سورتہ یوسف سے میں نے کیا سیکھا!_________عمر


چشمِ یعقوب کر چُکی ثابت

ہِجر بینائی چھین لیتا ہے

سورۃ  یوسف کو احسن القصص کے نام سے موسوم کیا  جاتا ہے۔

اس  سورۃ کے مطالعے سے میرے  اخذ کردہ چیدہ نکات درجِ ذیل ہیں۔

جب حضرت یوسف ؑ نے اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا ، تو باپ نے  بیٹے کو نصیحت کی کہ اس کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔  یہ نہ ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی چال چلیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضروری نہیں  اپنی ہر بات اپنے بہت قریبی رشتوں کو بتائی جائے ، بلکہ جہاں اُن کے دِلوں میں وسوسے، حسد یا کِسی بھی  منفی ردِ عمل کا اندیشہ ہو تو  ایسی ذاتی بات اُنہیں بالکل نہ بتائی جائے۔

جب حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے اُنہیں کنوئیں میں پھینک دیا ، اور واپس آ کر بہا نہ اور جھوٹ گھڑا ، تو والد نے صرف اتنا کہا کہ میرے لئے صبر ہی بہتر ہے اور میں اللہ سے تُمہاری ان باتوں پر مدد چاہتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا  کہ کسی  کی جھوٹی بات کو جانتے ہوئے بھی  اُسے زیادہ   انگیج نہ کیا جائے ، اور اس چیز پر صبر اور استقامت کے ساتھ قائم رہتےہوئے اپنی  درخواست کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کر دیاجائے۔

جب حضرت یوسف ؑ    کو عزیزِ مصر کی بیوی نے ورغلایا تو اُنہیں اللہ کی “بُرہان” نے اس جال میں پھنسنے سے بچایا۔  اس سے معلوم ہوا کہ انسان  حالات، واقعات اور دوسرے انسانوں کی نیت و اعمال کے ہاتھوں کِتنا  بھی مجبور و مقہور ہو ، خُدا کی مدد سے وہ ہر طرح کے گڑھے میں گِرنے سے بچ سکتا ہے۔

اس معاشرے کی ایلیٹ خواتین کی حرکات سے تنگ آ کر حضرت یوسفؑ نے دعا کی کہ اُنہیں ایسی سرگرمیوں کی نسبت   قید منظور ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گُناہ کے امکانات  سے دوری  بے شک انسان کی زندگی کی بنیادی آزادیوں  کو سلب کر لے ، پھر بھی بہتر ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں آج کی دنیا میں لاک ڈاؤن سے ہوا ، کہ جب بنی نوع انسان نے اپنی زندگی  و صحت کے لئے مِلنا جلنا، ہاتھ ملانا، اکھٹے بیٹھنا حتیٰ کہ گھروں سے باہر نکلنا بھی ترک کر دیا۔ اہم سبق یہ ہے کہ ویلیوز  یا اقدار  ، وہ چیزیں ہوا کرتی ہیں ، جنہیں ہم  ویلیو ایبل یا قیمتی گردانتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کے لئے ان کی عزت و عصمت  ہر چیز سے زیادہ قیمتی تھی ، اس لئے انہوں نے قید رہنا پسند کر لیا۔

حضرت یوسفؑ نے جب دو ساتھی قیدیوں  کو اُنکے خوابوں کی تعبیر بتائی ، تو اس سے پہلے بہت خوبصورت انداز میں دین کی تبلیغ کی۔ اس  سے پتا چلتا ہے کہ دین کی بات کرنے کا موقع محل، وقت اور طریقہ  مخاطب کی شخصیت، حالات اور حاجات  کو سامنے رکھ کے کیا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی درجے میں حاجت مند ہے۔ اس کی کوئی نہ کوئی ضرورت ہے۔ اسکو پورا کرتے ہوئے ، اُسے نپے تُلے اور بہترین الفاظ میں اللہ کی طرف بُلایا جائے،  تو یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تبلیغ کے نام پر  لمبی تقاریر  کی جائیں۔

حضرت یوسفؑ نے  شاہِ مصر کو اُس کے خواب کی تعبیر بتائی ، جس میں سات سال کے دو پیریڈ تھے۔ سات سال کا پہلا عرصہ خوشحالی جبکہ دوسرا دور قحط پر محیط تھا، جس کے بعد ایک سال کے   اچھے دنوں کی پیشن گوئی پر مشتمل تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ  ڈرائی سائیکل اور ویٹ سائیکل، نیز قحط اور خوش حالی اور مستقبل کی تیاری ایسی چیزیں ہیں، جن پر حکومتِ وقت کو کام کرنا چاہیے، تاکہ آنے والے دِنوں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں ہو سکے۔ انفرادی طور پر بھی سات سال کے دور کی منصوبہ بندی کی جائے ، اور تیاری پر زور طریقے سے کی جائے ، تو بُرے دن بھی بہتر  انداز میں گُزر سکے ہیں۔

