اُس نے کہا تھا : کون کمبخت آنسو لکھنا چاہتا ہے ۔ قلم کو نوک جب قرطاس کی پیشانی چومتی ہے اشک خودبخود آنکھوں کی چلمچی سے نکل کر جزئیات میں شامل ہو جاتے ہیں ۔
سچ کہا تھا جو بھاری پڑ گیا ۔ اب نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ۔
نہ لکھوں تو ننھے ننھے نومولود بچوں کی من موہنی صورتیں سونے نہیں دیتیں اور لکھوں تو قلم فریاد کرتا ہے ۔ کہتا ہے تمھارا درد تو ماہ ِ محرم بن گیا ہے ۔ برچھیاں لکھتی ہو ، تازیانے لکھتی ہو ، وقت بچ جائے تو شام غریباں کے فسانے لکھتی ہو ۔ میں نوحے لکھ لکھ کر تھک چکا ہوں ۔ مجھے عزاداری کے منسب سے ہٹاؤ ۔ تو میں نے سوچا چلو اس بار خالہ نفیسہ کے بیٹے کی منگنی کا احوال ہی لکھ دیتی ہوں ۔ ڈھول تماشے اور ناچ گانے سے شاید اس کی طبعیت شاد ہو ۔ جب خانہ عروس کے تانے بانے دماغ میں بُن بُن کر پلاٹ تیار ہوا اور قرطاس پہ سجنے کی باری آئی تو دشت برچی کے علی اصغر کی لاش نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔
غم غلط کرنے کے لیے نیند کی گولی پھانک لی پر بے سود ۔۔۔۔ وہ بچے ٹی وی کی سکرین سے نکل کر لاشعور میں آ کھڑے ہوئے اور میرے دامن سے لپٹ گئے ۔ اب نہ آنکھ کھُلتی تھی نا خواب ٹوٹتا تھا ۔
اذیت جھیلتے اعصاب کو گلوکوز کی ڈرپ سے تقویت کہاں ملتی ہے ۔
قلم بیچارہ سر جھکائے رضاکار بن گیا ۔
اب قرطاس پہ کہانی الجھے ہوئے دھاگوں کا گچھا بنے سلجھنے کے انتظار میں تھی ۔ اور کہانی کا سرا چنگیز خان کی چابک سے بندھا تھا ۔
پچھلے دنوں کی خبر ہے جب “کابل کے علاقے دشت برچی میں دھشت گردوں نے میٹرنٹی وارڈ میں گھس کر حاملہ عورتوں اور نومولود بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا ۔ “
ہر طرف یہی سوال گردش کرنے لگا ان بچوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ؟
شکر ہے اس بار کسی نے یہ افواہ نہیں پھیلائی کہ ان معصوم بچوں کو مارنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے ۔
جب خبر ٹھوس ہوتی ہے تو وہ حقائق ، تاریخ اور بہت سے عینی شواہد کی آپ بیتیوں سے بھری ایک ایسا گولہ بن جاتی ہے جو اکثر حساس لوگوں کے گلے میں پھانس بن جاتا ہے ۔ کبھی آنسوؤں کی صورت یہ سیال بہہ جاتا تو کبھی عمر بھر لاشعور کے سمندر میں جذب ہو کر کہیں کسی وقت ڈپریشن نامی بیماری کی صورت باہر نکل آتا ہے ۔
لہو لہان ننھے بچوں کے سفید بازوؤں کو بوسے دیتے باپ ، نئے مہمان کا انتظار کرتے چھوٹے بہن بھائیوں کی ہچکیاں ، تسبیح کے دانے گھماتی دادی کے دوپٹّے کو گیلے کرتے اشک ،
اور سامنے رکھے خواتین کے بیشمار جنازے ۔۔۔
ساری عورتیں امید سے تھیں 😭
اور وہ نومولود بچے جن کی آنکھیں کُھلنے سے پہلے بند کر دی گئیں ۔
ان کی شہادت بھی قضا اور عزرائیل کے کھاتے میں چلی جائے گی اور بالواسطہ یہ قتل بھی خدا کی جھولی میں ڈال کر احتساب کرنے والے بری الزمہ ہو جائیں گے ۔

کہ اللہ نے اس کی موت کا یہی وقت اور طریقہ معین کر رکھا تھا ۔ اللہ کی مرضی ، اللہ چاہتا تو بچا سکتا تھا وغیرہ وغیرہ نامی پھاہے لواحقین کے دل پہ رکھنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوتے ہیں ۔
سُنا ہے مارنے والوں نے اپنے ننگے ظلم کو شلوار پہنانے کے لیے کہیں پیغام داغا کہ میٹرنٹی وارڈ میں دھشت گرد خواتین تھیں جن کو نشانہ بنایا گیا 🤥۔
دنیا ایسے پینوکیوں سے بھر چکی ہے ۔ جھوٹ بول بول کر جن کی ناک لمبی ہو گئی مگر مستہزاد یہ کہ وہ اپنی اونچی ناک پہ فخر کرتے ہیں ۔
چنگیز خان جب کھوپڑیوں کے مینار لگاتا افغانستان کے شہر بامیان آیا تو یہاں گھمسان کا رن ہوا جس میں اس کا چہیتا پڑپوتا مارا گیا ۔ چنگیز خان نے بامیان شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ خون کی ایسی ہولی کھیلی کہ کوئی باقی نہ بچا ۔ ان کی خواتین کو غلام بنا لیا گیا ۔ شہر کھنڈر ہو گیا تو خود اسے شہر غم ، شہر ماتم اور شہر آہ و فغاں کا نام دے کر آگے کی جانب پیش رفت کی ۔ البتہ اس کی فوج کی ایک یونٹ افغانستان میں رہ گئی ۔ وہ شاید شدید زخمی تھے یا کسی وبا کا شکار تھے جو چنگیز خان کے ھمراہ سفر کرنے کے قابل نہ رہے ۔ وہ ایک ہزار سپاہی بامیان میں مقیم رہے بعد آز آں افغانستان کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے ۔ پستہ قامت ، گول مٹول چہرے ، پھینی ناک ، چھدری داڑھی اور چندھی آنکھوں کی وجہ سے وہ افغان عوام کے خدوخال سے یکسر مختلف ہونے کی بنا پہ آسانی سے پہچانے جاتے ۔ وہی ہزار لوگ بعد از آں ہزارہ کہلائے ۔ ہزارہ کی مادری زبان ہزار گئی ہے جس میں منگولی ، دری اور ترکی الفاظ بھی شامل ہیں ۔ یہ خود کو آزرہ کہتے ہیں ۔ چنگیز خان کے دیے درد ، اجڑے شہر ، ویران بازاروں اور بھرے ہوئے قبرستانوں کو دیکھ دیکھ کر جب افغانوں کا خون کھولنے لگتا تو وہ ان بچے کھچے بیمار ہزارہ کو پیستے ۔ صدیاں گزر گئیں پر ہزارہ عوام کو سر اٹھانے کی اجازت نہ ملی ۔ ان کا کام کوڑا کرکٹ اٹھانا ، غسل خانے صاف کرنا ، نالیوں کا گند نکالنا ہی رہ گیا۔ پھر جب ملک میں بلدیاتی نظام کی بنیاد رکھی گئی تو بلدیہ کے اداروں میں ان کو وضائف ملے یوں ان کی صبح کوڑے کے ٹرک پہ بیٹھے شہر کی ہر گلی کا کچرہ اٹھاتے طلوع ہونے لگی ۔
اسی بنا پہ ہزارہ دیہی علاقوں میں مقیم رہے اور ذیادہ تر زراعت اور مال مویشی پہ زندگی کی بسر کرتے رہے ۔
سولہویں صدی میں بابر بادشاہ نے سب سے پہلے اپنی آپ بیتی میں ہزار ستان علاقے اور اس قوم کا ذکر کیا ۔ صفوی شاہی کے دور میں تمام ہزارہ شعیہ مسلک سے جڑ گئے ۔ آج بھی اکثریت ہزارہ شعیہ اور کچھ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
یوں ہزارہ ، ہزار سے پھیلتے پھیلتے ہزاروں قطاروں میں شمار ہونے لگے ۔ ایران میں ان کی آمدورفت اور اسماعیلی فرقے کے دست شفقت تلے انھیں کچھ راحت میسر ہوئی ۔ پر یہ شاید کافی نہیں تھا اقلیت اور وہ بھی ایسی جس کی پشت پہ جنگ اور خون ہو افغان قوم کے لیے قابل تعزیر ہی رہی ۔
پہلی اینگلو افغان جنگ کے دوران ہزارہ برٹش راج کے انڈر کوئٹہ ہجرت کر گئے اور برطانوی کمپنیوں میں ملازمتیں اور مزدوریاں حاصل کر لیں ۔
دوسری اینگلو افغان جنگ کے بعد افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن نے دیگر آزاد ریاستوں اور قبائل سمیت ہزار جات اور کافرستان کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ۔ شہریت کے ساتھ ہی ان پہ ٹیکس لاگو ہوا جو کہ ہزارہ عوام کو منظور نہ تھا ۔ یوں چپقلش بڑھی ، جلسے جلوس اور احتجاج کے باوجود یہ افغانستان کا حصہ بن گئے ۔ اس دوران بھی بہت سے ہزارہ کوئٹہ ہجرت کر گئے ۔اور برٹش فوج کا حصہ بن گئے ۔

یوں ہزار مختلف ادوار میں کوئٹہ ہجرت کرتے رہے اور وہاں ہزارہ ٹاؤن کی بنیاد رکھی گئی ۔
کافرستان کا نام بدل کر نورستان رکھ دیا گیا ۔
۔ (یاد رہے کافرستان کا ایک حصہ اب بھی اپنی پرانی روایات کے ساتھ پاکستان میں موجود ہے اور بصد شکر کہ ان کی ثقافت پہ کسی اور مذہب کی قلعی نہیں چڑھی ۔ )
ہزارہ اب ملک کی سب سے بڑی اقلیت بن کر اس کا حصہ تو بن گئے مگر افغانستان کی نسبت سے افغان کہلانا کبھی پسند نہ کیا ۔ نا ہی افغانوں نے انھیں اتنی اہمیت دی کہ وہ ان کے برابر بیٹھ سکیں ۔ سویت افغان جنگ میں ہزارہ قوم کی اپنی حذب وحدت جماعت روسیوں کے خلاف جہاد کرتی رہی ۔ جس کی عسکری مدد اور پشت پناہی ایران کرتا رہا ۔ طالبان کا دور ہزارہ قوم کے لیے کچھ اچھا نہ تھا کہ ان سے مذہبی آزادی چھین لی گئی تھی ۔ یہ چھپ چھپ کر محرم اور نوروز مناتے ۔زندگی کا نظام یوں ہی چل رہا تھا جیسے تیسے ہی سہی کہ کایا پلٹ گئی ۔ طالبان پہ امریکی حملے کے بعد امریکہ کے سبز قدم افغانستان کی دھرتی پہ پڑتے ہی اقیلیتوں کی چاندی ہو گئی ۔ ڈالروں کی بارش برسنے لگی ،اب ہزارہ انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں تھا ۔ خان دھشت گرد ٹھہرے ۔ امریکیوں کے ایسے جیسے سفید کپڑے پہ سرخ دھبہ ۔
امریکہ کی ہمدردیاں ہزارہ عوام سے بڑھنے لگیں ۔ حامد کرزئی کے صدارتی دور میں بل پاس ہوا جس میں ہزارہ کو برابری کے حقوق دیے گئے ۔
ملک کا نیا ترانہ جب بنا تو ہزارہ کا نام بھی باقی قوموں کے ساتھ لیا گیا ۔
امریکہ نے ان کے لیے نت نئے پیکج ، ان کے بچوں کو دھڑا دھڑ سکالر شپ پہ بیرون ملک تعلیم کے لیے نادر مواقع ملے ۔ ووکیشنل سکول کھول کر ان کو ہنرمند بنایا گیا اور یہاں تک کہ ان کی پارلیمان میں نشستیں مخصوص کروائی گئیں ۔
یہ ہزارہ قوم کے اچھے دنوں کی شروعات تھی ۔ ان کے پرکھوں نے جو کیا سو کیا آخر انسانیت معاف کر دینے کا نام ہے ۔ اور اتنی پستی سہنے کے بعد یہ ان کا حق تھا ۔ گو کہ اسے افغان قوم نے کبھی کھلے دل سے قبول نہ کیا ۔ ہاں بارہا جب افغان قوم کو نظر انداز کر کے جب امریکیوں نے ہزارہ پہ اعتماد اور عنایات کا پلندہ کھولا تو افغانوں کی نظر میں ہزارہ کے ساتھ ساتھ امریکی بھی آخ تھو ہو گئے ۔ افغان کہتے یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے انگریز اور امریکی جہاں بھی گئے اقلیت کو اکثریت کے سر پہ بیٹھایا ۔
اس دوران ہزارہ قوم کی صورت افغانستان کو بیشمار ہزارہ ہنر مند ملے ۔ ننھے ننھے ہاتھوں سے کام کرنے والے سلیقے سے بھرپور خیاط ، چرمہ دوز ،سلائی کڑھائی کے ماہر ، مستری اور مالی ۔
بحیثیت قوم یہ محنتی ، جفاکش ، اپنی برادری کے وفادار اور متحد قوم ہیں ۔
روزیہ پہلی ہزارہ خاتون تھیں جو ہمارے گھر کام کرنے آتی ۔ اس کے چکنے چہرے پہ سجی مسکراہٹ اور چابک دستی مجھے بہت پسند تھی ۔ مجال ہے کہ ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر ہوا ۔ بارھا کھلا گھر چھوڑ کر اس کے حوالے کر کے باہر جانا پڑا مگر طلائی انگوٹھی ہو یا نمک کا ڈبہ جوں کا توں اپنی جگہ پہ ملا ۔
وہ پہلے چھپ چھپ کے نماز پڑھتی اور خاک شفا کو سینے سے نکال کر جائے نماز پہ بچھا دیتی ۔ ایک بار میں نے یہ چوری پکڑ لی اور کہا : تم اس گھر میں جہاں چاہو نماز پڑھ سکتی ہو ۔ خاک شفا میرے لیے بھی اتنی ہی مقدس ہے جیسے تمھارے لیے ۔ محرم کی ساتویں کو ہم نے مل کر نیاز پکائی ۔ نورس کی بوتلیں ، چینی اور لیموں کی پوٹلی بنا کر اسے کہا یہ لے جاؤ اور دشت برچی میں جا کر نیاز دینا ۔ اور کہا :ان سے شربت بنانا تمھارا کام ہے ۔ وہ بہت خوش تھی ۔ کہتی تھی ہمارے علاقے میں بیواؤں کی تعداد بہت ذیادہ ہے ۔ پرانے کپڑے یا برتن ہوں تو ان کے لیے نکال رکھنا ۔ عید وہ بامیان میں مناتی تھی ۔ اس کی بیٹی اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالرشپ کی منتظر تھی ۔ تب روزیہ کی آنکھوں میں اچھے دن گردش کرنے لگتے ۔ وہ کہتی داعش کے دھماکوں سے اگر اس کا بیٹا بچ گیا تو وہ اسے ڈاکٹر بنائے گی ۔ اس کا بیٹا صبح تڑکے نکلتا اور دس بجے تک سکیٹنگ بوٹ پہنے گھر گھر اخبار پھینکتا ،اس کے بعد وہ مکتب جایا کرتا ۔ نیلام سے خریدے سکیٹنگ بوٹ اس کی روزی روٹی کا وسیلہ تھے ۔ روزیہ کے شوہر کو گزرے بھی عرصہ گزر چکا تھا ۔ خزاں کا موسم بخیر گزرتے ہی دن چھوٹے ہونے لگے سب ٹھیک تھا کہ کرونا نامی وبا کا چرچا شروع ہوا ۔ ہزارہ جن کی ذیادہ تر آبادی کابل میں دشتِ برچی کے علاقے میں رہتی ہے ان کے اکثریت مرد روزگار کے لیے ایران جاتے ہیں ۔ وہاں من چاہا کام اور زیارت الگ ۔ چین سے وائرس پھیلتے ہوئے ایران پہنچا تو ایران نے بےشمار افغان باشندوں کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دے دیا ۔ جن میں ہزارہ افراد ہی اکثریت سے تھے ۔ آخر مادرِ گیتی میں اپنا ملک ہی جائے پناہ ٹھہرا جس نے ہزارہ افراد کے لیے عوامی انکار کے باوجود دروازے کھول دیے ۔ ہرات کے راستے ہزارہ اور کرونا وائرس ایک ساتھ داخل ہوئے ۔ دشت برچی میں کرونا کے مثبت نتائج آنے پہ روزیہ کو خیرآباد کہنا پڑا ۔

وہ چاروناچار بیروزگار ہوگئی اور اس کے ساتھ اس کے بےشمار خواب بھی کوارنٹین میں چلے گئے ۔
پھر بھی لوگ خوش تھے کہ اس وائرس کی وجہ سے خودکش حملے مکمل ختم ہو چکے تھے ۔ تین چار سو کرونا کے مریض اور چند اموات بھی قبول تھیں کہ خودکش حملوں میں مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں تک چلی جاتی تھی اور جو بچ جاتے ہیں وہ معذور و محتاج ۔
کاش کہ یہ خوشی ہی راس آ جاتی ۔ عین پھول کھلنے کی رُت آئی ۔ میری بالکونی تازہ رنگین و خوشبودار گُلوں سے گل رنگ ہوئی ہی تھی کہ شہر میں صفِ ماتم بچھ گئی ۔
طالبان اور داعش دونوں متحرک ہو گئے ۔ کاش یہ بھی دوری اور دوستی کا درس پڑھ لیتے ۔ Social Distance کی لاج رکھ لیتے ۔
کاش ۔۔۔۔
میٹھی عید کو پھیکا کرنے والوں کے نام میں کوئی پیغام کیا لکھوں ؟
سوائے افسوس کے میرے پاس ان کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ طالبان ہوں یا داعش نام نہاد اسلام کے علمبرداروں کی حثیت یہ ہے کہ رقاصائیں اور گلوکارائیں بھی ان کی بربریت پہ تُف لعنت بھیجتی ہیں ۔
ان کی وجہ سے ہمارا ادب اداس اور دل خاکستر ہو چکے ہیں۔ نوحے اور مرثیے لکھنے والوں کی انگلیاں فگاں ہوئیں ۔
دشت برچی کا علاقہ کربلا بن چکا ہے ، شادی کے گھر ، مکتب جمنازیم ، مساجد ، امام بارگاہ ، نوروز ، عید گاہ یہاں تک کہ میٹرنٹی وارڈ ۔۔۔۔
آخر کب تک ؟؟؟؟
میری بالکونی میں کھلِے پھول سر جھکائے کھڑے ہیں اور خوشبو حزین و غمگین ہے ۔ وہ ہوا کے سفر پہ نکلی تو کہیں ان ننھی قبروں کی اور نہ جا نکلے ۔ جن بچوں کو اُن کے باپ اُسی سفید کپڑے میں دفنا آئے جس میں دائی نے لپیٹ کر ماں کی بغل میں سُلایا تھا ۔
افغانستان کی مشہور گلوکارہ آریانہ سعید کا گیت ریڈیو پہ گونج رہا ہے ۔ وہ چیختے چلاتے ہوئے کہہ رہی ہے
تُف بہ تُو لعنت ۔۔۔
بہ زشتی باورت
تُف بہ ذات و ہویتِ ویرانگر ات
ترجمہ : لعنت ہو تمھاری انتہا پسند سوچ پہ
تُف تمھاری ویران گر ذات اور شناخت پہ

___________

تحریر و فوٹوگرافی:ثروت نجیب،کابل،افغانستان