اصل ذندگی میں بڑے بڑے خواب دیکھنے والے نیند میں چھوٹے چھوٹے بے ضرر خوابوں سے اکثر ڈر جاتے ہیں۔خوابوں کی میری ذندگی میں بے تحاشا اہمیت ہے شاید اسی لئے میرے پاس ان کے بارےمیں بولنے کو بہت کچھ ہے۔پھر چاہے یہ خواب جاگتی أنکھوں سے جئیے گئے ہوں یا نیند میں لاشعور کی شرارت ہو۔ مجھے بہت دیر بعد ہوش آئی کہ میرا بچپن اور جوانی تیس اور بیس سال پیچھے رہ گئی۔پچھلے پندرہ سال غم حیات نے مڑ کر دیکھنے نہ دیا۔اب جو پلٹ کر دیکھتی ہوں تو خود کو اتنی دور پاتی ہوں،گنتی ہوں تو بوکھلا جاتی ہوں سالوں کی گنتی دہائیوں کو پار کر گئی۔چالیس سے تیس،تیس سے بیس،بیس سے،،،،!لیکن خوابوں کی گنتی ہو گی تو ذندگی کے پہلے خواب سے شمار کرنا پڑے گا۔

جب دو دہائیوں پیچھے میری ذندگی صرف ایک خواب سے واقف تھی ،کسی اعلی تعلیمی ادارے سے تعلیم کا خواب۔۔۔اعلٰی! کیونکہ جس شہر کی مٹی سے ہمیں گوندھ کر پکایا گیا وہ ایک اعلی شہر تھا نہ اس کے تعلیمی ادارے ہی اعلی تھے۔اور میں بھی پدرسری معاشرے میں ایک لڑکی تھی علم کے حصول کی خاطر چین نہ جا سکتی تھی۔۔۔۔تو میں خوابوں میں ہمیشہ اپنے ہاتھوں میں قلم،کتاب ،فایلیں،نوٹس اور آس پاس خوبصورت لال برآمدے دیکھنا چاہتی تھی مگر خوابوں میں روز بروز صحرا اتر آتا تھا۔دور دور تک ریت ہی ریت،اتنی ریت کہ کھڑے ہونے کی کوشش میں ڈوب جاو۔۔۔۔پھر کبھی میں ایسی سڑکوں پر کھڑی ملتی جس پر اتنی بڑی گاڑیاں چلتی تھیں جتنی تب تک میں نے دیکھی بھی نہ تھیں،،،،،،کبھی ایسے تراشیدہ چمکتے دمکتے لوگ کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں!۔۔۔ میری بصیرت کالج سے شروع ہو کر یونیورسٹی پر ختم ہو جاتی!۔میں انگلیوں پر گنتی،اس کا مطلب کونسا کالج،کونسی یونیورسٹی!۔۔۔۔مجھے خبر نہ تھی ان خوابوں کی تعبیر ابوظہبی اور دبئی جا اتارے گی،اونچا سوچتی تھی،مگر اتنا اونچا کبھی سوچ نہ سکی تھی۔یہ دشت ابوظہبی اور دبئی کے چمکدار صحرا تھے !

Me at 18

پھر انہی دنوں ایف ایس سی کے دنوں میں ایک اور خواب کی سیریز شدت سے دکھائی دیتی،آج بھی یاداشت کے پردے پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔۔۔پانی! پانی! ہر طرف پانی!دریا،سیلاب،سمندر!اندر اور باہر،ہر طرف!اتنا دیکھا پانی کہ پریشاں ہو گئی! اور پھر ذندگی کئی سال تک پانی میں اس طرح ڈوبی کہ نکلتے نکلتے سانسوں کی ڈوری چھوٹنے لگی۔۔۔۔بلآخرسانس سنبھل گئے مگر ذندگی کی ایک رگ کٹ گئی ہمیشہ کے لئے!یہ پانی ذندگی کے مصائب سے عبارت تھا۔

پچھلے آٹھ سالوں میں اپنے بیٹے آریز کو بارہا دیکھا،کبھی گرتے،کبھی کہیں پھسلتے،کبھی ایک مشکل میں،کبھی دوسری مشکل میں____اور اصل ذندگی میں بارہا اسے واپس چھینا ظلمت کی گھڑی سے___الحمداللہ!خدا کے سوا مشکلوں کو ٹالنے والا کوئی نہیں!آج تک ذندگی سے آریز کے لئے لڑ رہی ہوں!

اب بھی خوابوں کی ایسی سیریز چل پڑتی ہے کہ آنکھ کھلتے ہی شعور پر اس کی تعبیر ابھرنے لگتی ہے۔میں خوابوں کے اسقدر اثر میں ہوں کہ دیکھتے دیکھتے ان سے تعبیر اخذ کرنے لگتی ہوں۔اب اس کوشش میں ہوں کہ اپنے ہر خواب کی سب سے خوبصورت تعبیر دوں۔خواب تعبیر کے محتاج بھی تو ہوتے ہیں۔تو یہ عادت ڈالنے کی ضرورت ہے کہ پانی دیکھو تو رحمت کی توقع لگاؤ زحمت کی نہیں! مشکل کو زندگی میں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا سوائے اوپر والے رب سے۔مگر ایک اچھا خیال اور سوچ کسی کا کچھ نہیں لیتا تو اس کی توقع رکھنے میں حرج ہی کیا ہے!

Me,and my mahndi night,

خواب میری من پسند پناہ گاہ ہیں۔جب خواب میں کسی اور دیس کسی عجیب و غریب دنیا میں نکل جاوں،لوٹنا نہیں چاہتی! ۔مجھے لطف آتا ہے لاشعور کے ساتھ ان مقامات پر چہل قدمی کرنے کا جہاں درحقیقت میں اصل ذندگی میں پہنچ نہیں پاتی،تنگ تاریک گھاٹیاں ،اونچے لمبے پہاڑ،ٹیڑھے میڑھے رستے اور شہر،الٹ پلٹ دنیا!!!!۔تب من چاہتا ہے کہ میں ہمیشہ انہی غضب رنگ رستوں پرسفر کرتی رہوں اور کبھی آنکھ نہ کھلے۔۔۔۔۔۔۔ کبھی خواب اتنے پریشان کن اور اذیت ناک ہوتے ہیں کہ ہڑبڑا کر سپنا توڑ دیتی ہوں کہ ان سے بچنے کا سوائے جاگ جانے کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔شیکسپئر کی وہ عظیم لائینیں تو یاد ہی ہونگی!

To die, to sleep —
To sleep – perchance to dream: ay, there’s the rub,
For in that sleep of death what dreams may comeWhen we have shuffled off this mortal coil…”

مر جانا ہےسو جانا

اور سوتے میں پھر خواب جینا!

خواب بھی جانے کیسے!

کہ موت کی نندیا پور میں

کون جانے،کیسے خواب اترتے ہیں

جب مٹی کے کمبل میں

زمین لپیٹ کر سو جاتے ہیں!

(ترجمعہ بہ قلم میرے)

خواب شاید ذندگی کی ہرمشکل سے ایک آسان نجات ہیں جسے میرے اور ہیملٹ جیسا ہر کم ہمت انسان اوڑھ لینا چاہتا ہے،کیونکہ وہ اسے بدل نہیں پاتا۔میں بھی ایک زیادہ سوچنے اور کم کرنے والی کم ہمت عورت ہوں۔زندگی کی بڑی بڑی تکلیف دہ حقیقتوں کو آمین کہہ کر ہم اپنے سروں پر ڈھو لیتے ہیں۔ان کو بدل نہیں پاتے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چیزیں،جگہیں،حالات بدلنے سے بہتر ہے کہ ان سے نباہ کیا جائے۔ذندگی کے ہر میدان میں اس نباہ نے ہمیں تغن زدہ پانی میں بدل دیا ہے۔نباہتے نباہتے ہم لاشیں بن چکے۔کھڑے اور آلودہ ہوتے رہتے ہیں،کیونکہ ہمیں نباہ کی عادت ہے! ہمارے تالاب کو ہوا سے پیدا ہونے والی لہروں سے نفرت ہے۔سو ہم ایک دوسرے کے تعفن کی بڑی استقامت سے حفاظت کرتے ہیں اسے جلا بخشتے ہیں۔

بارہ تیرا سال کی عمر میں بہت مشکل تھا خود کو سمجھانا کہ بھائی بیٹھیں گے اور مجھ سے توقع ہو گی کہ میں گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاوں،مرد ٹی وی دیکھیں گے اور عورتیں کھانے بنائیں گیں؟۔پھر بھی شریف بچیوں کی طرح خود کو اچھی لڑکی بنانے کی خاطر قطرہ قطرہ خود میں انڈیلنا شروع کیا “کہ یہی ذندگی ہے،یہی ذندگی ہے،اور ایسے ہی ہوتا ہے!”

ایسا انڈیلا،اتنا انڈیلا پھر بھی ابھی تک یہ سمجھ نہیں آتا کہ اپنی تیرا سالہ بیٹی کو کیا بتاؤں کیوں عورت کا خدمت گار ہونا بہت ضروری ہے!کیوں عورت کا مصالحت اور سر جھکانا بہت ضروری ہے؟ کیوں عورت ہمیشہ ایسے ہی کام کرتی اچھی لگتی ہے؟،کیوں وہ نہ نہیں کہہ سکتی؟ میں چالیس سال میں نہ سیکھ سکی کہ اس کے علاؤہ عورت کے پاس کونسے مواقع،طریقے اور وسائل ہیں۔میں نے جانا کہ عورت کے پاس ذندہ رہنے کی واحد صورت یہی ہے! اس کے علاؤہ صرف پسپائی اور رسوائی ہے؟ ان سے میں بھی ڈرتی ہوں۔ان سے بیٹی کو بھی ڈراتی رہتی ہوں۔بیٹی کو سر اٹھا کر جینا بھی سکھانا چاہتی ہوں مگر کیسے یہ بھی جانتی نہیں! شایدمیں بھی بچوں کو خواب میں جینا سکھا رہی ہوں!حقیقتیں بہت تلخ ہیں اور ان میں جیتے رہنا بہت ہی مشکل ہے سو ہم خوابوں سے پیار کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں ہماری بدرنگ اصل دنیا سے بہت دور لیجاتے ہیں۔

___________

تحریر و کور ڈیزائن و فوٹوگرافی:

صوفیہ کاشف