رہائی کے وقت حضرت یوسفؑ        کا ایک قول  بہت  معنی خیز   ہے ، جس کا مفہوم ہے کہ جو خیانت کرتے ہیں ، اللہ ان کی  تدابیر کو کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا۔  یہ  دیانت دار زندگی کا ایک اہم اصول ہے، اور اللہ کی رضا  و کامیابی کا ذریعہ۔

اس سورۃ سے ایک بہت اہم سبق تقدیر کے بارے میں حاصل ہوتا ہے۔

اس قصے کے آغاز سے انجام تک کے تمام پہلو ، حضرت یعقوب ؑ کی نظر میں تھے۔ وہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے ، اور اُن  تمام حکمتوں سے واقف تھے جو  حضرت یوسفؑ کو درپیش مصائب میں پوشیدہ تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے محبوب بیٹے پر گُزرنے والی صعوبتوں سے بھی  یقیناً واقف تھے۔ مگر کِسی بھی مرحلے پر اُنہوں نے اُمید اور  خُدا کے فضل و کرم  کی آس کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، نہ ہی سچ جانتے ہوئے بھی  اپنے بیٹوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ بلکہ پیش بینی اور تدبیر کو اپنا لائحہ ٔ عمل بنایا۔ یہ ہمارے لئے سب سے اہم نقطہ ہے کہ تدبیر اور تقدیر کا باہمی رشتہ انسان کے دِل کی ایمانی کیفیت  اور حُسنِ نیت ہے۔ اس سورۃ کی جِس آیت نے  مُجھے اس  تقدیر و تدبیر کو سمجھنے میں مدد دی ،  اس کا ترجمہ یوں  بنتا ہے:

“پھر یعقوبؑ نے کہا کہ میرے بچو! مصر کے دارالسلطنت میں سب کے سب  ایک دروازے سے داخل نہ ہونا ، بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔  مگر میں اللہ کی مشیّت سے تُم کو نہیں بچا سکتا ۔ حُکم اللہ کے سوا کِسی کا بھی نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جِس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے۔ اور ہوا بھی یہی کہ  جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوئے تو  یہ تدبیر اللہ کی مشیّت کے مقابلے میں ان کے کِسی بھی کام نہ آ سکی۔  ہاں  بس  یعقوبؑ کے دِل میں  ایک کھٹک تھی ، اسے دور کرنے کے لئے اس نے اپنی سی ایک کوشش کر ڈالی۔ بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا ، مگر اکثر لوگ معاملے کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔”

اس سے پتہ چلتا ہے کہ تدبیر ، تقدیر ہی کا ایک جُزو ہے۔ فرق یہ ہے کہ تدبیر ہمارے  دِل و ماغ کو تسلی دیتی ہے ، کہ ہم نے فلاں فلاں کوشش  یا عمل کر لیا۔ اب اس  اچھی کوشش یا  نیک عمل کا نتیجہ اللہ کی مرضی سے مشروط ہے  ۔ یہ وہ نتیجہ ہے،  جو ہمارے حق میں بہتر ہے، بے شک ہم اسے مانیں یا نہ مانیں۔

سورۃ یوسف ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اِس دُنیا میں ہر صورت  ایکسپوز ہونا ہے۔ ویسے تمام  حالات کو جو ہمیں ناپسند ہوں، اور ویسے تمام  لوگ جو ہمارے دُشمن ہوں، یا خود غرض ، بددیانت  اور بد نیت ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں شیطان کے وساوس سے بھی بچنا ہے۔ اپنی عزت و عفت کا خیال رکھنا ہے۔ اپنے عزیز رشتوں کو پہچاننا اور گلے لگانا ہے، معاف کرنا ہے اور اُن کی باتوں کو برداشت کرنا ہے۔

تحریر: عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

4 Comments

  1. صَبر أيوب ، غِنى سُليمان ، عفة يوسف ، أخلاق مُحمد ﷺ، اللّهم امنحنا من بحرهم قطرة

    صبرِ ایوبؑ،سلیمانؑ کا غنا (دل کی امیری) یوسفؑ کی عِفت ، محمد ﷺ کا اخلاق ، اے اللہ ان کے سمندروں میں سے قطرہ ہمیں بھی عطا فرما

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.