ایک ان دیکھے  انجانے دشمن نے 

جیون کا یوں دھارا بدلا

  اک دوجے سے دور کیا  

دیواروں میں محصور کیا 

سفید پوشی کے بھرم بھی توڑے 

خودداری کی دیوار بھی ڈھا دی

   کتنے جرموں کو جنم دیا  

تعلیم کا بیڑا غرق کیا

  خوف سے بھر دیں راتیں ساری

  چمکتے دن بھی ماند پڑے

  دور رہو محفوظ رہو

  اس کا ایک ہی نعرہ ہے

احساس کا دیا تو جلتا ہے

  لمس کو لیکن ترسا ہے 

 اس انجانے دشمن نے 

طبل جنگ جو بجا یا تو  

مسیحا اس سے لڑنے آئے

 عوام کی نبض پہ رکھ کے ہاتھ 

 ڈٹ کےکھڑے یہ ان کے ساتھ

  روک کے موت کی آندھی کو 

 حیات کے دیے جلاتے ہیں

 سلام ہے ان سالاروں کو

 وبا سے جو بھڑ جاتے ہیں   

_________

        کلام۔ شازیہ ستار نایاب  لاہور

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف