خوشی محبت کے جذبہ میں سرشار ہونے والی کیفیت کا نام ہے،ڈینئیل کہنمین کہتا ہے کہ لمحہ موجود میں،میں نے جو خوشگوار تجربہ کیا ہے وہ خوشی ہے اور سادو گرو اسی بات کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ “ہر فرد خوش ہے مگر ہم اس کیفیت کو برقرار نہیں رکھ پاتے،ہم اس کائنات میں زیادہ تر جو بھی کام کرتے ہیں ان کا مقصد خوشی کا حصول ہے”رسل نے خوشی کی کشیدگی کے لیے مختلف طریقے بتائیں ہیں جیسے کہ” جوش، محبت(داخلی و خارجی)،خاندان،کام،ذاتی دلچسپیاں،،جدو جہد اور اطمینان،خوشی برائے خوش رہنا” وغیرہ تو وہیں نفسیات دان اس کیفیت کو “جذبہ کی تکمیل،زندگی کا سکون،کوالٹی آف لائف،سبجیکٹیو ویل بینگ وغیرہ قرار دیتے ہیں۔صوفیاء خوشی کو جہاں دوسروں کے حقوق پورے کرنے اور دلوں کو سلامت رکھنے کا کہتے ہیں وہی اقبال اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی کو پا لینے کا درس دیتے ہیں۔مذہب مفہوم حدیث اس حوالہ سے رہنمائی کرتا ہے کہ”اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو”۔میرا احساس ہے کہخوشی انسان کی ذہنی اور جذباتی حالت کا نام ہے یہ ایک مثبت اور خوشگوار جذبہ کی تکمیلی کیفیت کا نام ہے جو اسے فرحت،آسودگی اور سکون بخشتی ہے۔آئیے مل کر اپنے اردگرد خوشیوں کا منبع ڈھونڈنے کی سعی کرتے ہیں اور اس کیفیت کو جلا بخشنے کا کام کرتے ہیں۔خوشی نومولود کا دنیا میں آنا ہے اور اس کے ساتھ ہی ماں کا اس درد کی کیفیت کو برداشت کرنا بھی خوشی ہے جو بچے کے وجود کو دنیا میں لانے کے لیے وہ برداشت کرتی ہے۔خوشی اطمینان قلب ہے یا دماغی فتور؟خوشی انسان کے اندر کی کیفیت کا نام ہے یا اس کے خارج کا بیاں اور دوسروں کو ایک خاص حد تک مطمئن کرنا بھی خوشی ہے۔ خوشی جینے میں ہے تو صوفیا کے ہاں مرنے میں اور مر کر جینے میں بھی خوشی ہے۔خوشی امید کے ننھے ننھے دیپ جلانے میں ہے تاکہ رات کی تاریکی (یعنی یاس کا احساس کم ہو) بھی خوشی ہے۔خوشی دینے میں ہے یا لینے،بانٹنے میں ہے یا جھولیاں بھر بھر کر تجوریاں بھرنے میں؟خوشی بھاگنے میں تو تھوڑی دیر رک کر غور و فکر کرنے میں اور یہ دیکھنے میں کہ خوبصورت گلہری اپنے اخروٹ کہاں چھپاتی ہے۔ خوشی گل،بوئے گل اور کسان کا پکے ہو اناج کو سرشاری سے دیکھنا ہے تو کسی وڈیرے کا اس پر ہل چلانا،کتے اور جانور چھوڑ کر ٹھٹھے مارنا بھی اس کے ہاں خوشی ہے مگر کسی کمزور کی متاع زیست لوٹ کر حاصل کی گئی خوشی دائمی بن سکتی ہے؟ خوشی کچھ لوگوں کے ہاں ایک دوسرے سے کاٹنے میں ہے مگر وہ لوگ یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ حقیقی اور دائمی خوشی آپس میں سینے اور جوڑنے میں ہے۔خوشی بیج یا پانی کی طرح سطح زمین پر چلنے اور زمیں کی گود میں خود کو سپرد کر کے گل و گلزار ہونے میں ہے تو زمیں پر کلف لگے کپڑے اور دستار کو زیب تن کر کے انا کے گھوڑے پہ سوار ہونے اور اکڑ اکڑ کر چلنے میں  بھی لوگ خوشی محسوس کرتے ہیں۔