جو تعبیر نہیں رکھتے،وہ خواب کیوں آتے ہیں

مسافر کے راستے میں سراب کیوں آتے ہیں

حاصل نہیں وہ مسافر تو کھو کیوں نہ جائیں

ملنا ہے تو پھر الجھانے حالات کیوں آتے ہیں

اک اسی خدا کے بندے گر یہ محنت کش بھی

ہاتھوں میں لے کر کوڑے نواب کیوں آتے ہیں

اک جیسے چہرے،اک جیسے دل ،دماغ

دنیا میں کچھ لوگ پھر نایاب کیوں آتے ہیں

گوشت کا ہی ٹکرا ہے گر یہ ننھا سا دل

اس دل پر نجانے اتنے عذاب کیوں آتے ہیں

___________

کلام،فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:

صوفیہ کاشف

( 1998 میں لکھی گئی ہے )