نقطہ آغاز سے نقطہ انجماد تک!_______عمر

 نگری پِھرا مسافر ، گھر کا رستہ بھول گیا۔۔۔

مُسافر سٹارٹ اوور کو ایک نقطۂ آغاز سے کچھ زیادہ سمجھتا ہے۔

یہ اُمیدوں کا نیا جنم بھی ہے ، دوراہے پر انتخاب کاجھمیلا بھی، گُزشتہ راستوں کی گرد باد بھی اور منزل کا قطب نُما بھی۔  پر اس سب سے زیادہ یہ ایک فرض ہے جو  نگری نگری پھرنے والوں کے عِلم، رشتوں ، آدرشوں اور خوشیوں کی قیمت ہے۔

سٹارٹ اوور ، مسافِر پر فرض کی صورت لاگو ہے، جِس کے بغیر فاصلوں  کے جھنجھٹ، مصائب،  تکالیف اور پریشانیاں   پہچانی نہیں جاتیں۔ اور یہی مُشکلات مسافر کو سفر کا اسلوب دیتی ہیں ، زندگی کے معانی عطا کرتی ہیں، قربتوں اور دوریوں کے نقش واضع کرتی ہیں۔ یہ ہر  جگہ کو گھر بنا دیتی ہیں، اور گھر کو صرف ایک جگہ۔

مسافر کے ہوش مند اور یادگار  ماہ و سال کے سفر کم و بیش چالیس بہاروں پر محیط ہیں ۔ یہ بہاریں  ہر جگہ  مسافر کو نئے زاویے ، لوگ، ماحول اور تدابیر دِکھاتی ، جتاتی اور بتاتی  رہی ہیں ۔

ہر مقام نے مسافر کو حوصلہ بخشا ہے۔  نشونما  اور آبیاری کی ہے۔ سِکھایا ہے۔ سمجھایا ہے۔

ہر وقت نے مسافر کو سوچنے پر مائل کیا ہے۔ یاد رکھنے اور یاد رہنے کا گُر دیا ہے۔

اس راہ کے کُچھ مقامات اور سنگِ میل ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں۔لوگوں کی صورت، باتوں کی آواز میں، نظروں کے عکس میں۔ اور ، دِل کی یادوں میں۔

رائے کوٹ  پُل سے  تتّو گاؤں تک قریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط جیپ کا سفر ایک “بنجی جمپ “نُما چیلنج ہے ،  اور کُچھ ویسا  احساس بھی دیتا ہے جیسا  اُن تین آدمیوں کو درپیش تھا جو ایک بڑے سے پتھر کے  سِرک  آنے کی وجہ سے غار میں بند ہو کر رہ گئے تھے۔بے بسی، عدم تحفظ اور بے یقینی کا امتزاج۔  ڈرائیور حضرات اس پُل صراط پر جیپ چلاتے وقت گزشتہ ہفتوں اور مہینوں کی  دوزخی گاڑیوں اور افراد کا ذکر کرنا نہیں بُھولتے۔  بالکل دوسری  طرف رائے کوٹ  گلیشیئر  کا  مہیب وجود اور استور جانے والا راستہ  بتلاتا ہے کہ  دوسری جانب ہمیشہ ہی  سرسبز  کیوں لگتی ہے۔

تتّو پہنچ کر علم ہوتا ہے کہ  آگے جیپ کا راستہ نہیں ہے، لہٰذا  ٹریکنگ کی جائے گی، اور سامان و خواتین خچروں کے ذریعے جائیں گے۔ یہ  مزید ڈیڑھ گھنٹے کا عمل ہے۔

تتّو پر تازہ دم ہوتے ہی مقامی افراد  نظر آتے ہیں، جن میں بچے نُمایاں ہیں۔ یہ اُس علاقےکے حورعین ہیں ، جِسے غیر ملکی مہم جوؤں نے  پریوں کے سبزہ زار کا نام دیا تھا۔ فیئری میڈوز۔

ان کے کُچھ بزرگ بھی یہاں موجود ہیں۔

تتّو کا نام  اُبلتے گرم پانی کے چشموں کی بدولت ہے۔ یہاں مسافرنے انڈا اُبال کر اس نام کی وجۂ تسمیہ کو پرکھا اور درست پایا۔ ان چشموں کا پانی مختلف بیماریوں کا علاج بھی ہے، جیسے چکوال کے  ایک علاقے کا آبِ حیات، چترال کا گرم چشمہ اور کشمیر میں تتہ پانی کا مقام۔

مسافر نے ان بزرگوں سے پوچھا کہ آپ لوگ یہاں تک سڑک کیوں نہیں بننے دیتے؟ اس طرح یہاں سیاحت بڑھے گی ۔ جواب بزرگانہ تھا ، جو ہمیشہ کی طرح اپنے  وقت پر سمجھ میں آیا۔

تتّو والوں کے بقول، یہ علاقہ آپ کے لئے سیر کی جگہ ہے ، پر یہ ہمارے لئے ٹھکانہ، آشیانہ،  کاروبار، سب کُچھ ہے۔۔۔ یہاں سڑک آئے گی تو یہ مری وغیرہ بن جائے گا۔  ہم ٹریک کو بہتر کرنا چاہتے ہیں، اور اس سلسلے میں  کوشش کر رہے ہیں۔ ہم یہاں صفائی سُتھرائی کو اہمیت دیتے ہیں، اور آپ سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔

تتّو سے بہت دُور ،قصبوں اور  شہروں کی زمین ، پانی اور ہوا بھی دبے الفاظ میں یہی کہنا چاہتے ہیں۔۔

تُم پرندے کا دُکھ نہیں سمجھے

پیڑ پر گھونسلا نہیں،گھر تھا!!

___________

تحریر : عمر

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

1 Comment

  1. تُم پرندے کا دُکھ نہیں سمجھے
    پیڑ پر گھونسلا نہیں،گھر تھا!!

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.