خوشی،جسمانی و ذہنی مشقت میں سے گزر کر کچھ نیا تخلیق کرنے میں ہے مگر بعض لوگوں کے ہاں انگلی کی جنبش سے ٹریگر دبا کر زندگی کی سانسیں چھیننے(اپنی طاقت کا نشہ،خدا کی دنیا میں خدا بننا،فرعونیت) کا نام بھی خوشی ہے۔کوٹھے پر موجود گھنگھروں،سازندوں کے راگ میں ہے یا  حقیقی خوشی چار دیواری میں منکوحہ سے لو لگانے میں؟اپنی ماں کی دی گئی متاع اور سچ کے بیان میں لٹ جانے اور پیالہ زہر پینے میں ہے یا چھیننے اور تختہ دار پہ لٹانے میں خوشی پنہاں ہے؟آنکھ کی بینائی خوشی ہے تو دل کی لگائی بھی خوشی ہے۔خوشی کا احساس سربسجدہ ہونے میں ہے یا غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر جھکانے میں؟ صرف دعا میں ہے یا عمل  کے ساتھ ساتھ دعا میں؟ اپنے یار کو منانے کے لیے پاؤں میں گھنگرو باندھ کر متاع زیست لٹانے کا نام ہے تو فرعونیت کا لبادہ اوڑھ کر حکم چلانے میں تسکین و راحت ڈھونڈنے والے موجود ہیں۔راستے سے پتھر،کنکر و خار اٹھانے کا نام ہے یا خار بچھانے کا نام؟صبح صادق کے وقت آفتاب کی کرنیں دیکھنے،چلچلاتی دھوپ میں پرندوں اور راہگزروں کے لیے پانی کا انتظام کرنے،رات کی تاریکی میں امید نو کا دیا جلانے،ماہتاب اور تاروں کی ٹمٹاہٹ کا نام ہے یا تیر و تفنگ کی گھن گرج سنانے میں؟بھوکے کو روٹی کھلانے،اندھے، معذور یا بوڑھے کو راستہ پار کرانے میں ہے یا ان سے آنکھ چرا کر گزر جانے میں؟آدھا،پورا یا اپنے احساس انسانیت کو بیدار کرتے ہوئے سچ بولنے کا نام ہے تو کچھ لوگ جھوٹ در جھوٹ اور سچ پر پردہ ڈھالنے میں خوشی تلاش کرتے ہیں۔ خوشی کرسی کا حصول ہے یا حصول کرسی کے راستے میں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے؟نظر کا دھوکا ہے یا اس کا پردہ چاک ہونا ہے؟انسان کے قریب ہونا ہے یا صرف پیسے کا حصول؟اپنی ذات کی تکمیل اور تکمیل انسانیت ہے یا دوسرے پر انگلی اٹھانا،نیچا دکھلانا،اور احساس تفاخر میں مبتلا رہنا؟بچپن کے کھیل،رنگ،اچھلنا،کودنا ہے یا بڑھاپے میں بچوں کے ملن کی آس؟روح کی مسکراہٹ ہے یا صرف لب کی جنبش،بھائی کی باتیں ہیں،بہن کا پیار ہے،ماں کی مامتا اور باپ کی سختی و ناراضگی ہے،بیٹے یا بیٹی کی وہ چھلانگ ہے جو اسے کندھے تک رسائی دیتی ہے یا جواں بیٹے کا سینہ تان کر باپ کے سامنے کھڑے ہو جانا اور پھر تنہائی میں آنسوؤں کی لڑیاں بہانا بھی کیفیت خوشی کی طرف لوٹنا ہے(غلطی سے رجوع کرنا)۔بیٹی کی جوانی،پھر شادی خوشی ہے تو اس کی پرائے گھر میں رخصتی بھی خوشی ہے۔خوشی بنگلہ،گاڑی کا حصول ہے تو کام کرنے والے معصوم بچے کے ہاتھ میں کتاب و قلم تھمانا بھی خوشی ہے۔

______________

تحریر:محمد عظیم

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف