میں شہریار ہوں۔ نہیں! میں شیریں ہوں۔
مجھے یاد نہیں آرہا میں کون ہوں؟ میں لڑکا ہوں۔۔۔ نہیں! نہیں! میں لڑکی ہوں۔۔۔
یاد آیا میں پیدا ہوئی تو لڑکی تھی۔ پھر بچپن ہی میں میں لڑکا بن گئی۔ اپنی امی کا دوسرا بیٹا۔۔۔ شہریار!

امی ایک بیٹی اور بیٹے کے بعد دوسرا بیٹا چاہتی تھیں۔ ان کے خیال میں ایک بیٹی اور دو بیٹے ایک آئیڈیل فیملی تھی۔ مگر پھر میں پیدا ہوگئی۔ ایک لڑکی! میری پیدائش پہ وہ روئیں۔ ان کا رونا تو بنتا تھا، ان کی خواہش کی تکمیل ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔ میری پیدائش نے ان کی آئیڈیل فیملی کا خاکہ ہی بدل دیا تھا۔ یعنی میری پیدائش ان کے ٹوٹے خوابوں کے ملبے پر ہوئی تھی۔ ان کا اداس ہونا تو بنتا تھا۔ ان کا ماتم کرنا تو بنتا تھا۔ خواب ٹوٹ جائیں تو آنکھوں سے آنسوؤں کے بجائے لہو بہہ نکلے تو بھی بجا ہے۔ میں مانتی ہوں! میں ان کے لیے تکلیف کا باعث تھی۔ میرے بس میں ہوتا تو میں شیریں پیدا نہ ہوتی۔ میں شہریار بن کر جنم لیتی۔۔۔ میں امی کے خواب کی تکمیل بن کر جنم لیتی۔

امی شہریار کو تو نہ بھلا پائیں۔ بہر حال وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھے قبول کر ہی لیا۔ میں نیلی نیلی آنکھوں والی خاموش طبع سی، معصوم سی بچی۔۔۔ کسی کے ساتھ بھی زیادہ نہ گھلنے ملنے والی۔۔۔ پھر بھی لوگ مجھے دیکھتے ہی پسند کرنے لگ جاتے تھے۔ پیار کرنے لگ جاتے تھے۔ امی بھی مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ میرے لیے طرح طرح کے کپڑے بناتی تھیں۔ میرے لیے گڑیاں بناتی تھیں۔ مجھے کسی گڑیا کی طرح رکھتی تھیں۔ میرے بیمار ہونے پر بلبلا اٹھتی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کبھی انہوں نے بوسہ لیا ہو میرا مگر میرے بیمار ہونے پر راتوں کو ضرور جاگ جاگ کر میرا بخار چیک کرتی تھیں۔ یہی شاید ان کی محبت کے اظہار کا طریقہ تھا مگر بچوں کو خاموش محبت کہاں سمجھ آتی ہے؟ بچوں کو تو ہر چیز دکھا کر سکھانی پڑتی ہے۔ امی جو دکھا کر نہ سکھا پائیں، وہ محبت تھی! انہوں نے نہ سکھائی تو میں نے بھی نہ سیکھی۔ محبت بھی۔۔ اس کا اظہار کرنا بھی۔۔۔

خیر، میرے بعد شہریار کی امید پہ ایک اور بیٹی نے جنم لیا یہاں تک کہ ہم چھ بہنیں ہوئیں مگر شہریار نے نہ آنا تھا نہ آیا۔ ہر بیٹی کی پیدائش پہ امی کی حالت غیر ہوجاتی تھی۔ ابو ان کو دلاسے دیتے تھے۔ مونگ پھلی بانٹتے تھے۔ عقیقہ کی دعوت رکھتے اور سبھی رشتہ داروں کو بلاتے تھے۔ سب حیران ہوتے ابو کی اعلی ظرفی اور صبر پر۔۔۔ کہ بھلا بیٹیوں کی پیدائش پہ کون مونگ پھلی بانٹتا پھرتا ہے؟ کون دنبے لا لا کے ذبح کرتا ہے؟

امی کے بالوں میں چاندی اتر آئی، شہریار نہ آیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ امی کو جب کوئی کہتا “تم جوان ہو۔ اولاد اللہ کی دین ہے۔ ان شاء اللہ تمہارا بیٹا ہو جائے گا۔” تو امی بات ٹال دیتیں۔ انہوں نے شہریار کو بھلایا نہیں تھا، بس اس کے آنے کی امید ترک کر دی تھی۔ یا شاید وہ ہمت ہار بیٹھی تھیں۔ دنیا میں نا ممکن تو کچھ نہیں ہوتا پھر ان کے گھر میں نجانے شہریار کا آنا کیوں نا ممکن سا بن گیا تھا؟ جو بھی تھا! انہوں نے صبر کر لیا تھا۔ ہم چھ بہنوں کو انہوں نے بہت ہی لاڈ سے پالا۔ خاندان میں سب سے زیادہ سہولیات اور آرام ہم ہی کو ملا۔ امی اپنی ساری تنخواہ ہم بہنوں پر ہی لگاتیں۔ ہماری ہر ضرورت کا خود خیال کرتیں۔ انہوں نے کوئی کمی نہ ہونے دی ہماری زندگی میں۔ یہی بات تھی جس پر خاندان والے حیران ہوتے تھے کہ لوگ جو ایک بیٹی کے اتنے ناز نہیں اٹھا سکتے، امی چھ بیٹیوں کو بڑے لاڈ سے پال رہی تھیں۔

گھر میں مجھے کبھی احساس نہ ہوا کہ ہم چھ بہنیں ہیں۔ احساس تھا بھی تو کبھی احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوئے۔ کبھی چھ بہنوں کے ہونے پر رنج نہ ہوا کیونکہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھیں۔ گھر میں رونق رہتی تھی۔ کوئی ایک بہن کہیں چلی جاتی تھی تو گھر بھر اداس ہو جاتا تھا۔ ہم چھ تھیں پر اضافی تو نہ تھیں۔ ہر ایک کی اپنی جگہ اور اہمیت تھی۔ زیادہ بہن بھائی اور خاص کر زیادہ بہنیں ہونا کوئی برا تو نہیں! اس بات کی گہرائی کا اندازہ تب ہوتا جب کہیں باہر جانا ہوتا تھا۔ کوئی پوچھتا کتنے بہن بھائی ہو؟ جواب سننے پر ہر کوئی ایک لمبے افسوس کا اظہار کرتا۔ “اووووووہ! چھ بہنیں۔۔۔” کبھی کسی کے منہ سے ماشاء اللہ نہیں سنا۔ کبھی کسی سے زیادہ بہنیں ہونے کے فائدے نہیں سنے۔ بس افسوس ہی سننے کو ملتا تھا اور اس وقت دل ماتم کرنے کو کرتا تھا۔ لگتا تھا جیسے ہم واقعی اس زمین پر بوجھ ہیں۔ پھر میں سوچنے لگ جاتی تھی کہ چلو اس والی کو ہٹا دو تو زمین پر سے بوجھ کم ہو جائے گا۔ باری باری ایک ایک بہن کو ہٹاتی۔ پھر دل میں درد سا اٹھتا۔ وہ میرے وجود کے ٹکڑے تھے۔ میں کیسے ان کے نہ ہونے کی دعا مانگ سکتی تھی؟ پھر یوں ہوا کہ مٹ جانے کی باری میری آئی تو خود پہ ترس نہ آیا۔ زمین پر سے بوجھ ختم کرنے کا حل یہی تھا کہ ہم چھ میں سے کسی کو مٹا دیا جائے سو میں مٹ گئی!

میں شیریں! شہریار بن گئی۔ امی کا دوسرا بیٹا۔۔۔
وہ چاہتی تھیں شہروز کے بعد اب میں ڈاکٹر بن جاوں۔ میں نے بھی ٹھان لی کہ اب ڈاکٹر ہی بننا ہے حالانکہ ابو اس حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے ہمیں اتنے لاڈ سے پالا تھا کہ انہیں لگتا تھا میں میڈیکل کی مشکل پڑھائی اور سخت ڈیوٹی نہیں کر پاوں گی۔ لیکن امی کی خواہش اور میری ضد کے آگے وہ خاموش رہے۔
سال بھر سخت محنت تو کی میں نے۔ مگر اس محنت کے بدلے جو محبت ملی وہ انمول تھی۔ امی راتوں کو جاگ جاگ کر مجھے پڑھائی میں مصروف دیکھ کر خوش ہوتی تھیں۔ میرے لیے اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کے لاتیں۔ کھانا لا کے میرے سامنے رکھتی تھیں اور کبھی کبھی بوسہ لے کر مجھے اپنی محبت کی دولت سے مالامال کر دیتی تھیں۔ میں نے بھی اپنا سب کچھ لٹا کر یہ بازی لگائی تھی۔ اگر یہ امی کی خواہش تھی تو میری بقا کا سوال تھا۔ میں نے شہریار بن کر دکھانے کی اگر ٹھان لی تھی تو میرے پاس واپس پلٹنے کا راستہ نہ تھا۔ میں دوبارہ شیریں بن ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ ممکن نہ تھا! بس خود کو ثابت کر کے شہریار بن کر رہنا ہی میرے لیے سہارا تھا۔

وہ دن نتیجے کا نہیں میری موت کا دن تھا۔ مجھے یاد ہے امی بان والی چارپائی پہ لیٹیں رو رہی تھیں۔ ان کا رونا بنتا تھا، ان کا شہریار مر گیا تھا!
میں شاک میں تھی شاید اس لیے مگر میں رو نہ پائی۔ بس امی کے آنسو پونچھتی رہی۔ “نہ روئیں امی! میں اداس نہیں ہوں۔ میری قسمت میں ہی نہ تھا۔” مگر تسلی سے کہاں صبر آتا ہے کسی کو؟ وہ خوب روئیں۔ سسک سسک کر۔۔۔ یہاں تک کہ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اور میں خاموشی سے انہیں بس دیکھے گئی۔ میں اور کہہ بھی کیا سکتی تھی؟ ان کی مجرم تھی! انہوں نے جس خواہش کے ادھورا ہونے پر صبر کر لیا تھا، میں نے ان کے دل میں اس کی تکمیل کی امید جگا کر اس خواہش کو قتل کردیا تھا۔ مجھے یاد ہے اس دن وہ اپنی بیٹیوں کی پیدائش سے زیادہ روئی تھیں۔ بیٹا مر جائے تو ماتم تو ہر ماں کرتی ہے۔

نکاح ہوگیا تو یوں لگا فیل ہونے کی سزا مل گئی۔ سامنے والا جتنا اچھا تھا میں اتنی ہی بد گمان۔۔۔
لڑکیاں منگنی اور شادی کے بارے میں جو خواب دیکھتی ہیں میں نے وہ نہیں دیکھے تھے تو مجھے تعبیر میں بھی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس رشتے سے متعلق سب اچھا تھا، اتنا ہی جتنا ایک لڑکی آئیڈئلائز کرتی ہے مگر میں نے تو وہ آئیڈئلائز ہی نہ کیا تھا۔ وہ سب ایک سہانا خواب تھا مگر پرایا تھا اور پرایے خواب کے تعبیر میں بھلا کس کو دلچسپی ہوتی ہے؟؟ میری عدم دلچسپی وہ نہ سمجھا مگر خاموش رہا۔ میں نے سمجھا دیا اسے کہ میں اپنی ماں کے ٹوٹے ہوئے خواب کی کرچیوں پہ چل رہی ہوں۔ میرے پاوں زخمی ہیں۔ میں تکلیف میں ہوں۔ مجھے محبت کرنے کی فرصت نہیں۔ نہ ہی اظہار کرنے کی طاقت۔ میں جذبوں سے بے زار اور زندگی سے ہاری ہوں۔ ایک کام جو اپنے ذمہ لیا تھا اپنی ماں کا بیٹا بننے کا، وہ ہی پورا نہ کر سکی۔ میں تو کسی کام کی نہیں۔ مجھ کو تو سچ پوچھو تو جینے کی کوئی لگن ہی نہیں۔

وہ سمجھا تو اس نے مجھے سنبھلنے کا وقت دیا۔ اس نے میری کمر تھپک کر احساس دلایا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ مگر روح تکلیف میں ہو تو کوئی ساتھ نہیں ہوتا۔ کوئی ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ تکلیف تو میری تھی۔ اسے وہ سن کر سمجھنے کا دکھاوا کر بھی لیتا تو میں جانتی تھی وہ نہیں سمجھا کیونکہ درد کو سمجھنے کے لیے اس پر سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ پر اس کو کیا معلوم شناخت بدل جانے سے کس قدر تکلیف ہوتی ہے؟ وہ کب سمجھ سکتا تھا شہریار سے دوبارہ شیریں بن جانے کی تکلیف کو؟ نہیں! وہ کہہ بھی دیتا کہ i understand تو وہ نہیں سمجھ سکتا تھا۔ میری بے زاری نے اسے بھی فرسٹریٹ کر دیا کیونکہ جتنے دلاسے اس نے دینے تھے وہ دے چکا تھا۔ مجھے سنبھلنے کا جتنا وقت وہ دے سکتا تھا اس سے زیادہ اس نے دیا مگر میں اپنے خول سے باہر نکل ہی نہ پائی۔ میں تو شہریار تھی۔ اس نے مجھے شیریں بنا کر خود سے محبت کرنے پر مجبور کرنا تھا تو جواب میں اسے بے زاری ہی ملنی تھی۔ اسے بے زاری ملی تو وہ بھی بے زار ہوگیا۔ اس کا حق تھا وہ احتجاج کرتا۔ ہر رشتہ حقوق و فرائض کی بنیاد پر بنتا ہے اور وہ اگر حقوق ادا کر رہا تھا تو اسے حقوق ملنے چاہیئے تھے مگر میں تو حقوق و فرائض کی بندھنوں سے بہت آگے نکل چکی تھی۔ میں تو کشتیاں جلا کر راکھ کر چکی تھی۔ پھر اگر وہ دریا کے اس پار بیٹھ کر انتظار کر رہا تھا میرے واپس آنے کا تو یہ اس کی غلطی تھی۔ مجھے واپس نہیں لوٹنا تھا تبھی تو میں نے کشتیاں جلائیں تھیں۔ غلط کیا تھا! ہم اپنا ایمان نہیں دیکھتے بس کشتیاں جلا دیتے ہیں حالانکہ کشتیاں جلانے کے لیے ایمان بھی طارق بن ذیاد جیسا ہونا چاہیئے۔ یہیں پہ ہم مات کھا جاتے ہیں۔

آپ پوری زندگی ایک زخم کے ساتھ نہیں گزار سکتے۔ زخم تازہ ہو تو لوگ مرہم بھی رکھ دیتے ہیں اور تسلی بھی دے دیتے ہیں لیکن اگر آپ پرانا زخم کھرچ کھرچ کر دوبارہ تازہ کرنا چاہیں گے تو اس پر مرہم رکھنے کوئی نہیں آ ئے گا۔ جس طرح کسی چیز کی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے اسی طرح ہر زخم کی بھی ایک مدت ہوتی ہےجس سے آگے آپ اس زخم کی نمائش نہیں کر سکتے۔ اس سے پہلے اس زخم کو ٹھیک ہوجانا چاہیئے اور ٹھیک نہ ہوا تو سمجھو ناسور ہوگیا۔ میرا زخم بھی ناسور ہوا تھا۔ وقت پہ نہ رونے سے۔۔۔ مضبوط بننے کا دکھاوا کرنے سے۔۔۔ بیٹی ہو کر بیٹا بن کر دکھانے سے۔۔۔ ہاں! وقت پہ چھوٹے سے پھوڑے کا علاج نہ کیا جائے تو وہ ناسور کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ میرا وجود بھی ناسور بن چکا تھا!

برسوں بعد آج بھی کبھی بازار جاوں تو یاد نہیں رہتا میں شیریں ہوں۔ شہریار بن کے چلتی ہوں۔ اپنی نسوانیت بھول کر مردانہ چال چلتی ہوں۔ یاد نہیں رہتا وہ ساتھ چل رہا ہے اور وہ آواز دے تو چونک جاتی ہوں ” شیریں! تمہیں اور کچھ لینا ہے؟” اس آواز کو سن کر حیران ہوتی ہوں کہ یہ نام بھلا کس کا ہے؟ پھر یاد آتا ہے یہ تو میں ہوں اور جس کی آواز ہے وہ میرا مجازی خدا۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب بدل گیا۔ میری شناخت اور مجھ سے جڑے امی کے خواب۔۔۔ وہ اب چاہتی ہیں میں بس خوش رہوں مگر جسے خوش رہنے کا گر نہ سکھایا گیا ہو وہ خوش کب رہ سکتا ہے؟ انہوں نے جیسے شہریار کے نہ ہونے پر صبر کر لیا مگر میں کیا کروں مجھے صبر ہی نہیں آتا۔ بچپن سے جو چیز انسان کے اندر اتنی پکی ہوجائے وہ بھلا اتنی آسانی سے کہاں مٹتی ہے؟ آج بھی سوچتی ہوں کاش میں اس دن امی کے ساتھ بان والی چارپائی پہ لیٹ کر اپنے فیل ہوجانے کا ماتم کر لیتی تو شاید اب ہر رات مجھے شیریں بننے پر ماتم نہ کرنا پڑتا۔ اور میری ماں جو میرا عشق تھی، کسی بے وفا محبوب کی طرح اپنی امیدوں کی پوٹلی اٹھائے اپنی باقی اولاد کے کارناموں کی منتظر ہیں اور میں۔۔۔ جو شہریار بنتے بنتے رہ گئی۔ مجھے لگتا ہے میں ایکسپائر ہو گئی ہوں، کسی دوائی کی طرح یا پھر کسی فنگس لگی ڈبل روٹی کی طرح۔۔۔ جو کام نہیں آ سکتی۔ جسے پھینک دینا ہی بہتر ہے۔

سوچتی ہوں نجانے کتنی مائیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے ادھورے خوابوں کا زہر اپنے بچوں کی رگوں میں انڈیل دیتی ہیں اور وہ بچے پھر اپنی زندگی جینے کے بجائے اپنی ماوں کے خواب جیتے ہیں۔ کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ورنہ اسی خواب کے ساتھ ہی ان کی موت ہوتی ہے۔
خداراء! اپنے بچوں کو موت سے بچایئے! انہیں کسی بڑے خواب کی نذر نہ کیجیئے۔
کبھی کسی بیٹی کو بڑی کامیابی کے بعد یہ نہ کہیں کہ تم نے مجھے بیٹا بن کے دکھایا ہے۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ آپ کو ایک بیٹی کی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں اور اگر وہ کچھ کر دکھائے تو وہ بیٹی نہیں رہتی بلکہ بیٹا بن جاتی ہے؟

آپ کے بچے کو سات سال سے پہلے کسی اسکول کسی پلے گروپ کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنے دل سے قریب رکھیں۔ اسے بتائیں کہ وہ آپ کے لیے اہم ہے۔ اس کا بوسہ لیں۔ اسے گلے سے لگائیں۔ اسے محبت کرنا سکھائیں۔ وہ محبت کرنا سیکھے گا تو کل کو وہ یہی محبت آپ کو لوٹ آئے گا۔ آپ اسے وقت دیں گی تو کل کو وہ آپ کو وقت دے گا۔
اسے اچھے برے میں تمیز کرنا سکھائیں اور جب وہ اپنے راستے کا تعین کر لے تو اس کا ساتھ دے کر چلیں۔ اس کی ہمت بندھائیں۔ یقین کریں! آپ نے اس کے لیے جتنا بڑا سوچ رکھا ہے۔ وہ خود اپنے بل بوتے پر جو بھی حاصل کرے گا اس سے اس کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ اسے کوئی بڑا ڈاکٹر یا پائلٹ نہ بنائیں۔ اسے بس انسان بنانا سکھا دیں۔ وہ انسان بنے گا تو کامیابی اس کے قدم چھومے گی۔
اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سیلیبریٹ کریں۔ اس کی ناکامیوں پر آنسو نہ بہائیں بلکہ اس کے ساتھ بیٹھ کر منزل تک پہنچنے کے نئے راستے دریافت کریں۔ وہ فیل ہو بھی جائے تو اسے گلے لگائیں۔ یقین کریں! آپ کے بچے کی مینٹل ہیلتھ سے زیادہ اہم کچھ نہیں! وہ امتحان میں فیل ہو جائے تو کوئی نہیں، اسے زندگی میں فیل ہونے سے بچا لیں۔ اسے رشتے نبھانا سکھائیں تاکہ کل کو آپ کی شیریں شہریار بننے کے چکر میں اپنی شناخت ہی نہ بھول جائے کیونکہ پھر کوئی اس کے ناسور پہ مرہم رکھے گا نہ کوئی تسلی کو دو بول کہے گا۔

خداراء بچوں پہ اپنے ادھورے خوابوں کا ملبہ ڈال کر انہیں ان کے حصے کی زندگی جینے سے محروم مت کیجیئے بلکہ ان کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔تاکہ کل کو آپ کا بچہ یہ نہ کہے یہ میری ماں کا خواب تھا میں پورا نہ کر سکا بلکہ ان میں اتنی خود اعتمادی ہو کہ وہ کہے کہ یہ میرا خواب ہے اور اسے میں نے پورا کرنا ہے۔ نہ بھی کر سکے تو اس کی بنیاد اتنی مضبوط ہو کہ وہ ایک خواب کے ٹوٹ جانے سے نہ ٹوٹے۔

خداراء! اپنی شیریں کو جیسی وہ ہے قبول کرلیں۔ اس پر فخر کیجیئے ورنہ وہ آپ کو خوش کرنے کی خاطر شہریار بننے کی کوشش میں اپنی پہچان کھو دے گی۔ اور پھر زندگی بھر وہ ایک ایک کو جھنجوڑ کر اپنی پہچان پوچھے گی اور کوئی اس کا نام پکارے گا تو حیرت سے چانک جائے گی۔ ایک ایک کو پکڑ پکڑ کر کہے گی کہ اس کے ساتھ برا ہوا ہے۔ اس کی ماں نے اپنے ایک خواب کی خاطر اس کا جنس بدل دیا۔ اس کی پہچان بدل دی۔ مگر اس کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ خداراء اسے اکیلا نہ کیجئے۔ اسے محبت سکھایئے تاکہ وہ محبت دے اور لے سکے۔

اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کا بوجھ اپنی اولاد کے سپرد کرنا ایک بہت بڑی ذہنی بیماری ان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ آپ اپنے بچے کو اس بیماری سے نہیں بچائیں گے تو یہ اس کی نسل میں آگے چلے گی۔ بس! مان لیں یہ حقیقت کہ آپ کے خواب ادھورے رہ گئے تو ان کو پیچھے چھوڑ دیں۔ اپنے بچے کے خوابوں پر یقین کر کے اس کا ہاتھ پکڑ کر چلیں۔۔ کوئی بڑا کارنامہ کر دکھائے تو بوسہ ضرور لیں اس کا مگر اپنی محبت کا اظہار صرف ان کی کامیابی کے وقت نہ کریں بلکہ کبھی کبھی یوں ہی۔۔۔ پاس بٹھا کر سینے سے لگا لیں اسے۔ بوسے لیں۔ پیار کریں تاکہ اس کو محسوس ہو کہ آپ کی محبت اس کی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ آپ تب بھی اس سے محبت کرتے ہیں جب اس کے ساتھ کوئی نہیں ہوتا۔ یقین کریں! آپ کی محبت کا اظہار آپ کے بچے کو فولاد کی سی مضبوطی دیتی ہے۔ یہی مضبوطی لے کر آپ کا بچہ دنیا کا سامنا کرنے کے لیے نکلے گا تو فتح کے جھنڈے گھاڑ گا اور فتح یاب نہ بھی ہوا۔ سکندر اعظم نہ بھی بنا تو اتنا تو ضرور ہوگا کہ وہ کسی انجان آدمی کے پیچھے اپنا غم سنانے کو نہیں بھاگے گا۔ وہ ایک مضبوط انسان کہلائے گا!!

____________

تحریر: شیما قاضی

کورڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف