سورۃ یوسف ایک باپ اور بیٹے کی محبت کی داستان بھی سُناتی ہے، اور بھائیوں کے بُغض کی بھی۔ اس میں حضرت یوسف کا مثالی کردار بھی بتایا گیا ہے اور ان کا نافع علم، فیصلہ سازی، صبر، رواداری اور استقامت بھی۔ خصوصاً اُن کی ہر حال میں مثبت سوچ اور پازیٹِیو رہنے کی خوبی قابلِ رشک ہے۔ 
ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے محبوب پیغمبر کو ہر مرحلے پر تکلیف، مصیبت اور عدم تعاون کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں اپنی حمایت میں واضع ثبوت کے ہوتے ہوئے بھی، اور الزام سے بری ہونے کے باوجود قید میں رہنا پڑا۔ اُن کے طرزِ عمل میں ہمارے لئے یہ نصیحت موجود ہے کہ شِکوہ سوائے منفی کیتھارسس کے کچھ بھی نہیں، نیز یہ کہ اپنی محرومی اور پریشانی کو سوچ بچار، عِلم و حکمت اور دوسروں کی مدد کر کے ایک مثبت رُخ دیا جا سکتا ہے۔ 
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مومن ماضی یا مستقبل میں نہیں، حال میں جیتا ہے۔ حضرت یوسف سے زیادہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کون آزردہ ہو گا، لیکن انھوں نے پرانے واقعات کو ماضی کی ایک تلخ یاد بنا کر نفرت اور انتقام سے سینچتے رہنے کی بجائے اُس کا ذکر ہی نہیں کیا، اور نہ ہی بھائیوں کی طرف سے اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار ہوئے۔ انہوں نے موقع، وقت اور صورتِ حال کی مناسبت سے فیصلے کئے، حکمتِ عملی اپنائی اور زندگی میں آگے بڑھتے رہے۔ جیسے کہتے ہیں:
When life gives you lemons, make lemonade. When life gives you opportunity, make a difference..
جو لوگ عام حالات میں احسن طور پر مصروفِ عمل رہتے ہیں، ان پر مشکل حالات میں پرفارم کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ یہ چیز ہمیں افواج میں نظر آتی ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ افواج جو زمانۂ امن میں اپنی تیاری پر توجہ دیتی ہیں، وہ جنگ میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ اسی طرح، جو پارٹیاں اپوزیشن میں رہ کر اپنا ہوم ورک مکمل رکھتی ہیں، حکومت کا موقع ملنے پر انہیں امورِ مملکت چلانے میں مشکل پیش نہیں آتی۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک طالب علم ہر روز تھوڑا سا سبق پڑھتا،سمجھتااور یاد رکھتا ہے، اسے امتحانات کی راتیں جاگ کر، اور پریشانی میں  نہیں گزارنا پڑتیں۔
 حضرت یوسف ؑ کا اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کو اپنے خواب کے بارے میں بتانا، باپ بیٹے کے رشتے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اُس اعتماد، محبت اور بھروسے کو بھی ظاہر کرتا ہے جو آج کے باپ بیٹوں کے درمیان کہیں  سختی، کہیں تکلف، کہیں ہچکچاہٹ اور کہیں جنریشن گیپ کی صورت معدوم و مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہمارا آج کا باپ بیٹے کا رشتہ زیادہ تر صورتوں میں کافی under-rated ہے اور معاشرتی طور پر تہہ در تہہ فارمیلِٹی کی وجہ سے آپس کے بے تکلف لمحات کو ترس گیا ہے۔
حضرت یوسف ؑ  اور ان کے بھائیوں کی مثال کو سامنے رکھ کر ہر انسان کے سامنے رشتوں کو نبھانے کے دو ماڈل موجود ہیں۔ یہ ہماری اپنی چوائس ہے کہ ہم حضرت یوسف جیسا بنتا چاہتے ہیں، یا ان کے بھائیوں کی طرح۔ ہمارا یہ انتخاب، ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔
 عزیزِ مصر کی بیوی کی نیت اور اعمال ایک انتہائی اہم معاشرتی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دولت و جاہ کے ساتھ نفسانی خواہشات کا ہونا، اور اس پر مجبور و کمزور کے ساتھ زیادتی کا تصور ہمارےمعاشرے میں بکثرت نظر آتا ہے۔ ایک طاقتور طبقے کی خاتون کا چیک پوسٹ پر پولیس سے برتمیزی کابرتاؤ ہو یا ایک نجی ہاؤسنگ سوسائیٹی کے فرمانروا کی طرف سے فائلوں کو پہئیے لگانے کا برملا اعتراف، ایک ایم پی اے کا تیز رفتار ڈرائیونگ کے دوران ٹریفک اہلکار کو کُچل کر آگے بڑھ جانے کا واقعہ  ہو یا مذہب کی دھونس جتاتے طبقات کا دوسرے مذاہب کی بچیوں کو زبردستی اسلام قبول کروانا، ہم زیادتی، ظلم اور استحصال کے مناظر لائیو دیکھتے ہیں۔ طاقت اور بے لگام نفس انتہائی ڈیڈلی کمبی نیشن ہے۔ ایسے ظلم باربار ہوتے دیکھ کر ہمارے معاشرے کے بہت سے لوگ اسے ذہنی طور پر قبول کر چکے ہیں، اور وقت آنے پر وہ ویسا ہی برتاؤ روا رکھتے ہیں،خصوصاً  اس لئے کہ اس معاشرے میں عدل و انصاف گزرتے وقت کے ساتھ غائب ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 
عزیزِ مصر کی  بیوی کا قصہ ہمیں خواتین اور مردوں کے باہمی رشتے، میل جول اور معاملات کی سُرخ لکیریں (ریڈ لائنز) بھی باور کرواتا ہے، جو میڈیا کے اس دور میں دھندلا گئی ہیں۔ 
قید کے دوران حضرت یوسف کا رویہ اور برتاؤ، مثالی ہے۔ یعنی ، ایک ایسا شخص جوبے قصور ہو، اور جسے صرف کسی کی انا کی خاطر جیل میں ڈال دیا گیا ہو، اور جس کی قید کا وقت معین ہو نہ جرم و سزا کی نوعیت۔۔۔۔ ایسا شخص کس قدر بکھر اور ٹوٹ جائے گا۔ پر ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بے پناہ صبر و شکر کی مثال ہمارے سامنے رکھی ، اور اپنے اس وقت کو کارآمد بناتے ہوئے غور و خوض کے ذریعے علم و حکمت میں اضافہ کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بے شمار مواقع پر قید کئے جانے والوں نے شاہکار تصانیف رقم کیں ، نظریات تشکیل دئیے اور انوکھی ایجادات کیں۔ اس سے یہ سبق مِلتا ہے کہ جو بھی وقت ہمیں ملے، اسے نافع علم میں بدل ڈالنا ہی اس کا درست استعمال ہے۔
مملکتِ مصر کے سات سات سال پر مشتمل دو ادوار حکومتی سطع پر شارٹ اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کا ایک ماڈل ہے۔ وسائل کی مینیجمنٹ آج کی دُنیا میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم آنے والے حالات کے حساب سے ملکی اور علاقائی سطح پر وسائل کی موجودگی یقینی بنانا ہے۔ مثال کے طور پر، موجودہ صورتِ حال میں وہی ملک کورونا وائرس سے مؤثر انداز میں نمٹ پائے ہیں، جنہوں نے وسائل کی ترجیحات کو حقیقت پسندانہ طریقے سے چُنا، اور اپنے تمام معاشرتی سیکٹر فعال رکھے، جس میں تعلیم، انصاف، صحت عامہ، انسانی حقوق و آزادیاں اور ماحولیات قابلِ ذکر ہیں۔ وہ ممالک جو  صرف جنگ و جدل کی تیاریوں میں مصروف رہے، یا استحصالی نظاموں میں پنجے پھنسا کر بیٹھ رہے، ان کے پاس اس وبا کاسامنا کرنے کی حکمتِ عملی تو دور، اجتماعی سوچ بچار اور مشورے کا ماڈل تک موجود نہیں (کیونکہ انہوں نے اپنے ہر مسئلے کا علاج آج تک آپس میں ظلم و اختلاف اور لڑ مر کر ہی نکالا، سو وہی ماڈل یہاں بھی لاگو کیا ، اور ناکام رہے)
تقدیر، تدبیر کا وہ عکس ہے، جو ہم حقیقت کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ اور حقیقت یہی ہے کہ تقدیر وہ تدبیر ہے جہاں انسان راضی اور مطمئن ہو جاتا ہے۔اور جو مطمئن نہیں ہوتا، وہ کوشش کرتا چلا جاتا ہے تاآنکہ راضی نہ ہوجائے۔ ہرانسان کا راضی و مطمئن ہونے کا معیار، طریقہ، نیت اور نتیجہ مختلف ہے۔ لہٰذا ہر انسان کی تقدیر مختلف ہے۔خوش قسمت وہ ہے، جواپنی قسمت اور تقدیر پرخوش ہے۔ زیادہ خوش قسمت، زیادہ خوش ہے۔ جلد خوش ہونے والا، جلد خوش قسمت ہو جاتا ہے۔سورۃ یوسف، تقدیر اور تدبیر کے مابین کے رشتے کو واضع کرتی ہے۔ وہ رشتہ اللہ پر بھروسہ کہلاتا ہے۔

_______________

تحریر: عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف