے نکل ہی آتا ہے!کہ موت صرف مردوں کے لئے زندوں کو جینا ہی پڑتا ہے! اور زندگی مل جائے تو جینا بھی آ ہی جاتا ہے۔تو ایک روز ایسا تھا جب میرا جسم بستر پر پڑا تھا ،مگر روح ہوا میں معلق تھی،کوچ کی طالب تھی،مگر مجھے تب مرنا نہیں تھا،حرام موت تو بالکل نہیں مرنا تھا۔میں جی گئی اور آج تک جی رہی ہوں الحمداللہ!اور اس کے بعد کی منزلوں میں کئی بار گر کر کئی بار اٹھ کر پھر بھی جی رہی ہوں کہ سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی!

میں نے ذندگی سے سیکھا لیا ہے کہ جینا ہو تو انسان ہاتھ میں موتیے کی ایک کلی کی خوشبو کے سہارے جی لیتا ہے۔مرنا ہے تو دنیا بھر کا سہارا بھی کافی نہیں!میں ایک پھول ،ایک ستارے ایک خوشبو کے سہارے الحمداللہ زمانوں تک جی سکتی ہوں،یہی میری طاقت ہے۔کہ جو منگولوں کی طرح گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر سواری کرنا سیکھ جائے تو ہر سلطنت پھر ان کے رستے کی دھول ہو جاتی ہے۔ میں اپنی محبت پر اکتفا کر چکی ہوں ،میں نے اپنے اندر کوٹ کوٹ بھری محبت کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔مجھ میں سے محبت نکل جائے تو میں جی نہیں سکتی۔سو میں نے مان لیا کہ زمانہ محبت کرنا نہیں سیکھتا تو پھر میں اس کی خاطر محبت کرنا کیوں چھوڑوں۔یہ میرے لئے ہے! مجھے اپنی بقا کے لئے کرنی ہے۔انسان انسانیت کو کچھ دے نہیں سکتا اگر وہ خودکو ہی محبت نہیں دے پاتا۔میری سب سے پہلی معافی،درگزر،تھپکی اور محبت پر میری ذات کا حق ہے اور دیر سے ہی سہی میں نے یہ بات جانی ہے۔

مجھے مسکرانا پسند ہے،مجھے ہنسی کی جھنکار سے عشق ہے۔کام کی سختی سے آنے والا پسینہ اور تھکی ہوئی ٹانگیں مجھے سکون دیتی ہیں۔سوجے پاؤں اور نیلے ناخن میری پہچان ییں۔۔میں رنگوں خوشبوؤں اور خوبصورتیوں میں کھو جاتی ہوں۔میری ہر حس اور ہر رگ ان سے تاثیر لیتی ہے،ان کو جیتی ہے،ان کے ساتھ رقص کرتی ہے۔میں نے ذندگی سے ہمیشہ نفرت کی ہے مگر یہ ایسی مہرباں رہی ہے کہ اس نے آج تک خاموشی میں،تنہائی میں،ظلم میں اور بے وفائی میں،زخموں میں اور قحط سالی میں آج تک مجھے مرنے نہیں دیا۔میں گرتی ہوں مجھے اٹھا لیتی ہے اور پھر مسکرا کر کہتی ہے چلو بس زرا سا اور! اور تب تک کہتی رہتی ہے جب تک میں پلٹ کر اس کی طرف دیکھنا بھول نہیں جاتی۔تو میں ذندگی کی احسان مند رہی ہوں کہ یہی تو ہے جب مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ تاریکی ابدی ہے تو یہ سنہری صبح کا پردہ ہٹا دیتی ہے،جب آنکھیں جلنے لگتی ہیں تو شبنم ہتھیلی پر دھر دیتی ہے۔یہ ذندگی ہی ہے جس نے ہمیشہ آگے کی سمت دھکیلا ہے۔تو میں ان کرم نوازیوں کے لئے ذندگی کی مقروض ہوں !

ذندگی بہت خوبصورت ہے کیونکہ یہ تخلیق دیتی ہے،پھر اس تخلیق پر رنگوں اور خوشبوؤں کو اتارتی ہے۔آگ کی دھونی بھی دیتی ہے،اور گھوٹتی بھی ہے۔تب تو تخلیق خوشبودار اور لذیذ ہوتی ہے،تبھی تو انساں نایاب بنتے ہیں،تبھی تو کردار لافانی پیدا ہوتے ہیں۔تو میرے چالیس سال اسی ذندگی کے نام جس نے مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑا،جو میری رگوں میں جادو بن کر ہمیشہ دوڑتی رہی!

چالیس تک کی گنتی پر میں سوچتی ہوں ابھی آگے بہت وقت ہے رنگوں کو چھونے کا،بہاروں میں جھولے لینے کا،آگ کے دریا پار کرنے کا،اور ہر چیز میں لذت ہے، ہر مشکل ایک آرٹ ہے!اور بھی کچھ صحرا،اور بھی کچھ زلزلے،اور بھی کچھ باغ اور باغیچے،اور بھی کچھ ابرِ کرم ذندگی میں باقی ہیں۔کرونا کا بند دروازہ کھلے تو ٹریفک چلے اور دیکھیں کہ اور ذندگی کے انجانے سفر کی حد مزید کہاں تک ہے!

_______

تحریر و فوٹوگرافی:

صوفیہ کاشف

11جون،2020