میں اسکے ناسور زخم کرتا، مرہم لگاتا، مجھے بتاتا
میں اسکی خاموشیوں کو پڑھتا، گلے لگاتا، مجھے بتاتا

میں اسکو سنتا، سمجھ بھی لینے کا قصد کرتا، اسے سمجھتا
وہ پاس آتا، نہ گھُٹ کے مرتا، مجھے بتاتا

اُسی کی سنتا، می‍ں کچھ نہ کہتا، اُسے مناتا
وداع کرتا، تھپک ہی دیتا، وہ جا رہا ہے، مجھے بتاتا

کھڑا نہ رکھتا، اسے بٹھاتا، وہ رکنے لگتا اسے چلاتا
مگر وہ تنہا ہے یہ تو کہتا، وہ تھک گیا ہے، مجھے بتاتا

جو اسکے جثے کی ساری درزوں سے رس رہا تھا ، می‍ں چنتا جاتا
مگر وہ خاموشیوں میں پیتا ہے درد، کہتا، مجھے بتاتا..

سوال کرتا، نہ خود سے لڑتا، وہ بولتا تو، وہ کچھ تو کہتا
نہ خود پہ اتنے حجاب رکھتا، کوئ اٹھاتا، مجھے بتاتا..

___________

کلام:عمارہ احمد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

(بشکریہ منیر نیازی.. یہ نظم ان پچھتاووں کے نام لکھی گئ ہے جو کسی کو کھو دینے کے بعداندر اٹھتے ہیں… اور ہمیشہ کا اضطراب بخش دیتے ہیں… وہ صدائیں جو ہمیں ان کے دھندلا جانے سے پہلے سننی ہوتی ہیں.. مگر بعد میں گونجتی ہیں..میں نے یہ نظم اسلیے لکھی ہے تاکہ کسی کو کھونے سے پہلے آپ جان سکیں.. اسے کیسے سنبھالنا ہے!! اور ان کہی صدائیں کیسے سننی ہیں!! )

عمارہ احمد.