تحریر: سدرتہ المنتہیٰ

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی:صوفیہ،قدسیہ

ماڈل:ماہم

_______________________________

زندگی میں کبھی کوئی مرنا نہیں چاہتا.
********
صبح کا سویرا پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا..
اور نئے دن کی روشنی در و دیوار سے چھنک کر اندر آرہی تھی..
وہ قدآدم جالی دار کھڑکی کے پاس کھڑے تھے
جس کے ایک تاک کے اندر لگے فریم میں جڑے شیشے کا نصف حصہ ٹوٹ چکا تھا.
انہوں نے دروازے کے دوسرے پٹ کے ثابت شیشے سے نظر چرائی.. یہ جان بوجھ کر تھا..
کوں اپنا عکس دوہری صورت دیکھنا چاہے گآ..
کون خود کو کریدنا چاہے گا..
یہ سب پرانی باتیں تھیں…جب اپنا عکس دیکھنے کی چاہ زندہ تھی..
اور اب جیسے خود سے نظر چراتے.. گرتے پڑتے.. زندگی اچانک ہی کوئی ڈھکا دے کر گرادے گی..
جانے کیوں زندگی.. لٹکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی..
جانے کیوں حسرت دوام دم توڑتی ہوئی جارہی تھی..
جانے انسان کیوں تب جیے ہی جاتا ہے.. جب جینا نہیں چاہتا..یا پھر جینے کے لیے کچھ رہتا ہی نہیں ہے.
انہوں نے لمبی سانس بھری..
اور ہاتھ سے شیشے کی سطح پر ہاتھ پھیرا تو موٹی شیشے کی چادر سے نکلے باریک چھید انگلی کے پور سے چمٹ گئے اور خون کی ننھی سی بوند نے ماس کے اوپر سے جھانکا.. لیکن معمولی سے درد کا بھی کوئی احساس نہیں تھا..
انہوں نے دوسری انگلی سے چھید ہٹاکر مسلنے کے سے انداز میں انگلی کا پور صاف کیا اور سامنے دروازے کو دیکھا..
یہ چوتھی بار تھا کہ انہیں احساس ہوا کہ کوئی تیزی سے اندر آرہا ہے..
خود آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو صرف ملازم ہی کھڑا تھا.. جو ڈسٹنگ کے بعد اب میز پر گلدان اور دیگر چھوٹی موٹی چیزیں ترتیب سے رکھ رہا تھا.
شکیل.. کوئی آیا ہے؟انہوں نے کوئی دوبار پہلے بھی پوچھا تھا.
نہیں صاحب کوئی نہیں آیا..
یہ کوئی تیسری بار شکیل نے اسی انداز میں جواب دیا تھا..
وہ اب ان چھوٹی موٹی باتوں پر حیران ہونا چھوڑچکا تھا..
کبھی خالی کمرے میں انکی خود سے باتیں کرنے کی آوازیں.. اور کبھی جھلاہٹ..
کبھی دیر تک خاموش رہنا.. اور سارا سارا دن کچھ نہ کھانا تو کبھی بے حساب کھاتے ہی رہنا..
کبھی بیرون دروازہ بند کروادینا اور کبھی بار بار کسی کے آنے کا پوچھنا..
پھر انکی متجسس آنکھوں سے کچھ دن تک تو وہ باقاعدہ ڈرا بھی تھا لیکن اب اس کا یہ حل نکالا کہ انکی طرف دیکھے بغیر ہی بات کی جائے.
سو اس وقت بھی اسی میکانکی انداز میں کہتے ہوئے وہ مزید چیزوں کو ترتیب دے رہا تھا.
اگر کوئی آئے تو مجھے بتانا..
ویسے بہتر ہوگا کہ کچھ کھانے کے لیے بنالو..
وہ سر اثبات میں ہلاکر فرماں برداری سے کچن کی طرف رخ کیا.
یہ تو بتادو کہ کیا بنانے جارہے ہو؟
جو آپ کہیں وہ بنادوں؟وہ مڑا اور غیر اختیاری طور پر ان سے نظر ملی تو محسوس کیا کہ انکی آنکھوں میں چمک تھی..
اور وہ قدرے شفاف اور چمکتے ہوئے دکھ رہے تھے..
کپڑے بھی سفید اور اور سلیٹی رنگ کی چادر لپٹی ہوئی تھی شال کی طرح کندھوں پر..
ان کے سراپے سے جیسے سحر پھوٹ رہا تھا جو شکیل نے بھی محسوس کیا تھا..
وہ انہیں کچھ ہدایات دینے لگے کھانے کے متعلق اور پھر اندر باہر دروازہ بند کردیا..
شکیل نے کھڑکی سے دیکھا تو وہ ایزی چیر پر دراز ہوکر آنکھیں موندے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑارہے تھے یا پھر پڑھ رہے تھے.
وہ قدرے مطمئن ہوکر کچن کی طرف چلا گیا..
اور یہی کوئی پندرہ منٹ ہی ہوئے ہونگے کہ دروازے پر بیل ہوئی.. اور وہ کھولنے گیا تو سامنے عالین اور دوسرا چہرہ مجدد کا تھا جو اس کے لیے قطعی شناسا نہ تھا.
سالس صاحب کدھر ہیں؟
وہ عجلت میں ہی نظر آتی تھی.
اندر ہیں.. وہ انتظار ہی کررہے تھے..
اچھا انہیں پتہ چل گیا میرے آنے کا؟
نہیں بس وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی آیا تو نہیں.
اچھا.. عالین اسکے ساتھ اندر بڑھی
یہ انہوں نے مجھ سے تین مرتبہ پوچھا ہے.
وہ اسکی معلومات میں اضافہ کررہا تھا.
اچھا. وہ لمحے بھر کے لئے بھی رکی نہ تھی سیدھی انکے کمرے میں گئی اور پیچھے مجدد تھا.
اندر آکر اس نے جس تیزی سے دروازہ کھولا تھا اسی تیزی کے ساتھ انہوں نے پلکیں جھپکاکر دروازے کی طرف دیکھا تھا.
السلام علیکم..کیسے ہیں آپ.. وہ تیزی سے آگے بڑھی تھی.
اسے دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھے تھے..
تو تم آنے والی تھیں.. مجھے یہ کیوں نہ پتا لگا.. کہ تم ہی ہو.. کیسی ہو؟
میں ٹھیک ہوں.کیا آپکو اندازہ نہیں تھا کہ میں آپکے پیچھے آؤں گی.. گو کہ زرا دیر ہوگئی لیکن بہرحال مجھے آنا تھا.. اور میں آگئی.. . وہ یہ کہتے ہوئے انکی طرف بغور حیرت سے دیکھنے لگی تھی ایسے جیسے وہ کسی نئے سالس کو دیکھ رہی ہو..
ہاں مجھے پتہ تھا.. کہ تم نے آنا ہے.. لیکن مجھے لگا ابھی دیر ہے.. بہرحال..
پیچھے کون ہے؟
مجدد کمرے کے اندر نہیں آیا تھا لیکن انہیں اندازہ ہوا..
پیچھے مجدد ہے..
اپنا نام سنتے ہی لمبا سانس چھوڑکر وہ کندھے اچکاکر اندر آیا تھا..
سر السلام علیکم.. وہ تھوڑا سا نادم دکھ رہا تھا. قدرے فاصلے پر کھڑے ہوکر انہیں سلام کیا اور پھر خود ہی آگے بڑھا..
میں آپ کو روک نہیں سکا اس بار..
کوئی بات نہیں بچے.. وہ گلے نہیں لگے تھے بس اسکے گال پر ایک تھپکی دی تھی.. اور دونوں کو بیٹھنے کا اشارہ کرکے خود بیٹھ گئے تھے..
آپکی طبیعت ٹھیک ہے؟وہ تشویش سے دیکھ رہی تھی انکی آنکھوں…چہرے کی رنگت بکھرے سلیٹی بال, سفید اور کالے کی آمیزش کی کھچڑی بن گئے تھے.
تم نے دیر کی.. سب ٹھیک ہیں وہاں پر؟
سب ہاں.. ٹھیک ہیں.. التمش صاحب بہت پریشان رہے کافی روز.. اسکی وجہ آپ کی کوئی بات نہیں بلکہ زیبی تھی.. زیبی کا کھردرا رویہ.. اس کی لاپرواہی.. عالین بہت شرمندہ تھی.
مجھے لگتا ہے وہ بچی کسی ذہنی کرب سے گزری ہے.. اس سے پوچھنا چاہیے تمہیں..
میں.. پوچھوں اس سے.. ..وہ مسکرائی
حد کرتے ہیں.. وہ مجھے کہاں بتاتی ہے بھلا. بہت اکھڑی رہتی ہے..
ہاں البتہ یہ بات ہے کہ اس کے شوہر کے ساتھ اس کے معاملات بڑے برے جارہے ہیں.. بلکہ اب تو مجھے لگتا ہے کہ جیسے کوئی معاملات ہی نہیں ہیں دونوں کے درمیان.. بڑی مختصر سی لڑائی نے ایک دیوار کھڑی کردی ہے دونوں کے درمیان.. خیر.. چھوڑیں
.آپ بتائیں.. آپ اپنا بتائیں.. بہت دکھی ہوکر آپ نکلے تھے اس روز.. التمش صاحب کو اس بات پر افسوس تھا.
میں ہمیشہ اس گھر سے دکھی ہوکر نکلا ہوں.. اور اسکی وجہ ہمیشہ التمش ہی ہوا کرتا تھا.. بس یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسکی وجہ وہ نہیں ہے.. اس کی نواسی بنی.. لیکن بہرحال.. وہ کچھ غلط بھی نہیں ہے لڑکی.. زبان کی بے شک تیکھی ہے..
لیکن.. کہا تو ٹھیک ہی تھا اس نے.
انہیں اس کا سلوک یاد آیا..
یہ آج سے پندرہ بیس روز پہلے کا ہی واقعہ تھا. جب وہ نور فاطمہ کی موت کے بعد پرسہ دینے کے لیے گئے تھے.
اور
سب سے پہلے ان کا سامنا مجدد کے ساتھ ہوا تھا..
وہ خاصہ شرمندگی سے دور کھڑا تھا..
تم کیسے ہو مجدد؟
ان کا لہجہ شکوہ لئے ہوئے تھا..جیسے وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ تم تو مجھے چھوڑگئے تھے نہ مجدد..
میں ٹھیک ہوں.. آپ بھی بہتر لگ رہے ہیں..
میں بہتر ہوں.. لیکن ٹھیک نہیں ہوں.. مجھے ایسا لگتا ہے مجدد کہ میں سالوں سے غلط کرتا ہوا آرہا تھا ..اور غلط کرتا ہوا رہا ہوں..
میں نے حال میں بھی کچھ اچھا نہیں کیا.. بہرحال.. مجھ سے پے درپے غلطیاں ہوئی ہیں.. جس وجہ سے مجھ سے لوگ روٹھے ہوئے ہوئے.. میرے اپنے شاگرد..
دوست
میں آپ سے روٹھا نہیں ہوں.. یقین کریں میں آپ سے نہیں روٹھا..
بس مجھے کہیں چین نہیں ہے..خود اپنے پاس بھی نہیں ہے.. کہیں چین نہیں ہے..
میں کہیں نہیں ٹک پاتا…خود اپنے پاس بھی نہیں ٹک پاتا..
میں آپ سے شرمندہ ہوں. وہ سر جھکائے کھڑا تھا.
تم میرے گلے لگوگے ؟وہ بلا کی معصومیت سے پوچھ رہے تھے..
بالکل.. سر.. وہ آگے بڑھا ان سے بغلگیر ہوگیا..
تم اب بھی بہت کچھ کرسکتے ہو.. اور کر بھی رہے ہو.. تمہیں پرچھائیاں دکھتی ہیں. لیکن اب تم آوآزیں بھی سنو گے..
یہ آپ مجھے بددعا دے رہے ہیں؟
نہیں یہ پیش گوئی ہے.. نہ دعا نہ ہی بددعا ہے..
یہ بس ایک پیش گوئی ہے..
بس ایک پیش گوئی..
وہ کہتے آگے بڑھے تھے جب عالین پر نظر پڑی تو وہ بے موقع مسکراپڑے تھے..
عالین کیسی ہو مٹھو؟
آپ ٹھیک ہیں نہ؟وہ خود بھی بے ساختہ مسکراپڑی تھی..
مجھے آپکی فکر تھی بہت..آپ ٹھیک تو ہیں نہ.. وہ نزدیک آئی تو انہوں نے سر پر ہاتھ پھیرا..
میں بہتر ہوں.. مجھے لگا مجھے یہاں آنا چاہیے..
آپ نے اچھا کیا.. التمش صاحب اندر ہیں کمرے میں..
دوسرے کمرے سے زیبی نکلی تھی..
اور خاصی ناگواری سے اس نے اس طرف دیکھا تھا..
کیسی ہو …تم مونا کی بیٹی ہو؟
جی.. وہ بڑے عرصے بعد اپنی ماں کا نام کسی کے منہ سے سن رہی تھی..اسے یکدم ہی احساس ہوا کہ اس نام کی بازگشت کا دور پرے کا کوئی واسطہ نہیں رہا اس سے.. کتنا عرصہ ہوگیا.. بچپن سے ہی مونا نام اس کے لئے اجنبی سا ہوگیا تھا.. اور پھر ہوتے ہوتے جیسے ختم ہی ہوگیا..
میں مونا کی بیٹی ہوں.. یہ کہتے ہوئے اس نے جیسے خود کو یقین سے دلایا تھا.
سعدیہ دوسرے کمرے میں سوئی ہوئی تھی.. وہ وہیں چلی گئی. بغیر کسی اضافی سلام دعا کے.
بالکل اپنی نانی پر گئی ہے.. مونا بڑی سلجھی ہوئی لڑکی تھی.. وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اندر آئے جہاں انہیں دیکھ کر التمش پہلی بار اپنی جگہ سے اٹھے تھے..
وہ آگے بڑھے اور پہلی بار اپنے زبانی کلامی اور فکری بے ضرر دشمن سے گلے ملے تھے..
التمش کا انداز نارمل عام سا تھا ..
آپ چائے پئیں گے.. ؟میں بنادوں..
مہمان سے چائے کا پوچھتے نہیں ہیں عالین بیٹا.. چائے لاکر سامنے رکھ دیتے ہیں.
پھر میں لگے ہاتھوں ناشتہ تیار کرتی ہوں
التمش نے ٹوکا تو وہ سر ہلاکر کہتے باہر نکل گئی تھی..
مجدد کچھ دیر پہلے ہی پراٹھے لایا تھا جو کاغذ میں لپٹے تھے.. سعدیہ نے ناشتہ نہیں کیا تھا باقی سب نے کھالیا تھا.پراٹھے وہ دو اضافی لایا تھا تو عالین نے ٹوکا بھی تھا کہ سب کے دو دو نکالنے کے بعد بھی دو اضافی ہیں تو التمش نے کہا تھا کہ یہ بھی کسی کے نصیب کے ہونگے..
اور اس وقت وہ چائے بناتے ہوئے برتن نکالتے یہی سوچ رہی تھی کہ صبح سے کسی کی ملاقات کا خیال تو تھا ہی دل میں. بلکہ ان سے تو ملنے کے لیے سوچا تھا کہ وہ خود جائے گی فوری.. بلکہ اس سے زیادہ سعدیہ نورعین کو جلدی تھی.. وہ کئی بار کہہ چکی تھی اس ایک دن میں کہ ان سے پوچھو کہ مستقیم کہاں ہوگا.. کدھر ہوسکتا ہے..
تاکہ اسے ڈھونڈیں..
زیبی کو البتہ اس شخصیت میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی زندگی میں ان سے بہت کم سامنا ہوا تھا اور انکے بارے میں کچھ اچھا سنا نہیں تھا جو اس وقت دیکھتے ہوئے کوئی اچھا احساس ابھرتا..
اندر البتہ دو نظریاتی دشمن دل ایک دوسرے کے سامنے کافی دیر تک چپ چاپ بیٹھے رہے.. اور انہوں نے ایک دوسرے کو سختی سے گھورا نہ تھا.. نہ تلخی سے بات کی تھی..
نہ کوئی جھڑک تھی.. نہ کوئی درشتی..
دنیا میں کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا.. لیکن باوجود اس کے اسے مرنا ہوتا ہے.
اسی وقت عالین ناشتہ لائی تھی اندر.. اور کھڑکی کے پاس بالکنی میں زیبی اپنے کپڑے کھنگال رہی تھی.. یہ جملہ اس نے بھی سنا تھا.
اور ناپسندیدگی کے تاثرات آگئے تھے اس کے چہرے پر اسے عجیب لگا تھا اس ڈھنگ میں افسوس کرنا.
مجھے معلوم ہے کہ افسوس کے لئے اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں.. میں قطعی افسوس کرنے نہیں آیا..
میں بس شامل ہونے آیا ہوں..
اور میری طرح کسی کو بھی یہاں نورفاطمہ کے جانے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا.. کیونکہ وہ بالکل ٹھیک وقت پر گئی ہے.. جب کہ وہ خود موت کے لیے خواہاں تھی..
زیبی کے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب سے ہوئے تھے.. وہ تار پر کپڑے ڈال کر اندر کی طرف آگئی تھی ٹھیک اسی کمرے کی طرف.
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ موت اتنی بری نہیں ہوتی..
اور ہر موت پر افسوس کرنا لازمی بھی نہیں ہوتا..
موت اگر برحق ہے تو.. وہ یقیناً اپنے حق پر ہی آتی ہوگی..
اور
ہر کسی کو دنیا میں اس کا حق ملتا ہے..
پھر چاہے وہ موت ہی کیوں نہ ہو..
وہ جیسے بات مکمل کرچکے تھے.
زیب اندر آئی اور اس نے یہ جملہ سنا تھا.
عالین نے چائے کا کپ اٹھا کر انکے سامنے رکھ دیا تھا.. اور پراٹھے بھی.
اور التمش کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا.. لیکن انکے انداز سے لگا کہ وہ انکی بات سے کوئی اتنے غیر متفق بھی نہیں ہیں..
یہ زندگی میں پہلی بار تھا جب وہ سالس کو سن رہے تھے..
اور بڑی خاموشی کے ساتھ سن رہے تھے.
آپکی شمولیت کی کوئی اتنی ضرورت نہ تھی.لیکن تب بھی یہاں آنے کا شکریہ
زیب نے اس بار اس تلخی کی کسر پوری کردی تھی یہ دو جملے کہہ کر…
سیدھے منہ وہ انہیں یہاں سے کوچ کا کہہ گئی تھی.
مجھے معلوم ہے کہ میرے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑنا.. لیکن میرا دل کیا میں آکر تم سب سے ملوں.. تم سب سے بات کروں..
نور فاطمہ سے میری رشتہ داری بھی تھی.. اور اس لہاظ سے تم بھی میری کچھ لگتی ہو..
میری بیٹی کی طرح.. اگر کوئی ہوتی یقیناً تو شاید تم جیسی ہوتی.. یا پھر پوتی.. یا نواسی….اگر نہ بھی ہوئی تب بھی تم بیٹی ہی ہو.
تم نے اچھا کیا آکر..
التمش نے بڑے دھیمے انداز میں بات شروع کی تھی.. مجھے اچھا لگا کہ نور فاطمہ کا کوئی تو رشتہ دار شامل ہوا ہے اس کے گھر والوں کے ساتھ..
یہ وہ پہلی بار کہہ اور محسوس کررہے تھے..
جانے والے کے ساتھ ہی جیسے سب رقابتیں.. سب دشمنی کے احساس.. سب ناچاکیاں بھی دم توڑگئیں تھیں..
شکریہ التمش.. خدا تمہیں سلامت رکھے..
التمش کے چہرے پر ایک مدھم تھکی مسکراہٹ آگئی تھی..
اب اور کتنی سلامتیاں..
تم نے دوبارہ تھیٹر کا کام شروع کرنا ہے.. وہ دوستانہ جزبے کے تحت بولے تھے.
اب شاید کچھ اور کرنا پڑے گا..
التمش پر سوچ تھے..
ہاں.. یہ بھی اچھا آئیڈیا ہے..وہ ناشتہ کرنے لگے تھے.
تم اپنی نواسی کو ساتھ لگادو کام میں.. یہ ساتھ اچھا رہے گا.
نہیں اسے اپنے گھر جانا ہے.. التمش کا لہجہ دھیمہ اور تھکا ہوا تھا.
یہ بات مجھ سے پوچھ کر کرنی چاہیے آپ کو.. زیبی کو اعتراض ہوا نانا پر.
تمہیں جانا تو ہے نہ بچے..
ہم اس پر بعد میں بات کریں گے..وہ انکے برابر میں بیٹھ گئی کھلے بالوں کو لاپرواہی سے سمیٹتے ہوئے..
التمش نے پہلے کچھ سمجھنے کے سے انداز میں اسکی طرف دیکھا اور اسکی توجہ اپنی طرف نہ پاکر پھر رخ موڑ لیا سالس کی طرف ہی..
تم نے مستقیم کو خواب میں دیکھا..
وہ سنجیدہ تھے..
سالس کا نوالہ منہ کی طرف لے جاتے ہوئے ہاتھ رکا..
ہاں.. نہیں.. مراقبے میں..
ایک ہی بات ہے.. مراقبہ ایک خواب ہے.. ویسے کیا دیکھا ؟کہ وہ زندہ ہے؟
ہاں….وہ زندہ ہے.. لیکن مراقبہ خواب نہیں ہے..
وہ کہہ کر نوالہ چبانے لگے.
مراقبہ ایک کیفیت ہے.. جو کہ خوابیدہ ہی ہے.. بہرحال.. جو بھی.. تمہیں اس پر یقین ہے کہ یہ سچ ہے؟
ہاں.. سو فیصد یقین ہے..
بکواس ہے یہ سب.. زیبی نے ساختہ بولی..
زیبی.. تمہیں اس طریقے سے بات کرنا کس نے سکھائی.. ؟التمش کو معیوب لگا تھا اس کا یوں بے ساختہ کہہ دینا.
حالات اور لوگوں نے.. وہ بے پرواہی سے بولی
دوسروں پر الزام ڈالنا بند کرو.. وہ تلخی سے بولے..
آپ چاہتے ہیں میں اس وقت یہاں سے اٹھ جاؤں ؟
وہ ناگواری سے بولی..
میں چاہتا ہوں تم چپ رہو.. اور مجھے بات کرنے دو..
ٹھیک ہے.. کریں بات..دیکھتی ہوں بات کرنے سے کیا نتائج آتے ہیں..اس کا لہجہ کچھ دھیمہ مگر طنزیہ تھا.
تم بتاؤ وہ کہاں ہوسکتا ہے اس وقت ؟
مجھے نہیں پتہ.. سالس جو اب تک دونوں نانا نواسی کی طرف باری باری دیکھ رہا تھا بے چارگی دے بولا..
زیبی کے چہرے پر تلخ سی طنزیہ مسکراہٹ در آئی..
کچھ تو اندازہ ہوگا.. کچھ تو دیکھا ہوگا تم نے؟
ہاں.. جھاڑیاں.. اور ویران راستہ.. اور کچھ اندھیرا..
اور ایک کمرہ.. اس مستقیم تھا.. بستر پر..
اوہ خدایا.. بہترین کہانی.. جھاڑیاں.. ویران راستہ.. اندھیرا..
کمرے میں مستقیم. تھا.. زیبی بے ساختہ ہنسی اور ہنستی ہی رہی ..
سالس کا چہرہ اتر سکا گیا..
عالین نے اپنی مسکراہٹ ہونٹوں تلے چھپائی ..اور التمش کے چہرے پر ناسمجھی والا تناؤ آگیا تھا..
اسی وقت بے ساختہ کمرے میں سعدیہ آئی تھی..
سر آپ.. آئے ہیں.. مجھے بتائیں. مستقیم. کہاں ہے..
کیا دیکھا آپ نے..
وہ ہانپ رہی تھی.. تازہ نیند سے اٹھی تھی.. اور اسے مجدد نے بتایا تھا انکے آنے کا.. اور وہ بال سمیٹے..بڑی عجلت دے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تیزی سے کمرے کی طرف آئی تھی..
جھاڑیاں ویران راستہ.. اور اندھیرا.. اور کمرے میں مستقیم.. یہ ہے پتہ مستقیم کا..
زیبی اٹھی تھی اور بے ساختہ کہتے ہوئے باہر نکل گئی..
ادھورا کپ چائے کا.. آدھا پراٹھا.. وہ بے دم سے اٹھے تھے..
میرے پاس واقعی اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت نہیں ہے..
بلکہ مجھے شاید نہیں بتانا چاہیے تھا.. میں بس بہت پرجوش ہوگیا تھا.. مجھے لگا کہ تم لوگوں کو بتانا چاہیے..
لیکن.. ٹھیک ہے.. مراقبہ مطلب خواب.. بس سب ایک ہی بات ہے..
ایک ہی.. میں ہی شاید غلطی پر ہوں..
میں چاہوں گا کہ میں پھر یہ ناکام کوشش کروں.. اور اگر مجھے کچھ سوجھے.. تو میں ضرور بتاؤں گا..
اگر نہ دکھا.. تو مجھے معاف کردینا..
وہ تیزی سے کہتے ہوئے کمرے سے نکلے تھے..
سر پلیز میری بات سنیں.. عالین ان کے پیچھے گئی تھی..
التمش بڑے بے تاثر چہرے اور گرفتگی سے دوبارہ لیٹ گیا تھا..
سر پلیز میری بات سنیں.. مجھے کہنے دیں کہ مجھے آپ پر بھروسہ ہے.. عالین انکے ساتھ لاؤنج تک آئی تھی..
اور مجھے بھی.. پلیز آپ ہماری مدد کریں.. سعدیہ بھی پیچھے تھی..
مجدد یقین اور بے یقینی سے گھری ملی جلی کیفیت میں وہیں کھڑا کھڑا ہی رہا تھا..
اور زیبی کچن کی طرف جاتے ہوئے خوب استہزاء سے مسکرائی تھی..
میں نے اسے دیکھا تھا.. لیکن تم چاہو تو یقین مت کرو.. اب میرے پاس اس سے زیادہ کوئی ثبوت نہیں ہے.. کم از کم میں دکھلا
نہیں سکتا تم لوگوں کو.. اور اگر دکھلا نہیں سکتا تو.. پھر میں کچھ بھی نہیں کرسکتا..میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مجھے اندھیرے میں تیر نہیں چلانا چاہیے لیکن بہرحال معاملہ اس سے کچھ ملتا جلتا ہی ہے.. وہ رکے تھے.. اور بڑے مایوس کن انداز میں بولے تھے..
سو فیصد یہی معاملہ ہے.. زیبی نے کچن کی کھلی کھڑکی سے جھانک کر کہا تھا.. جو لاؤنج کے اختتام پر کھلتی تھی..
سالس کے چہرے کی بوکھلاہٹ مزید بڑھی تھی.
زیبی پلیز.. عالین نے اسے ٹوکا تھا..
تمہارے پاس اگر میری بات کا جواب نہیں تومجھے چپ مت کرواؤ…وہ تلخی سے کہتے ہوئے مڑگئی…
یہ ٹھیک کہہ رہی ہے بچی..
مجھے چلنا چاہیے.. عالین یقین مانو اگر مجھے زرا بھی پتہ چلا تو سب سے پہلے تمہیں بتاؤں گا..
لیکن فی الحال میرا ایک لمحہ بھی رکنا بیکار ہے..
دیر آید درست آید. یہ بھی زیبی کی ہی آواز تھی..
عالین نے بری طرح جھلائی تھی.. لیکن بے بسی سے..
وہ نکل گئے تھے. اور عالین نے انہیں دروازے تک چھوڑا تھا..
ایک آخری جملہ جو انہوں نے عالین کا خیال رکھنے کی تاکید کے جواب میں کہا تھا..وہ یہی تھا کہ..
مجھے اب اپنی زندگی کا محور ڈھونڈنا ہوگا
اور وہ خود کی تلاش میں نکل پڑے تھے.. پہلے سے زیادہ سرگرداں…جس کی تھکن کا بوجھ خود انکی آنکھ.. لہجے.. انداز سے عیاں تھا.
آپ نے اسکی باتوں کو بہت دل پر لے لیا ہے..
جانے بھی دیں.. عالین کو یہی فکر اس لمحے کھائے جارہی تھی.. جو انکے وہاں نکلنے کے بعد بھی بڑے دنوں تک رہی تھی.
اور اوپر سے انکا رابطہ نمبر مسلسل بند جارہا تھا جو مزید تشویش میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھا.
وہ چاہتے ہوئے بھی فوری طور پر انکے پاس پہنچ نہیں پائی تھی..
دل پر تو لے لیا.. تبھی تو یہاں تک پہنچ پایا..
کہاں تک؟یہ سوال پوچھتے ہوئے.. خود وہ بھی کئی طرح کے اندازوں سے دوچار ہوئی تھی..
تمہیں دکھ نہیں رہا.. بہت حد تک..
بکھرا رہا..
سمیٹنے کی کوشش کررہاہوں خود کو.. لیکن… فی الحال یہ ضروری ہے کہ میں تم سے کچھ اہم باتیں کرلوں..
میرے پاس تمہیں بتانے کے لیے بہت کچھ ہے عالین.. گو کہ ایک. مختصر عرصے میں میں بہت دوچار ہوا ہوں.. میرے اندرنے بڑا سفر کیا ہے جیسے..
مجھے معلوم ہے آپکے پاس مجھے بتانے کے لئے بہت کچھ ہے.. اور میں چاہوں گی کہ آپ مجھے بتائیں.. میری واپسی میں ٹوٹل چودہ دن رہ جاتے ہیں.. دو مرتبہ ٹکٹ بڑھائی ہے میں نے..اب جانا پڑے گا ماں کے پاس.. انہیں میری ضرورت پڑی ہے..
میں چاہتی ہوں میں ان وقتوں میں انکے ساتھ رہوں..
ہاں.. تم پر ان کا حق ہے.. یہ ٹھیک فیصلہ رہے گا.. بس پہلے جتنا وقت مت لینا لوٹنے میں.. تمہیں پتا ہے عالین.. دوبارہ تم لوٹو تو شاید مجھ سے نہ مل سکو..
وہ تھکے ہارے سے لگ رہے تھے..
آپ اتنی جلدی ہار نہیں مان سکتے زندگی سے..
دیکھو میرے پاس زندگی کا کوئی محرک نہیں رہا بیٹا.. ان کا لہجہ ڈھیلا اور فرحت بخش اس تھا.. بس کمزوری نمایاں تھی..
آپ کو یاد ہے آپ نے آخری بار وہاں سے نکلتے ہوئے کہا تھا کہ آپ ڈھونڈیں گے..
آپ محرک ڈھونڈیں گے..
ہاں کہا تھا.. خود کو ڈھونڈچکا ہوں کسی حد تک.. محرک تو نہ ملا.. خود کا آئینہ بار بار ملنے آیا ہے..
سفر جتنا دلچسپ ہے اس سے کہیں زیادہ کٹھن بھی ہے..
میں سمجھ سکتی ہوں…
تم بہت اچھی ہو..
وہ مسکرائی.. آپ زیادہ اچھے ہیں..
کیاتم کچھ کہنا چاہتے ہو؟انہوں نے اتنی دیر میں اس پر اب غور کیا تھا..
آپ نے کہا تھا میں آوازیں.. سنوں گا..
ہاں کہا تھا..
میں نے آوازیں سنیں..
تم نے مجھے نہیں بتایا.. عالین نے اس کی طرف تعجب سے دیکھا تھا..
مجھے لگا تم یقین نہیں کروگی..
غلط بات ہے.. تمہیں پتا ہے کہ ایسا نہیں ہے.
میں بس تمہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا. اس نے فوری طور پر ہار مان لی..
تم نے سعدیہ کو بتایا تھا؟جس دن تمہاری طبیعت خراب تھی.. تم اسے کچھ بتارہے تھے..
ہاں.. بتایا تھا..تبھی..
ظاہر ہے.. وہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے.. مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کم از کم میں بھی اعتبار کے قابل تو تھی ہی..
تم اس سے زیادہ قابل ہو..وہ اب بھی شرمندہ سا ہورہا تھا..
اعتبار کے قابل بھی ہو..
رہنے دو…اب پریشان مت ہو وضاحتیں پیش مت دو…
ہم سے سے ملنے آئے ہیں.. ان سے جو تم کہنا چاہو کہو.. میں بھی باہر نکل جاؤں گی آرام سے بات کرلینا..
اس کی ضرورت نہیں ہے.. تمہاری موجودگی میں ہی بات کروں گا.. بلکہ کرچکا ہوں.. اب بس تفصیلات ہی رہتی ہیں..
تم دونوں بہت اچھے دوست ہو..
بس میری بات سنو.. ایک دوسرے کی قدر کرتے رہنا..
ہم ساری زندگی لڑتے رہے.. تم مت لڑنا..
اور میرا تمہیں مشورہ ہے عالین کہ تم زیب کو اب اسکے حال پر مت چھوڑو..
اسے اکساؤ بولنے کے لئے..
اس کے پاس بھی بہت کچھ ہے بولنے کے لیے
.بتانے کے لیے.. اب ایسا مت کہنا کہ وہ تمہیں دوست نہیں بناتی یا خود تک آنے نہیں دیتی..
وہ نہ بنائے دوست.. تم دوست بن جاؤ اس کی..
زبردستی دوست بن جاؤں اس کی؟
ہاں.. بن جاؤ. تم خود ہی جب نہیں تسلیم کروگی تو وہ کیسے کرے گی..
کبھی کبھار رلیشن کو آسان کرنے کے لیے جتنا وقت ہم لے رہے ہوتے ہیں.. اتنا درکار نہیں ہوتا..
کچھ رشتے لمحوں میں بن جاتے ہیں..
تم تو پھر بھی اس کے ساتھ دنوں تک رہی ہو. مہینہ بھر تو ہوگیا ہوگا.. یا اس سے بھی زیادہ..
بہرحال تمہیں اسے سننا ہے.
میں کوشش کروں گی..
کوشش نہیں.. زماداری لو.. جیسے تم سب کی زماداری لے لیتی ہو.
ویسے ہی..
زیبی بہت تلخ ہے.. وہ ایسا پسند نہیں کرتی..
آپ سب لوگوں نے مجھے ویلکم کیا ہے.. وہ نہیں کہے گی..
نہ کہے.. لیکن تمہارا دروازہ کھلا ہوگا تو وہ آئے گی..
تم بے فکر رہو..
خیر.. ٹھیک ہے…میں ایسا کروں گی.. کم از کم کوشش تو بھرپور ہی کروں گی..
لیکن فی الحال میں آپ کو بتاؤں.. کہ التمش تھک گئے ہیں..
سعدیہ مایوس ہوچکی ہے پھر سے..
زیبی کو دلچسپی نہیں ہے..
ہاشم الدین آیا تھا.. لگ رہا تھا کہ اسے جوان بیٹے کو کھونے کا بہت دکھ ہے..
آپ بتائیں.. آپ کو کوئی سراغ ملا.. ؟
میں تمہیں کہہ رہا تھا نہ کہ..دنیا گول ہے.. یہ بس ایک کائناتی گول چکر ہے کہ ہم کبھی ڈھونڈتے ڈھانڈتے.. ایک دوسرے کے ساتھ آ ٹکراتے ہیں..
مجھے مستقیم کا پتہ مل گیا ہے..
ہم بہت جلد ہی اس سے ملنے جائیں گے..
یکایک مجدد کی آنکھیں چمکی تھیں..
اور عالین کے چہرے کی مسکراہٹ ابھری..
وہ اسی خوش خبری کے تعاقب میں یہاں تک آئی تھی.
******
ہم زندگی میں بہت بار ہارتے ہیں..
********
یہ بے سبب فون کی گھنٹی پر بے سبب آواز کا بلانا کچھ بھی تو جگا نہیں سکتا تھا..
کیسی ہو؟
ٹھیک ہوں..(لہجہ جواب کا دوسرا رخ دکھا رہا تھا)تم کیسے ہو ہاشم..؟
میں بھی..(ادھر بھی یہی حال تھا)
فون کیا؟وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھے..
تمہاری ماں کا سنا تھا..تمہارے سوشل اکاؤنٹ پر اسٹیٹس تھا..
اس سے پہلے کہ وہ پوچھتا کس نے بتایا..انہوں نے خود وضاحت دے دی..
بات خود ہی مختصر ہوئی جارہی تھی..
جیسے کبھی ساتھ مختصر ہوا تھا.
اچھا…ہاں..میرا تو جوان بیٹا چلا گیا..لہجے میں ایک صحرا تھا..
وہ میرا بھی بیٹا تھا..وہ خود کو ہی یقین دلارہیں ہوں جیسے..
ہاں….وہ تھکے ہوئے تھے..لہجہ خود ہی بھیگ گیا تھا..
تمہاری بیوی کیسی ہے؟وہ بات کٹ جانے سے پہلے بات کا دوسرا پہلو ڈھونڈرہی تھیں.
تمہارا شوہر کیسا ہے؟زندگی اس لمحے جیسے بھیانک مزاق سی لگی تھی.
کب سوچا تھا کہ اتنا چلنے کے بعد یہ ہوگا.
شادی ہوئی..بچہ ہوا..بچہ جوان ہوا..اور پھر سب بکھرگیا..
وہ پہلے کی طرح چاہتے ہوئے بھی چیخ نہ سکیں…جب مستقیم کی موت کا پتہ چلا تھا اور فون کرکے وہ اس پر بے تحاشا چیخی تھیں..بے تحاشہ..سارا ملبہ ایک سر پر گراکر وہ خود کو بری الذمہ کرانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھیں..
لیکن اب یہ پچھتاوا..جو جان لینے کو آرہا تھا.
ہم مل کر بھی اس کا خیال نہ رکھ سکے..اور جدا ہوکر تو اسے مزید اکیلا کردیا.
وہ جیسے فیصلہ کرچکی تھیں کہ اب اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑے گا.
اب ہم ہار مان بھی لیں تو مستقیم واپس نہیں لوٹ سکتا ..
تم ٹھیک کہتے ہو..لیکن مجھے یقین نہیں آتا ہاشم..
آخر ہمارے کیے کی سزا اسے ہی کیوں ملی..
وہ ہی کیوں ہاشم..
وہ ہی کیوں..
کیسے چلا گیا..ہمارا جوان بچہ..
اسے تو ابھی بہت کچھ دیکھنا تھا..
بہت کچھ کرنا تھا..
وہی کیوں ہاشم..
یہ ہمارا قصور ہے..
تم جب گئی تھیں..تب وہ بہت اداس تھا..
روتا تھا اکیلے میں..
اسے میں وقت نہیں دے سکا..میں نے بھی اسے اکیلا کردیا..
وہ ٹوٹ گیا…
وہ بکھرگیا..
وہ ختم ہوگیا..
اس کے بعد بولا نہیں جارہا تھا..
وہ جو ایک عرصے سے مل کر ہنس نہ سکے تھے..مسکرانہ سکے تھے..ساتھ رہتے بھی بات نہ کرسکے تھے..
اور اب ایک اکیلا بھیانک دکھ تھا..جسے مل کر رونے کے علاوہ جیسے کچھ چارہ ہی نہ بچا تھا.
*******
.
زندگی ایک دو دونی چار کا کھیل ہے
*******
ایک پاگل شخص آیا ہے اور اس نے سب کو پاگل کرکے رکھا ہے..
کبھی خواب..کبھی مراقبہ..کبھی فلاں..تو کبھی فلاں..یہ سٹھیایا ہوا شخص ہر کسی کو الو کا پٹھا بناکر رکھ دے گا.
خود تمہیں بھی عقل کی پٹاری عالین بی بی..
وہ زیب مجاہد تھی بری طرح چڑی ہوئی..
زیب پلیز تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوجاؤ جب تک ہم نکل جائیں گے.صرف تب تک..
سعدیہ نے عاجزانہ درخواست کی سامان پیک کرتے ہوئے اس سے..
التمش نے خصوصی طور پر کہا تھا زیب کو کہ باہر نہیں نکنا..
اگر نکل بھی جاؤ تو ان کے سامنے آنے کی ضرورت نہیں ہے..اور اگر سامنا ہوبھی جائے تو خدا کے لیے سلام دعا کرنے کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے..
اور وہ جی بھر کہ نہ صرف حیران ہوئی بلکہ نانا پر غصہ بھی آیا کہ یہ اچھے بھلے سمجھدار پریکٹیکل شخص کو ہو کیا گیا ہے جو اس شخص کے پیچھے جارہا ہے جس سے عمر بھر بے زاری کا دم بھرتے رہے..
اور آج ان کے پیچھے یوں نکل گئے .
مجھے تو یہ آدمی پہلے سے زیادہ سٹھایا ہوا لگ رہا ہے..
دیکھو تو صحیح جیسے نشے میں مدہوش ہو..
دھت پاگل..نشئی..چریا..دیوانہ..
کہتے ہوئے زور ہنسی تو عالین کی ہنسی چھوٹتے چھوٹتے رہ گئی اور ساتھ ہی سعدیہ کی بوکھلاہٹ میں اضافہ ہوا تھا..
حد کرتی ہو یار تم کتنی تلخ زبان ہو..یہ ہمارا جانا کینسل کراکے چھوڑے گی..
سعدیہ کو بے ایمانی تھی کہ پھر سے کوئی روڑا نہ اٹکے
حد ہوتی ہے کوئی..تمہیں تو بس جانے کی پڑی ہے پاگل لڑکی..سٹھیاتو تم بھی گئی ہو..
الو کی پٹھی یہ دو لفظ اس نے زیر لب کہے تھے..
عالین پلیز اس لڑکی کو چپ کراؤ..کسی بھی طرح چپ کرادو.اس کی بولتی بند کراؤ کسی طرح بے زار کرکے رکھ دیا ہے یہ تو سفر سے پہلے تھکادے گی بندے کو..
کم از کم تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی..چپ تو کرے
سعدیہ سخت کوفت میں مبتلا تھی سفری بیگ پیک کرتے ہوئے..بار بار اس کے بولنے سے عجیب جھنجھلاہٹ کا شکار ہورہی تھی.
زیبی کے چہرے پر سخت مسکراہٹ تھی..
بہت احمق ہو تم.
اور یہ عالین تمہیں مزید احمق کرچھوڑے گی..
چپ ہوجاؤ زیب ان کے جانے کے بعد مجھ پر بے شک غصہ اتارلینا..فی الحال چین کرنے دو..
عالین جو اب تک بڑی لاپرواہی سے بیٹھی ٹانگیں جھلاتے ہوئے سب کی سن رہی تھی پہلی بار بولی تھی
تم تو چپ ہی رہو ..زیب کو اس کا بولنا عجیب چڑچڑاہٹ میں مبتلا کررہا تھا.
چلو تم ہی بولو..ویسے روزے میں اتنا بولنا آتا ہے تمہیں.؟کب سے بولے جارہی ہو..تھکتی کیوں نہیں ہو لڑکی عالین جتنے مزے سے بولی تھی زیب کو اتنی ہی آگ لگی تھی..
تم لوگ سارے جاہل اور بدھو ہو..توہمات کے پیچھے چلتے ہو..خوابوں کے پیچھے..چوٹ کھاؤگے..بری چوٹ..اور تب بھی نہیں سدھروگے.
وہ پیر پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تو سیدھا ان سے سامنا ہوا
وہ سفید روشنیوں کا جیسے مرکب لگ رہا تھا
.وہ شخص جو عمر بھر پاورز کی چاہ میں رہا..عمر بھر کیفیات کے پیچھے دیوانہ رہا..اور اب کیفیات اس پر ٹوٹ کر برس رہیں تھیں…
اوف..خدایا..وہ جھلائی..
جاکر مینٹل ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیوں نہیں ہوجاتے آپ..
وہ بے ساختہ بولی..
وہ مسکرائے مدھم..مشورہ اچھا ہے..
اچھے خاصے ڈھیٹ ہیں..یہ اس نے دل میں کہا تھا
وہ تو ہوں..وہ بے ساختگی سے مسکرائے..
کیا؟وہ بوکھلائی.
ڈھیٹ اور کیا…ہنوز مسکراہٹ تھی.
اور اب حیرانی کی باری زیب کی تھی..
میں نے یہ تو نہیں کہا تھا.
سوچا تو تھا نہ..
اب آپ یہ مت کہیے گا کہ آپ نے میری سوچ پڑھ لی ہے..مجھے کم از کم آپ جیسا شخص متاثر نہیں کرسکتا..
تمہیں متاثر کرنے کی میری عمر نہیں ہے..
اپنے لیول کی کسی بندی کو تو متاثر کرنہ سکا تمہیں کرکے کیا کروں گا..
عمر کی بات بنتی ہے..لیول آپکی خوش فہمی ہے..وہ تیزی سے بولی..
میں چاہتی ہوں یہ پردہ اپنی اور دوسروں کی نظر سے ہٹالیں تو بہتر رہے گا..
تو تم باز نہیں آئیں..عالین کمرے سے باہر آئی تھی آواز سن کر..
تم چپ رہو چیلی..
شکر کرو شیطان کی چیلی نہیں کہا..عالین کی گھوری پر اس نے فوری کہا اور بالکنی کی طرف نکل گئی..
یہ پاگل ہے..آپ اس کی کسی بات کو دل پر مت لیں..
کوئی بات نہیں..یہ اپنا غصہ اتاررہی ہے..جو اس کے اندر ہے…اسے نکالنے دو اپنا غبار…
کچھ ہے اس کے اندر جو نکلا نہیں..
میں نے کہا تھا نہ اس سے دوستی کرو..
بڑا برا وقت آنے والا ہے ویسے بھی میرا..کیونکہ جب تک آپ لوگ لوٹ نہیں آتے تب تک مجھے یہیں اس کے ساتھ رہنا پڑے گا..
اور یہ جان جوکھم میں ڈالنے والا ہی کام ہوگا..
وہ ہنسی تھی ہلکا.
وہ تو اب کرنا ہی پڑے گا تمہیں..
آپ ٹھیک تو ہیں نہ..؟
ہاں میں ٹھیک ہوں بس الیوژن کچھ زیادہ آرہے ہیں..عکس ..
وہ آپ پر برا تاثر چھوڑتے ہیں؟اسے فکر ہونے لگی.
بیگ تیار ہے..سعدیہ اسی وقت باہر نکلی..
میں نے باہر تھیلے میں کھانے پینے کی بھی اچھی چیزیں رکھ لی ہیں..
مجدد کو فون کرکے پوچھیں کہ گاڑی رپیر ہوگئی..؟وہ سب سے زیادہ عجلت میں تھی.
التمش سے پوچھو..میں تیار ہوں..بس دو رکعت نفل پڑھوں گا..
وہ تھکے سے انداز میں بائیں طرف والے کمرے کی طرف بڑھے تھے ..
ان کا خیال رکھنا..
اور افطار کے لیے میں نے کچھ نگٹس بنالیے ہیں وہ ٹفن میں پیک کردیتی ہوں..لے لینا..
سالس صاحب کمزور لگ رہے ہیں مجھے ..
ہوسکتا ہے انکی نیند نہ پوری ہوئی ہو..گاڑی میں انہیں کہہ دینا سوجائیں..ویسے تم ساتھ ہوتیں تو زیادہ اچھا رہتا..
زیب کو اکیلے نہیں چھوڑسکتے نہ..
مجھے اکیلے پن سے ڈر نہیں لگتا..بہت عرصہ تنہا رہ چکی ہوں..پرواہ نہیں ہے مجھے..لے جاؤ اسے… سب ہی دفع ہوجاؤ
وہ اب تک بگڑی ہوئی تھی..
اچھا بہت خوب ..بہت ہوگئی بکواس..
عالین نے مجدد کو کال ملاتے ہوئے زیبی کو گھورا جو نخوت سے کہتے رخ بدل گئی..
مروجاکہ..
مجدد کچھ منٹس میں پہنچنے والا تھا..
التمش کمرے سے باہر نکلے جہاں سالس نفل ادا کررہا تھا..
شور کس نے لگارکھا ہے؟
آپکی نواسی پاگل ہوگئی ہے..عالین نے انہیں آتے دیکھتے کہا.
شٹ اپ. پاگل تم لوگ ہوگئے ہو..ویرانوں میں جھک مارنے جارہے ہو..وہ بھی اس بلاکی گرمی میں..اور روزے کی حالت میں..
.زیبی نے بدمزہ ہوکر نانا کے ساتھ کچھ تحمل سے بات کی..
دیکھو زیبی..اگر کچھ نہ ملا تو ناکام ہی لوٹیں گے..زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا نہ..
انہوں نے اس کے کندھے پر اپنا بازو رکھا..
آپ کو پتہ ہے کہ یہ سب بکواس ہے نانو
دیکھو..بکواس نہیں ہے..البتہ یہ سچ ہے کہ نہیں..اس کا پتہ قبل از وقت نہیں لگایا جاسکتا..
پھر دیکھو پیش گوئی کرنے والا خود مخمصے میں ہے..وہ کم از کم ہمیں دھوکہ نہیں دے رہا..
ہم بس ٹرائی کرنے جارہے ہیں..سو کرنے دو.
اتنا شورمچانے کی کیا ضرورت ہے بھلا..
نانا یہ وقت کا زیاں ہوگا..
دیکھو بچے یہاں گھر بیٹھ کر کون سا وقت کارآمد ہوسکتا ہے بھلا..وقت نے گزرنا ہے..ہمیں بھی گزرنا پڑے گا..
حالات سے. یا سفر سے..اس وقت یہی ہمارے پاس آپشن ہے کہ ہم مستقیم کو تلاشنے جائیں..کیا ہی اچھا ہو اگر وہ واقعی ہمیں مل جائے..
تم اور مستقیم میری نسل کی نشانیاں ہو..وہ میرے ساتھ رہا نہیں لیکن خون تو ہے نہ میرا..
نانا..آپ ..نہیں سمجھ رہے..ایک فریب کے پیچھے اپنے جذبات کو ضایع کرنا ہے اور کیا..
جو بھی ہے..زیب ..کرنے دو..
روکو مت..
ہم جلدی لوٹیں گے جو بھی صورتحال ہو..بس کوئی ایک دو روز لگ جائیں گے..ہوسکتا ہے ہم تین دن سے پہلے لوٹ آئیں..تم خیال رکھنا اپنا..اور عالین کے ساتھ زرا بناکر رکھو..بہت اچھی لڑکی ہے یہ یار. کمال کی دوست ثابت ہوسکتی ہے تمہارے لیے .
جانے دیں..اس نے بے دلی سے بازو ہٹایا..
نہیں ہے ضرورت مجھے کسی بھی دوست کی…
اتنا غصہ…اف..چلو..کیا کہوں تمہیں..بچی بن رہی ہو بالکل..
اچھا سنو..بائیں کمرے والی الماری کی تجوری میں مونا کی کچھ چیزیں ہیں..انہیں دیکھنا اچھا لگے گا تمہیں.وہ پہلا خط بھی جو میں نے اسے لکھنا سکھایا تھا.
تھینک یو..لیکن..مجھے آپکی فکر ہے نانا..پلیز. ایک بار پھر سوچ لیں..
زیبی..کیا ہوگیا ہے..کتنی بار سمجھاؤں تمہیں..انہوں نے اس کی پیشانی سے پریشان بال ہٹائے..اور پیار اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا..
کیا ہوا ہے تمہیں…اتنا غصہ..اتنی بے پرواہی..
اتنی بدلہاظ تو نہ تھیں تم..وہ اسی انداز میں اسے دیکھتے کہنے لگے.
چلیں سر..مجدد اسی وقت آیا تھا..
ہاں..ہم گاڑی میں سامان رکھتے ہیں..تم سالس کو لے آؤ..مجھے وہ تھکا ہوا لگ رہا ہے بہت..
زیبی کے چہرے پر وہی جھلاہٹ طاری تھی اور وہ زبان سے جیسے کہہ کہہ کر تھک گئی تھی..
عالین اور سعدیہ نے مل کر سامان رکھا وہ گاڑی میں بیٹھے اور مجدد سالس کو لے آیا ..
نکلتے وقت زیبی انکے گلے سے ایسے لگی جیسے کسی جنگ کے لیے نہ چاہتے ہوئے انہیں روانہ کررہی ہو..
اپنا ڈھیر سارا خیال رکھنا..
اور عالین..تم بھی دھیان رکھنا..اور میری نواسی کو بالکل تنگ کرنے کا سوچنا بھی مت اچھا.
عالین ان کے آنکھ مارنے پر ہنسی تھی..
یہ ہدایت آپ نواسی کو بھی کرجائیں..
اسے کرنے کی ضرورت نہیں..تم زیادہ سمجھو ہو..تمہیں جو کہہ دیا..
اس بات پر زیبی کا برا منہ بنا تھا.
اور گاڑی نکلنے کے بعد اندر آتے ہوئے وہ بڑبڑائی تھی..
تم زیادہ سمجھو ہو. اوں ہاں..
بڑی آئی سمجھ والی..
وہ سر جھٹک کر کمرے کی طرف چلی گئی اور اندر سے دروازہ بند کرنے کا مطلب تھاکہ فی الحال تمہاری کوئی بکواس نہیں سننی..
عالین کندھے جھٹک کر رلیکس ہوکر کرسی پر بیٹھ گئی..
وہیں اسے نیند آگئی..لیکن افطار بنانے کی فکر میں یہ نیند پونے گھنٹے تک بمشکل رہی..عصر پڑھ کر وہ کچن میں گھس گئی اور جو چیزیں دوپہر میں میرینیٹ کرکے رکھی تھیں..انہیں تلنے کا کام رہتا تھا..
پورا افطار تیار کرنے کے بعد ہی جب اذان میں چند منٹ کا وقت رہ گیا تو اس نے دیکھا زیبی نہاکر آئی تھی بال سکھارہی تھی.
آج نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس اشتہا انگیز خوشبووں سے منہ نہ موڑسکی تھی
******
ہم محبت کے بغیر زندگی گزارا کریں گے.
*******
نہ آج لطف کر اتنا کہ کل گزر نہ سکے
وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
(فیض)
اس کی ڈائری کے کھلے ہوئے پنے پر ایک شعر درج تھا..جس نے عالین کو کئی لمحوں تک وہیں کھڑے رکھا تھا..
تو تم بھی محبت کرتی ہو…
کیسے نہ کرتی ہوگی.
ہر انسان جو زندہ بشر ہے
زمین پر آیا ہے.
جسے حسیات میسر ہیں..جسے چکھنا بولنا سننا محسوس کرنا آتا ہے..
وہ محبت کرتا ہے..
اسے محبت کرنا بھی آتا ہے
اس نے دوسرا صفحہ ڈائری کا پلٹا..جس پر لکھا تھا.
تم اگر چاہو کہ محبت کی بھیک مانگنے میں تمہارے در پر آؤں تو یہ تمہاری خوش فہمی ہے جو لنگڑی ہے..تمہاری سوچوں کی طرح..
میں تمہاری بے وفائی کے تختے پر محبت کو سولی چڑھانے کے لیے تیار ہوں..
تو اب یہ طہ ہوا کہ تم مجھ سے کی گئی بے وفائی میں جیا کروگے.
اور میں تم سے نفرت کی آگ میں جل کر جیوں گی..
اور ہم محبت کے بغیر زندگی گزارا کریں گے..
اسے بڑی تکلیف سی محسوس ہوئی تھی یہ پڑھ کر..کافی کچھ سمجھ آگیا تھا اسے..لیکن ابھی بہت کچھ رہتا تھا.
تم میری ڈائری کیوں پڑھ رہی ہو؟
وہ اس کی پشت پر آکر برسی تھی.
یہ کھلی تھی..اور کھلی کتاب کوئی بھی پڑھ لیتا ہے..
یہ تمہارے لیے نہیں کھلی تھی عالین بی بی..
تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ ہر کوئی تمہیں پڑھنا چاہتا ہے؟
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہر کسی کو تم پڑھ لوگی..ہر کسی کو چار لفظوں کے کھیل سے سمجھ لوگی..بتاؤ..
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ دنیا میں تمام لوگ تمہارے مہتاج ہیں؟
دنیا میں ہر کسی کو تمہاری ضرورت ہے..تم کوئی قابل مسیحا ہو؟یا پھر کوئی دانشمند محافظ کہ خود اعتمادی کی زیادتی نے تمہیں یہاں لاکر کھڑا کیا ہے کہ ہر کسی کی پرسنل لائف میں تم اپنا کردار ادا کرنے کھڑی ہوجاتی ہو..وہ اپنے تئیں اسے پچھاڑچکی تھی.
یہ سب ایک انسان دوستی کے جذبے کے تحت ہے جو کہ تمہاری سمجھ سے تو بالاتر ہی ہے اس لیے تمہارے جلے دل کے پھپھولے پھوٹتے دیکھ کر میں کر بھی کیا سکتی ہوں سوائے تمہیں وضاحت دینے کے جو کہ میں دینا نہیں چاہتی اور سوائے تمہیں سمجھانے کے جو تم سمجھنا نہیں چاہتیں..تو بس اتنا کہوں گی ان خودساختہ نظریات سے باہر نکلو اور کم از کم اپنی ڈائری بند رکھا کرو تاکہ کسی کی غلطی سے بھی نظر پڑجائے تو وہ مجرم نہ ٹہرایا جائے تمہارے سامنے..
اسے زیبی کی بات افسوس سے زیادہ دکھ ہوا تھا.
.یہ ڈائری میں نے اپنے گھر میں رکھی تھی..چاہے بند ہو یا کھلی. کسی کو کیا اختیار کہ اسے پڑھے..
وہ حددرجہ تلخ تھی.
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ تمہارا گھر ہے.
جتاؤ مت .اس کا لہجہ تیز ہوگیا.
.بس فی الحال مجھے یہاں رہنا ہے جب تک وہ لوگ لوٹ آئیں..کم از کم تب تک ضرور ہی رہنا ہے.سختی کی جگہ بے بسی نے لے لی تھی.
تمہیں میری وجہ سے پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے. جاسکتی ہو تم..
رات کے اس وقت؟عالین نے اسے تعجب سے دیکھا..
..اس وقت بھی
دن میں یا اس وقت..جب بھی..لیکن مجھے بہرحال اس ڈھکوسلے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے.
نہ تمہاری ہمدردیوں کی..نہ سہارے کی .اور نہ ہی سمجھانے بجھانے کی..
نہ میں بچی ہوں..نہ کم سمجھ ہوں..تم سے زیادہ تجربہ ہے میرا زندگی کو جھیلنے کا اور تم سے زیادہ تلخ حالات سے گزری بھی ہوں اور ہینڈل کرنا بھی جانتی ہوں.
اچھا ..ٹھیک ہے..ایسا سمجھتی ہو تو ..یہی بہتر ..اسے مزید بات کرنا بے کار ہی لگا..وہ اپنا سامان لینے کمرے کی طرف جانے لگی..لیکن جاتے جاتے مڑی اچانک کسی خیال سے
تمہیں ڈر نہیں لگے گا؟رات کو اکیلے میں؟
مجھے کیوں ڈر لگے گا.وہ ہنس پڑی تھی.
.میں بچی ہوں یا پہلے بھی تم رہتی ہوئی آئی ہو میرے ساتھ..؟
ٹھیک ہے..مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر تم رہ سکتی ہو تو مجھے کیا پڑی ہے کہ میں یہاں رہ کر اپنا وقت برباد کروں.
مجھے نکلنا ہی ہوگا..
پھر ایک ہی بات ہے..دن یا رات کچھ بھی..تو پھر ٹھیک ہے میں ابھی نکل جاتی ہوں..اب تو اسے یقین ہوچلا کہ وہ کوئی نرمی نہیں پیدا کرنا چاہتی .
اوکے ایز یو وش..
زیب کندھے اچکاکر ڈائری اٹھاکر باہر نکل گئی..
عالین نے تھکے سے انداز میں سر جھٹکا..
اور دوسرے کمرے سے اپنا مختصر سا سامان اٹھانے لگی تھی..
مرو جاکہ تم..وہ بڑبڑاتی باہر نکلی.
زیبی عجیب شان بے نیازی سے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی..
وہ بیگ اور فون لیکر کیب سروس کو کال ملاتے ہوئے باہر آئی اور اس سے ایک جملہ تک نہیں کہہ سکی کہ اپنا خیال رکھنا یا گھبرانا مت وغیرہ..
زیبی اسی طرح سے لاپرواہی سے برآمدے کی چار ذینے کی سیڑھیوں پر بیٹھی رہی.. اور وہ اس پر نفرین بھیجتی ہوئی باہر نکل گئی.
*******
ہم خالی ہاتھوں موت کو روتے ہیں.
******
جھگی کے باہر چند افراد اپنی باری کا انتظار کررہے تھے.اور وہ بوکھلائی ہوئی عورت اس قطار کو کراس کرکے اندر گھس گئی تھی.یہ ایک بد تہذیبانہ رویہ تھا ..لیکن اس کا صبر لمبا انتظار نہیں مانگ سکتا تھا..
مجھ سے بات کرو بڈھے فقیر سب سے پہلے مجھ سے بات کرو..
اس کے لہجے میں عجلت تحکم اور رعب تھا..
وہ آدمی ان کی طرف مڑکر اس انداز پر ناگواری سے دیکھنے لگا..
بیٹھ جاؤ…
تمہیں اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیے تھا..
میری بات سنو
.باری کو چھوڑو
میں بہت پریشان ہوں..
اب کی بار فورا” لہجے میں عاجزی نے جگہ لی تھی..
بولو…کیا کہنا ہے..
دیکھو میں تمہیں اس طرح سے نہیں مانتی جیسے یہ لوگ تمہیں سمجھتے ہیں..لیکن تم تب بھی ایک جوہری جادوگر ہوتے ہوئے کیا بتانہیں سکتے کہ میں کس مسئلے کے تحت یہاں آئی ہوں..اور کیوں آئی ہوں..کتنے عرصے بعد میں نے تمہیں اگر آواز دی ہے تو کیوں دی ہے..
کیا وجہ ہے..
اگر تم میرا امتحان لینے آئی ہو تو پھر سوال کرتی جاؤ لیکن میں تمہارے جوابات دینے کا پابند ہر گز نہیں ہوں.تم ہمیشہ سے یہی کرتی آئی ہو..
میری تذلیل.
میرے ہنر کی تذلیل..ہر بار کا امتحان..ہر بار کے سوالات…لہجے سے شکوے برس رہے تھے.
میرا یہ مطلب تھا کہ تم جادو کے ماہر ہو اور تمہیں معلوم ہی ہوگا کہ میں کیوں یہاں آئی ہوں تو پھر مجھے ہی پہلے اندر کیوں نہیں بلوایا.
تم بھی تو ہر بار میرا امتحان لیتے ہو..
ہر بارہی..
.وہ بیٹھ گئیں تھیں..
اب تم خود وقت کو ضایع کررہی ہو..حالانکہ دوسرے لوگ تم سے زیادہ فکر مند اور پریشان ہیں.
مجھے صرف یہ بتاؤ کہ لڑکا سانس ٹھیک سے لے رہا ہے؟
ہک ہا..انہوں نے لمبی سانس چھوڑی جیسے اس یقین کے ساتھ کہ تم واقعی بہترین جادوگر ہو..
تو پھر سنو..لڑکا سانس تو لے رہا ہے لیکن اس کے حواس سلب ہوچکے ہیں جیسے
.
وہ غنودگی میں چلا جاتا ہے..
شاید وہ خود سے اگلوانہیں پارہا..شاید وہ خود کو کہہ نہیں پارہا کہ وہ زندہ ہے..
یا پھر شاید اس لڑکے کو زندگی کا شوق نہیں ہے..
لیکن مسئلہ فقط اتنا ہے کہ وہ زندگی کے ساتھ تب بھی اٹکا ہے..
اب اس کا آگے کیا کرنا ہے..مجھے یہ بتاؤ..
میں نے اور ماسٹر صالح نے ہر ممکن کوشش کرکے دیکھ لی ہے..
اب تم ہی کچھ بتاؤ کہ کیا کرنا ہے.
اور یہ بھی بتاؤ کہ وہ ٹھیک ہوپائے گا یا نہیں..
دیکھو میں تمہیں پانی دیتا ہوں دم کرکے وہ جاکر بچے کو پلادو..
مجھے لگتا ہے وہ تیزی سے موت کی طرف بڑھ رہا ہے..فی الحال تو وہ زندگی اور موت کے بیچ کہیں گم ہے..
نہ پوری طرح سے زندگی میں ہے..اور نہ ہی موت میں..
تو اس کے ساتھ کیا ہونا چاہیے..تم کیا سمجھتے ہو؟
اس کے ساتھ بات کرنی چاہیے..
تم چلو بات کرنے کے لیے..
نہیں..تم خود کرو بات..اسے احساس دلاؤ کہ وہ زندہ بچ گیا ہے..
اس سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتا تھا آخری بار جب اس نے مرنے کی کوشش کی تھی..تب اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا..
اس سے پوچھو اگر وہ زندگی کی طرف لوٹنا چاہے تو کیسے لوٹے گا..
اور اس سے پوچھو کہ کیا وہ زندہ رہنا چاہتا تھا..
اور اگر نہیں تو کیوں..
موت عافیت ہے اس کے لیے یا پھر فرار..
اگر فرار تھا تو اسے تیار کرو کہ وہ اپنے حصے کی جنگ لڑے..
بلکہ نہیں پہلے اس سے بات کرکے احساس دلاؤ کہ وہ زندہ ہے..
اور قومہ سے لوٹ چکا ہے..
اسے زندگی گزارنے کا ایک اور موقع ملا ہے..
تو کیا وہ اس موقع کو حاصل کرے گا..
یا پھر کھودے گا..
اس کے لیے دلچسپی کہاں ہے..
سوئے رہنے میں..یا پھر لڑنے میں..
جاگنا چاہتا ہے..یا نیند ابھی اس کی مکمل نہیں ہوئی ہے؟
اگر نہیں ہوئی تو اس بار وہ نیند سے جاگ گیا تو لوٹے گا نہیں..
وہ سورہے گا..جہاں تک کہ اس کی سانسیں بند ہوں.
اور اس کے لیے اس کا شعور خود اسے سپورٹ کرے گا..ساتھ دے گا..
تم.صرف اسے یقین دلاؤ کہ فی الحال وہ یہاں ہے..
اور خیریت سے ہے..
وہ بچ گیا ہے..
اور اس کے پاس ایک اور چانس ہے ..
پھر اس کی کارکردگی اور اس کے نصیب پر چھوڑدو..
سمجھو تم نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے..
ایک بات مجھے بتادو..بس آخری..
مجھ سے کب تک کام لیا جاتا رہے گا؟
میں تھک گئی ہوں روحل..
ایک عرصے بعد انہوں نے نام لیکر انہیں پکارا تھا..
خود انہیں اپنا نام بھول چکا تھا.
روحل …انہوں نے زیر لب اپنا نام دہرایا..
مجھے نہیں معلوم
.یہ تم نے اپنے ذمے خود لیا تھا..تم نے خود کہا تھا کہ مجھے دیکھنا ہے..مجھے کام کرنے ہیں.
تم نے خود مدد کی ہامی بھری تھی..
دیکھو مدد تو اور طرح سے بھی کی جاسکتی ہے.
ہسپتال کے اندر مختلف لوگ اپنی اپنی زماداریاں سر انجام دیتے ہیں..
وہ بھی کام کرتے ہیں..
کام تو کرنا چاہیے..
مدد تو اچھی بات ہے..
میری ماں راستے میں مسافروں کے لیے پانی کے گھڑے بھر کر رکھتی تھیں..
مدد وہ بھی تھی..
آخر میں یہاں کہاں پھنس گئی ہوں..
مجھے نہیں کرنی یہ مدد..
میں تھک گئی ہوں..
تو پھر تم یہ کیس چھوڑدوگی؟
ہاں شاید..یہ کیس میرا آخری ہے..میں چاہتی ہوں تم اسے سنبھالو فقیر..
تم جاؤ اور اس سے بات کرو.
وہ جلد ہی کسی ایک طرف ہولے گا..
فکر نہ کرو..
جاؤ اب مزید وقت نہ گنواؤ..
انہوں پانی دم کرکے اس کے حوالے کی بوتل..
وہ تھکن اور شکستگی سے اٹھی تھیں..
چار گھنٹے سے پہلے پہلے وہاں پہنچنا..
اگر دیر ہوئی؟وہ پھر متجسس ہوئی.
تو پھر کسی سے شکوہ مت کرنا..
اور قصور اپنے ذمے لے لینا..
وہ بے بسی سے سر جھٹکتے ہوئے باہر نکلیں..اور سواری میں بیٹھ گئیں..
سوزوکی اسٹارٹ ہونے لگی..
انہیں بڑے عرصے بعد لگا کہ وہ پوری طرح اپنی فطری زندگی گنوا بیٹھی ہیں.
کوسا اس دن کو جس روز انہوں نے اپنے ذمے یہ خواہش پر ذماداری لی .
یہ تب کی بات تھی جب وہ صرف عدیلہ تھیں
اور عبد الحق سے محبت کرتی تھیں.
اور عدیلہ کے آگے عبد الحق نام لگانے کی کتنی خواہاں تھیں..
جب زندگی میں صرف اور صرف محبت کی رمق تھی..
خواہشوں کا انبار لیے وہ جینے کی تمنا کو اپنے اندر روز ہی بڑھتا ہوا پاتی تھیں..
روز ہی زندگی سے انسیت کا ایک قطرہ پروان چڑھتا تھا..
زندگی نے کتنی مہارت سے بساط پلٹی تھی..
یا پھر یہ ہی پلٹ آئیں تھیں..
کتنا درد بھرا سوال ہے کہ کاش وقت کو پلٹایا جاسکتا..
کاش..کی آہ کے ساتھ ہوک اٹھی تو بڑا غبار اڑاگئی اندر ہی اندر زیر زمین جیسے طوفان اٹھا ہوا تھا.
آنکھوں سے شکستہ پانی کی ایک بوند ڈھلک گئی تھی..
جانے کس سوچ کے تحت انہوں نے بوتل کا ڈھکن ڈھیلا کردیا تھا.
اور پانی قطرہ قطرہ گرکر ضایع ہونے لگا تھا..
دوسری طرف لڑکے کی سانس اٹک گئی تھیں..
اور لگتا تھا کہ جیسے سبز آنکھوں کی روشنی بجھنے لگے گی..
دل کی دھڑکن یکسر بے ترتیب تھی.
اور شعور یکسو ہوکر عدیلہ کو ملامت کرنے لگا تھا کہ وہ اپنے فرض کی مخالفت کرنے جارہی ہے..
یہ ایک پکار تھی..ایک جھنجھوڑ ..جس کی اس نے آدھی عمر کے بعد کم ہی سنی تھی..
کہیں زندگی قطرہ قطرہ گرتی جارہی تھی..
اور پانی کی بوتل بوند بوند ٹپکا کر سفید رومال کو بھگورہی تھی..
گھڑیال لمحے گراتا جارہا تھا..
اور لمحوں نے گھنٹوں کی صورت اختیار کرنے تک بڑے بڑے فیصلے کرڈالنے تھے.
موت اور حیات کے..
*******
آخری قسط جلد ہی