نباہ___________صوفیہ کاشف

اصل ذندگی میں بڑے بڑے خواب دیکھنے والے نیند میں چھوٹے چھوٹے بے ضرر خوابوں سے اکثر ڈر جاتے ہیں۔خوابوں کی میری ذندگی میں بے تحاشا اہمیت ہے شاید اسی لئے میرے پاس ان کے بارےمیں بولنے کو بہت کچھ ہے۔پھر چاہے یہ خواب جاگتی أنکھوں سے جئیے گئے ہوں یا نیند میں لاشعور کی شرارت ہو۔ مجھے بہت دیر بعد ہوش آئی کہ میرا بچپن اور جوانی تیس اور بیس سال پیچھے رہ گئی۔پچھلے پندرہ سال غم حیات نے مڑ کر دیکھنے نہ دیا۔اب جو پلٹ کر دیکھتی ہوں تو خود کو اتنی دور پاتی ہوں،گنتی ہوں تو بوکھلا جاتی ہوں سالوں کی گنتی دہائیوں کو پار کر گئی۔چالیس سے تیس،تیس سے بیس،بیس سے،،،،!لیکن خوابوں کی گنتی ہو گی تو ذندگی کے پہلے خواب سے شمار کرنا پڑے گا۔

جب دو دہائیوں پیچھے میری ذندگی صرف ایک خواب سے واقف تھی ،کسی اعلی تعلیمی ادارے سے تعلیم کا خواب۔۔۔اعلٰی! کیونکہ جس شہر کی مٹی سے ہمیں گوندھ کر پکایا گیا وہ ایک اعلی شہر تھا نہ اس کے تعلیمی ادارے ہی اعلی تھے۔اور میں بھی پدرسری معاشرے میں ایک لڑکی تھی علم کے حصول کی خاطر چین نہ جا سکتی تھی۔۔۔۔تو میں خوابوں میں ہمیشہ اپنے ہاتھوں میں قلم،کتاب ،فایلیں،نوٹس اور آس پاس خوبصورت لال برآمدے دیکھنا چاہتی تھی مگر خوابوں میں روز بروز صحرا اتر آتا تھا۔دور دور تک ریت ہی ریت،اتنی ریت کہ کھڑے ہونے کی کوشش میں ڈوب جاو۔۔۔۔پھر کبھی میں ایسی سڑکوں پر کھڑی ملتی جس پر اتنی بڑی گاڑیاں چلتی تھیں جتنی تب تک میں نے دیکھی بھی نہ تھیں،،،،،،کبھی ایسے تراشیدہ چمکتے دمکتے لوگ کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں!۔۔۔ میری بصیرت کالج سے شروع ہو کر یونیورسٹی پر ختم ہو جاتی!۔میں انگلیوں پر گنتی،اس کا مطلب کونسا کالج،کونسی یونیورسٹی!۔۔۔۔مجھے خبر نہ تھی ان خوابوں کی تعبیر ابوظہبی اور دبئی جا اتارے گی،اونچا سوچتی تھی،مگر اتنا اونچا کبھی سوچ نہ سکی تھی۔یہ دشت ابوظہبی اور دبئی کے چمکدار صحرا تھے !

Me at 18

پھر انہی دنوں ایف ایس سی کے دنوں میں ایک اور خواب کی سیریز شدت سے دکھائی دیتی،آج بھی یاداشت کے پردے پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔۔۔پانی! پانی! ہر طرف پانی!دریا،سیلاب،سمندر!اندر اور باہر،ہر طرف!اتنا دیکھا پانی کہ پریشاں ہو گئی! اور پھر ذندگی کئی سال تک پانی میں اس طرح ڈوبی کہ نکلتے نکلتے سانسوں کی ڈوری چھوٹنے لگی۔۔۔۔بلآخرسانس سنبھل گئے مگر ذندگی کی ایک رگ کٹ گئی ہمیشہ کے لئے!یہ پانی ذندگی کے مصائب سے عبارت تھا۔

پچھلے آٹھ سالوں میں اپنے بیٹے آریز کو بارہا دیکھا،کبھی گرتے،کبھی کہیں پھسلتے،کبھی ایک مشکل میں،کبھی دوسری مشکل میں____اور اصل ذندگی میں بارہا اسے واپس چھینا ظلمت کی گھڑی سے___الحمداللہ!خدا کے سوا مشکلوں کو ٹالنے والا کوئی نہیں!آج تک ذندگی سے آریز کے لئے لڑ رہی ہوں!

اب بھی خوابوں کی ایسی سیریز چل پڑتی ہے کہ آنکھ کھلتے ہی شعور پر اس کی تعبیر ابھرنے لگتی ہے۔میں خوابوں کے اسقدر اثر میں ہوں کہ دیکھتے دیکھتے ان سے تعبیر اخذ کرنے لگتی ہوں۔اب اس کوشش میں ہوں کہ اپنے ہر خواب کی سب سے خوبصورت تعبیر دوں۔خواب تعبیر کے محتاج بھی تو ہوتے ہیں۔تو یہ عادت ڈالنے کی ضرورت ہے کہ پانی دیکھو تو رحمت کی توقع لگاؤ زحمت کی نہیں! مشکل کو زندگی میں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا سوائے اوپر والے رب سے۔مگر ایک اچھا خیال اور سوچ کسی کا کچھ نہیں لیتا تو اس کی توقع رکھنے میں حرج ہی کیا ہے!

Me,and my mahndi night,

خواب میری من پسند پناہ گاہ ہیں۔جب خواب میں کسی اور دیس کسی عجیب و غریب دنیا میں نکل جاوں،لوٹنا نہیں چاہتی! ۔مجھے لطف آتا ہے لاشعور کے ساتھ ان مقامات پر چہل قدمی کرنے کا جہاں درحقیقت میں اصل ذندگی میں پہنچ نہیں پاتی،تنگ تاریک گھاٹیاں ،اونچے لمبے پہاڑ،ٹیڑھے میڑھے رستے اور شہر،الٹ پلٹ دنیا!!!!۔تب من چاہتا ہے کہ میں ہمیشہ انہی غضب رنگ رستوں پرسفر کرتی رہوں اور کبھی آنکھ نہ کھلے۔۔۔۔۔۔۔ کبھی خواب اتنے پریشان کن اور اذیت ناک ہوتے ہیں کہ ہڑبڑا کر سپنا توڑ دیتی ہوں کہ ان سے بچنے کا سوائے جاگ جانے کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔شیکسپئر کی وہ عظیم لائینیں تو یاد ہی ہونگی!

To die, to sleep —
To sleep – perchance to dream: ay, there’s the rub,
For in that sleep of death what dreams may comeWhen we have shuffled off this mortal coil…”

مر جانا ہےسو جانا

اور سوتے میں پھر خواب جینا!

خواب بھی جانے کیسے!

کہ موت کی نندیا پور میں

کون جانے،کیسے خواب اترتے ہیں

جب مٹی کے کمبل میں

زمین لپیٹ کر سو جاتے ہیں!

(ترجمعہ بہ قلم میرے)

خواب شاید ذندگی کی ہرمشکل سے ایک آسان نجات ہیں جسے میرے اور ہیملٹ جیسا ہر کم ہمت انسان اوڑھ لینا چاہتا ہے،کیونکہ وہ اسے بدل نہیں پاتا۔میں بھی ایک زیادہ سوچنے اور کم کرنے والی کم ہمت عورت ہوں۔زندگی کی بڑی بڑی تکلیف دہ حقیقتوں کو آمین کہہ کر ہم اپنے سروں پر ڈھو لیتے ہیں۔ان کو بدل نہیں پاتے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چیزیں،جگہیں،حالات بدلنے سے بہتر ہے کہ ان سے نباہ کیا جائے۔ذندگی کے ہر میدان میں اس نباہ نے ہمیں تغن زدہ پانی میں بدل دیا ہے۔نباہتے نباہتے ہم لاشیں بن چکے۔کھڑے اور آلودہ ہوتے رہتے ہیں،کیونکہ ہمیں نباہ کی عادت ہے! ہمارے تالاب کو ہوا سے پیدا ہونے والی لہروں سے نفرت ہے۔سو ہم ایک دوسرے کے تعفن کی بڑی استقامت سے حفاظت کرتے ہیں اسے جلا بخشتے ہیں۔

بارہ تیرا سال کی عمر میں بہت مشکل تھا خود کو سمجھانا کہ بھائی بیٹھیں گے اور مجھ سے توقع ہو گی کہ میں گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاوں،مرد ٹی وی دیکھیں گے اور عورتیں کھانے بنائیں گیں؟۔پھر بھی شریف بچیوں کی طرح خود کو اچھی لڑکی بنانے کی خاطر قطرہ قطرہ خود میں انڈیلنا شروع کیا “کہ یہی ذندگی ہے،یہی ذندگی ہے،اور ایسے ہی ہوتا ہے!”

ایسا انڈیلا،اتنا انڈیلا پھر بھی ابھی تک یہ سمجھ نہیں آتا کہ اپنی تیرا سالہ بیٹی کو کیا بتاؤں کیوں عورت کا خدمت گار ہونا بہت ضروری ہے!کیوں عورت کا مصالحت اور سر جھکانا بہت ضروری ہے؟ کیوں عورت ہمیشہ ایسے ہی کام کرتی اچھی لگتی ہے؟،کیوں وہ نہ نہیں کہہ سکتی؟ میں چالیس سال میں نہ سیکھ سکی کہ اس کے علاؤہ عورت کے پاس کونسے مواقع،طریقے اور وسائل ہیں۔میں نے جانا کہ عورت کے پاس ذندہ رہنے کی واحد صورت یہی ہے! اس کے علاؤہ صرف پسپائی اور رسوائی ہے؟ ان سے میں بھی ڈرتی ہوں۔ان سے بیٹی کو بھی ڈراتی رہتی ہوں۔بیٹی کو سر اٹھا کر جینا بھی سکھانا چاہتی ہوں مگر کیسے یہ بھی جانتی نہیں! شایدمیں بھی بچوں کو خواب میں جینا سکھا رہی ہوں!حقیقتیں بہت تلخ ہیں اور ان میں جیتے رہنا بہت ہی مشکل ہے سو ہم خوابوں سے پیار کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں ہماری بدرنگ اصل دنیا سے بہت دور لیجاتے ہیں۔

___________

تحریر و کور ڈیزائن و فوٹوگرافی:

صوفیہ کاشف

12 Comments

  1. زندگی اور رِشتوں کی حقیقتوں سے پٗر تحریر۔

    خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ آ نسو کہ جو
    ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
    جسم کی موت سے یہ بھی مر جائیں گے
    خواب تو حرف ہیں، خواب تو نور ہیں
    خواب سقراط ہیں، خواب منصور ہیں

    بڑے کہا کرتے ہیں کہ خواب لاشعوری طور پر وہ دِکھاتے ہیں ، جو ہم شعوری طور پر بننا چاہتے ہیں۔

    ‏ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے

    یہ ایک سچ ہے کہ عورت کو نباہ کا سبق عورت ہی دیا کرتی ہے۔
    طریقِ کار مختلف ہوتا ہے۔ لیکن یقیناً بیٹی ، ماں کو دیکھتی ہے ، اور زندگی کی دوڑ کے بنیادی اصول سیکھتی ہے۔
    کُچھ اصول اُسے دُنیا، معاشرہ، تجربہ اور لوگ سِکھاتے ہیں۔

    ایک سچ یہ بھی ہے کہ نباہ سے متعلق تمام تر خیالات اور خکمتِ عملی ، عورتوں نے ہی ترتیب دیے ہیں۔
    رُولز آف گیم تو اُنوں نے طے نہیں کیئے ، لیکن کارکردگی کے معیار بنانے، قائم رکھنے اور مجسم کرنے میں اُنہی کا حصہ ہے۔
    یہ حصہ اُن کی اُدھیڑ عُمر حالتوں ، استحصالی کرداروں اور نام نہاد رہنمائی کے آئیکون ترتیب دیتے رہے ہیں ، اور دیتے رہیں گے ، مثلاً وہ ساسیں جو کبھی بہوئیں تھیں۔
    یہ حقیقت اُس وقت تلخ ہو جاتی ہے ، جب نسل در نسل ، خوابوں کو صرف آنکھوں میں بسایا جائے۔

    اِک کمرہ یادوں سے بھرا ہے ، اِک کمرہ آوازوں سے
    آنگن میں کُچھ خواب پڑے ہیں ویسے یہ گھرخالی ہے

    ایک اور بھی سچ ہے ، کہ عورت اگر عورت کو عورت بننے پر مائل کر لے ، تو حقیقت بدل سکتی ہے۔
    ایک ماں کا زندگی سے کشید کیا ہوا تجربہ ، شِکوے کی بجائے شُکر سے لبریز ہو تو بیٹی کا زاویۂ نِگاہ بدل جاتا ہے۔

    آپ ٹھیک کہتی ہیں ، اس پدر سری معاشرے کی سچائیاں کُچھ اور ہیں ۔ پر : دِل اگر دِل ہے تو صحرا سے بڑا ہونا ہے ۔۔۔۔ سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی!۔۔

    بیٹیوں کو کل مائیں بننا ہے۔ اُنہی ماؤں نے بیٹوں کی پرورش کرنا ہے۔اُن بیٹوں نے دُنیا اور معاشرے کو ترتیب، تشکیل اور تہذیب دینی ہے۔ اب یہ ہمارا ، ہمارے پورے معاشرے کا انتخاب ہے ، کہ معاملات ایسے ہی رہیں یا بدلے جائیں۔

    بیٹیوں کی پلکوں پر خواب سجے رہنے چاہیئں۔ اُنہی نے کل ان خوابوں کو تعبیر دینی ہے۔
    کھانا تو شیف سب سے اچھا بنا سکتا ہے۔ خدمت تو خدمت گار کیا کرتے ہیں۔ نباہ تو مجبوری کا دوسرا نام ہے۔
    ہم نے اپنے گھروں سے ایک معاشرہ تشکیل دینا ہے ۔

    جب بیٹیاں سر اُٹھا کر جئیں گی ، تو نسلیں سنوریں گی۔ جب بیٹیاں ہی نباہ کے نام پر چکی میں پِستی رہیں گی ، تو اُن کی اگلی نسل بھی ویسے ہی ارتقاء کو جھیلے گی۔ یہ ایک سلسلہ ہے ، جِس کا رُخ بدلنے کو موقع ہر اُس شخص کے پاس موجود ہے ، جِسے اولاد سے نوازا گیا ہے۔

    مصالحت ، نباہ ، خدمت گاری ، کام کام کام ، – یہ وہ قدم ہیں ، جو صورتِ حال کی مناسبت سے اُٹھائے جاتے ہیں ، اور حکمتِ عملی میں شمار ہوتے ہیں ، نہ کہ فلسفۂ زندگی۔

    ہماری اگنے نسلوں کے جو قرضِ تربیت ہم پر واجب ہیں ، وہ ہیں: خوش رہنا ۔ زندگی سے اچھائی ، سچائی ، راست بازی اور ثابت قدمی کشید کرنا ، اور اُسے پھیلانا۔ اپنا مقصدِ حیات تلاش اور متعین کرنا۔ انسانیت سیکھنا اور سِکھانا۔

    کھول یوں مُٹھی کہ اِک جگنو نہ نِکلے ہاتھ سے
    آنکھ کو ایسے جَھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو

    Like

    1. یہ الفاظ شاید اسی لئے لکھے جاتے ہیں تا کہ ان کے لئے مکمل جواب مل سکیں۔اور ہمیشہ کی طرح جواب شکوہ نے شکوہ کو مکمل کیا!!! آپ کے الفاظ لکھنے اور پڑھنے والوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔سلامت رہیں! نباہ کے صحیح ہجے بتانے کے لئے دہرا شکریہ!

      Liked by 1 person

      1. ہمارے ساتھ انوکھی ہی واردات ہوئی
        ہمیں نصیب کے معنی غلط بتائے گئے

        اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں تو نصیب کے ساتھ ساتھ صبر، شُکر اور محبت کے معانی میں بھی شک و شبہے میں رکھا گیا۔

        شُکر بے عملی کا نام نہیں ہے۔ معروف نظریے کے برخلاف، یہ آگے بڑھنے کی چاہت کا اختتام نہیں ہے ، اور بادل نخواستہ ہو کر، مجبور رہ کر جمودی کیفیت میں رہنے کا بھی نام نہیں ہے۔

        شُکر تو حاضر و موجود کی حقیقت پسندی اور خوشی کے زینے کا پہلا قدم ہے۔

        آگے بڑھنے کے سفر کا پہلا مقام شُکر ہے۔ اگر انسان شکر گزار ہے، تو سفر اچھا ہے۔ یہ سفر شروع کرنے کی جگہ پر ہونے، اور سفر شروع کر پانے کی توفیق کا خراج ہے۔ شکر ہے، موجود نعمتوں کی قدر کرنا۔ اور غیر موجود کا شکوہ نہ کرنا۔

        خاتونِ خانہ، سب سے پہلے خاتونِ خانہ ہونے پر شکر کرے۔ ویسے اس انتخاب کی دوسری جہت شکوہ ہے، جس کا کوئی تعمیری نتیجہ نہیں ہوتا۔

        شکوہ، شُکر کا لفظی، اصطلاحی اور عملی متضاد ہے۔

        شکوہ میں ہم پارٹ آف پرابلم ہوا کرتے ہیں۔ شکر میں ہم پارٹ آف سولوشن بنتے ہیں۔

        شکر کی ایک مثال شیخ سعدی کی حکایت کے مطابق، ایک بغیر جوتوں والے کا، ایک بغیر پیروں والے کو دیکھنا ہے۔

        جاننا چاہیئے کہ شکر رب کی بارگاہ میں، اسکی قدرت کی قدر کا نام ہے۔ شکر ہمارا دِل سے دیا جانے والا تھینک یو نوٹ ہے۔

        جب خاتونِ خانہ شکر کا پہلا قدم اٹھا لے گی، تو اسے اعمال، حالات اور معاملات میں اپنا رُخ واضع ہو جائے گا۔ دوسرا رُخ رب کا ہے۔

        اب اپنے رُخ پر کام کرنا شروع کرے۔ ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لے۔ ممکنات پر غور کرے۔ قابلِ عمل منصوبہ بندی کرے۔ پھر سمت متعین کرے۔ وسائل، وقت اور محنت کو لائحۂ عمل میں ڈھالے اور قدم بہ قدم آگے بڑھنا شروع کرے۔

        صبر کے ساتھ آگ چلتی جائے۔ صبر کے معانی ہیں: ڈٹے رہنا، جدوجہد کرنا اور ہمت سے کام لینا۔ صبر کا درست مطلب بھی ہمیں بتائے گئے مطلب ، یعنی بے کسی والی برداشت اور بے عملی والی مجبوری ، سے بہت مختلف ہے۔

        اس دوران دو چیزیں بہت ضروری ہیں۔ ایک ، حوصلہ افزائی کا مستقل سورس، دوسرا ہر مرحلے اور حال میں شکر۔

        اگر ہم اپنے گرد ہمت و جرأت کے استعاروں کو دیکھیں، تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ مشکل راہوں میں درست راہ والوں نے امامِ عالی مقام سے لے کر نیلسن مینڈیلا تک، رب سے شکوہ نہیں کیا، بلکہ ان سے شکوہ کیا جو غلط تھے۔ رب تو درست راہ والوں کی طرف ہے اور رہے گا۔ شکوہ تو ابلیس کی راہ ہے۔

        ہر صاحبِ اولاد خاتونِ خانہ کو ہر حضرت سے تین گُنا زیادہ حق اسی لئے دیا گیا ہے کہ اس کے فرائض کا دائرۂ کار وسیع، اور پوری نسل کو متاثر کرتا ہے۔

        خاتونِ خانہ کو نہ صرف اوپر بیان کی گئی حقیقتوں کو ان کے درست تناظر میں پہچاننا ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کی طبیعت، جذباتی کیفیت، ذہنی حالت اور جسمانی قوت ایک پورے گھر پر اثر پذیر ہوتی ہے۔ بیٹی والے گھر میں کوئی اور اس کا ادراک کرے نہ کرے، خاتونِ خانہ پر یہ اسی بات صورت فرض ہے جیسے یہ قول۔۔۔۔

        The world is full of good people.
        If you can’t find one, be one…

        جہاں تک روایت سے بغاوت کا تعلق ہے، تو تعمیر تخریب سے بہتر ہے۔

        لکیر کو چھوٹا کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک لمبی لکیر کھینچ دی جائے۔

        بہتر روایات قائم کرنا، یا اُنہی روایات کے بہتر پہلو تلاش کرنا، زیادہ احسن اور قابلِ عمل ہے۔

        Liked by 1 person

  2. ہمارے تالاب کو ہوا سے پیدا ہونے والی لہروں سے؛
    نفرت ہے۔سو ہم ایک دوسرے کے تعفن کی بڑی استقامت سے حفاظت کرتے ہیں اسے جلا بخشتے ہیں” ۔
    کیا اچھا بیان کیا..

    Liked by 1 person

  3. روایت سے فقط بغاوت کہاں مسئلے کا حل ہے…
    روایت کو تراش لیا جاۓ… اور اسکے دراصل معتدل اور روشن رخ کو سامنے لایا جاۓ تو کیا اچھا ہو…

    🙂
    بس انہیں یہ سکھا دیا جاۓ اجالے جہاں ملیں سمیٹ لیے جائیں.. اور پھر یہ کہ اجالے بانٹ دینے سے اجالے کم نہیں ہوتے….
    ان اجالوں سے پھر اپنے ماحول کی سیاہی کو اجالا جاۓ….. نیتیں اور راستوں کا انتخاب مبنی بر خلوص ہو تو رب ہاتھ تھام کر چلاتا ہے.. 🙂


    دعاگو.. 🙂

    Liked by 2 people

    1. بالکل! عورت کو بہت کچھ سکھایا جا سکتا ہے پر مسلئہ یہی ہے کہ تنہا عورت تو گھر کا نظام نہیں بدل سکتی،پورا معاشرہ کیسے بدلے۔مگر امید پر پوری دنیا قائم ہے۔اسی امید پر وقت بدلنے کا انتظار انساں کرتے رہیں گے۔آپ کی تحاریر کا بھی ہمیں بہت انتظار رہتا ہے۔بھجواتی رہا کریں!!!💝💝💝💝

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.