زردشام_________صوفیہ کاشف

مجھے ایک شام تلاشنی تھی۔ایک شام جو میں کبھی کھل کر جی نہ سکی تھی،ایسی شام جو میری دوشیزہ نگاہوں سے بنا چھوئے ،بنا جئیے گزر گئی تھی۔میں صدیوں کی مسافتیں طے کرتی کتنی دور سے آئی تھی مگر وہ شام جو بہت پیچھے سے مجھے اکثر شدت سے صدا دیتی تھی۔سرسبز گھاس سے بھرے میداں بدلتے موسم کے سبب دور دور تک پیلے پتوں سے بھر رہے تھے۔خاکروب روز صبح سرخ اینٹوں پر جھاڑو پھیر کر صاف کرتے ،شام تک تمام روشیں خشک مرجھائے اور اداس پتوں سے پھر سےبھر جاتیں۔سورج کی چندھیا دینے والی دھوپ ٹھنڈ پڑ چکی تھی، جگہیں اور مقام روشن روشن نہیں دھندلے سے دکھتے۔سردی لباس میں گھس کر چٹکیاں کاٹنے لگی تھی ،نرم گرم شالیں لپیٹنے کا موسم تھا۔میں سرشام اپنے آفس سے نکلتی ،خزاں سے اٹا دن برہنہ سر الوداعی بوسے کے لئےمیرا منتظر کھڑا ملتا۔زردی ٹوٹ کر درختوں پر اتر رہی تھی ،ہوائیں پورب سے پچھم تک وجد میں رہتیں،مستی میں سر دھنتیں،رقص کرتیں،ناچتیں ، میرے قدموں سے لپٹ لپٹ جاتیں۔شام کا سرخی مائل دھندلکا سہ پہر سے ہی زمین سے لپٹنے لگتا۔میں دفتر سے ہاتھ میں کچھ قلم اور کتابیں لیے باہر قدم دھرتی تو پتے میرے قدموں کے نیچے چرمرانے لگتے۔دم مرگ آہیں کراہتیں،دہایی دیتیں،

“مجھے کچھ لمحوں کی ذندگی اور بخش دو! ” اور میں انکے نوحے سنتی کبھی ان کے کنارے رک جاتی،ہاتھ میں اٹھاتی ،سہلاتی،گال سے لگاتی!۔کھلے دھنک رنگ مسکراتے پھولوں کو بہاروں اور خوشبوؤں کو سونپ کر میں جا سکتی تھی،مگر تھکی ہاری جوانیاں،شکستہ حالی،دم مرگ نفوس مجھے جکڑ لیتے تھے۔محرومیاں میرے قدموں کو زنجیر کر دیتیں۔میں خزاؤں کو ٹھکرا کر کبھی نکل نہ سکی تھی۔سو اکثر سوکھے پتوں کے کنارے ٹھہر کر میں شام غریباں کے کچھ مرثیے ضرور سنتی،بنا بولے بنا آواز پیدا کئے میں کچھ سسکیاں بھر لیتی، درد کا سینے سے دل اور دل سے روح تک کا ایک سُوٹا لے لیتی۔میری لال اونی چادر سوکھی گھاس میں پھنس جاتی،میرے بال ہوا کی اٹھکیلوں سے الجھ الجھ جاتے۔

ایسی ہی اک شام میں کاغذوں اور قلموں کو سینے سے لگائے سرد ہوا کی سرگوشیاں سنتے ،شام کا حزن پیتے جب برآمدے کی سیڑھیوں سے اتری تو وہ یہیں املتاس کے پیلے درختوں کے جھنڈ کے قریب بہتی ٹھنڈی ندی کے پاس کھڑامیری راہ تکتا تھا.

میرے اندر سے ایک سسکی سی گونجی۔”کیا اسے آج ہی ملنا تھا؟ جب ذندگی خزاؤں کے صفحات پر اپنی نشانی ثبت کر چکی تو وہ بہار کا سندیس لیکر کیوں میرے راہگزر میں آیا تھا؟”

“ایک بار تو مجھے آنا ہی تھا!_____رستوں کی دھند اور جاڑا جانے شکستہ حال ہڈیوں میں کتنی برف اتار دے۔ذاد راہ کے لئے تھوڑی سی حدت ۔۔۔۔ !”اس کی نگاہیں فریاد کناں تھیں

“مجھے اور خواب مت دینا!میرا قبرستان کم پڑ چکا ہے!”آہیں بھرتی ایک فریاد اپنے وزن سےمیرا سر جھکا رہی تھی ۔

“میں تو خود سپنوں کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔خدا کے لئے مجھے روشنی کی کوئی رمق لوٹا دو!”

۔ہم سوکھتے درختوں ، لال،پیلے اور خاکی پتوں سے بھری شاہراہ کی ایک پنگڈنڈی پر ساتھ بیٹھے تھے۔

“تم کہتے تھے تمھاری زندگی بھرپور ہے؟”میری آنکھیں سوال در سوال اس کو ٹٹولتی تھیں اور اس کا چہرہ زمانوں کی قسمیں کھا رہا تھا کہ وہ کسقدر ٹوٹ کر کرچی کر چی ہو چکا ہے!

قریب سے کسی فاختہ نے الوداعی گیت چھیڑا تھا۔دور کہیں درختوں پر چڑیاں گئے دن کے بین میں مگن تھیں۔شام ڈھل رہی تھی،سردی اتر رہی تھی،آسمان کے گھیرے میں زردی مکمل گھل چکی تھی۔تھکے ہوئے مسافر گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ذمیں کے مشرقی کنارے سے ایک پورا چاند درختوں کے پتے سرکاتا حیرانی سے جھانکنے لگا تھا ۔ بیتاب چاندنی سے نظر چراتے ندی کے کنارے ہم سر جھکائے بیٹھے تھے۔میں جانتی تھی دونوں ہی تھک چکے تھے۔

شال لپیٹتے کاغذات سنبھالتے میں اس کے قریب سے اٹھی اور دور دکھائی دیتے باہر جانے کے رستے پر چلی ۔ہر وہ قدم بھاری تھا جو اس کی صدا کو کچل رہا تھا،میں وہ صدائیں سن سکتی تھیں جو کبھی ہونٹوں سے جدا ہی نہ ہو سکیں ہوں۔میں ان کہی التجاؤں کو کچل سکتی تھی،کچل رہی تھی۔ گیٹ کی طرف نظر ٹکائے قدم بڑھاتے اسکی نگاہیں طلب بن کر مجھے کھینچ رہی تھیں۔ میرے کان ایک لفظ،محض چند حرفوں کو ترس رہے تھے اس کے باوجود کہ جانتی تھی کہ رک نہیں سکوں گی۔میرے قدم شل ہو چکے تھے،خزاں میری رگ رگ میں اتر چکی تھی۔اس کی آنکھوں کے دئیوں کے سوا اب اور کہیں بھی روشنی نہ تھی۔مجھے خبر تھی وہ بھی میری نہ تھی۔

گیٹ تک پہنچ کر باہر نکلتے نکلتے میں نے ایک بار مڑ کر اس پنگڈنڈی کی طرف دیکھا تھا جس پر زرد خواب کو میں بنا جئیے بنا چھوئے چھوڑ آئی تھی۔! وہ میری سمت ہی دیکھتا تھا،بن بولے صدا دیتا،بن کہےپکارتا تھا۔ہزار شامیں ڈھل چکیں،ہزار صدیاں بیت گئیں۔میں آج بھی اسی دہلیز پر کھڑی بن جئیے خواب کو تک رہی ہوں۔وہ زرد شام میں لپٹا،خزاں رسیدہ پتوں میں گمشدہ سپنا آج بھی میری شال کی حدت کو ترس رہاہے۔

————-

تحریر و فوٹو گرافی و کور ڈیزائن:

صوفیہ کاشف

3 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.